یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
ہائے رے آزادیِ نسواں جَل پری بھی بننے کو تیار
ہائے رے آزادیِ نسواں! جَل پری بھی بننے کو تیار!
تحریر محمد زاہد علی مرکزی چیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
ہمارے معاشرے میں عورت روز بہ روز زوال کا شکار ہے اس کی مثالیں ہر جگہ نظر آجاتی ہیں ۔ حالاں کہ عورت اسے قبول کرنے کو تیار نہیں اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں میں مردوں سے کہیں بھی پیچھے نہیں۔ اسی لیے عورت کی مردوں سے پنجہ آزمائی کی ضد نے اسے مزید گھٹیا کاموں کی طرف بخوشی دھکیل دیا ہے جب ذلت ہی کو کامیابی سمجھ لیا جائے تو پھر کیا ہی کہا جا سکتا ہے ۔
عورتوں کے حقوق اوران کی کو برقرار رکھنے کے عہد کو دہرانے کے لیے ہر سال ۸/مارچ کو یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے ، اس کا سلسلہ کم و بیش سو سال سے جاری ہے ، پہلے یہ دن صرف روس اور چین وغیرہ میں منایا جاتا تھا؛ مگر۱۹۷۵/میں اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ اس دن کو عالمی سطح پر خواتین کے دن کے طو رپر منائے جانے کی قرار داد پیش کی اور اس کے بعد سے اب تک یہ سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے ۔ لیکِن ہم دیکھتے ہیں کہ عورت بجائے عزت کے ذلت کی طرف دھکیلی جا رہی ہے ۔

ہائے رے آزادیِ نسواں جَل پری بھی بننے کو تیار
مضمون نگار: Md Zahid Ali Markazi
ہائے رے آزادیِ نسواں! جَل پری بھی بننے کو تیار!
تحریر محمد زاہد علی مرکزی چیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
ہمارے معاشرے میں عورت روز بہ روز زوال کا شکار ہے اس کی مثالیں ہر جگہ نظر آجاتی ہیں ۔ حالاں کہ عورت اسے قبول کرنے کو تیار نہیں اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں میں مردوں سے کہیں بھی پیچھے نہیں۔ اسی لیے عورت کی مردوں سے پنجہ آزمائی کی ضد نے اسے مزید گھٹیا کاموں کی طرف بخوشی دھکیل دیا ہے جب ذلت ہی کو کامیابی سمجھ لیا جائے تو پھر کیا ہی کہا جا سکتا ہے ۔
عورتوں کے حقوق اوران کی کو برقرار رکھنے کے عہد کو دہرانے کے لیے ہر سال ۸/مارچ کو یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے ، اس کا سلسلہ کم و بیش سو سال سے جاری ہے ، پہلے یہ دن صرف روس اور چین وغیرہ میں منایا جاتا تھا؛ مگر۱۹۷۵/میں اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ اس دن کو عالمی سطح پر خواتین کے دن کے طو رپر منائے جانے کی قرار داد پیش کی اور اس کے بعد سے اب تک یہ سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے ۔ لیکِن ہم دیکھتے ہیں کہ عورت بجائے عزت کے ذلت کی طرف دھکیلی جا رہی ہے ۔
کچھ روز قبل ہمارے راستے میں پڑنے والے ایک شادی ہال کے سامنے ٹریفک کی بنا پر کچھ منٹ رکنا پڑا تو دیکھا کہ نوجوان لڑکیاں ہاتھوں میں طشتریاں اُٹھائے کھڑی ہیں ۔ لبوں پر مسکراہٹ ہے ،کپڑے چمکیلے ہیں ۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ شادی ہال میں داخل ہونے والوں پر پھولوں کی بارش کر رہی ہیں ، من چلے اپنی عادات کے مطابق حسب حیثیت فقرے کستے جارہے ہیں اور وہ مسکرا کر سر تسلیم خم کیے جارہی ہیں ۔ ساتھ ہی گانا بج رہا ہے
ع بہارو! پھول برساؤ مرا محبوب آیا ہے
جیسے ہی یہ منظر ہماری آنکھوں نے دیکھا ہمارے لبوں سے بے ساختہ تحریر کی سرخی نکل گئی ہائے رے آزادیِ نسواں مزید معلومات لینے پر معلوم ہوا کہ یہ سب پڑھی لکھی لڑکیاں ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر آکر رہتی ہیں اور چند گھنٹوں کے لیے پرائیویٹ جاب کرتی ہیں اور مردوں کو پوری طرح ٹکر دیتی ہوئی اپنی حیثیت کا اظہار کرتے ہوئے خدمات دیتی ہیں ، انھیں دہاڑی مزدوری دی جاتی ہے ساتھ ہی کھانا بھی ملتا ہے ۔
