صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
شخصیات اسلاف واخلاف

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

✍️ Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!
(حافظ)افتخاراحمدقادری
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کے سامنے ہر ذی روح کو سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی ساری رونقیں، جاہ و حشمت کی تمام جلوہ سامانیاں، اقتدار و اختیار کی تمام رعنائیاں اور علم و فضل کی تمام رفعتیں بالآخر اسی منزلِ فنا پر آکر ختم ہو جاتی ہیں جہاں انسان اپنی ظاہری حیات کے سفر کو مکمل کرکے عالم بقا کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔ تاہم بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا انتقال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام، ایک دبستان کے سکوت اور ایک روشن باب کے بند ہو جانے کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک نابغہ روزگار، صاحبِ علم و قلم، خوش خصال اور باوقار شخصیت حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی تھی جن کے انتقال کی اندوہناک خبر نے علمی و صحافتی اور دینی حلقوں کو سوگوار کردیا۔
* حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی" ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریس و تربیت، تصنیف و تالیف اور صحافتی خدمات کے لیے وقف کردی تھی۔ آپ کا شمار ان اکابر اہلِ علم میں ہوتا تھا جن کے وجود سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی فضائیں معطر تھیں اور جن کے قلم کی جولانیاں ماہنامہ اشرفیہ کے صفحات کو وقار و اعتبار بخشتی تھیں۔ آپ نہ صرف ایک جید عالمِ دین تھے بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب، بالغ نظر صحافی، مدبر مدیر اور با اخلاق مربی بھی تھے۔ آپ کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے درسِ نظامی کی تدریس کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھا۔ آپ کی تدریسی نشستیں محض کتابی معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہ تھیں بلکہ وہ علمی بصیرت، فکری بالیدگی اور اخلاقی تربیت کا حسین امتزاج ہوتی تھیں۔ آپ کے تلامذہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ آپ درس دیتے ہوئے مشکل ترین مباحث کو بھی اس قدر سہل اور عام فہم انداز میں بیان فرماتے کہ طلبہ کے اذہان میں علمی عقدے ازخود وا ہو جاتے۔ آپ کے لہجے میں وقار، انداز میں متانت اور گفتگو میں علم و حکمت کی چاشنی نمایاں ہوا کرتی تھی۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور برصغیر کی ان عظیم دینی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہزاروں علماء، فضلاء اور مبلغین تیار کرکے ملتِ اسلامیہ کی علمی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔ اس عظیم علمی مرکز میں علامہ مبارک حسین مصباحی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ نے نہایت خاموشی مگر انتہائی مؤثر انداز میں تدریسی میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اگر آپ کی تدریسی خدمات قابلِ رشک تھیں تو صحافتی میدان میں آپ کی عظمت بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے آپ نے صحافت کے جس معیار کو برقرار رکھا وہ موجودہ دور میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جبکہ صحافت کا ایک بڑا حصہ سطحیت، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ اظہار کا شکار نظر آتا ہے علامہ مبارک حسین مصباحی نے ہمیشہ سنجیدہ، متوازن اور علمی صحافت کی روایت کو فروغ دیا۔ آپ کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ صرف ایک رسالہ نہیں رہا بلکہ ایک فکری و تحقیقی ادارہ بن گیا۔ اس کے صفحات میں علم و تحقیق کی گہرائی، ادب و انشا کی لطافت اور دینی شعور کی روشنی بیک وقت جلوہ گر نظر آتی تھی۔ خصوصاً سیدین نمبر جیسا شاہکار دیکھ کر آپ کی صحافتی مہارت، تحقیقی بصیرت اور ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے خصوصی شمارے کسی ایک شخص کی محنت، مطالعے اور فکری وسعت کے بغیر ممکن نہیں ہوتے اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سلسلے میں علامہ مبارک حسین مصباحی کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش تھا۔
