صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
اصلاح معاشرہ

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اسلام ایک آفاقی دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے، جس کا مقصد بنی نوع انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی راہ دکھانا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت کے لغوی معنی بلانا، پکارنا اور طلب کرنا وغیرہ ہیں، جبکہ تبلیغ کے معنی پہنچانا اور عام کرنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں، دعوت و تبلیغ سے مراد لوگوں کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلانا، انہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ وہ نبوی طریقہ کار ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری اور امتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کی امتیازی شان ہے۔
دعوت و تبلیغ کی اہمیت
دعوت و تبلیغ محض کوئی نفلی عمل نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔
۱. امتِ محمدیہ کی خصوصیت اور فلاح کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اسی لیے بہترین امت قرار دیا کہ یہ فریضۂ دعوت کو انجام دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ
(آل عمران، 3: 110)

تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
دوسری جگہ اس فریضے کی انجام دہی کو فلاح و کامیابی کا معیار قرار دیا گیا ہے:
وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ
(آل عمران، 3: 104)

اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
۲. انبیاء و رسل کا ورثہ اور مشن
دعوت الی اللہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی یہی ذمہ داری عائد کی گئی:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ
(المائدہ، 5: 67)

ترجمہ اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔[صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3461]
یہ آیات و حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
دعوت و تبلیغ کی افادیت
دعوت و تبلیغ کے اثرات صرف مدعو (جسے دعوت دی جا رہی ہے) پر ہی نہیں پڑتے، بلکہ داعی (دعوت دینے والے) اور پورے معاشرے کے لیے بھی اس کی بے شمار افادیتیں ہیں۔
۱. انفرادی افادیت
عظیم اجر و ثواب: دعوت و تبلیغ ایک عظیم عمل ہے، اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:
فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔  [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
. سدا جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ: اگر داعی کی محنت سے کوئی شخص راہِ راست پر آ جائے تو وہ جب تک نیک اعمال کرتا رہے گا، داعی کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا۔
جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی ہو۔[سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2674]
ایمان میں پختگی اور علم میں اضافہ: جب داعی دوسروں کو دین کی تعلیم دیتا ہے، تو اس کا اپنا ایمان اور علم مزید پختہ ہوتا ہے۔ حقائق اور دلائل کی تکرار اس کے یقین کو مضبوط کرتی ہے۔
۲. اجتماعی افادیت
معاشرتی اصلاح اور بگاڑ کا خاتمہ: دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کر کے اسے ایک صالح معاشرہ بناتی ہے، جہاں خیر و بھلائی عام ہوتی ہے اور شر کا سدِباب ہوتا ہے۔
عذابِ الٰہی سے حفاظت: جب کسی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ختم ہو جاتا ہے، تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ دعوت دراصل عذابِ الٰہی سے نجات کا ذریعہ ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔[سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4005]
دینِ حق کی نشر و اشاعت اور غلبہ: دعوت و تبلیغ کے ذریعے ہی دین اسلام کی تعلیمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اور باطل پر حق کا غلبہ ہوتا ہے۔
داعی و مبلغ کے اوصاف
دعوت کا کام بڑا نازک اور ذمہ داری کا حامل ہے، جس کے لیے داعی میں بلند اخلاقی اور عملی اوصاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی بات دلوں میں اتر سکے۔
۱. اخلاصِ نیت
دعوت کے مؤثر ہونے کی پہلی شرط اخلاص ہے۔ داعی کی نیت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی شہرت، مال و دولت یا کوئی دنیاوی مفاد۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ، عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ
(یوسف، 12: 108)

تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں
۲. سیرت و عمل کی مطابقت
داعی اور مبلغ کا اپنا عمل اس کی دعوت کا عکس ہونا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو جس نیکی کی طرف بلائے، اس کا خود اس پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
قرآن کریم میں اہلِ کتاب پر تنبیہ ہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(البقرہ، 2: 44)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
۳. علمِ شریعت اور بصیرت
داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس دین کی دعوت دے رہا ہے، اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔ جاہل کی دعوت مفید سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ داعی کو مکمل سوجھ بوجھ، علم اور دلائل کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔ اس کے لیے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
۴. حکمت اور موعظۂ حسنہ
دعوت دینے کا طریقہ انتہائی نرم، دلنشیں اور حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے داعی کے لیے تین اصول بیان فرمائے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
(النحل، 16: 125)

