یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

فقہ، اصول فقہ
فقہ حنفی کی جامعیت
فقہ حنفی کی جامعیت
اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز حاصل ہے۔ یہ مکتبِ فکر نہ صرف علمی گہرائی اور اصولوں کی پختگی میں منفرد ہے، بلکہ عالمِ اسلام کے وسیع ترین جغرافیائی خطے (برصغیر، وسط ایشیا اور سابقہ عثمانی سلطنت) میں چھ صدیوں سے زائد عرصے تک سرکاری قانون (قانونِ سلطنت) کی بنیاد رہا ہے۔ یہ مقالہ اسی مکتبِ فکر کی جامعیت، نصوص پر مبنی استنباط کی وسعت اور اس کے عملی امتیازات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
مؤسسِ مذہب: امام اعظم ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ)
فقہ حنفی کی اساس رکھنے والی
شخصیت ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی (۸۰ھ تا ۱۵۰ھ) ہیں، جو غیر معمولی فقہی بصیرت، ذہانت اور تقویٰ کے باعث امام اعظم کے لقب سے جانے گئے۔ کوفہ میں ان کی پرورش ایک ایسے علمی اور تجارتی ماحول میں ہوئی جہاں فقہی مجالس عروج پر تھیں۔
امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام اعظم کے علمی مقام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: الناسُ في الفقهِ عيالٌ على أبي حنيفةَ. (فقہ کے معاملے میں لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)
(تاریخِ بغداد، جلد ۱۳، ص ۳۴۵)
عِيَالٌ فِي الْفَقَاهَةِ كُلُّ قَوْمٍ
عَلَيْكَ، وَأَنْتَ بَحْرٌ لِلرِّوَاءٖ
(نجمیؔ)
فقہ حنفی کی اساس رکھنے والی
شخصیت ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی (۸۰ھ تا ۱۵۰ھ) ہیں، جو غیر معمولی فقہی بصیرت، ذہانت اور تقویٰ کے باعث امام اعظم کے لقب سے جانے گئے۔ کوفہ میں ان کی پرورش ایک ایسے علمی اور تجارتی ماحول میں ہوئی جہاں فقہی مجالس عروج پر تھیں۔
امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام اعظم کے علمی مقام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: الناسُ في الفقهِ عيالٌ على أبي حنيفةَ. (فقہ کے معاملے میں لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)
(تاریخِ بغداد، جلد ۱۳، ص ۳۴۵)
عِيَالٌ فِي الْفَقَاهَةِ كُلُّ قَوْمٍ
عَلَيْكَ، وَأَنْتَ بَحْرٌ لِلرِّوَاءٖ
(نجمیؔ)
تدوینِ فقہ کا شورائی (مشاورتی) منہج

فقہ حنفی کی جامعیت
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
فقہ حنفی کی جامعیت
اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز حاصل ہے۔ یہ مکتبِ فکر نہ صرف علمی گہرائی اور اصولوں کی پختگی میں منفرد ہے، بلکہ عالمِ اسلام کے وسیع ترین جغرافیائی خطے (برصغیر، وسط ایشیا اور سابقہ عثمانی سلطنت) میں چھ صدیوں سے زائد عرصے تک سرکاری قانون (قانونِ سلطنت) کی بنیاد رہا ہے۔ یہ مقالہ اسی مکتبِ فکر کی جامعیت، نصوص پر مبنی استنباط کی وسعت اور اس کے عملی امتیازات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
مؤسسِ مذہب: امام اعظم ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ)
فقہ حنفی کی اساس رکھنے والی
شخصیت ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی (۸۰ھ تا ۱۵۰ھ) ہیں، جو غیر معمولی فقہی بصیرت، ذہانت اور تقویٰ کے باعث امام اعظم کے لقب سے جانے گئے۔ کوفہ میں ان کی پرورش ایک ایسے علمی اور تجارتی ماحول میں ہوئی جہاں فقہی مجالس عروج پر تھیں۔
امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام اعظم کے علمی مقام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: الناسُ في الفقهِ عيالٌ على أبي حنيفةَ. (فقہ کے معاملے میں لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)
(تاریخِ بغداد، جلد ۱۳، ص ۳۴۵)
عِيَالٌ فِي الْفَقَاهَةِ كُلُّ قَوْمٍ
عَلَيْكَ، وَأَنْتَ بَحْرٌ لِلرِّوَاءٖ
(نجمیؔ)
فقہ حنفی کی اساس رکھنے والی
شخصیت ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی (۸۰ھ تا ۱۵۰ھ) ہیں، جو غیر معمولی فقہی بصیرت، ذہانت اور تقویٰ کے باعث امام اعظم کے لقب سے جانے گئے۔ کوفہ میں ان کی پرورش ایک ایسے علمی اور تجارتی ماحول میں ہوئی جہاں فقہی مجالس عروج پر تھیں۔
امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام اعظم کے علمی مقام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: الناسُ في الفقهِ عيالٌ على أبي حنيفةَ. (فقہ کے معاملے میں لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)
(تاریخِ بغداد، جلد ۱۳، ص ۳۴۵)
عِيَالٌ فِي الْفَقَاهَةِ كُلُّ قَوْمٍ
عَلَيْكَ، وَأَنْتَ بَحْرٌ لِلرِّوَاءٖ
(نجمیؔ)
تدوینِ فقہ کا شورائی (مشاورتی) منہج
فقہ حنفی کی جامعیت کا سب سے بڑا راز اس کا اجتماعی اور شورائی طریقۂ تدوین ہے۔ امام ابو حنیفہ نے انفرادی رائے کی بجائے اڑتیس یا چالیس جلیل القدر فقہاء اور محدثین پر مشتمل ایک مجلس تشکیل دی، جن میں امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن شیبانی، امام زفر بن ہذیل اور عبد اللہ بن مبارک جیسے نابغۂ روزگار علماء شامل تھے۔
منہج کی نوعیت: مجلس میں کوئی بھی مسئلہ پیش کیا جاتا، تو سب سے پہلے کتاب و سنت کی نصوص کو دیکھا جاتا۔ اگر کوئی نص نہ ملتی تو تمام اراکین دلائل اور قیاس کی روشنی میں اس پر بحث و تمحیص کرتے۔ یہ بحثیں بعض اوقات کئی کئی دن جاری رہتیں، یہاں تک کہ وہ اطمینان بخش امر پر متفق ہو جاتے۔ پھر اسے بارہ اصحاب کی فیصل کمیٹی کے پاس بھیجا جاتا جو فیصلے کو آخری شکل دیتی، اور حتمی نتائج پر پہنچتی تھی۔ (ملخصا از حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، مصنفہ ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی، ص ۲۷۱)
موفق کہتے ہیں: فوضع ابو حنيفة رحمه الله شورى بينهم لم يستوى فيه بنفسه دونهم اجتهادا منه في الدين و مبالغة في النصيحة لله ورسوله والمومنين وكان يلقى مسئلة مسئلة ويقلبهم ويسمع ما عندهم ويقول ما عنده ويناظرهم شهرا او اكثر من ذالك حتى يستقرى احد الاقوال فيها ثم يثبتها القاضي ابويوسف في الاصول (مناقب موفق ج ۲ ص ۱۳۳ بحوالہ حضرتِ امام اعظم ابو حنیفہ، مصنفہ ڈاکٹرمحمدعاصم اعظمی، ص ۲۷۷)
ابو حنیفہ نے اپنا مذہب شاگردوں کے مشورے سے مرتب کیا ہے اور اپنی حد وسیع تک دین کی خاطر زیادہ سے زیادہ جانفشانی کرنے کا جو جذبہ رکھتے تھے اور خدا اور رسول خدا اور اہل ایمان کے لیے جو کمال درجہ کا اخلاص ان کے دل میں تھا اس کی وجہ سے انہوں نے شاگردوں کو چھوڑ کر یہ کام محض اپنی انفرادیت سے کر ڈالنا پسند نہ کیا وہ ایک ایک مسئلہ ان کے سامنے پیش کرتے تھے اس کے مختلف پہلو ان کے سامنے لاتے تھے، جو کچھ ان کے پاس علم اور خیال ہوتا اسے سنتے اور اپنی رائے بھی بیان کرتے حتی کہ بعض اوقات ایک ایک مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے مہینہ مہینہ بھر یا اس سے زیادہ لگ جاتا تھا۔ آخر میں جب ایک رائے قرار پا جاتی اسے قاضی ابو یوسف کتب اصول میں تحریر کرتے۔
ابو حنیفہ نے اپنا مذہب شاگردوں کے مشورے سے مرتب کیا ہے اور اپنی حد وسیع تک دین کی خاطر زیادہ سے زیادہ جانفشانی کرنے کا جو جذبہ رکھتے تھے اور خدا اور رسول خدا اور اہل ایمان کے لیے جو کمال درجہ کا اخلاص ان کے دل میں تھا اس کی وجہ سے انہوں نے شاگردوں کو چھوڑ کر یہ کام محض اپنی انفرادیت سے کر ڈالنا پسند نہ کیا وہ ایک ایک مسئلہ ان کے سامنے پیش کرتے تھے اس کے مختلف پہلو ان کے سامنے لاتے تھے، جو کچھ ان کے پاس علم اور خیال ہوتا اسے سنتے اور اپنی رائے بھی بیان کرتے حتی کہ بعض اوقات ایک ایک مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے مہینہ مہینہ بھر یا اس سے زیادہ لگ جاتا تھا۔ آخر میں جب ایک رائے قرار پا جاتی اسے قاضی ابو یوسف کتب اصول میں تحریر کرتے۔
اس شورائی نظام نے فقہ حنفی کو فکری پختگی اور تمام ممکنہ آراء کا احاطہ کرنے کی صلاحیت بخشی، جس کے باعث یہ بعد کے تمام فقہی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوا۔
فقہ حنفی کے بنیادی اصولِ استنباط اور ان کی وسعت
کتاب اللہ اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)