آپ کی شخصیت کا ایک تابناک پہلو اخلاقِ حسنہ تھا۔
علم بعض اوقات انسان کو متکبر بنادیتا ہے، شہرت بعض اوقات طبیعت میں خودنمائی پیدا کر دیتی ہے اور منصب بعض اوقات انسان کے مزاج میں سختی پیدا کر دیتا ہے لیکن علامہ مبارک حسین مصباحی ان تمام کمزوریوں سے پاک تھے۔ آپ جتنے بڑے عالم تھے اتنے ہی منکسر المزاج بھی تھے۔ جتنے ممتاز صحافی تھے اتنے ہی خوش اخلاق بھی تھے۔ جتنے باوقار استاد تھے اتنے ہی مشفق مربی بھی تھے۔ طلبہ سے آپ کا تعلق محض استاد و شاگرد کا نہ تھا بلکہ ایک شفیق باپ اور مہربان سرپرست کا تھا۔ آپ طلبہ کی علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت اور فکری اصلاح کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد صرف آپ کی علمی قابلیت کے معترف نہیں بلکہ آپ کے اخلاقی کردار کے بھی مداح ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کا ایک واقعہ آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔ جب میرے مضامین کا مجموعہ فکری مقالات شائع ہوا تو میں نے حضرت کو فون کیا۔ حضرت نے نہایت شفقت و محبت اور خلوص کے ساتھ گفتگو فرمائی اور دوسرے ہی دن اپنے گرانقدر تاثرات بذریعہ واٹس ایپ ارسال فرما دیے۔ یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی معلوم ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ آپ کی وسعتِ قلبی، اہلِ قلم کی قدر شناسی اور علمی حوصلہ افزائی کا واضح ثبوت ہے۔ موجودہ دور میں ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں جو اپنی مصروفیات کے باوجود نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوں۔
علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ بلاشبہ آسانی سے پر نہیں ہوسکے گا۔ ان کا وجود علم و تحقیق کا ایک مرکز، ادب و صحافت کا ایک معتبر حوالہ اور اخلاق و شرافت کا ایک حسین نمونہ تھا۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے یادوں، خدمات اور نقوش کا ایک ایسا سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں جو مدتوں اہلِ علم کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ آج جب ان کے وصال کی خبر دل کو ملال اور آنکھوں کو نم کرتی ہے تو ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی کو کس قدر بامقصد بنایا تھا۔
انہوں نے شہرت کی تمنا نہیں کی، نمود و نمائش کی راہوں پر قدم نہیں رکھا بلکہ خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے انتقال پر ہزاروں دل رنجیدہ، بے شمار آنکھیں اشکبار اور علمی حلقوں میں سوگواری کی کیفیت طاری ہے۔ آپ کا انتقال دراصل ایک ایسے چراغ کا بجھ جانا ہے جس کی روشنی سے بہت سے ذہن منور ہو رہے تھے۔ ایک ایسے قلم کا رک جانا ہے جس سے علم و ادب کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ ایک ایسے معلم کا خاموش ہو جانا ہے جس کی آواز میں علم کی حرارت اور اخلاص کی تاثیر تھی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک ایسے مدیر کا رخصت ہو جانا جس نے صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ اصلاحِ امت کا ذریعہ بنایا۔ الله تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، قبر کو انوارِ رحمت سے معمور فرمائے اور جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنائے، اپنے مقرب بندوں، صالحین، صدیقین، شہداء اور انبیائے کرام علیہم السلام کے مبارک قافلے میں جگہ عطا فرمائے۔ الله تعالیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ماہنامہ اشرفیہ کے اربابِ انتظام، آپ کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین، محبین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ بلاشبہ آپ کی رحلت ایک عظیم علمی و صحافتی خسارہ ہے لیکن ان کی یادیں، خدمات، علمی آثار اور آپ کے تربیت یافتہ شاگرد ہمیشہ آپ کے لیے صدق جاریہ بنے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتے رہیں گے کہ اخلاص، علم، محنت اور حسنِ اخلاق ہی انسان کی اصل کامیابی کا سرمایہ ہیں۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

مضمون نگار: Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!
