یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

احوال قوم وملت
سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
منہ پر نقاب ڈال کر اس دور میں جسیم
ہر شخص کر رہا ہے تقاضا جہیز کا
ہر شخص کر رہا ہے تقاضا جہیز کا
جہیز (Trousseau) عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ جہاز سے بنا ہے یعنی ہر وہ سازو سامان جس کی زوجین کو گھر بسانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے
جہیز اب ایک ایسا سماجی مسئلہ بن چکا ہے جس سے بچہ بچہ واقف ہے یہ لفظ جیسے بولا جاتا ہے ذہن میں عجیب سا تصور پیدا ہو جاتا ہے

سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
منہ پر نقاب ڈال کر اس دور میں جسیم
ہر شخص کر رہا ہے تقاضا جہیز کا
ہر شخص کر رہا ہے تقاضا جہیز کا
جہیز (Trousseau) عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ جہاز سے بنا ہے یعنی ہر وہ سازو سامان جس کی زوجین کو گھر بسانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے
جہیز اب ایک ایسا سماجی مسئلہ بن چکا ہے جس سے بچہ بچہ واقف ہے یہ لفظ جیسے بولا جاتا ہے ذہن میں عجیب سا تصور پیدا ہو جاتا ہے
ایسا لگتا ہے جہیز کسی شمشیر بے نیام کا نام ہے جو انسان کی گردن پر معلق ہے اگر اس کو بروئے کار نہیں لایا گیا تو ایک سر کیا چیز ہے خاندان کا خاندان تباہ و برباد کر دے گا
یہاں تک کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا
یہاں تک کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا
لیکن یہ فقط ایک تصور ہی نہیں بلکہ بارہا یہ تصور ہمارے سامنے ایک قیامت بن کر کھڑا ہو گیا جس کو دیکھنے کے بعد پتھر سے پتھر دل بھی اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ کر سکے
میں اس وقت بات کر رہا ہوں سیمانچل کے بارے میں (سیمانچل بہار کے شمال مشرقی حصے میں میتھیلا علاقے کا ایک ذیلی علاقہ ہے جس میں چار اضلاع ارریہ، پورنیہ، کشن گنج اور کٹیہار شامل ہیں)
جہاں روز بروز جہیز کی وجہ سے سیکڑوں حادثات در پیش ہوتے رہتے ہیں
ماں باپ اپنے سامان گروی رکھ کر دوسروں سے قرض لے کر جہیز ادا کر رہے ہیں
میں اس وقت بات کر رہا ہوں سیمانچل کے بارے میں (سیمانچل بہار کے شمال مشرقی حصے میں میتھیلا علاقے کا ایک ذیلی علاقہ ہے جس میں چار اضلاع ارریہ، پورنیہ، کشن گنج اور کٹیہار شامل ہیں)
جہاں روز بروز جہیز کی وجہ سے سیکڑوں حادثات در پیش ہوتے رہتے ہیں
ماں باپ اپنے سامان گروی رکھ کر دوسروں سے قرض لے کر جہیز ادا کر رہے ہیں
ماں باپ روتے رہتے ہیں بیٹی کی سوچ کر
بیٹی کی جان لے لی تماشا جہیز کا
بیٹی کی جان لے لی تماشا جہیز کا
افسوس صد افسوس
ہمارے یہاں جہیز کلچر اتنا پھول پھل گیا ہے کہ اب آدمی اپنی اوقات سے باہر جاکر شرم و حیا گروی رکھ کر لمبی سی ڈیمناڈ لسٹ پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں
ہمارے یہاں جہیز کلچر اتنا پھول پھل گیا ہے کہ اب آدمی اپنی اوقات سے باہر جاکر شرم و حیا گروی رکھ کر لمبی سی ڈیمناڈ لسٹ پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں
کچھ ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ میرے گاؤں میں در پیش ہوا جس کو سنے کے بعد آپ کا بھی دل دہل جائے گا
لڑکی کا باپ تقریبا پانچ سال پہلے طویل مدت تک بستر علالت میں رہ کر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان بحق ہو گیا تھا
اور گھر کا سارا ساز و سامان مہیا کرنا ماں کی ذمہ داری تھی
کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا جس کی عمر صرف آٹھ یا نو سال تھی
ماں ایک بیٹا اور چار بیٹیوں کو بڑے ہی لاڈ پیار سے پالتی تھی کبھی کسی قسم کی دکھ تکلیف پہنچنے نہیں دیتی تھی اپنے بیٹے کو مدرسے میں پڑھاتی بھی تھی