فقہ حنفی کی بنیاد، دیگر تمام مکاتبِ فقہیہ کی طرح، کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قائم ہے۔ حنفی فقہاء کا منہج یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے قطعی الثبوت نصوص کو سب سے پہلے اختیار کرتے ہیں اور احکام کے استنباط میں ان سے سرمو انحراف نہیں کرتے۔ حتی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں: إذا صح الحدیث فهو مذھبی (رد المحتار مقدمۃ الکتاب، دار احیاء التراث العربی، ۴۶/۱)
تاہم، سنت کے معاملے میں، امام ابو حنیفہ کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ وہ احکامِ شرعیہ میں آحاد احادیث کو قبول کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے، خصوصاً جب وہ کسی قیاسِ جلی (واضح قیاس)، مصلحتِ عامہ یا قرآن کے کسی عمومی قاعدے کے خلاف ہوں۔ یہ احتیاط اس لیے تھی تاکہ فقہی احکام صرف مضبوط دلائل پر مبنی ہوں، جن پر عمل کرنا امت کے لیے یقینی ہو۔
فقہ حنفی کی بنیاد، دیگر تمام مکاتبِ فقہیہ کی طرح، کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قائم ہے۔ حنفی فقہاء کا منہج یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے قطعی الثبوت نصوص کو سب سے پہلے اختیار کرتے ہیں اور احکام کے استنباط میں ان سے سرمو انحراف نہیں کرتے۔ حتی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں: إذا صح الحدیث فهو مذھبی (رد المحتار مقدمۃ الکتاب، دار احیاء التراث العربی، ۴۶/۱)
تاہم، سنت کے معاملے میں، امام ابو حنیفہ کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ وہ احکامِ شرعیہ میں آحاد احادیث کو قبول کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے، خصوصاً جب وہ کسی قیاسِ جلی (واضح قیاس)، مصلحتِ عامہ یا قرآن کے کسی عمومی قاعدے کے خلاف ہوں۔ یہ احتیاط اس لیے تھی تاکہ فقہی احکام صرف مضبوط دلائل پر مبنی ہوں، جن پر عمل کرنا امت کے لیے یقینی ہو۔
اجماع اور قولِ صحابی کا درجہ
حنفی اصول کے مطابق، شریعت کا تیسرا ماخذ اجماع ہے، یعنی کسی بھی دور میں تمام مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہو جانا۔ اس کے بعد قولِ صحابی کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
قولِ صحابی: حنفی فقہ میں اگر کسی مسئلہ میں کسی صحابی کا قول مل جائے اور اس کے خلاف کوئی دوسرا صحابی کا قول یا قوی قیاس موجود نہ ہو، تو اسے ترجیح دی جاتی ہے۔ صحابہ کرام، بالخصوص فقہاء صحابہ (حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے فتاویٰ کو ایک اہم شرعی دلیل سمجھا گیا ہے۔
قولِ صحابی: حنفی فقہ میں اگر کسی مسئلہ میں کسی صحابی کا قول مل جائے اور اس کے خلاف کوئی دوسرا صحابی کا قول یا قوی قیاس موجود نہ ہو، تو اسے ترجیح دی جاتی ہے۔ صحابہ کرام، بالخصوص فقہاء صحابہ (حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے فتاویٰ کو ایک اہم شرعی دلیل سمجھا گیا ہے۔
قیاس: عقل و نقل کا حسین امتزاج
فقہ حنفی کی حقیقی جامعیت قیاس کے اصول پر منحصر ہے، جس نے اسے ان گنت نئے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت دی۔
قیاس کی تعریف: القیاسُ هو إلحاق واقعة لا نص على حكمها بواقعة ورد نص بحكمها، في الحكم الذي ورد به النص، لتساوي الواقعتين في علة هذا الحكم. (ترجمہ: قیاس یہ ہے کہ جس مسئلے کی شریعت میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اسے ایسے دوسرے مسئلے کے ساتھ ملایا جائے جس کے بارے میں نص وارد ہے، اور اسی حکم کو اس نئے مسئلے کے لیے ثابت کیا جائے، کیونکہ دونوں مسائل اس حکم کی علت میں برابر ہیں۔) (علم اصول الفقہ، از عبد الوھاب خلاف، ص ۵۲)
صاحب المنار فرماتے ہیں:
القیاس۔۔۔۔۔۔تقدیر الفرع با الاصل فی الحکم و العلۃ
(فرع کو اصل کے ساتھ ملانا حکم اور علت میں) (نور الانوار، ص ۲۲۸)
قیاس کی تعریف: القیاسُ هو إلحاق واقعة لا نص على حكمها بواقعة ورد نص بحكمها، في الحكم الذي ورد به النص، لتساوي الواقعتين في علة هذا الحكم. (ترجمہ: قیاس یہ ہے کہ جس مسئلے کی شریعت میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اسے ایسے دوسرے مسئلے کے ساتھ ملایا جائے جس کے بارے میں نص وارد ہے، اور اسی حکم کو اس نئے مسئلے کے لیے ثابت کیا جائے، کیونکہ دونوں مسائل اس حکم کی علت میں برابر ہیں۔) (علم اصول الفقہ، از عبد الوھاب خلاف، ص ۵۲)
