یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ادبیات
مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)
مطلبی لوگ
(زاویۂ نگاہ)
اے صاحبِ نظر!
کبھی بیٹھ کر سوچا ہے کہ ہم جنہیں مطلبی کہتے ہیں، کیا وہ واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ یا یہ ہمارے گمان کا ایک دھوکا ہے جو وقتی تکلیف یا محرومی کے لمحوں میں ہمارے دل پر چھا جاتا ہے؟ عنوان مطلبی لوگ" پڑھ کر ہمارا ذہن فوراً اُن چہروں کی طرف دوڑتا ہے جو ہمارے اچھے دنوں میں ساتھ تھے، مگر مشکل وقت میں غائب ہو گئے۔ مگر اس تحریر کا مدعا اس کے برعکس ہے۔
کبھی بیٹھ کر سوچا ہے کہ ہم جنہیں مطلبی کہتے ہیں، کیا وہ واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ یا یہ ہمارے گمان کا ایک دھوکا ہے جو وقتی تکلیف یا محرومی کے لمحوں میں ہمارے دل پر چھا جاتا ہے؟ عنوان مطلبی لوگ" پڑھ کر ہمارا ذہن فوراً اُن چہروں کی طرف دوڑتا ہے جو ہمارے اچھے دنوں میں ساتھ تھے، مگر مشکل وقت میں غائب ہو گئے۔ مگر اس تحریر کا مدعا اس کے برعکس ہے۔
زندگی رشتوں کے تانے بانے سے بُنی ہوئی ایک نازک چادر ہے۔ دوست و احباب، رشتہ دار، تعلق دار، سب اپنی اپنی جگہ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم جب کسی تکلیف یا حاجت میں ہوتے ہیں، تو قدرتی طور پر چاہتے ہیں کہ ہمارے اپنے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ اور جب وہ کسی وجہ سے خاموش رہ جائیں یا پیچھے ہٹ جائیں تو دل میں ایک شکوہ سا جاگ اٹھتا ہے، ایک آواز ذہن میں گونجتی ہے یہ بھی مطلبی نکلے!

مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
مطلبی لوگ
(زاویۂ نگاہ)
اے صاحبِ نظر!
کبھی بیٹھ کر سوچا ہے کہ ہم جنہیں مطلبی کہتے ہیں، کیا وہ واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ یا یہ ہمارے گمان کا ایک دھوکا ہے جو وقتی تکلیف یا محرومی کے لمحوں میں ہمارے دل پر چھا جاتا ہے؟ عنوان مطلبی لوگ" پڑھ کر ہمارا ذہن فوراً اُن چہروں کی طرف دوڑتا ہے جو ہمارے اچھے دنوں میں ساتھ تھے، مگر مشکل وقت میں غائب ہو گئے۔ مگر اس تحریر کا مدعا اس کے برعکس ہے۔
کبھی بیٹھ کر سوچا ہے کہ ہم جنہیں مطلبی کہتے ہیں، کیا وہ واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ یا یہ ہمارے گمان کا ایک دھوکا ہے جو وقتی تکلیف یا محرومی کے لمحوں میں ہمارے دل پر چھا جاتا ہے؟ عنوان مطلبی لوگ" پڑھ کر ہمارا ذہن فوراً اُن چہروں کی طرف دوڑتا ہے جو ہمارے اچھے دنوں میں ساتھ تھے، مگر مشکل وقت میں غائب ہو گئے۔ مگر اس تحریر کا مدعا اس کے برعکس ہے۔
زندگی رشتوں کے تانے بانے سے بُنی ہوئی ایک نازک چادر ہے۔ دوست و احباب، رشتہ دار، تعلق دار، سب اپنی اپنی جگہ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم جب کسی تکلیف یا حاجت میں ہوتے ہیں، تو قدرتی طور پر چاہتے ہیں کہ ہمارے اپنے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ اور جب وہ کسی وجہ سے خاموش رہ جائیں یا پیچھے ہٹ جائیں تو دل میں ایک شکوہ سا جاگ اٹھتا ہے، ایک آواز ذہن میں گونجتی ہے یہ بھی مطلبی نکلے!
