یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ادبیات
فکر کی روشنی
فکر کی روشنی
کائنات کے اس طلسم کدے میں، جہاں جہالت کی شبِ دیجور نے ہر سو اپنے مہیب پر پھیلا رکھے ہیں، فکر وہ ودیعتِ الٰہی ہے جو آدمِ خاکی کے سینے میں نورِ ازل بن کر فروزاں ہے۔ یہ وہ معنوی آفتاب ہے جس کی ضیا پاشیوں سے نہ صرف ذہن کے نہاں خانے منور ہوتے ہیں، بلکہ انسانیت کا وقار بھی اسی کی لو سے تابندگی پاتا ہے۔ اگر شعور کی آنکھ وا نہ ہو تو یہ کائنات ایک سربستہ راز اور انسان محض مٹی کا ایک تودہ (1) ہے، مگر جب فکر کی برق تخیل کے بادلوں سے ٹکراتی ہے تو دریافت و ادراک کے وہ شرارے پیدا ہوتے ہیں جو صدیوں کی تاریکی کا سینہ چاک کر دیتے ہیں۔
فکر کے اس بحرِ بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں، یہ وہ دشوار گزار راستہ ہے جہاں عقل کا سفینہ تلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما رہتا ہے۔ ایک بلند فکر انسان حقیقت کے صدف سے معرفت کے وہ نایاب جواہر کشید کرتا ہے جن کی آب و تاب تمدن کی قندیلوں کو روغن فراہم کرتی ہے۔ یہاں عقل محض ایک چراغ نہیں، بلکہ وہ روغنِ زیتون ہے جو لا شرقیہ ولا غربیہ (2) کی صفت سے متصف ہو کر روح کی مشعل کو توانا رکھتا ہے۔ جب فکرِ سلیم کا ہما اپنے پر پھیلاتا ہے، تو پستیوں میں بھٹکنے والا انسان نفسانی قیود سے آزاد ہو کر افلاک کی وسعتوں میں پرواز کرنے لگتا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی فکر کی اس آگ کو تقلیدِ کورکورانہ (3) کی راکھ سے دبانے کی کوشش کی گئی، انسانیت جمود کے گرداب میں پھنس کر رہ گئی۔ لیکن جب فکر نے مصلحتوں کی زنجیریں توڑیں اور حق کی جستجو میں نکلی، تو اس نے باطل کے خس و خاشاک کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ فکر ہی تو ہے جو خشک لکڑی میں جیون کا رس بھر دیتی ہے اور سنگِ گراں سے چشمے جاری کر دیتی ہے۔ جس طرح نسیمِ سحر کے ایک جھونکے سے گلستاں کی رگوں میں زندگی کا لہو دوڑنے لگتا ہے، اسی طرح فکر کی ایک لہر مردہ معاشروں میں انقلاب کی روح پھونک دیتی ہے۔

فکر کی روشنی
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
فکر کی روشنی
کائنات کے اس طلسم کدے میں، جہاں جہالت کی شبِ دیجور نے ہر سو اپنے مہیب پر پھیلا رکھے ہیں، فکر وہ ودیعتِ الٰہی ہے جو آدمِ خاکی کے سینے میں نورِ ازل بن کر فروزاں ہے۔ یہ وہ معنوی آفتاب ہے جس کی ضیا پاشیوں سے نہ صرف ذہن کے نہاں خانے منور ہوتے ہیں، بلکہ انسانیت کا وقار بھی اسی کی لو سے تابندگی پاتا ہے۔ اگر شعور کی آنکھ وا نہ ہو تو یہ کائنات ایک سربستہ راز اور انسان محض مٹی کا ایک تودہ (1) ہے، مگر جب فکر کی برق تخیل کے بادلوں سے ٹکراتی ہے تو دریافت و ادراک کے وہ شرارے پیدا ہوتے ہیں جو صدیوں کی تاریکی کا سینہ چاک کر دیتے ہیں۔