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
حکمت (پکی تدبیر): موقع محل اور مدعو کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا، تدریج اور دانائی سے کام لینا۔
موعظۂ حسنہ (اچھی نصیحت): مؤثر اور نرم الفاظ میں نصیحت کرنا جو دل کو چھو لے۔
جدال بالتی ھی احسن : اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو بہترین اور شائستہ طریقے سے ہو۔
۵. نرمی اور تحمل (اسوۂ نبوی ﷺ)
داعی کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور ترش روئی دعوت کو رد کروا دیتی ہے۔ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو اس صفت سے نوازا، جس کا ذکر قرآن میں ہے:
فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪- 
(آل عمران، 3: 159)

تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔
۶. صبر و استقامت
دعوت کا راستہ مشکلات اور آزمائشوں سے پُر ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ علیھم الصلوٰۃ و السلام کی طرح مصائب پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ درحقیقت ہر مسلمان کا فرضِ منصبی اور دین کی روح ہے۔ اس کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ انفرادی اجر کو صدقۂ جاریہ بنا دیتی ہے اور معاشرے کو عذابِ الٰہی سے بچاتی ہے۔
لیکن یہ عظیم کام تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب داعی اپنے اندر اخلاص، علم، حکمت، اور نرمی (قولاً و عملاً) جیسے اوصاف پیدا کرے۔ داعی کا عمل ہی اس کی دعوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین کے اس اہم فرض کو نبوی اسوۂ حسنہ کے مطابق پورے اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اس کے بہترین اجر سے سرفراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!
از قلم
محمد شعیب خان نجــــــــؔمی رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اسلام ایک آفاقی دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے، جس کا مقصد بنی نوع انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی راہ دکھانا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت کے لغوی معنی بلانا، پکارنا اور طلب کرنا وغیرہ ہیں، جبکہ تبلیغ کے معنی پہنچانا اور عام کرنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں، دعوت و تبلیغ سے مراد لوگوں کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلانا، انہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ وہ نبوی طریقہ کار ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری اور امتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کی امتیازی شان ہے۔
دعوت و تبلیغ کی اہمیت
دعوت و تبلیغ محض کوئی نفلی عمل نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔
۱. امتِ محمدیہ کی خصوصیت اور فلاح کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اسی لیے بہترین امت قرار دیا کہ یہ فریضۂ دعوت کو انجام دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ
(آل عمران، 3: 110)

تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
دوسری جگہ اس فریضے کی انجام دہی کو فلاح و کامیابی کا معیار قرار دیا گیا ہے:
وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ
(آل عمران، 3: 104)

اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
۲. انبیاء و رسل کا ورثہ اور مشن
دعوت الی اللہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی یہی ذمہ داری عائد کی گئی:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ
(المائدہ، 5: 67)

ترجمہ اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔[صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3461]
یہ آیات و حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
دعوت و تبلیغ کی افادیت
دعوت و تبلیغ کے اثرات صرف مدعو (جسے دعوت دی جا رہی ہے) پر ہی نہیں پڑتے، بلکہ داعی (دعوت دینے والے) اور پورے معاشرے کے لیے بھی اس کی بے شمار افادیتیں ہیں۔
۱. انفرادی افادیت
عظیم اجر و ثواب: دعوت و تبلیغ ایک عظیم عمل ہے، اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:
فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔  [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
. سدا جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ: اگر داعی کی محنت سے کوئی شخص راہِ راست پر آ جائے تو وہ جب تک نیک اعمال کرتا رہے گا، داعی کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا۔
جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی ہو۔[سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2674]
ایمان میں پختگی اور علم میں اضافہ: جب داعی دوسروں کو دین کی تعلیم دیتا ہے، تو اس کا اپنا ایمان اور علم مزید پختہ ہوتا ہے۔ حقائق اور دلائل کی تکرار اس کے یقین کو مضبوط کرتی ہے۔
۲. اجتماعی افادیت
معاشرتی اصلاح اور بگاڑ کا خاتمہ: دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کر کے اسے ایک صالح معاشرہ بناتی ہے، جہاں خیر و بھلائی عام ہوتی ہے اور شر کا سدِباب ہوتا ہے۔
عذابِ الٰہی سے حفاظت: جب کسی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ختم ہو جاتا ہے، تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ دعوت دراصل عذابِ الٰہی سے نجات کا ذریعہ ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔[سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4005]
دینِ حق کی نشر و اشاعت اور غلبہ: دعوت و تبلیغ کے ذریعے ہی دین اسلام کی تعلیمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اور باطل پر حق کا غلبہ ہوتا ہے۔
داعی و مبلغ کے اوصاف
دعوت کا کام بڑا نازک اور ذمہ داری کا حامل ہے، جس کے لیے داعی میں بلند اخلاقی اور عملی اوصاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی بات دلوں میں اتر سکے۔
۱. اخلاصِ نیت
دعوت کے مؤثر ہونے کی پہلی شرط اخلاص ہے۔ داعی کی نیت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی شہرت، مال و دولت یا کوئی دنیاوی مفاد۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ، عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ
(یوسف، 12: 108)

تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں
۲. سیرت و عمل کی مطابقت
داعی اور مبلغ کا اپنا عمل اس کی دعوت کا عکس ہونا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو جس نیکی کی طرف بلائے، اس کا خود اس پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
قرآن کریم میں اہلِ کتاب پر تنبیہ ہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(البقرہ، 2: 44)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
۳. علمِ شریعت اور بصیرت
داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس دین کی دعوت دے رہا ہے، اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔ جاہل کی دعوت مفید سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ داعی کو مکمل سوجھ بوجھ، علم اور دلائل کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔ اس کے لیے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
۴. حکمت اور موعظۂ حسنہ
دعوت دینے کا طریقہ انتہائی نرم، دلنشیں اور حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے داعی کے لیے تین اصول بیان فرمائے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
(النحل، 16: 125)

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
حکمت (پکی تدبیر): موقع محل اور مدعو کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا، تدریج اور دانائی سے کام لینا۔
موعظۂ حسنہ (اچھی نصیحت): مؤثر اور نرم الفاظ میں نصیحت کرنا جو دل کو چھو لے۔
جدال بالتی ھی احسن : اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو بہترین اور شائستہ طریقے سے ہو۔
۵. نرمی اور تحمل (اسوۂ نبوی ﷺ)
داعی کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور ترش روئی دعوت کو رد کروا دیتی ہے۔ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو اس صفت سے نوازا، جس کا ذکر قرآن میں ہے:
فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪- 
(آل عمران، 3: 159)

تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔
۶. صبر و استقامت
دعوت کا راستہ مشکلات اور آزمائشوں سے پُر ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ علیھم الصلوٰۃ و السلام کی طرح مصائب پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ درحقیقت ہر مسلمان کا فرضِ منصبی اور دین کی روح ہے۔ اس کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ انفرادی اجر کو صدقۂ جاریہ بنا دیتی ہے اور معاشرے کو عذابِ الٰہی سے بچاتی ہے۔
لیکن یہ عظیم کام تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب داعی اپنے اندر اخلاص، علم، حکمت، اور نرمی (قولاً و عملاً) جیسے اوصاف پیدا کرے۔ داعی کا عمل ہی اس کی دعوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین کے اس اہم فرض کو نبوی اسوۂ حسنہ کے مطابق پورے اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اس کے بہترین اجر سے سرفراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!
از قلم
محمد شعیب خان نجــــــــؔمی رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
Author Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

اس کاتب کی تفصیل موجود نہیں ہے۔

لماذا نتعلم اللغة العربية

_انتظار

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0