اسی درمیان اپنے ایک بیٹی کی شادی قریب ہی ایک گاؤں میں دلا دی دیکھتے ہی دیکھتے دوسری بیٹی بھی جوان ہو گئی
جو دیکھنے میں نہایت ہی حسین و جمیل تھی اب ماں کو ان کی شادی کی فکر لاحق ہوئی
امید میں تھی کہ ان شاء اللہ میری بیٹی کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ آئے گا
لڑکی کا باپ تقریبا پانچ سال پہلے طویل مدت تک بستر علالت میں رہ کر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان بحق ہو گیا تھا
اور گھر کا سارا ساز و سامان مہیا کرنا ماں کی ذمہ داری تھی
کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا جس کی عمر صرف آٹھ یا نو سال تھی
ماں ایک بیٹا اور چار بیٹیوں کو بڑے ہی لاڈ پیار سے پالتی تھی کبھی کسی قسم کی دکھ تکلیف پہنچنے نہیں دیتی تھی اپنے بیٹے کو مدرسے میں پڑھاتی بھی تھی
اسی درمیان اپنے ایک بیٹی کی شادی قریب ہی ایک گاؤں میں دلا دی دیکھتے ہی دیکھتے دوسری بیٹی بھی جوان ہو گئی
جو دیکھنے میں نہایت ہی حسین و جمیل تھی اب ماں کو ان کی شادی کی فکر لاحق ہوئی
امید میں تھی کہ ان شاء اللہ میری بیٹی کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ آئے گا
ایک دن امید کا سورج دل میں طلوع ہوا
اور لڑکے والے دیکھنے کے لیے گھر پر آئے ماں بہت خوش تھی بڑے ہی فراخ دلی سے مہمان نوازی کی گفتگو و شنید ہوئی جس میں لڑکے والوں نے یہ طے کیا کہ رشتہ یہیں ہوگا
پھر خوشی خوشی مہمانوں کو ماں نے روانہ کیا
لیکن افسوس جب لڑکے والے اپنے گھر پہنچے تو فون کر کے سب سے پہلے جہیز میں بائیک کی مانگ کی
جب ماں نے سنا تو ان کی امیدوں کا سورج شام ہونے سے پہلے ہی دل میں غروب ہو گیا اور بے ساختہ کہنے لگی ہمیں ایسے رشتوں کی کوئی ضرورت نہیں جن کے نزدیک انسان سے زیادہ مال و دولت کی اہمیت ہو
اور لڑکے والے دیکھنے کے لیے گھر پر آئے ماں بہت خوش تھی بڑے ہی فراخ دلی سے مہمان نوازی کی گفتگو و شنید ہوئی جس میں لڑکے والوں نے یہ طے کیا کہ رشتہ یہیں ہوگا
پھر خوشی خوشی مہمانوں کو ماں نے روانہ کیا
لیکن افسوس جب لڑکے والے اپنے گھر پہنچے تو فون کر کے سب سے پہلے جہیز میں بائیک کی مانگ کی
جب ماں نے سنا تو ان کی امیدوں کا سورج شام ہونے سے پہلے ہی دل میں غروب ہو گیا اور بے ساختہ کہنے لگی ہمیں ایسے رشتوں کی کوئی ضرورت نہیں جن کے نزدیک انسان سے زیادہ مال و دولت کی اہمیت ہو
ہمیں یہ رشتہ ہر گز قبول نہیں
پھر اسی امید میں کہ کوئی اچھا رشتہ آجائے امید کا سورج روز طلوع ہوتا پھر غروب ہو جاتا
ایک دن اپنے میکے جارہی تھی کہ اچانک سڑک حادثے میں امیدوں کا چراغ بجھا کر ہمیشہ کے لیے سو گئی
کاش اگر یہ جہیز کی رسم نہیں ہوتی تو ضرور ماں اپنی لاڈلی بیٹی کے ہاتھوں کو رنگ حنا سے رنگین دیکھتی
لیکن افسوس اس جہیز نے ایک ماں کی امید کو پورا نہ ہونے دیا
اللہ ان یتیم بچوں کی غیب سے مدد فرمائے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
پھر اسی امید میں کہ کوئی اچھا رشتہ آجائے امید کا سورج روز طلوع ہوتا پھر غروب ہو جاتا
ایک دن اپنے میکے جارہی تھی کہ اچانک سڑک حادثے میں امیدوں کا چراغ بجھا کر ہمیشہ کے لیے سو گئی
کاش اگر یہ جہیز کی رسم نہیں ہوتی تو ضرور ماں اپنی لاڈلی بیٹی کے ہاتھوں کو رنگ حنا سے رنگین دیکھتی
لیکن افسوس اس جہیز نے ایک ماں کی امید کو پورا نہ ہونے دیا
اللہ ان یتیم بچوں کی غیب سے مدد فرمائے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
ہم ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں پر امیر لوگ دکھانے کے لیے شادیوں میں خوب خرچ کرتے ہیں مہنگے مہنگے جہیز دیتے ہیں
لیکن جب کسی غریب کی شادی میں مدد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ساری مصیبتیں انھیں پر آن پڑتیں ہیں
جو ہمارے بھائی غریب طبقہ کے ہیں ان کے یہاں حسین و جمیل تین تین چار چار بیٹیاں ہیں
لیکن جہیز کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں کو سرخ کرنے سے مجبور ہیں
لیکن جب کسی غریب کی شادی میں مدد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ساری مصیبتیں انھیں پر آن پڑتیں ہیں
جو ہمارے بھائی غریب طبقہ کے ہیں ان کے یہاں حسین و جمیل تین تین چار چار بیٹیاں ہیں
لیکن جہیز کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں کو سرخ کرنے سے مجبور ہیں
اب تو حال یہ ہے کہ لوگ گھر بنا لیتے ہیں اور گھر کو خالی چھوڑ دیتے ہیں
جب ان سے پوچھتے ہیں کیا بات ہے گھر میں کوئی سامان نہیں ہے تو کہتے ہیں ہمارے چار بیٹے ہیں جب ان کی شادی ہوگی تو جہیز میں تو سامان آئے گا ہی پھر کیا کرنے کے لیے خریدیں گے
جب ان سے پوچھتے ہیں کیا بات ہے گھر میں کوئی سامان نہیں ہے تو کہتے ہیں ہمارے چار بیٹے ہیں جب ان کی شادی ہوگی تو جہیز میں تو سامان آئے گا ہی پھر کیا کرنے کے لیے خریدیں گے
یعنی اب لوگ اپنا گھر بھی دوسرے کے گھر کو لوٹ کر بسانا چاہتے ہیں
کیسا عجیب رنگ ہے چھایا جہان میں
گھر بار بن رہا ہے نوالہ جہیز کا
گھر بار بن رہا ہے نوالہ جہیز کا
بھولا ڈانگی (کٹیہار) میں بڑی دھوم دھام سے بارات آئی ماحول بہت ہی خوش گوار تھا سب کو ناشتہ کرایا جا رہا تھا لیکن کچھ لوگ جو جہیز کے بھکاری ہوتے ہیں کبھی ادھر دیکھتے کبھی ادھر دیکھتے بالآخر ان سے رہا نہ گیا تو کہنے لگے بائیک کہاں ہے کیا لڑکی والے جہیز میں بائیک نہیں دیں گے اب جو سکون سے بیٹھ کر میز پر ناشتہ کھا رہے تھے ان کو بھی ناشتہ تک کھانے نہ دیا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جہیز میں بائیک کیوں نہیں ہے؟
ہمیں ابھی چاہیے بات اتنی بڑھی کہ سب باراتی کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے
ہمیں ابھی چاہیے بات اتنی بڑھی کہ سب باراتی کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے
ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر بڑی شان سے یہاں
کم ظرف دیکھتے ہیں ڈرامہ جہیز کا
کم ظرف دیکھتے ہیں ڈرامہ جہیز کا
اب کوئی ان سے پوچھے یہ لوگ شادی کرنے کے لیے جاتے ہیں یا پھر بھیک مانگنے کے لیے جاتے ہیں
لیکن بھیک مانگنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں کبھی کسی فقیر نے بھیک نہ ملنے پر لڑائی نہیں کی
لیکن یہ اتنے بڑے بھکاری ہوتے ہیں کہ بھیک نہ ملنے پر جان تک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں
لیکن بھیک مانگنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں کبھی کسی فقیر نے بھیک نہ ملنے پر لڑائی نہیں کی
لیکن یہ اتنے بڑے بھکاری ہوتے ہیں کہ بھیک نہ ملنے پر جان تک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں
اسی لیے تو رفیق ملت سید نجیب میاں برکاتی مارہروی دام ظلہ العالی یوم شہادت شہزادۂ گلگوں قبا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر فرماتے ہیں
تم جہیز مانگنا چھوڑ دو غریبوں کے گھر میں شادی کرنا شروع کر دو شادیاں سادی سادی کر لو شادی کی شین پر جو تین نقطے ہیں ان تین نقطوں کو اڑا دو اور شادی-----سادی سادی کر لو آپ سوچ رہے ہوں گے آج کربلا کا دن ہے اور بات شادی کی ہو رہی ہے یہی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام ہے (کہ ہر کام میں شریعت کی پابندی ہو) آج کل تم مانگ کرتے ہو یہ مل جائے وہ مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھکاری ہو گئے ہیں ، بیٹیوں کی شادی میں جلدی کرو جہیز کا لالچ چھوڑ دو آج خانقاہ برکاتیہ ماہریرہ مطہرہ سے یہ عہد کر کے جائیں ان شاءاللہ تعالیٰ ہم جہیز نہیں لیں گے
تم جہیز مانگنا چھوڑ دو غریبوں کے گھر میں شادی کرنا شروع کر دو شادیاں سادی سادی کر لو شادی کی شین پر جو تین نقطے ہیں ان تین نقطوں کو اڑا دو اور شادی-----سادی سادی کر لو آپ سوچ رہے ہوں گے آج کربلا کا دن ہے اور بات شادی کی ہو رہی ہے یہی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام ہے (کہ ہر کام میں شریعت کی پابندی ہو) آج کل تم مانگ کرتے ہو یہ مل جائے وہ مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھکاری ہو گئے ہیں ، بیٹیوں کی شادی میں جلدی کرو جہیز کا لالچ چھوڑ دو آج خانقاہ برکاتیہ ماہریرہ مطہرہ سے یہ عہد کر کے جائیں ان شاءاللہ تعالیٰ ہم جہیز نہیں لیں گے
ہاں اگر جہیز دینا ہی ہے تو بس اتنا ہی دو اس سے زیادہ ہرگز نہ دو
برتن ایک عدد، چارپائی درمیانی ایک عدد، (اس دور میں چارپائی کی جگہ درمیانی چوکی یا پلنگ ایک عدد) لحاف ایک عدد، توشک (گدیلا) ایک عدد، تکیہ ایک عدد، چادر ایک عدد، دلہن کو جوڑے چار عدد ، جس میں دو عدد سوتی ہوں اور دو ریشمی، دولہا کو جوڑے دو عدد ، دولہا کے والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور بقدر ہمت مگر اس پر بھی زیادتی نہ کرو ، اگر ہو سکے تو اس کے علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے نام میں جمع کرا دو اور اگر تم اللہ عز و جل نے دیا ہے تو لڑکی کو کوئی مکان ،دوکان جائداد کی شکل میں خرید دو لڑکی کے نام پر رجسٹری ہو ، یہ بھی یاد رکھو کہ تمام لڑکیوں کے لیے برابری ہونا ضروری ہے اگر نقدی روپیہ یا جائداد ایک کو دی ہے تو تو سب کو دو ورنہ گنہگار ہو گئے ، جو اولاد میں برابری نہ رکھے حدیث شریف میں اس کو ظالم کہا گیا-
اس واقعے کو بھی ذہن نشیں کر لو
حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز دوں گا ۔ اب کیا کروں کہ قسم پوری ہو ۔ کیونکہ ہر چیز تو بادشاہ بھی نہیں دے سکتا ۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی لڑکی کو جہیز میں قرآن شریف دے دے کیونکہ قرآن شریف میں ہر چیز ہے اور یہ آیت پڑھ دی
(وَلَا رَطۡبࣲ وَلَا یَابِسٍ إِلَّا فِی كِتَـٰبࣲ مُّبِینࣲ﴾ [الأنعام ٥٩]
ترجمہ کنز الایمان: اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں نہ لکھا ہو
حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز دوں گا ۔ اب کیا کروں کہ قسم پوری ہو ۔ کیونکہ ہر چیز تو بادشاہ بھی نہیں دے سکتا ۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی لڑکی کو جہیز میں قرآن شریف دے دے کیونکہ قرآن شریف میں ہر چیز ہے اور یہ آیت پڑھ دی
(وَلَا رَطۡبࣲ وَلَا یَابِسٍ إِلَّا فِی كِتَـٰبࣲ مُّبِینࣲ﴾ [الأنعام ٥٩]
ترجمہ کنز الایمان: اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں نہ لکھا ہو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
لہذا لڑکیوں اور ان کے ساس نند کو کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس نے جہیز میں قرآن شریف دے دیا اس نے سب کچھ دے دیا کیا بائیک، فریج، واشنگ مشین ، کولر، یہ سب قرآن شریف سے بڑھ کر ہیں ؟
لہذا ہمیں چاہیے بے جا جہیز سے بالکل ہی پرہیز کریں
اور جو غریب ہیں ان کی مدد کریں
اللہ جل و علا ہمیں راہ راست پر گامزن فرمائے آمین ثم آمین
لہذا ہمیں چاہیے بے جا جہیز سے بالکل ہی پرہیز کریں
اور جو غریب ہیں ان کی مدد کریں
اللہ جل و علا ہمیں راہ راست پر گامزن فرمائے آمین ثم آمین
تاریخ رکھ دی سامنے لاکر خلوص سے
اب اس کے آگے کام تمہاری نظر کا ہے
اب اس کے آگے کام تمہاری نظر کا ہے