صاحب المنار فرماتے ہیں:
القیاس۔۔۔۔۔۔تقدیر الفرع با الاصل فی الحکم و العلۃ
(فرع کو اصل کے ساتھ ملانا حکم اور علت میں) (نور الانوار، ص ۲۲۸)
مثال کے طور پر قرآن میں شراب (خمر) کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ فقہاء نے نشہ آور ہونا اس حرمت کی علت قرار دی اور قیاس کے ذریعے فیصلہ کیا کہ جو بھی مشروب اس علت میں شامل ہو، جیسے آج کل کی جدید منشیات، وہ بھی حرام ہے۔ اس طرح قیاس نے فقہ کو ہر زمانے کے لیے قابلِ عمل بنا دیا۔
امام ابو حنیفہ نے قیاس کو محض رائے نہیں بنایا، بلکہ اسے اجتہاد کا ایک مضبوط اصول قرار دیا، جس کی بنیاد چار شرائط پر رکھی گئی:
۱۔ الا یکون الاصل مخصوصا بحکمہ بنص آخر، کشھادۃ خزیمۃ وحدہ (نور الانوار، ص ۲۳۲-۲۳۳)
(اصل کا حکم خود اصل کے ساتھ خاص نہ ہو کسی دوسری نص کی وجہ سے، جیسے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی)
۲۔ و الا یکون معدولا بہ عن القیاس، کبقاء الصوم مع الاکل و الشرب ناسیا (ایضا، ۲۳۳)
(اصل کا حکم خلاف قیاس نہ ہو، جیسے بھول کر کھانے پینے کے باوجود روزے کا باقی رہنا)
۳۔ و ان یتعدی الحکم الشرعی الثابت بالنص بعینہ الی فرع ھو نظیرہ ولا نص فیہ (ایضا، ص۲۳۳)
(وہ حکم شرعی جو نص سے ثابت ہے وہ بعینہ ایسی فرع کی طرف متعدی ہو جو اصل کی نظیر ہو اور اس فرع کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو)
۴۔ ان یبقی حکم النص بعد التعلیل علی ما کان قبلہ (ایضا، ۲۳۵)
(تعلیل کے بعد نص کا حکم اپنی پہلی حالت پر باقی رہے)
یہ وہ شرائط ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قیاس کسی کی ذاتی رائے کا مظاہر نہیں بلکہ قرآن و سنت کا مظہر، کاشف و مبین ہے۔
۱۔ الا یکون الاصل مخصوصا بحکمہ بنص آخر، کشھادۃ خزیمۃ وحدہ (نور الانوار، ص ۲۳۲-۲۳۳)
(اصل کا حکم خود اصل کے ساتھ خاص نہ ہو کسی دوسری نص کی وجہ سے، جیسے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی)
۲۔ و الا یکون معدولا بہ عن القیاس، کبقاء الصوم مع الاکل و الشرب ناسیا (ایضا، ۲۳۳)
(اصل کا حکم خلاف قیاس نہ ہو، جیسے بھول کر کھانے پینے کے باوجود روزے کا باقی رہنا)
۳۔ و ان یتعدی الحکم الشرعی الثابت بالنص بعینہ الی فرع ھو نظیرہ ولا نص فیہ (ایضا، ص۲۳۳)
(وہ حکم شرعی جو نص سے ثابت ہے وہ بعینہ ایسی فرع کی طرف متعدی ہو جو اصل کی نظیر ہو اور اس فرع کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو)
۴۔ ان یبقی حکم النص بعد التعلیل علی ما کان قبلہ (ایضا، ۲۳۵)
(تعلیل کے بعد نص کا حکم اپنی پہلی حالت پر باقی رہے)
یہ وہ شرائط ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قیاس کسی کی ذاتی رائے کا مظاہر نہیں بلکہ قرآن و سنت کا مظہر، کاشف و مبین ہے۔
استحسان: فقہ حنفی کا امتیازی اصول
فقہ حنفی کی عملی لچک اور وسعت کا مظہر اس کا ایک اہم اصول، استحسان ہے۔ استحسان کے اصول نے فقہ کو محض سخت اور جامد اصولوں کا پابند ہونے سے بچا لیا اور اسے حقیقی عدل و انصاف کے زیادہ قریب کر دیا۔
الاستحسان لغة : عد الشيء حسناً، واعتقاده حسناً، يقال: استحسنت كذا؛ أي: اعتقدته حسناً۔
(استحسان کا لغوی معنی: کسی چیز کو اچھا جاننا، کسی چیز کو اچھا سمجھنا (اعتقاد کرنا)، کہا جاتا ہے: استحسنت کذا یعنی میں نے اسے اچھا سمجھا۔)
انظر المعجم الوسيط (١٧٤/١)، و التعاريف (٥٥/١) ، و التعريفات (۳۲/۱)، و كتاب الكليات (۱/ ۱۰۷)، و دستور العلماء (۷۲/۱).
واصطلاحاً : هو أن يعدل الإنسان عن أن يحكم في المسألة بمثل ما حكم في نظائرها إلى خلافه؛ لوجه أقوى يقتضي العدول عن الأول۔
اصطلاحی معنی: یہ ہے کہ انسان کسی مسئلے میں اس کے نظائر (مشابہ مسائل) کے مطابق حکم دینے کے بجائے کسی زیادہ مضبوط وجہ کی بنا پر اس کے خلاف حکم دے، جو پہلی وجہ سے اقویٰ ہو اور اس سے عدول کا تقاضا کرے۔
وعرفه الكاكي : اسم لدليل يعارض القياس الجلي.
اور کاکی نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
یہ اُس دلیل کا نام ہے جو قیاسِ جلی کے معارض ہو۔
انظر المحصول (١٦٩/٦)، وشرح التلويح على التوضيح (۱۷۲/۲)، و جامع الأسرار (١٠٥٤/٤).