(حافظ)افتخاراحمدقادری
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کے سامنے ہر ذی روح کو سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی ساری رونقیں، جاہ و حشمت کی تمام جلوہ سامانیاں، اقتدار و اختیار کی تمام رعنائیاں اور علم و فضل کی تمام رفعتیں بالآخر اسی منزلِ فنا پر آکر ختم ہو جاتی ہیں جہاں انسان اپنی ظاہری حیات کے سفر کو مکمل کرکے عالم بقا کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔ تاہم بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا انتقال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام، ایک دبستان کے سکوت اور ایک روشن باب کے بند ہو جانے کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک نابغہ روزگار، صاحبِ علم و قلم، خوش خصال اور باوقار شخصیت حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی تھی جن کے انتقال کی اندوہناک خبر نے علمی و صحافتی اور دینی حلقوں کو سوگوار کردیا۔
* حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی" ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریس و تربیت، تصنیف و تالیف اور صحافتی خدمات کے لیے وقف کردی تھی۔ آپ کا شمار ان اکابر اہلِ علم میں ہوتا تھا جن کے وجود سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی فضائیں معطر تھیں اور جن کے قلم کی جولانیاں ماہنامہ اشرفیہ کے صفحات کو وقار و اعتبار بخشتی تھیں۔ آپ نہ صرف ایک جید عالمِ دین تھے بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب، بالغ نظر صحافی، مدبر مدیر اور با اخلاق مربی بھی تھے۔ آپ کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے درسِ نظامی کی تدریس کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھا۔ آپ کی تدریسی نشستیں محض کتابی معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہ تھیں بلکہ وہ علمی بصیرت، فکری بالیدگی اور اخلاقی تربیت کا حسین امتزاج ہوتی تھیں۔ آپ کے تلامذہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ آپ درس دیتے ہوئے مشکل ترین مباحث کو بھی اس قدر سہل اور عام فہم انداز میں بیان فرماتے کہ طلبہ کے اذہان میں علمی عقدے ازخود وا ہو جاتے۔ آپ کے لہجے میں وقار، انداز میں متانت اور گفتگو میں علم و حکمت کی چاشنی نمایاں ہوا کرتی تھی۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور برصغیر کی ان عظیم دینی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہزاروں علماء، فضلاء اور مبلغین تیار کرکے ملتِ اسلامیہ کی علمی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔ اس عظیم علمی مرکز میں علامہ مبارک حسین مصباحی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ نے نہایت خاموشی مگر انتہائی مؤثر انداز میں تدریسی میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اگر آپ کی تدریسی خدمات قابلِ رشک تھیں تو صحافتی میدان میں آپ کی عظمت بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے آپ نے صحافت کے جس معیار کو برقرار رکھا وہ موجودہ دور میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جبکہ صحافت کا ایک بڑا حصہ سطحیت، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ اظہار کا شکار نظر آتا ہے علامہ مبارک حسین مصباحی نے ہمیشہ سنجیدہ، متوازن اور علمی صحافت کی روایت کو فروغ دیا۔ آپ کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ صرف ایک رسالہ نہیں رہا بلکہ ایک فکری و تحقیقی ادارہ بن گیا۔ اس کے صفحات میں علم و تحقیق کی گہرائی، ادب و انشا کی لطافت اور دینی شعور کی روشنی بیک وقت جلوہ گر نظر آتی تھی۔ خصوصاً سیدین نمبر جیسا شاہکار دیکھ کر آپ کی صحافتی مہارت، تحقیقی بصیرت اور ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے خصوصی شمارے کسی ایک شخص کی محنت، مطالعے اور فکری وسعت کے بغیر ممکن نہیں ہوتے اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سلسلے میں علامہ مبارک حسین مصباحی کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش تھا۔
آپ کی شخصیت کا ایک تابناک پہلو اخلاقِ حسنہ تھا۔
