یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اسلام ایک آفاقی دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے، جس کا مقصد بنی نوع انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی راہ دکھانا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت کے لغوی معنی بلانا، پکارنا اور طلب کرنا وغیرہ ہیں، جبکہ تبلیغ کے معنی پہنچانا اور عام کرنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں، دعوت و تبلیغ سے مراد لوگوں کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلانا، انہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ وہ نبوی طریقہ کار ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری اور امتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کی امتیازی شان ہے۔
دعوت و تبلیغ کی اہمیت
دعوت و تبلیغ محض کوئی نفلی عمل نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اسلام ایک آفاقی دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے، جس کا مقصد بنی نوع انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی راہ دکھانا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت کے لغوی معنی بلانا، پکارنا اور طلب کرنا وغیرہ ہیں، جبکہ تبلیغ کے معنی پہنچانا اور عام کرنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں، دعوت و تبلیغ سے مراد لوگوں کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلانا، انہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ وہ نبوی طریقہ کار ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری اور امتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کی امتیازی شان ہے۔
دعوت و تبلیغ کی اہمیت
دعوت و تبلیغ محض کوئی نفلی عمل نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔
۱. امتِ محمدیہ کی خصوصیت اور فلاح کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اسی لیے بہترین امت قرار دیا کہ یہ فریضۂ دعوت کو انجام دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ
(آل عمران، 3: 110)
تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اسی لیے بہترین امت قرار دیا کہ یہ فریضۂ دعوت کو انجام دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ
(آل عمران، 3: 110)
تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
دوسری جگہ اس فریضے کی انجام دہی کو فلاح و کامیابی کا معیار قرار دیا گیا ہے:
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
(آل عمران، 3: 104)
اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
(آل عمران، 3: 104)
اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
۲. انبیاء و رسل کا ورثہ اور مشن
دعوت الی اللہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی یہی ذمہ داری عائد کی گئی:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ
(المائدہ، 5: 67)
ترجمہ اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔
دعوت الی اللہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی یہی ذمہ داری عائد کی گئی:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ
(المائدہ، 5: 67)
ترجمہ اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔[صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3461]
یہ آیات و حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔[صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3461]
یہ آیات و حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
دعوت و تبلیغ کی افادیت
دعوت و تبلیغ کے اثرات صرف مدعو (جسے دعوت دی جا رہی ہے) پر ہی نہیں پڑتے، بلکہ داعی (دعوت دینے والے) اور پورے معاشرے کے لیے بھی اس کی بے شمار افادیتیں ہیں۔
۱. انفرادی افادیت
عظیم اجر و ثواب: دعوت و تبلیغ ایک عظیم عمل ہے، اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:
فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
عظیم اجر و ثواب: دعوت و تبلیغ ایک عظیم عمل ہے، اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:
فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
. سدا جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ: اگر داعی کی محنت سے کوئی شخص راہِ راست پر آ جائے تو وہ جب تک نیک اعمال کرتا رہے گا، داعی کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا۔
جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی ہو۔[سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2674]
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا۔
جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی ہو۔[سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2674]
ایمان میں پختگی اور علم میں اضافہ: جب داعی دوسروں کو دین کی تعلیم دیتا ہے، تو اس کا اپنا ایمان اور علم مزید پختہ ہوتا ہے۔ حقائق اور دلائل کی تکرار اس کے یقین کو مضبوط کرتی ہے۔
۲. اجتماعی افادیت
معاشرتی اصلاح اور بگاڑ کا خاتمہ: دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کر کے اسے ایک صالح معاشرہ بناتی ہے، جہاں خیر و بھلائی عام ہوتی ہے اور شر کا سدِباب ہوتا ہے۔
عذابِ الٰہی سے حفاظت: جب کسی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ختم ہو جاتا ہے، تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ دعوت دراصل عذابِ الٰہی سے نجات کا ذریعہ ہے ۔
معاشرتی اصلاح اور بگاڑ کا خاتمہ: دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کر کے اسے ایک صالح معاشرہ بناتی ہے، جہاں خیر و بھلائی عام ہوتی ہے اور شر کا سدِباب ہوتا ہے۔
عذابِ الٰہی سے حفاظت: جب کسی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ختم ہو جاتا ہے، تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ دعوت دراصل عذابِ الٰہی سے نجات کا ذریعہ ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔[سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4005]
دینِ حق کی نشر و اشاعت اور غلبہ: دعوت و تبلیغ کے ذریعے ہی دین اسلام کی تعلیمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اور باطل پر حق کا غلبہ ہوتا ہے۔
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔[سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4005]
دینِ حق کی نشر و اشاعت اور غلبہ: دعوت و تبلیغ کے ذریعے ہی دین اسلام کی تعلیمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اور باطل پر حق کا غلبہ ہوتا ہے۔
داعی و مبلغ کے اوصاف