فکر کے اس بحرِ بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں، یہ وہ دشوار گزار راستہ ہے جہاں عقل کا سفینہ تلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما رہتا ہے۔ ایک بلند فکر انسان حقیقت کے صدف سے معرفت کے وہ نایاب جواہر کشید کرتا ہے جن کی آب و تاب تمدن کی قندیلوں کو روغن فراہم کرتی ہے۔ یہاں عقل محض ایک چراغ نہیں، بلکہ وہ روغنِ زیتون ہے جو لا شرقیہ ولا غربیہ (2) کی صفت سے متصف ہو کر روح کی مشعل کو توانا رکھتا ہے۔ جب فکرِ سلیم کا ہما اپنے پر پھیلاتا ہے، تو پستیوں میں بھٹکنے والا انسان نفسانی قیود سے آزاد ہو کر افلاک کی وسعتوں میں پرواز کرنے لگتا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی فکر کی اس آگ کو تقلیدِ کورکورانہ (3) کی راکھ سے دبانے کی کوشش کی گئی، انسانیت جمود کے گرداب میں پھنس کر رہ گئی۔ لیکن جب فکر نے مصلحتوں کی زنجیریں توڑیں اور حق کی جستجو میں نکلی، تو اس نے باطل کے خس و خاشاک کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ فکر ہی تو ہے جو خشک لکڑی میں جیون کا رس بھر دیتی ہے اور سنگِ گراں سے چشمے جاری کر دیتی ہے۔ جس طرح نسیمِ سحر کے ایک جھونکے سے گلستاں کی رگوں میں زندگی کا لہو دوڑنے لگتا ہے، اسی طرح فکر کی ایک لہر مردہ معاشروں میں انقلاب کی روح پھونک دیتی ہے۔
آج کے اس مادی دور میں، جہاں بصارتیں چکا چوند کا شکار ہیں، ہمیں بابصیرت دلوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں اپنے شعور کی بنجر زمین کو فکر کی آبیاری سے لالہ و گل بنانا ہوگا، تاکہ ادراک کی یہ روشنی صرف ہمارے ذہنوں تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کی تپش سے انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہو سکے۔ یاد رہے کہ فکر وہ لازوال دولت ہے جو تقسیم کرنے سے گھٹتی نہیں، بلکہ اس کا نور جتنا بانٹا جائے، کائنات اتنی ہی واضح اور تابناک نظر آنے لگتی ہے۔ یہی وہ جادۂ مستقیم ہے جو مسافر کو منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے اور اسے اشرف المخلوقات کے منصبِ جلیل پر متمکن کرتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
(1) تودہ : ہمارے یہاں تالاب سے جب مٹی نکال کر لاتے ہیں تو چھوٹے چھوٹے اور گول گول مٹی کے ڈھیر بنا دیتے ہیں، انھیں تودہ کہا جاتا ہے۔
(2) لا شرقیہ ولا غربیہ: مراد کمالِ ظہور بلا تقییدِ جہت و علاقہ، سورہ نور، آیت نمبر ۳۵ میں ہے: اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍۙ (وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب کا نہ پچھم کا۔) تفصیل کے لیے آیت کریمہ کی تفسیر کی جانب رجوع کریں۔
(3) تقلید کورکورانہ : بنا سوچے سمجھے کسی چیز یا کسی شخص کی پیروی کرنا۔
(2) لا شرقیہ ولا غربیہ: مراد کمالِ ظہور بلا تقییدِ جہت و علاقہ، سورہ نور، آیت نمبر ۳۵ میں ہے: اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍۙ (وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب کا نہ پچھم کا۔) تفصیل کے لیے آیت کریمہ کی تفسیر کی جانب رجوع کریں۔
(3) تقلید کورکورانہ : بنا سوچے سمجھے کسی چیز یا کسی شخص کی پیروی کرنا۔
راقم الحروف
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323










