یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت
مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت
مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی علمی و عملی مساعی سے جہالت کے اندھیروں کو مٹایا اور علم و عرفان کے چراغ روشن کیے۔ بلاشبہ یہ مدارس تبلیغِ دین کے وہ سرچشمے ہیں جن سے ایمان و یقین کے نہریں رواں ہیں اور جن کی برکت سے دین کی خوشبو آج بھی فضا میں رچی بسی ہے۔
مگر صد افسوس! آج جب ہم مدارسِ اسلامیہ کا مجموعی جائزہ لیتے ہیں تو ایک نہایت ہی افسوسناک پہلو سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ بیشتر مدارس میں علمی و فکری ارتقا کے اصل منبع یعنی لائبریری کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ عمارات بلند ہو رہی ہیں، قیام و طعام کے عمدہ انتظامات موجود ہیں، اور اس جانب ذمہ داروں کی بھر پور توجہ ہے اور ہونی بھی چاہئے مگر علمی سرمایہ جس پر مدارس کی بنیاد قائم تھی، یعنی لائبریری وہ اکثر مدارس میں یا تو نہ ہونے کے برابر ہےیا پھر اس قدر ناقص کہ دل رنجیدہ ہوتا ہے۔
آج یوپی ،بہار بنگال ،مہاراشٹر بلکہ ہند و بیرون ہند کے اکثر ادارے ایسے ہیں جہاں وسیع و عریض بلڈنگیں کھڑی ہیں، خوبصورت کمروں کی قطاریں ہیں، مگر لائبریری جو ہر تعلیمی ادارے کی روح کہلاتی ہے محض نام کی چیز ہے۔ بعض جگہ تو چند پرانی کتاب تک دستیاب نہیں، نہ کوئی منظم نظام مطالعہ، نہ جدید و قدیم کتب کا ذخیرہ، نہ علمی ماحول کا احساس۔

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت
مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi
مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت
مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی علمی و عملی مساعی سے جہالت کے اندھیروں کو مٹایا اور علم و عرفان کے چراغ روشن کیے۔ بلاشبہ یہ مدارس تبلیغِ دین کے وہ سرچشمے ہیں جن سے ایمان و یقین کے نہریں رواں ہیں اور جن کی برکت سے دین کی خوشبو آج بھی فضا میں رچی بسی ہے۔
مگر صد افسوس! آج جب ہم مدارسِ اسلامیہ کا مجموعی جائزہ لیتے ہیں تو ایک نہایت ہی افسوسناک پہلو سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ بیشتر مدارس میں علمی و فکری ارتقا کے اصل منبع یعنی لائبریری کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ عمارات بلند ہو رہی ہیں، قیام و طعام کے عمدہ انتظامات موجود ہیں، اور اس جانب ذمہ داروں کی بھر پور توجہ ہے اور ہونی بھی چاہئے مگر علمی سرمایہ جس پر مدارس کی بنیاد قائم تھی، یعنی لائبریری وہ اکثر مدارس میں یا تو نہ ہونے کے برابر ہےیا پھر اس قدر ناقص کہ دل رنجیدہ ہوتا ہے۔
آج یوپی ،بہار بنگال ،مہاراشٹر بلکہ ہند و بیرون ہند کے اکثر ادارے ایسے ہیں جہاں وسیع و عریض بلڈنگیں کھڑی ہیں، خوبصورت کمروں کی قطاریں ہیں، مگر لائبریری جو ہر تعلیمی ادارے کی روح کہلاتی ہے محض نام کی چیز ہے۔ بعض جگہ تو چند پرانی کتاب تک دستیاب نہیں، نہ کوئی منظم نظام مطالعہ، نہ جدید و قدیم کتب کا ذخیرہ، نہ علمی ماحول کا احساس۔
جبکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ لائبریری کسی مدرسے کی روح ہے۔ درس و تدریس کی بنیاد ہی کتب بینی پر قائم ہے۔ وہ مدرسہ جہاں مطالعہ کی فضا نہ ہو، جہاں کتاب سے انسیت نہ ہو، وہاں علم کی نشوونما کیسے ممکن ہے؟ ایک عالمِ دین کا سرمایہ صرف اس کا نصاب نہیں، بلکہ اس کی کتابیں ہیں۔ اگر عالم دین کتابوں کا مطالعہ ترک کردے تو اس کے علم میں زنگ لگ جاتا ہے ۔