دعوت کا کام بڑا نازک اور ذمہ داری کا حامل ہے، جس کے لیے داعی میں بلند اخلاقی اور عملی اوصاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی بات دلوں میں اتر سکے۔
۱. اخلاصِ نیت
دعوت کے مؤثر ہونے کی پہلی شرط اخلاص ہے۔ داعی کی نیت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی شہرت، مال و دولت یا کوئی دنیاوی مفاد۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ، عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ
(یوسف، 12: 108)
تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں
دعوت کے مؤثر ہونے کی پہلی شرط اخلاص ہے۔ داعی کی نیت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی شہرت، مال و دولت یا کوئی دنیاوی مفاد۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ، عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ
(یوسف، 12: 108)
تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں
۲. سیرت و عمل کی مطابقت
داعی اور مبلغ کا اپنا عمل اس کی دعوت کا عکس ہونا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو جس نیکی کی طرف بلائے، اس کا خود اس پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
داعی اور مبلغ کا اپنا عمل اس کی دعوت کا عکس ہونا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو جس نیکی کی طرف بلائے، اس کا خود اس پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
قرآن کریم میں اہلِ کتاب پر تنبیہ ہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(البقرہ، 2: 44)
کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(البقرہ، 2: 44)
کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
۳. علمِ شریعت اور بصیرت
داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس دین کی دعوت دے رہا ہے، اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔ جاہل کی دعوت مفید سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ داعی کو مکمل سوجھ بوجھ، علم اور دلائل کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔ اس کے لیے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس دین کی دعوت دے رہا ہے، اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔ جاہل کی دعوت مفید سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ داعی کو مکمل سوجھ بوجھ، علم اور دلائل کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔ اس کے لیے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
۴. حکمت اور موعظۂ حسنہ
دعوت دینے کا طریقہ انتہائی نرم، دلنشیں اور حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے داعی کے لیے تین اصول بیان فرمائے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
(النحل، 16: 125)
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
حکمت (پکی تدبیر): موقع محل اور مدعو کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا، تدریج اور دانائی سے کام لینا۔
موعظۂ حسنہ (اچھی نصیحت): مؤثر اور نرم الفاظ میں نصیحت کرنا جو دل کو چھو لے۔
جدال بالتی ھی احسن : اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو بہترین اور شائستہ طریقے سے ہو۔
دعوت دینے کا طریقہ انتہائی نرم، دلنشیں اور حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے داعی کے لیے تین اصول بیان فرمائے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
(النحل، 16: 125)
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
حکمت (پکی تدبیر): موقع محل اور مدعو کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا، تدریج اور دانائی سے کام لینا۔
موعظۂ حسنہ (اچھی نصیحت): مؤثر اور نرم الفاظ میں نصیحت کرنا جو دل کو چھو لے۔
جدال بالتی ھی احسن : اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو بہترین اور شائستہ طریقے سے ہو۔
۵. نرمی اور تحمل (اسوۂ نبوی ﷺ)
داعی کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور ترش روئی دعوت کو رد کروا دیتی ہے۔ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو اس صفت سے نوازا، جس کا ذکر قرآن میں ہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
(آل عمران، 3: 159)
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔
داعی کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور ترش روئی دعوت کو رد کروا دیتی ہے۔ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو اس صفت سے نوازا، جس کا ذکر قرآن میں ہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
(آل عمران، 3: 159)
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔
۶. صبر و استقامت
دعوت کا راستہ مشکلات اور آزمائشوں سے پُر ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ علیھم الصلوٰۃ و السلام کی طرح مصائب پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے۔
دعوت کا راستہ مشکلات اور آزمائشوں سے پُر ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ علیھم الصلوٰۃ و السلام کی طرح مصائب پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ درحقیقت ہر مسلمان کا فرضِ منصبی اور دین کی روح ہے۔ اس کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ انفرادی اجر کو صدقۂ جاریہ بنا دیتی ہے اور معاشرے کو عذابِ الٰہی سے بچاتی ہے۔
لیکن یہ عظیم کام تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب داعی اپنے اندر اخلاص، علم، حکمت، اور نرمی (قولاً و عملاً) جیسے اوصاف پیدا کرے۔ داعی کا عمل ہی اس کی دعوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین کے اس اہم فرض کو نبوی اسوۂ حسنہ کے مطابق پورے اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اس کے بہترین اجر سے سرفراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!
لیکن یہ عظیم کام تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب داعی اپنے اندر اخلاص، علم، حکمت، اور نرمی (قولاً و عملاً) جیسے اوصاف پیدا کرے۔ داعی کا عمل ہی اس کی دعوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین کے اس اہم فرض کو نبوی اسوۂ حسنہ کے مطابق پورے اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اس کے بہترین اجر سے سرفراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!
از قلم
محمد شعیب خان نجــــــــؔمی رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
محمد شعیب خان نجــــــــؔمی رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323










