یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ادبیات
سخنِ دل
سخنِ دل
دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا ہے، باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے، امیدیں باندھتا ہے اور پھر خاموشی سے راستہ بدل لیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہم سفر ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ رہے گا، مگر یہ محض ایک خوش کن فریب ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کی دوستی اور محبت فقط زبانوں کا کھیل ہے، دلوں میں اس کی گہرائی کم کم ملتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دوستی کا مطلب ہے نبھانا، ایثار، قربانی، درد میں شریک ہونا، خوشی میں بڑھ کر گلے لگانا۔ لیکن جب وقت آزمائش کا آتا ہے، تو اکثر یہی محبتیں بوجھ لگنے لگتی ہیں، اور دوست ایسے کھسک جاتے ہیں جیسے کبھی جانتے ہی نہ تھے۔ انسانوں کی خودغرضی اتنی مہارت سے خود کو مصروفیت کا لبادہ اوڑھا دیتی ہے کہ سامنے والا محض انتظار کرتا رہ جاتا ہے۔
دنیا کا ہر انسان گویا اپنے درد، اپنی خواہش، اپنی کامیابی اور اپنے دکھ کے گرد ایک دائرہ کھینچ کر بیٹھا ہے۔ جو اس دائرے کے باہر ہو، وہ اس کی فکر کا مرکز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبتیں مشروط ہو گئیں، اور دوستی مفاد پرستی کی زنجیروں میں جکڑ گئی۔ ہم اکثر کسی کو اس وقت تک چاہتے ہیں جب تک وہ ہمیں خوشی دے، جب اس سے رنج ملے، تو تعلق توڑ دینا بھی آسان لگتا ہے۔

سخنِ دل
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
سخنِ دل
دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا ہے، باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے، امیدیں باندھتا ہے اور پھر خاموشی سے راستہ بدل لیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہم سفر ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ رہے گا، مگر یہ محض ایک خوش کن فریب ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کی دوستی اور محبت فقط زبانوں کا کھیل ہے، دلوں میں اس کی گہرائی کم کم ملتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دوستی کا مطلب ہے نبھانا، ایثار، قربانی، درد میں شریک ہونا، خوشی میں بڑھ کر گلے لگانا۔ لیکن جب وقت آزمائش کا آتا ہے، تو اکثر یہی محبتیں بوجھ لگنے لگتی ہیں، اور دوست ایسے کھسک جاتے ہیں جیسے کبھی جانتے ہی نہ تھے۔ انسانوں کی خودغرضی اتنی مہارت سے خود کو مصروفیت کا لبادہ اوڑھا دیتی ہے کہ سامنے والا محض انتظار کرتا رہ جاتا ہے۔
دنیا کا ہر انسان گویا اپنے درد، اپنی خواہش، اپنی کامیابی اور اپنے دکھ کے گرد ایک دائرہ کھینچ کر بیٹھا ہے۔ جو اس دائرے کے باہر ہو، وہ اس کی فکر کا مرکز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبتیں مشروط ہو گئیں، اور دوستی مفاد پرستی کی زنجیروں میں جکڑ گئی۔ ہم اکثر کسی کو اس وقت تک چاہتے ہیں جب تک وہ ہمیں خوشی دے، جب اس سے رنج ملے، تو تعلق توڑ دینا بھی آسان لگتا ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اکثر اوقات ہم جسے اپنا سمجھتے ہیں، وہ صرف خود کو ہی اپنا سمجھتا ہے۔ وہ ہمیں اتنا ہی عزیز رکھتا ہے جتنی دیر تک ہم اس کی خواہشوں کے سانچے میں فٹ بیٹھتے ہیں۔ جیسے ہی ہم اپنی حقیقت یا اپنے تقاضے سامنے رکھتے ہیں، محبتیں بدتمیزی کہلا جاتی ہیں، دوستیوں میں فاصلہ آ جاتا ہے، اور تعلقات غلط فہمی کا نام لے کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔
لیکن پھر سوال یہ ہے: کیا ہر رشتہ بے معنی ہے؟ کیا ہر محبت فریب ہے؟ کیا ہر دوست خودغرض ہے؟
نہیں! یہ مکمل سچ نہیں، لیکن ایک عمومی مشاہدہ ضرور ہے۔ دنیا میں کچھ دل ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دھڑکن دوسروں کے لیے دھڑکتی ہے۔ کچھ وجود ایسے بھی ہوتے ہیں جو دکھوں کی گھڑی میں ڈھال بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت کم ہیں، اور ان کی تلاش میں بہت صبر، بہت آزمائش اور بہت زخم سہنے پڑتے ہیں۔
ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ محبت کا معیار خلوص نہیں رہا، نفع و نقصان ہو گیا ہے۔ لہٰذا اصل حکمت یہی ہے کہ دل بہت زیادہ وابستہ نہ کیا جائے، توقعات کو قابو میں رکھا جائے، اور جو سچے ہوں، ان کی قدر کی جائے۔ ورنہ دنیا کے میلے میں ہر چہرہ مسکراتا ہوا، لیکن اندر سے صرف اپنے ہی غم میں گم ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
یہ دنیا ایک ہجومِ خودپرستاں ہے، جہاں ہر ایک اپنی صورت میں گم ہے۔ جو تمہارے آنسو پونچھتا ہے، وہ بھی شاید فقط وقتی تسلی دے کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا اگر تمہیں کوئی ایسا مل جائے جو بنا کسی غرض کے تمہیں چاہے، تمہارے سچ کو قبول کرے، اور تمہارے درد میں شریک ہو، تو سمجھ لو، تمہیں خزانے سے قیمتی موتی ملا ہے۔ ورنہ اکثر تو دوستی اور محبت صرف گفتار کی خوبصورتی رہ گئی ہے، کردار کی صداقت نہیں۔
از: محمد شعیب خان نجمیؔ