صاحب المنار فرماتے ہیں:
والاستحسان يكون بالأثر، والإجماع، والضرورة، والقياس الخفي
استحسان اثر، اجماع، ضرورت اور قیاس خفی کے ذریعے ہوتا ہے۔
علامہ احمد جیون جونپوری نور الانوار میں فرماتے ہیں:
يعني : أن القياس الجلي يقتضي شيئاً، والأثر والإجماع والضرورة والقياس الخفي يقتضي ما يضاده، فيترك العمل بالقياس، ويصار إلى الاستحسان۔
(نور الانوار، ص ۲۴۷)
یعنی قیاس جلی ایک حکم کا تقاضا کر رہا ہے اور اثر، اجماع، ضرورت یا قیاس خفی اس کے متضاد حکم کا تقاضا کر رہے ہیں، تو قیاس جلی کو چھوڑ دیا جائے گا اور استحسان پر عمل کیا جائے گا۔
الاستحسان لغة : عد الشيء حسناً، واعتقاده حسناً، يقال: استحسنت كذا؛ أي: اعتقدته حسناً۔
(استحسان کا لغوی معنی: کسی چیز کو اچھا جاننا، کسی چیز کو اچھا سمجھنا (اعتقاد کرنا)، کہا جاتا ہے: استحسنت کذا یعنی میں نے اسے اچھا سمجھا۔)
انظر المعجم الوسيط (١٧٤/١)، و التعاريف (٥٥/١) ، و التعريفات (۳۲/۱)، و كتاب الكليات (۱/ ۱۰۷)، و دستور العلماء (۷۲/۱).
واصطلاحاً : هو أن يعدل الإنسان عن أن يحكم في المسألة بمثل ما حكم في نظائرها إلى خلافه؛ لوجه أقوى يقتضي العدول عن الأول۔
اصطلاحی معنی: یہ ہے کہ انسان کسی مسئلے میں اس کے نظائر (مشابہ مسائل) کے مطابق حکم دینے کے بجائے کسی زیادہ مضبوط وجہ کی بنا پر اس کے خلاف حکم دے، جو پہلی وجہ سے اقویٰ ہو اور اس سے عدول کا تقاضا کرے۔
وعرفه الكاكي : اسم لدليل يعارض القياس الجلي.
اور کاکی نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
یہ اُس دلیل کا نام ہے جو قیاسِ جلی کے معارض ہو۔
انظر المحصول (١٦٩/٦)، وشرح التلويح على التوضيح (۱۷۲/۲)، و جامع الأسرار (١٠٥٤/٤).
صاحب المنار فرماتے ہیں:
والاستحسان يكون بالأثر، والإجماع، والضرورة، والقياس الخفي
استحسان اثر، اجماع، ضرورت اور قیاس خفی کے ذریعے ہوتا ہے۔
علامہ احمد جیون جونپوری نور الانوار میں فرماتے ہیں:
يعني : أن القياس الجلي يقتضي شيئاً، والأثر والإجماع والضرورة والقياس الخفي يقتضي ما يضاده، فيترك العمل بالقياس، ويصار إلى الاستحسان۔
(نور الانوار، ص ۲۴۷)
یعنی قیاس جلی ایک حکم کا تقاضا کر رہا ہے اور اثر، اجماع، ضرورت یا قیاس خفی اس کے متضاد حکم کا تقاضا کر رہے ہیں، تو قیاس جلی کو چھوڑ دیا جائے گا اور استحسان پر عمل کیا جائے گا۔
بعض لوگوں نے استحسان کو تشہّی (خواہش پرستی) قرار دیا، لیکن حنفی علماء نے واضح کیا کہ ان کا استحسان محض ذاتی رجحان نہیں، بلکہ شرعی دلائل کی بنیاد پر استنباط ہے، جو عدل، مصلحت اور تسہیل (آسانی) کے اصولوں پر مبنی ہے۔
استحسان کی مثالوں سے افہام و تفہیم
استحسان کا اصول تجارت اور معاملات کے شعبے میں عملی آسانی پیدا کرنے کے لیے کلیدی ثابت ہوا۔
مثال ۱: بیع سلم: (Salam Contract)
قیاس کا تقاضا: قیاس کہتا ہے کہ یہ بیع جائز نہ ہو کیونکہ معدوم کی بیع ہے، اور معدوم کی بیع جائز نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: احناف نے اسے استحسان بالأثر کی بنا پر جائز قرار دیا، اثر یہ ہے: من أسلم منكم فليسلم في كيل معلوم أو وزن معلوم إلى أجل معلوم (اخرجہ البخاری ۲۱۳۵)
مثال ۲: بیعِ استصناع (Manufacture Contract)
قیاس کا تقاضا: اگر کوئی شخص کسی کاریگر سے کہے کہ میرے لیے یہ مخصوص چیز بنا دو (مثلاً جوتے، برتن یا جہاز)، صفت و مقدار بیان کر دی، لیکن اس کی مدت بیان نہیں کی، تو قیاس کا تقاضا ہے کہ یہ معاہدہ باطل ہو، کیونکہ جس چیز کی بیع ہو رہی ہے وہ معاہدہ کے وقت موجود نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ زمانہ قدیم سے لوگوں کا یہ طریقہ کار رہا ہے اور اس کے بغیر صنعت و تجارت کا پہیہ نہیں چل سکتا، لہٰذا فقہ حنفی نے عرف اور مصلحتِ عامہ کی بنا پر بالإجماع اسے جائز قرار دیا۔ یہ اصول آج کے جدید Construction Contracts کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مثال ۱: بیع سلم: (Salam Contract)
قیاس کا تقاضا: قیاس کہتا ہے کہ یہ بیع جائز نہ ہو کیونکہ معدوم کی بیع ہے، اور معدوم کی بیع جائز نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: احناف نے اسے استحسان بالأثر کی بنا پر جائز قرار دیا، اثر یہ ہے: من أسلم منكم فليسلم في كيل معلوم أو وزن معلوم إلى أجل معلوم (اخرجہ البخاری ۲۱۳۵)
مثال ۲: بیعِ استصناع (Manufacture Contract)