لیکن آج ہمارے اکثر مدارس کے ذمہ دار مدارس کے لیے عالیشان بلڈنگیں بنواتے ہیں اور اس میں لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ کرتے ہیں لیکن اس میں ایک ایسی لائبریری نہیں بنواتے جس میں تمام فنون اور تمام تر فرقہاۓ باطلہ کی کتابیں دستیاب ہوں بعض ادارے تو وہ ہیں جہاں لائبریری کے نام پر مستقل فنڈ ہے اور اچھی خاصی رقم سالانہ لائبریری کے نام پر جمع ہوتی ہے لیکن وہاں کی لائبریری دیکھ کر رونا آتا ہے اور ذمہ داروں کی کوتاہی پر افسوس ہوتا ہے ،کہ آخر کار کس مقصد کے تحت اس رقم کو بینک بیلنس کرکے رکھے ہوئے ہیں ؟ کیا انہیں اس کی ناگزیر ضرورت کا احساس نہیں ؟یا قوم کی امانت میں خیانت کا ارادہ ہے؟۔۔۔
خیر مدارس کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں۔ عمارت بنانا یقینا ضروری ہے، مگر لائبریری اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ جس طرح آپ تعمیرات، فرنیچر، یا طعام کے لیے ایک مخصوص فنڈ رکھتے ہیں، اسی طرح ہر مدرسے میں سالانہ ایک معقول رقم لائبریری کے فروغ کے لیے بھی متعین کی جانی چاہیے۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جس مدرسے کی دیواریں علم کے نام پر کھڑی ہوں، وہاں علم کی اصل بنیاد یعنی کتاب ناپید ہو! لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ مدارسِ اسلامیہ اپنی قدیم علمی شان دوبارہ حاصل کریں، تو ہمیں دوبارہ کتاب کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔اور اہل سنت کے ہر مدارس میں ایک معقول لائبریری قائم کرنا ہوگا ۔اور یہ کوئی مشکل امر نہیں، اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چند نکات مندرجہ ذیل ہیں :
. 1سالانہ لائبریری فنڈ کی تعیین:
جس طرح اساتذہ و طلبا کے قیام وطعام، اور تعمیرات کے لیے بجٹ مختص کیا جاتا ہے، اسی طرح ہر مدرسے میں سالانہ کم از کم ۵ تا ۱۰ فیصد بجٹ لائبریری کے لیے مختص کیا جائے۔
جس طرح اساتذہ و طلبا کے قیام وطعام، اور تعمیرات کے لیے بجٹ مختص کیا جاتا ہے، اسی طرح ہر مدرسے میں سالانہ کم از کم ۵ تا ۱۰ فیصد بجٹ لائبریری کے لیے مختص کیا جائے۔
2. نئی کتابوں کا باقاعدہ اضافہ:
اہلِ علم و فن سے مشورہ لے کر ہر سال مختلف علوم و فنون تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول، ادب، منطق، تاریخ، توقیت، اور تقابلِ ادیان پر مستند کتابوں کا اضافہ لازمی کیا جائے۔
اہلِ علم و فن سے مشورہ لے کر ہر سال مختلف علوم و فنون تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول، ادب، منطق، تاریخ، توقیت، اور تقابلِ ادیان پر مستند کتابوں کا اضافہ لازمی کیا جائے۔
3:صرف دینی کتب ہی نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر اور جدید فکری تحریکات (دیوبندیت، وہابیت، رافضیت، قادیانیت، عیسائیت، یہودیت، الحاد وغیرہ) کی کتابیں بھی لائبریری میں موجود ہوں تاکہ طلبہ علمی بصیرت و تحقیقی قوت پیدا کر سکیں۔
4.عربی، اُردو، ہندی اور دیگر مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے ماہنامے ،رسائل کو باقاعدہ ہر ماہ حاصل کر کے لائبریری کی زینت بنایا جائے، خواہ ان کی اشاعت موافقین کی جانب سے ہو یا مخالفین کی طرف سے۔
5.مختلف زبان میں طبع پذیر یومیہ اخبارات و جرائد کو بھی بہ التزام جمع کر کے محفوظ مقام پر رکھا جائے، کہ یہ محض اخبارات نہیں بلکہ عہدِ حاضر کی مستند دستاویز اور تاریخی شہادتوں کا سرمایہ ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
6. نئی کتابوں کی خرید، پرانی کتابوں کی تجدید، مرمت، اور فہرست سازی کے لیے مخصوص رقم ہر سال مختص کی جائے۔تاکہ روز بروز لائبریری میں کتابوں کا اضافہ ہو اورپرانی کتابیں بوسیدہ ہوکر ضائع نہ ہوں ۔
اگر مدارس کے ذمہ داران ان نکات پر عمل پیرا ہو جائیں تو ان شاءاللہ عزوجل ہر ادارے میں پانچ سال کے اندر ایک وسیع لائبریری قائم ہوجاۓگی جس سے اہل علم استفادہ کر سکیں گے۔اور اہل سنت کے ادارے سےایک بہت بڑی کمی کا ازالہ ہوجاۓگا ۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم










