یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اوراد و وظائف
سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں کے اس سمندر کی موجِ رواں ہوتی ہے جو تشنگانِ ثواب کو سیراب کرنے کے لیے بے قرار رہتی ہے۔ جمعہ سید الایام (دنوں کا سردار) ہے، اور اس دن کی سب سے خوبصورت سوغات مصطفیٰ کریم ﷺ پر درود و سلام کی خوشبو ہے۔
درود شریف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ وہ روحانی زینہ ہے جس پر محبت کے قدم رکھ کر ایک امتی اپنے نبی ﷺ کے قرب کی منزلیں طے کرتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے دن اس کی اہمیت یوں ہے جیسے گلشن میں بادِ بہار کا جھونکا، جو مرجھائے ہوئے دلوں کو تروتازہ کر دیتا ہے۔
درود شریف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ وہ روحانی زینہ ہے جس پر محبت کے قدم رکھ کر ایک امتی اپنے نبی ﷺ کے قرب کی منزلیں طے کرتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے دن اس کی اہمیت یوں ہے جیسے گلشن میں بادِ بہار کا جھونکا، جو مرجھائے ہوئے دلوں کو تروتازہ کر دیتا ہے۔
#بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ عقیدت
نبی کریم ﷺ نے اس دن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے درود شریف کی تاکید فرمائی۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ
(ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی، پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔) [سنن ابی داؤد رقم الحدیث 1047، سنن نسائی رقم الحدیث 1375]
گویا جمعہ کے دن جب ایک مومن کی زبان سے درود کی صدا بلند ہوتی ہے، تو فرشتے اس محبت بھرے تحفے کو نور کے طشت میں رکھ کر سبز گنبد کے مکیں کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسی سعادت ہے جس کا محض تصور ہی روح کو وجد میں لے آتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے سامنے ہمارا ہدیہ پیش کیا جا رہا ہے۔
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ
(ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی، پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔) [سنن ابی داؤد رقم الحدیث 1047، سنن نسائی رقم الحدیث 1375]
گویا جمعہ کے دن جب ایک مومن کی زبان سے درود کی صدا بلند ہوتی ہے، تو فرشتے اس محبت بھرے تحفے کو نور کے طشت میں رکھ کر سبز گنبد کے مکیں کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسی سعادت ہے جس کا محض تصور ہی روح کو وجد میں لے آتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے سامنے ہمارا ہدیہ پیش کیا جا رہا ہے۔

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں کے اس سمندر کی موجِ رواں ہوتی ہے جو تشنگانِ ثواب کو سیراب کرنے کے لیے بے قرار رہتی ہے۔ جمعہ سید الایام (دنوں کا سردار) ہے، اور اس دن کی سب سے خوبصورت سوغات مصطفیٰ کریم ﷺ پر درود و سلام کی خوشبو ہے۔
درود شریف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ وہ روحانی زینہ ہے جس پر محبت کے قدم رکھ کر ایک امتی اپنے نبی ﷺ کے قرب کی منزلیں طے کرتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے دن اس کی اہمیت یوں ہے جیسے گلشن میں بادِ بہار کا جھونکا، جو مرجھائے ہوئے دلوں کو تروتازہ کر دیتا ہے۔
درود شریف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ وہ روحانی زینہ ہے جس پر محبت کے قدم رکھ کر ایک امتی اپنے نبی ﷺ کے قرب کی منزلیں طے کرتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے دن اس کی اہمیت یوں ہے جیسے گلشن میں بادِ بہار کا جھونکا، جو مرجھائے ہوئے دلوں کو تروتازہ کر دیتا ہے۔
#بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ عقیدت
نبی کریم ﷺ نے اس دن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے درود شریف کی تاکید فرمائی۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ
(ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی، پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔) [سنن ابی داؤد رقم الحدیث 1047، سنن نسائی رقم الحدیث 1375]
گویا جمعہ کے دن جب ایک مومن کی زبان سے درود کی صدا بلند ہوتی ہے، تو فرشتے اس محبت بھرے تحفے کو نور کے طشت میں رکھ کر سبز گنبد کے مکیں کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسی سعادت ہے جس کا محض تصور ہی روح کو وجد میں لے آتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے سامنے ہمارا ہدیہ پیش کیا جا رہا ہے۔
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ
(ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی، پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔) [سنن ابی داؤد رقم الحدیث 1047، سنن نسائی رقم الحدیث 1375]
گویا جمعہ کے دن جب ایک مومن کی زبان سے درود کی صدا بلند ہوتی ہے، تو فرشتے اس محبت بھرے تحفے کو نور کے طشت میں رکھ کر سبز گنبد کے مکیں کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسی سعادت ہے جس کا محض تصور ہی روح کو وجد میں لے آتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے سامنے ہمارا ہدیہ پیش کیا جا رہا ہے۔
#قربِ مصطفیٰ ﷺ کی کلید
قیامت کی ہولناکیوں اور نفسی نفسی کے عالم میں ہر انسان کسی سائے اور سہارے کا متلاشی ہوگا۔ اس کڑے وقت میں درودِ پاک وہ سائبان بنے گا جو امتی کو اپنے نبی ﷺ کے قریب کر دے گا۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً
(ترجمہ: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جس نے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہوگا۔)[جامع ترمذی، رقم الحدیث 484]
درود وہ مقناطیسی قوت ہے جو ایک ذرے (انسان) کو آفتابِ نبوت ﷺ کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ جس نے جمعہ کی گھڑیوں کو اس ذکر سے آباد کیا، اس نے گویا اپنی خلاصی کا پروانہ لکھوا لیا۔
أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً
(ترجمہ: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جس نے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہوگا۔)[جامع ترمذی، رقم الحدیث 484]
درود وہ مقناطیسی قوت ہے جو ایک ذرے (انسان) کو آفتابِ نبوت ﷺ کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ جس نے جمعہ کی گھڑیوں کو اس ذکر سے آباد کیا، اس نے گویا اپنی خلاصی کا پروانہ لکھوا لیا۔
#گناہوں کی بخشش اور رحمتوں کا نزول
جمعہ کے دن درود کی کثرت گناہوں کی معافی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ روایت میں آتا ہے:
مَنْ صَلَّى عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثَمَانِينَ مَرَّةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَ ثَمَانِينَ سَنَةً
(ترجمہ: جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اسی (80) مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اسی سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دے گا۔)
[تخریج احادیث احیاء علوم الدین، جلد 1، ص 445، رقم الحدیث 511]
یہ درود شریف کی وہ صیقل ہے جو انسانی قلوب کے زنگ کو دور کر کے انہیں آئینے کی طرح صاف و شفاف بنا دیتی ہے۔ یہ وہ شبنم ہے جو گناہوں کی گرد کو دھو ڈالتی ہے اور روح کو معطر کر دیتی ہے۔
مَنْ صَلَّى عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثَمَانِينَ مَرَّةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَ ثَمَانِينَ سَنَةً
(ترجمہ: جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اسی (80) مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اسی سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دے گا۔)
[تخریج احادیث احیاء علوم الدین، جلد 1، ص 445، رقم الحدیث 511]
یہ درود شریف کی وہ صیقل ہے جو انسانی قلوب کے زنگ کو دور کر کے انہیں آئینے کی طرح صاف و شفاف بنا دیتی ہے۔ یہ وہ شبنم ہے جو گناہوں کی گرد کو دھو ڈالتی ہے اور روح کو معطر کر دیتی ہے۔
#پل صراط کا نور
پل صراط کی تاریکیوں میں جہاں قدم لڑکھڑا رہے ہوں گے، وہاں درود شریف کی روشنی مومن کی رہنمائی کرے گی۔ چنانچہ شفیع امم ﷺ کا فرمانِ رحمت نشان ہے:
الصَّلَاةُ عَلَيَّ نُورٌ عَلَى الصِّرَاطِ
(ترجمہ: مجھ پر درود پڑھنا پل صراط پر نور ہوگا۔) [کنز العمال، رقم الحدیث 2149]
لہٰذا جو دنیا میں اپنی زبان کو اس ذکر سے تر رکھے گا، اللہ عزوجل اس کی آخرت کے کٹھن راستوں کو سہل فرما دے گا اور اسے ایسی روشنی عطا کرے گا جس کے ذریعے وہ تمام تاریکیوں سے گزر کر نجات کی منزل پا لے گا۔
الصَّلَاةُ عَلَيَّ نُورٌ عَلَى الصِّرَاطِ
(ترجمہ: مجھ پر درود پڑھنا پل صراط پر نور ہوگا۔) [کنز العمال، رقم الحدیث 2149]
لہٰذا جو دنیا میں اپنی زبان کو اس ذکر سے تر رکھے گا، اللہ عزوجل اس کی آخرت کے کٹھن راستوں کو سہل فرما دے گا اور اسے ایسی روشنی عطا کرے گا جس کے ذریعے وہ تمام تاریکیوں سے گزر کر نجات کی منزل پا لے گا۔
دعاؤں کی قبولیت کا وسیلہ
دعا اور قبولیت کے درمیان ایک حجاب ہوتا ہے، اور درود شریف وہ نورِ بصیرت ہے جو اس حجاب کو اٹھا دیتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لاَ يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ ﷺ
(ترجمہ: بے شک دعا زمین اور آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اس کا کوئی حصہ اوپر نہیں جاتا جب تک کہ تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیج لو۔) [جامع ترمذی: 486]
إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لاَ يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ ﷺ
(ترجمہ: بے شک دعا زمین اور آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اس کا کوئی حصہ اوپر نہیں جاتا جب تک کہ تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیج لو۔) [جامع ترمذی: 486]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
الحاصل یہ کہ جمعہ کا دن درود کے پھول نچھاور کرنے کا دن ہے۔ یہ وہ روحانی میلہ ہے جہاں ہر امتی اپنی عقیدت کے نذرانے لے کر حاضر ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو محض دنیاوی مشاغل میں نہ گنوائیں، بلکہ اپنی زبانوں کو اللّٰھم صلِّ علیٰ سیدنا محمد ﷺ و علیٰ آلِ سیدنا محمد ﷺ کے ترانے سے معمور رکھیں۔ کیونکہ درود شریف وہ خوشبو ہے جو مشامِ جاں کو معطر کرتی ہے، وہ نور ہے جو اندھیروں کو مٹاتا ہے، اور وہ وسیلہ ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ اسی لیے میرے پیارے بھائیو! آؤ، ہم اس جمعہ کو نبی محتشم ﷺ پر درود پڑھ کر اپنے مقدر کا ستارہ چمکائیں اور شفاعتِ محمدی ﷺ کے حقدار بنیں۔
راقم السطور
غبارِ راہِ مدینہ
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
غبارِ راہِ مدینہ
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323