قیاس کا تقاضا: اگر کوئی شخص کسی کاریگر سے کہے کہ میرے لیے یہ مخصوص چیز بنا دو (مثلاً جوتے، برتن یا جہاز)، صفت و مقدار بیان کر دی، لیکن اس کی مدت بیان نہیں کی، تو قیاس کا تقاضا ہے کہ یہ معاہدہ باطل ہو، کیونکہ جس چیز کی بیع ہو رہی ہے وہ معاہدہ کے وقت موجود نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ زمانہ قدیم سے لوگوں کا یہ طریقہ کار رہا ہے اور اس کے بغیر صنعت و تجارت کا پہیہ نہیں چل سکتا، لہٰذا فقہ حنفی نے عرف اور مصلحتِ عامہ کی بنا پر بالإجماع اسے جائز قرار دیا۔ یہ اصول آج کے جدید Construction Contracts کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مثال ۳: کنواں کی پاکی
قیاس کا تقاضا: کنواں میں اگر نجاست گر جائے تو قیاس چاہتا ہے کہ وہ کبھی پاک نہ ہو کیونکہ کنویں پر اس طور سے پانی بہانا کہ وہ پاک ہو جائے، ممکن نہیں۔ پھر جب ڈول سے پانی نکالا تو ماء نجس کی ملاقات سے ڈول بھی ناپاک۔ اب جب تک اس ڈول سے پانی نکالیں گے، پانی ناپاک ہوتا رہے گا، اس لیے کہ نجس برتن سے مل رہا ہے، لہٰذا کنواں کبھی پاک ہی نہ ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: ضرورت کے سبب موجب قیاس پر عمل متروک ہوگا، کیونکہ اس میں حرج ہے، اور حرج بنصِ قرآنی مدفوع، کما قال اللہ تعالی: و ما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج:۷۸)
قیاس کا تقاضا: کنواں میں اگر نجاست گر جائے تو قیاس چاہتا ہے کہ وہ کبھی پاک نہ ہو کیونکہ کنویں پر اس طور سے پانی بہانا کہ وہ پاک ہو جائے، ممکن نہیں۔ پھر جب ڈول سے پانی نکالا تو ماء نجس کی ملاقات سے ڈول بھی ناپاک۔ اب جب تک اس ڈول سے پانی نکالیں گے، پانی ناپاک ہوتا رہے گا، اس لیے کہ نجس برتن سے مل رہا ہے، لہٰذا کنواں کبھی پاک ہی نہ ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: ضرورت کے سبب موجب قیاس پر عمل متروک ہوگا، کیونکہ اس میں حرج ہے، اور حرج بنصِ قرآنی مدفوع، کما قال اللہ تعالی: و ما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج:۷۸)
مثال ۴: گوشت خور پرندے کے جوٹھے کی پاکی
قیاس کا تقاضا: قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ نجس ہو، جیسے کہ گوشت خور چوپائے کا جوٹھا کہ وہ نجس ہے، کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے اور جوٹھا گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ گوشت خور پرندے کا گوشت بھی حرام ہے، لہٰذا اس کا بھی جوٹھا نجس ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ پرندہ اپنی چونچ سے کھاتا ہے، اور وہ پاک ہڈی ہے، بر خلاف چوپائے کے کہ وہ منہ سے کھاتا ہے، اور اس کا نجس لعاب اس شیئ سے مل جاتا ہے۔ لہٰذا قیاس خفی کو ترجیح دی اور گوشت خور پرندے کے جوٹھے کو پاک قرار دیا۔
قیاس کا تقاضا: قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ نجس ہو، جیسے کہ گوشت خور چوپائے کا جوٹھا کہ وہ نجس ہے، کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے اور جوٹھا گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ گوشت خور پرندے کا گوشت بھی حرام ہے، لہٰذا اس کا بھی جوٹھا نجس ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ پرندہ اپنی چونچ سے کھاتا ہے، اور وہ پاک ہڈی ہے، بر خلاف چوپائے کے کہ وہ منہ سے کھاتا ہے، اور اس کا نجس لعاب اس شیئ سے مل جاتا ہے۔ لہٰذا قیاس خفی کو ترجیح دی اور گوشت خور پرندے کے جوٹھے کو پاک قرار دیا۔
عرف و عادت کو شرعی حیثیت
فقہ حنفی میں عرف (معاشرتی رواج اور عادت) کو بھی ایک تسلیم شدہ ماخذ کا درجہ حاصل ہے، بشرطیکہ وہ قرآن و سنت کی کسی قطعی نص کے خلاف نہ ہو۔
مشہور فقہی قاعدہ ہے: المعروفُ عرفاً كالمشروطِ شرطاً. (ترجمہ: جو چیز عرف میں معروف ہو، وہ ایسی ہے جیسے شرط لگا دی گئی ہو۔)
مشہور فقہی قاعدہ ہے: المعروفُ عرفاً كالمشروطِ شرطاً. (ترجمہ: جو چیز عرف میں معروف ہو، وہ ایسی ہے جیسے شرط لگا دی گئی ہو۔)
اس اصول نے حنفی فقہ کو یہ صلاحیت دی کہ وہ مختلف علاقوں کی مقامی ضروریات اور ثقافتی رواج کو جذب کر کے ایک لچکدار اور عالمی قانون کا کردار ادا کرے۔
فقہ حنفی کی عملی وسعت: معاملات اور قانون سازی
فقہ المعاملات میں گہرائی
فقہ حنفی کا ایک بڑا وصف مالیاتی اور تجارتی قوانین (فقہ المعاملات) میں اس کی بے مثال گہرائی اور تفصیل ہے۔ امام ابو حنیفہ کے تجارتی پس منظر نے اس مکتبِ فکر کو معاشی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے کی ترغیب دی۔
عقودِ شرکت (Partnerships): حنفی فقہ میں شراکت کی مختلف شکلیں اتنی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں کہ آج کے جدید کارپوریٹ قانون کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ جیسے:
شرکت المفاوضہ: جس میں تمام شرکاء کے حقوق اور ذمہ داریاں ہر لحاظ سے برابر ہوتی ہیں۔
