یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب
کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711
تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر ہمیشہ کے لیے حق و صداقت کی علامت بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی ایسا ہی ایک عظیم اور بے مثال واقعہ ہے جس نے نہ صرف اسلامی تاریخ کا رخ متعین کیا بلکہ امتِ مسلمہ کو یہ پیغام بھی دیا کہ دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے اگر جان، مال، اولاد اور ہر عزیز چیز قربان کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے، جگر گوشۂ بتول، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے جس وقت یزید کی بیعت سے انکار فرمایا تو یہ محض ایک سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، دیانت اور بددیانتی کے درمیان ایک واضح خطِ امتیاز کھینچنے کا اعلان تھا۔ امام حسین جانتے تھے کہ خاموشی اختیار کرنا بظاہر آسان راستہ ہے، لیکن اس خاموشی کی قیمت دین کی روح کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ چنانچہ آپ نے حق کا عَلَم بلند رکھا اور پوری دنیا کو یہ سبق دیا کہ مسلمان اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔
کربلا کا میدان گواہ ہے کہ تعداد کی کمی کبھی حق کی کمزوری کی دلیل نہیں ہوتی۔ ایک طرف دنیاوی طاقت، حکومت اور وسائل تھے، جبکہ دوسری طرف امام حسین اور ان کے جاں نثار رفقاء تھے۔ مگر تاریخ نے ثابت کر دیا کہ فتح صرف تلوار کی نہیں ہوتی، بلکہ کردار، اخلاص اور سچائی کی بھی ہوتی ہے۔ آج یزیدیت ایک ظلم کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہے جبکہ امام حسین کا نام عزت، عظمت اور حق پرستی کی علامت بن چکا ہے۔

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب
مضمون نگار: Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711
تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر ہمیشہ کے لیے حق و صداقت کی علامت بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی ایسا ہی ایک عظیم اور بے مثال واقعہ ہے جس نے نہ صرف اسلامی تاریخ کا رخ متعین کیا بلکہ امتِ مسلمہ کو یہ پیغام بھی دیا کہ دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے اگر جان، مال، اولاد اور ہر عزیز چیز قربان کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے، جگر گوشۂ بتول، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے جس وقت یزید کی بیعت سے انکار فرمایا تو یہ محض ایک سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، دیانت اور بددیانتی کے درمیان ایک واضح خطِ امتیاز کھینچنے کا اعلان تھا۔ امام حسین جانتے تھے کہ خاموشی اختیار کرنا بظاہر آسان راستہ ہے، لیکن اس خاموشی کی قیمت دین کی روح کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ چنانچہ آپ نے حق کا عَلَم بلند رکھا اور پوری دنیا کو یہ سبق دیا کہ مسلمان اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔
کربلا کا میدان گواہ ہے کہ تعداد کی کمی کبھی حق کی کمزوری کی دلیل نہیں ہوتی۔ ایک طرف دنیاوی طاقت، حکومت اور وسائل تھے، جبکہ دوسری طرف امام حسین اور ان کے جاں نثار رفقاء تھے۔ مگر تاریخ نے ثابت کر دیا کہ فتح صرف تلوار کی نہیں ہوتی، بلکہ کردار، اخلاص اور سچائی کی بھی ہوتی ہے۔ آج یزیدیت ایک ظلم کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہے جبکہ امام حسین کا نام عزت، عظمت اور حق پرستی کی علامت بن چکا ہے۔
واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، حق کا ساتھ دینے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا نام بھی ہے۔ اگر امام حسین دنیاوی مصلحتوں کو ترجیح دیتے تو شاید وقتی سکون حاصل ہو جاتا، لیکن اسلام کی وہ روح متاثر ہوتی جس کی حفاظت کے لیے آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
آج جب امتِ مسلمہ مختلف فتنوں، فکری یلغاروں اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے تو کربلا کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض محرم میں آنسو بہانے پر اکتفا نہ کریں بلکہ امام حسین کی سیرت، ان کے عزم، ان کی استقامت اور ان کے مقصد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم سچائی، دیانت، عدل اور اسلامی اقدار کی پاسداری کریں۔
کربلا کا واقعہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ حق وقتی طور پر کمزور نظر آ سکتا ہے، مگر انجام کار کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے۔ امام حسین کی شہادت نے امت کو یہ سبق دیا کہ دین کی سربلندی کے لیے قربانی دینا ہی دراصل کامیابی کا راستہ ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
آج بھی جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو کربلا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ فرات کے کنارے دی گئی وہ قربانیاں، وفا کے وہ استعارے اور صبر و استقامت کی وہ روشن مثالیں اہلِ ایمان کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں بعد بھی کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اسلام کی بقا، حق کی سربلندی اور قربانی کی عظیم ترین داستان کے طور پر زندہ ہے۔
بلاشبہ کربلا اسلام کی بقا کا وہ روشن باب ہے جس کی روشنی قیامت تک اہلِ حق کے راستے کو منور کرتی رہے گی۔
razamarkazi@gmail.com
razamarkazi@gmail.com