ایک صاحب نے یہ بھی بتایا کہ حضرت یہ تو کچھ نہیں کانپور سے شادی ہوسٹ کرنے کے لیے لڑکیاں لائی جاتی ہیں اور وہ اسٹیج پر ڈانس بھی کرتی ہیں مہمانوں کا تعارف بھی کراتی ہیں اور دولھے بھائی اور ان کے دوستوں کے ساتھ گپ شپ بھی کرتی ہیں ۔ میں نے کہا واقعی میں یہ خواتین مردوں سے بہت آگے نکل گئ ہیں ۔ اب انھیں روکنا مردوں کے بس کی بات نہیں رہی ۔ مردوں کو بھی لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں سے امیدیں وابستہ ہوگئ ہیں ۔ لڑکے کمانے لگتے ہیں اور لڑکیاں پڑھائی کرنے لگتی ہیں اور اس پڑھائی کے ساتھ کیا ہوتا ہے آئے دن اخںار کی زینت بنتا رہتا ہے ۔ بہر حال مردوں کو ٹکر دینا ہے تو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ۔
ڈاکٹر اقبال کی زبان میں کہیے تو یہ زنان تعلیم یافتہ بے تعلیم پاکر زن نہ ہو کر نا زن ہو جاتی ہیں ۔
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انساں کے ليے اس کا ثمر موت
ہے حضرت انساں کے ليے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
شادیوں میں ویٹر کا کام بھی یہی تعلیم یافتہ خواتین بڑے شوق سے کرتی نظر آتی ہیں ۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ یہ تعلیم نسوانیت کو بچا رہی ہے یا پھر ذلیل کروا رہی ہے مگر جب ذلت ہی عزت شمار ہو تو پھر برائی ہی کہاں رہی ۔
ڈاکٹر اقبال اسی تعلیم کے متعلق کہتے ہیں
ڈاکٹر اقبال اسی تعلیم کے متعلق کہتے ہیں
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
دیکھ لی قوم نے فلاح کی راہ
دیکھ لی قوم نے فلاح کی راہ
یہ تماشا دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
بھئی پردہ اٹھ گیا ہے اور یہ بیماری اب چھوٹے چھوٹے قصبوں تک پھیل گئی ہے ۔ یہ ان خواتین کا احسان ہے کہ وہ مردوں کو آج بھی راجاؤں والی فیلنگ سے محذوذ کر رہی ہیں ۔
---------- پاپا کی پری سے جل پری تک کا سفر
[چند ماہ قبل اپنے شہر اورئی جانا ہوا تو بالکل بائی پاس کے نزدیک ایک بڑی سی جگہ نمائش لگی دیکھی۔ باہری بورڈ میں سب سے زیادہ ہائی لائٹ جَل پری کو کیا گیا تھا ۔ لوگوں سے معلوم کیا کہ اب یہ جل پری کا کیا سین ہے ؟ تو انھوں نے بتایا کہ حضرت! ایک بڑا سا کانچ کا ٹینک رہتا ہے جس میں پانی بھرا ہوتا ہے ، وہیں لوگوں کے کھڑے ہونے کے لیے جگہ ہوتی ہے اور لوگ ٹکٹ لے کر جل پری کے ساتھ سیلفی لیتے ہیں ۔ وہ کانچ کے شیشے کے اندر پانی میں آدھے کپڑوں میں تیرتی پھرتی ہے اور لوگ شیشے کے اس طرف سے ہاتھ سے دل ❤️ بناتے ہیں ادھر سے وہ ان کے دلوں پر لبیک کہتی مُسکراتی چلی جاتی ہے ۔ بس یہی جل پری کی کہانی ہے ۔ اس گناہ بے لذت کے شکار بے چارے کنوارے یا سٹھیائے ہوے بڈھے زیادہ دکھتے ہیں ۔
پاپا کی پریوں کی یہ آزادی اور سر بازار چند سکوں کے عوض اپنی عزت نیلام کرتی ہوئی یہ پاپا کی پریاں مردوں کی برابری یا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی سنک کے چلتے اس حال کو پہنچ گئ ہیں لیکن خوش ہیں کہ کم از کم اپنے پیروں پر تو کھڑی ہیں ۔
انھیں شوہر کے گھر میں رانی بن کر رہنا پسند نہیں ۔ انھیں شوہر کی خدمت کرنا ،کھانا دینا پسند نہیں لیکن اغیار کے سامنے گھنٹوں کھڑے رہنا، پانی میں ڈوبی رہنا ، لچوں ،لفنگوں کے گندے تبصرے سننا برداشت ہے ۔ انھیں اگر کچھ برداشت نہیں تو وہ یہ کہ انھیں کوئی ایسی حرکات سے روکے ٹوکے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
خواتین کی آزادی کے نام پر یہ بے قدری دیکھنے کے بعد اسلام اور اسلامی طرز زندگی کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام عورت کو قیدی نہیں بناتا بل کہ اس کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ کو پہلے حجاب سے روکتا ہے پھر شوہر ، بھائی ، باپ وغیرہ کے زیر اثر کر کے بے حیائی اور لوگوں کے دھکے کھانے سے بھی بچاتا ہے ۔ اللہ خواتین اسلام کو اسلام سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
23 رمضان المبارک 1447
13/3/2026
13/3/2026