شرکت العِنان: جس میں شرکاء کا سرمایہ، کام، یا منافع کا حصہ مختلف ہوتا ہے۔ (الھدایۃ، کتاب الشرکۃ)
المضاربة: جدید Venture Capital کی طرح کی شراکت، جہاں ایک فریق سرمایہ (رب المال) فراہم کرتا ہے اور دوسرا (مضارب) اپنی محنت۔ (مختصر القدوری، دار الكتب العلمية، ص ۱۱۳)
امام محمد کی خدمات: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف الکسب (معیشت و کمائی کے مسائل پر) اس میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
فقہ حنفی کا ایک بڑا وصف مالیاتی اور تجارتی قوانین (فقہ المعاملات) میں اس کی بے مثال گہرائی اور تفصیل ہے۔ امام ابو حنیفہ کے تجارتی پس منظر نے اس مکتبِ فکر کو معاشی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے کی ترغیب دی۔
عقودِ شرکت (Partnerships): حنفی فقہ میں شراکت کی مختلف شکلیں اتنی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں کہ آج کے جدید کارپوریٹ قانون کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ جیسے:
شرکت المفاوضہ: جس میں تمام شرکاء کے حقوق اور ذمہ داریاں ہر لحاظ سے برابر ہوتی ہیں۔
شرکت العِنان: جس میں شرکاء کا سرمایہ، کام، یا منافع کا حصہ مختلف ہوتا ہے۔ (الھدایۃ، کتاب الشرکۃ)
المضاربة: جدید Venture Capital کی طرح کی شراکت، جہاں ایک فریق سرمایہ (رب المال) فراہم کرتا ہے اور دوسرا (مضارب) اپنی محنت۔ (مختصر القدوری، دار الكتب العلمية، ص ۱۱۳)
امام محمد کی خدمات: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف الکسب (معیشت و کمائی کے مسائل پر) اس میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
بین الاقوامی قوانین: السِیَر (International Law)
فقہ حنفی صرف افراد کے ذاتی معاملات تک محدود نہیں رہی، بلکہ قانونِ ریاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مکمل اصول وضع کیے۔ اس شعبے کو حنفی اصطلاح میں السِیَر کہا جاتا ہے۔
کتاب السِیَر: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف السِیَر الکبیر اس موضوع پر پہلی اور منظم ترین دستاویز ہے جو جنگ و امن کے قوانین، معاہدات، سفارتی تعلقات، اور دارالاسلام و دارالحرب کے درمیان تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب موجودہ بین الاقوامی قانون (Public International Law) سے صدیوں پہلے لکھی گئی تھی۔
فقہ حنفی صرف افراد کے ذاتی معاملات تک محدود نہیں رہی، بلکہ قانونِ ریاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مکمل اصول وضع کیے۔ اس شعبے کو حنفی اصطلاح میں السِیَر کہا جاتا ہے۔
کتاب السِیَر: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف السِیَر الکبیر اس موضوع پر پہلی اور منظم ترین دستاویز ہے جو جنگ و امن کے قوانین، معاہدات، سفارتی تعلقات، اور دارالاسلام و دارالحرب کے درمیان تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب موجودہ بین الاقوامی قانون (Public International Law) سے صدیوں پہلے لکھی گئی تھی۔
قضاء و عدل (عدالتی نظام) پر اثرات
حنفی فقہ نے نہ صرف احکام وضع کیے بلکہ ان کے نفاذ کے لیے ایک مکمل عدالتی ڈھانچہ بھی فراہم کیا۔
امام ابو یوسف، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) بنے اور اسلامی دنیا کے عدالتی نظام میں انقلاب برپا کر دیا۔
قانونِ شہادت (Law of Evidence): حنفی فقہ میں گواہی کی شرائط (تزکیۃ الشہود)، قاضی کے آداب، اور عدالتی فیصلوں کے طریقۂ کار پر وہ تفصیلی قوانین موجود ہیں جو اس کی عملی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتیجہ: ان تینوں شعبوں میں تفصیلی کام یہ ثابت کرتا ہے کہ فقہ حنفی محض مخصوص مذہبی رہنمائی کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ قانون ہے جو ریاست، معیشت اور معاشرت کے ہر پہلو کو محیط ہے۔
امام ابو یوسف، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) بنے اور اسلامی دنیا کے عدالتی نظام میں انقلاب برپا کر دیا۔
قانونِ شہادت (Law of Evidence): حنفی فقہ میں گواہی کی شرائط (تزکیۃ الشہود)، قاضی کے آداب، اور عدالتی فیصلوں کے طریقۂ کار پر وہ تفصیلی قوانین موجود ہیں جو اس کی عملی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتیجہ: ان تینوں شعبوں میں تفصیلی کام یہ ثابت کرتا ہے کہ فقہ حنفی محض مخصوص مذہبی رہنمائی کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ قانون ہے جو ریاست، معیشت اور معاشرت کے ہر پہلو کو محیط ہے۔
فقہ حنفی کے تمدنی اثرات اور امتیازات
تسہیل فی الدین (دین میں آسانی) کا رجحان
