یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

فقہ وفتاویٰ
موبائل سے استفاضۂ خبر اور بیرون ممالک
موبائل سے استفاضۂ خبر اور بیرون ممالک
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: مدھورا کٹیہار بہار
نزیل: مدھورا کٹیہار بہار
در مختار، فتاوی شامی، بہار شریعت دیگر کتب فقہ کی تصریحات کے مطابق ایک چاند پورے جہان کو کافی ہے احناف کے یہاں اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں مشرق کا چاند مغرب والوں کے لیے اور مغرب کا چاند مشرق والوں کے لیے کافی ہے بس ثبوت شرعی ہونا چاہیے
اور جدید دور میں جدید تحقیقات کی روشنی میں جدید ذرائع ابلاغ جیسے موبائل وغیرہ سے استفاضۂ خبر ہو سکتا ہے اور یہ سب پر عیاں ہے کہ ثبوت رویت ہلال کے طرق میں ایک طریق استفاضۂ خبر ہے جو ثبوت شرعی ہے اسی لیے بعض حضرات موبائل سے استفاضۂ خبر حاصل کر کے رویت ہلال کا اعلان کرتے ہیں

موبائل سے استفاضۂ خبر اور بیرون ممالک
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
موبائل سے استفاضۂ خبر اور بیرون ممالک
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: مدھورا کٹیہار بہار
نزیل: مدھورا کٹیہار بہار
در مختار، فتاوی شامی، بہار شریعت دیگر کتب فقہ کی تصریحات کے مطابق ایک چاند پورے جہان کو کافی ہے احناف کے یہاں اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں مشرق کا چاند مغرب والوں کے لیے اور مغرب کا چاند مشرق والوں کے لیے کافی ہے بس ثبوت شرعی ہونا چاہیے
اور جدید دور میں جدید تحقیقات کی روشنی میں جدید ذرائع ابلاغ جیسے موبائل وغیرہ سے استفاضۂ خبر ہو سکتا ہے اور یہ سب پر عیاں ہے کہ ثبوت رویت ہلال کے طرق میں ایک طریق استفاضۂ خبر ہے جو ثبوت شرعی ہے اسی لیے بعض حضرات موبائل سے استفاضۂ خبر حاصل کر کے رویت ہلال کا اعلان کرتے ہیں
لیکن ہم ہر سال دیکھتے ہیں استفاضۂ خبر صرف ہند سے ہی حاصل کیا جاتا ہے دیگر ممالک سے نہیں حالانکہ بعض ممالک میں ہندی تاریخ سے ایک دن پہلے چاند کا اعلان ہو جاتا ہے اور وہ چاند پورے جہان کو کافی بھی ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس ملک کے علما سے استفاضۂ خبر حاصل کیوں نہیں کرتے؟
مثلا حرمین شریفین میں بہت سارے ہند کے علما موجود ہوتے ہیں ہندی عوام حضرات ہوتے ہیں نیز خود حرمین شریفین کے علما سے بھی ہندی علما کے روابط ہوتے ہیں تو موبائل سے استفاضۂ خبر حاصل کر کے بطور استفاضۂ خبر ہند میں اعلان کیوں نہیں کیا جاتا ہے ؟
جب تحقیق دونوں پہلو کو شامل ہے تو ایک پہلو کو اختیار کرتے ہیں دوسرے کو کیوں چھوڑ دیتے ہیں ؟
جب جدید ذرائع ابلاغ سے آسانی مقصود ہے تو زیادہ آسانی تو اسی میں ہے کہ دیگر ممالک سے استفاضۂ خبر حاصل کر کے بطور استفاضۂ خبر رویت ہلال کا اعلان کر دیا جائے تاکہ رویت ہلال کمیٹیوں کو زیادہ دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے کمیٹی کے کارکنان کو چھتوں پر چڑھ کر آنکھیں چار کرنے کی زحمت اٹھانی نہ پڑے ہاں جب کبھی ایسا ہو جائے کہ دوسرے ملک میں چاند نہ ہو تو چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے لیکن دیگر ممالک میں چاند ہوتے ہوئے ہند میں یہ زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہاں کونسی چیز موبائل سے استفاضۂ خبر حاصل ہونے سے مانع ہے؟
جب جدید ذرائع ابلاغ سے آسانی مقصود ہے تو زیادہ آسانی تو اسی میں ہے کہ دیگر ممالک سے استفاضۂ خبر حاصل کر کے بطور استفاضۂ خبر رویت ہلال کا اعلان کر دیا جائے تاکہ رویت ہلال کمیٹیوں کو زیادہ دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے کمیٹی کے کارکنان کو چھتوں پر چڑھ کر آنکھیں چار کرنے کی زحمت اٹھانی نہ پڑے ہاں جب کبھی ایسا ہو جائے کہ دوسرے ملک میں چاند نہ ہو تو چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے لیکن دیگر ممالک میں چاند ہوتے ہوئے ہند میں یہ زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہاں کونسی چیز موبائل سے استفاضۂ خبر حاصل ہونے سے مانع ہے؟
جب تحقیق میں وسعت ہے تو عمل میں وسعت کیوں نہیں ہے؟ کیا در پردہ عوام کو آسانیوں سے دور نہیں رکھا جا رہا ہے؟
ہر سال یہ اعلان کی کیا ضرورت ہے کہ بنارس میں چاند نظر آیا رامپور اور ممبئی نیز آسام میں چاند نظر آیا اور ثقہ علما سے بات ہوئی جن کی باتوں سے دل مطمئن ہوا اور خبر تواتر تک پہنچی لہذا بطور استفاضۂ خبر یہ اعلان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کہ فلان تاریخ سے رمضان شروع۔۔۔۔۔فلاں تاریخ میں عید ہے وغیرہ وغیرہ
یہ اعلان کیوں نہیں کیا جاتا ہے کہ حرمین شریفین میں چاند نظر آیا وہاں کے ثقہ حضرات سے گفتگو ہوئی جن سے خبر حد تواتر کو پہنچی دل سچ پر مطمئن ہوا لہذا اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ سے رمضان ہے یا فلاں تاریخ میں عید ہے ؟ ایسا کیوں نہیں کیا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے ؟
وہ کونسا ملک ہے جہاں جدید ذرائع ابلاغ نہیں الا ماشاء اللہ؟ وہ کونسا ملک ہے جہاں کے علما سے علما کے روابط نہیں ہوتے ؟
خیر کہیں نہ بھی ہو لیکن عرب شریف میں تو روابط یقینی ہیں
خیر کہیں نہ بھی ہو لیکن عرب شریف میں تو روابط یقینی ہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اگر جدید تحقیق میں عمل کرنا ہی ہے تو اس طور پر کریں تاکہ عوام کو مکمل تحقیق کا فائدہ پہنچے
قارئین اس تحریر کو سنجیدگی سے پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ موبائل سے استفاضۂ خبر میں کتنی برکتیں ہیں