مگر ٹھہریے…
زندگی اتنی سادہ نہیں، اور انسان اتنا یک رنگ نہیں۔ ہر خاموشی بےوفائی نہیں ہوتی، ہر غیرحاضری مطلب پرستی نہیں کہلاتی۔ کئی مرتبہ وہی لوگ جو ہماری مدد نہیں کرتے، دراصل ہم سے زیادہ ہمارے خیرخواہ ہوتے ہیں۔
زندگی اتنی سادہ نہیں، اور انسان اتنا یک رنگ نہیں۔ ہر خاموشی بےوفائی نہیں ہوتی، ہر غیرحاضری مطلب پرستی نہیں کہلاتی۔ کئی مرتبہ وہی لوگ جو ہماری مدد نہیں کرتے، دراصل ہم سے زیادہ ہمارے خیرخواہ ہوتے ہیں۔
کبھی وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی مشکلات کا سامنا خود کریں تاکہ ہماری ہمت اور استقلال کی جڑیں مضبوط ہوں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم ہمیشہ کسی کے سہارے کے محتاج رہیں۔ یہ ان کی تربیت کا ایک انداز ہوتا ہے، محبت کا ایک غیرمعمولی پیرایہ۔
کبھی وہ اس خوف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے ہر دکھ میں فوراً لپک پڑیں تو ہم کمزور ہو جائیں گے، اور زندگی کے اگلے امتحان میں تنہا ہونے پر ٹوٹ جائیں گے۔
کبھی وہ اس خوف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے ہر دکھ میں فوراً لپک پڑیں تو ہم کمزور ہو جائیں گے، اور زندگی کے اگلے امتحان میں تنہا ہونے پر ٹوٹ جائیں گے۔
پھر بعض اوقات اُن کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ وقت کی تنگی، حالات کی مجبوری، یا اپنی ہی زندگی کی الجھنیں۔ ہم اُن کی اندرونی جنگوں سے بے خبر رہ کر اُنہیں خودغرض سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ بہت سے وہی لوگ جو نظر نہیں آتے، دراصل پردۂ غیب میں ہمارے لیے سب سے زیادہ دعاگو ہوتے ہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہمارے غم میں شریک نہ ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ آئے تو ہم پھر سے زخم تازہ کر بیٹھیں گے۔ اس لیے وہ دور رہ کر ہمیں سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔
کبھی کوئی خاموش رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی موجودگی ہمارے جذبات کو بھڑکائے گی، سنبھالے گی نہیں۔
اور کبھی کوئی صرف اس لیے پیچھے ہٹتا ہے کہ ہماری عزت اور خودداری سلامت رہے۔ تاکہ ہم کسی کے احسان تلے دبے نہ رہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہمارے غم میں شریک نہ ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ آئے تو ہم پھر سے زخم تازہ کر بیٹھیں گے۔ اس لیے وہ دور رہ کر ہمیں سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔
کبھی کوئی خاموش رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی موجودگی ہمارے جذبات کو بھڑکائے گی، سنبھالے گی نہیں۔
اور کبھی کوئی صرف اس لیے پیچھے ہٹتا ہے کہ ہماری عزت اور خودداری سلامت رہے۔ تاکہ ہم کسی کے احسان تلے دبے نہ رہیں۔
یہ سب رویے بظاہر سرد، بےحس یا مطلبی لگتے ہیں، مگر دراصل یہ محبت کے اعلیٰ ترین مظاہر ہوتے ہیں۔ بس پہچاننے کے لیے دل میں فراست چاہیے، نظر میں صفا چاہیے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
سو ہمیں ہر رشتے، ہر تعلق کو شک کی دھند میں لپیٹنے کے بجائے روشن نیت سے دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ بدگمانی دلوں کو جلا دیتی ہے، رشتوں کی روشنی کو بجھا دیتی ہے، جبکہ حسنِ ظن تعلقات کو جِلا بخشتا ہے۔
یاد رکھیے؛
ہر غیرحاضری بےوفائی نہیں ہوتی،
ہر خاموشی غفلت نہیں ہوتی،
اور ہر خودداری مطلب پرستی نہیں ہوتی۔
اکثر وہی لوگ جو بظاہر ہماری مدد نہیں کرتے، دراصل ہمیں مضبوط بنانے کے لیے تقدیر کے ہاتھوں چُنے گئے ہوتے ہیں۔
تو آئیں، مطلبی کہنے سے پہلے ذرا ٹھہر جائیں، سوچیں، سمجھیں، شاید جسے ہم خودغرض سمجھ رہے ہیں، وہی دراصل ہماری بھلائی کا سب سے مخلص سبب ہو۔
کیونکہ محبت کبھی کبھی خاموش بھی رہتی ہے…
مگر سچی ہمیشہ ہی ہوتی ہے۔
یاد رکھیے؛
ہر غیرحاضری بےوفائی نہیں ہوتی،
ہر خاموشی غفلت نہیں ہوتی،
اور ہر خودداری مطلب پرستی نہیں ہوتی۔
اکثر وہی لوگ جو بظاہر ہماری مدد نہیں کرتے، دراصل ہمیں مضبوط بنانے کے لیے تقدیر کے ہاتھوں چُنے گئے ہوتے ہیں۔
تو آئیں، مطلبی کہنے سے پہلے ذرا ٹھہر جائیں، سوچیں، سمجھیں، شاید جسے ہم خودغرض سمجھ رہے ہیں، وہی دراصل ہماری بھلائی کا سب سے مخلص سبب ہو۔
کیونکہ محبت کبھی کبھی خاموش بھی رہتی ہے…
مگر سچی ہمیشہ ہی ہوتی ہے۔
از قلم
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323