فقہ حنفی کا ایک بنیادی وصف تسہیل اور تنگی دور کرنے (رفعِ حرج) کا رجحان ہے۔ اجتماعی تدوین اور استحسان کے اصولوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ احکامِ شرعیہ عام مسلمانوں کے لیے بوجھ نہ بنیں بلکہ آسانی کا باعث ہوں۔
نبوی اصول: فقہ حنفی کا یہ رجحان دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس حکم کی پیروی ہے: يسِّروا ولا تعسِّروا، وبشِّروا ولا تُنفِّروا. (ترجمہ: آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔)
(صحیح بخاری، کتاب: العلم، حدیث نمبر: ۶۹)
اس اصول کی وجہ سے، جہاں کہیں اختلافِ رائے پایا گیا، فقہ حنفی نے وہ رائے اختیار کی جو عام لوگوں کی ضروریات اور مصلحتوں سے زیادہ قریب تھی۔
فقہ حنفی کا ایک بنیادی وصف تسہیل اور تنگی دور کرنے (رفعِ حرج) کا رجحان ہے۔ اجتماعی تدوین اور استحسان کے اصولوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ احکامِ شرعیہ عام مسلمانوں کے لیے بوجھ نہ بنیں بلکہ آسانی کا باعث ہوں۔
نبوی اصول: فقہ حنفی کا یہ رجحان دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس حکم کی پیروی ہے: يسِّروا ولا تعسِّروا، وبشِّروا ولا تُنفِّروا. (ترجمہ: آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔)
(صحیح بخاری، کتاب: العلم، حدیث نمبر: ۶۹)
اس اصول کی وجہ سے، جہاں کہیں اختلافِ رائے پایا گیا، فقہ حنفی نے وہ رائے اختیار کی جو عام لوگوں کی ضروریات اور مصلحتوں سے زیادہ قریب تھی۔
تمدنی، سیاسی اور قانونی اثرات
تاریخی طور پر فقہ حنفی نے سب سے زیادہ حکومتوں کے عدالتی اور انتظامی نظام کو متاثر کیا۔
سلطنتِ عثمانیہ: چھ صدیوں تک عثمانی سلطنت کے تمام عدالتی فیصلوں کی بنیاد فقہ حنفی پر رکھی گئی۔ ان کا مشہور مجموعۂ قوانین مجلۃ الأحکام العدلیۃ بنیادی طور پر حنفی فقہ کی عملی تطبیق تھا۔
برصغیر: مغلیہ سلطنت کے دور میں فتاویٰ عالمگیری (فتاویٰ ہندیہ) کو مرتب کیا گیا، جو برسوں تک ہندوستان کا سرکاری قانون رہا۔
وسط ایشیا: سلجوقی، تیموری اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی یہی فقہ نافذ رہی۔
یہ وسیع عملی اطلاق فقہ حنفی کی جامعیت، پائیداری اور ہر زمانے میں قابلِ عمل ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ: چھ صدیوں تک عثمانی سلطنت کے تمام عدالتی فیصلوں کی بنیاد فقہ حنفی پر رکھی گئی۔ ان کا مشہور مجموعۂ قوانین مجلۃ الأحکام العدلیۃ بنیادی طور پر حنفی فقہ کی عملی تطبیق تھا۔
برصغیر: مغلیہ سلطنت کے دور میں فتاویٰ عالمگیری (فتاویٰ ہندیہ) کو مرتب کیا گیا، جو برسوں تک ہندوستان کا سرکاری قانون رہا۔
وسط ایشیا: سلجوقی، تیموری اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی یہی فقہ نافذ رہی۔
یہ وسیع عملی اطلاق فقہ حنفی کی جامعیت، پائیداری اور ہر زمانے میں قابلِ عمل ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
خلاصۂ کلام
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
فقہ حنفی، جو امام اعظم ابو حنیفہ کے فہم، شورائی تدوین کی پختگی، اور ان کے تلامذہ کی محنت کا ثمر ہے، اسلامی فقہ کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کی جامعیت کا راز درج ذیل عوامل میں پنہاں ہے:
وسعتِ اصول: قیاس اور استحسان جیسے اصولوں کا استعمال، جس نے اسے نئے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت دی۔
عملی لچک: عرف و عادت کو اہمیت دینا اور ہمیشہ تسہیل کا پہلو اختیار کرنا۔
احاطۂ مسائل: عبادات سے لے کر بین الاقوامی تعلقات (السِیَر) تک زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہونا۔
بلاشبہ، فقہ حنفی عقل و نقل، روایت و درایت، اور نص و رائے کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرنے والا مکتبِ فکر ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے بہترین رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔
وسعتِ اصول: قیاس اور استحسان جیسے اصولوں کا استعمال، جس نے اسے نئے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت دی۔
عملی لچک: عرف و عادت کو اہمیت دینا اور ہمیشہ تسہیل کا پہلو اختیار کرنا۔
احاطۂ مسائل: عبادات سے لے کر بین الاقوامی تعلقات (السِیَر) تک زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہونا۔
بلاشبہ، فقہ حنفی عقل و نقل، روایت و درایت، اور نص و رائے کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرنے والا مکتبِ فکر ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے بہترین رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323