علم بعض اوقات انسان کو متکبر بنادیتا ہے، شہرت بعض اوقات طبیعت میں خودنمائی پیدا کر دیتی ہے اور منصب بعض اوقات انسان کے مزاج میں سختی پیدا کر دیتا ہے لیکن علامہ مبارک حسین مصباحی ان تمام کمزوریوں سے پاک تھے۔ آپ جتنے بڑے عالم تھے اتنے ہی منکسر المزاج بھی تھے۔ جتنے ممتاز صحافی تھے اتنے ہی خوش اخلاق بھی تھے۔ جتنے باوقار استاد تھے اتنے ہی مشفق مربی بھی تھے۔ طلبہ سے آپ کا تعلق محض استاد و شاگرد کا نہ تھا بلکہ ایک شفیق باپ اور مہربان سرپرست کا تھا۔ آپ طلبہ کی علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت اور فکری اصلاح کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد صرف آپ کی علمی قابلیت کے معترف نہیں بلکہ آپ کے اخلاقی کردار کے بھی مداح ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کا ایک واقعہ آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔ جب میرے مضامین کا مجموعہ فکری مقالات شائع ہوا تو میں نے حضرت کو فون کیا۔ حضرت نے نہایت شفقت و محبت اور خلوص کے ساتھ گفتگو فرمائی اور دوسرے ہی دن اپنے گرانقدر تاثرات بذریعہ واٹس ایپ ارسال فرما دیے۔ یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی معلوم ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ آپ کی وسعتِ قلبی، اہلِ قلم کی قدر شناسی اور علمی حوصلہ افزائی کا واضح ثبوت ہے۔ موجودہ دور میں ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں جو اپنی مصروفیات کے باوجود نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوں۔
علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ بلاشبہ آسانی سے پر نہیں ہوسکے گا۔ ان کا وجود علم و تحقیق کا ایک مرکز، ادب و صحافت کا ایک معتبر حوالہ اور اخلاق و شرافت کا ایک حسین نمونہ تھا۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے یادوں، خدمات اور نقوش کا ایک ایسا سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں جو مدتوں اہلِ علم کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ آج جب ان کے وصال کی خبر دل کو ملال اور آنکھوں کو نم کرتی ہے تو ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی کو کس قدر بامقصد بنایا تھا۔
انہوں نے شہرت کی تمنا نہیں کی، نمود و نمائش کی راہوں پر قدم نہیں رکھا بلکہ خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے انتقال پر ہزاروں دل رنجیدہ، بے شمار آنکھیں اشکبار اور علمی حلقوں میں سوگواری کی کیفیت طاری ہے۔ آپ کا انتقال دراصل ایک ایسے چراغ کا بجھ جانا ہے جس کی روشنی سے بہت سے ذہن منور ہو رہے تھے۔ ایک ایسے قلم کا رک جانا ہے جس سے علم و ادب کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ ایک ایسے معلم کا خاموش ہو جانا ہے جس کی آواز میں علم کی حرارت اور اخلاص کی تاثیر تھی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک ایسے مدیر کا رخصت ہو جانا جس نے صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ اصلاحِ امت کا ذریعہ بنایا۔ الله تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، قبر کو انوارِ رحمت سے معمور فرمائے اور جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنائے، اپنے مقرب بندوں، صالحین، صدیقین، شہداء اور انبیائے کرام علیہم السلام کے مبارک قافلے میں جگہ عطا فرمائے۔ الله تعالیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ماہنامہ اشرفیہ کے اربابِ انتظام، آپ کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین، محبین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ بلاشبہ آپ کی رحلت ایک عظیم علمی و صحافتی خسارہ ہے لیکن ان کی یادیں، خدمات، علمی آثار اور آپ کے تربیت یافتہ شاگرد ہمیشہ آپ کے لیے صدق جاریہ بنے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتے رہیں گے کہ اخلاص، علم، محنت اور حسنِ اخلاق ہی انسان کی اصل کامیابی کا سرمایہ ہیں۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com
Author Icon

Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri

یہ مضمون Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri کی طرف سے گیسٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0