صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
سیرت النبی ﷺ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
بت شکن آیا یہ کہہ کر منھ کے بل بت گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
چنانچہ اللہ جل جلالہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا {سورۃ الفتح آیت ٢٨}
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب فرمایا، اور بے شک اللہ جل و علا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بطورِ شاہد کافی ہے۔ [مدارک التنزیل، تحتِ آیتِ مذکور]
نیز اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ {سورۃ الصف، آیت ٨}
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا، پڑے بُرا مانیں کافر۔
اللہ تعالیٰ ہر حال میں دینِ اسلام کو غالب فرمائے گا، اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں۔ [تفسیر خازن، تحت آیت مذکور]
صحیح بخاری شریف کی حدیث ہے:
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ (رقم الحدیث: ٣٥٣٢)
ترجمۂ حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی وہ کہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، اور میں عاقب ہوں یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
[تخریج حدیث: اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی]
بخاری شریف کی حدیثِ مذکور سے بالکل واضح ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر و شرک کو مٹانے والے بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ ہی کی دعوت، تبلیغ اور سعیِ مسلسل کا نتیجہ ہے کہ اسلام عرب کے ریگ زاروں سے نکل کر آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راہِ حق میں بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑیں، جن میں واقعۂ طائف خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! بنو ثقیف کے لیے دعائے ضرر فرمائیے! مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جو رحمۃ للعالمین ہیں، نے اس کے برخلاف دعائے خیر فرمائی کہ اے اللہ بنو ثقیف کو ہدایت عطا فرما! جیسا کہ سنن ترمذی شریف کی حدیث میں ہے: قالوا: يا رسولَ اللهِ ! أَحْرَقَتْنا نِبالُ ثَقِيفٍ، فادْعُ اللهَ عليهم. فقال: اللهم اهْدِ ثَقِيفًا {رقم الحدیث: ٣٩٤٢}
یہ دعا قبول ہوئی۔ بنو ثقیف نے باہمی مشورے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرلی، اور اپنا ایک وفد کنانہ بن عبد یالیل کی قیادت میں مدینہ منورہ، بارگاہِ رسالت میں روانہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجدِ نبوی شریف ہی میں خیمہ نصب کر کے قیام کرنے کا حکم فرمایا، تاکہ وہ قرآن کی تلاوت سنیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھیں۔
یہ وفد کئی دن تک مسجدِ نبوی میں ٹھہرا رہا، اور وقتاً فوقتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ خود مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے جاتے اور نہایت حکمت اور نرمی سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ {سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۴}
ابن سعد نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات نمازِ عشاء کے بعد تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے ان سے گفتگو فرماتے، حتیٰ کہ کبھی آپ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک قدم پر بوجھ ڈالتے اور کبھی دوسرے پر۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸]
موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بھی اسی وفد میں شامل تھے اور سب سے کم عمر تھے۔ وفد کے لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو انھیں خیمے میں چھوڑ جاتے، لیکن جب یہ لوگ دوپہر میں قیلولہ کرنے کے لیے واپس آتے تو عثمان بن ابوالعاص چپکے سے نکل کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے، قرآن سیکھتے اور دین کے متعلق بار بار سوالات کرتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دین میں کافی سمجھ حاصل کر لی۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم محوِ استراحت ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر دین کا علم حاصل کرتے۔ وہ یہ سب کچھ اپنے ساتھیوں سے مخفی رکھتے۔ ان کی اسی محنت اور خلوص کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خوش ہوئے اور ان پر خاص عنایت فرمانے لگے۔
رفتہ رفتہ دینِ اسلام قبیلۂ ثقیف کے دلوں میں اُتر گیا۔ وفد کے سردار کنانہ بن عبد یالیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: زنا کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ ہم بکثرت سفر کرتے ہیں، اس لیے یہ ضرورت بن چکی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم پر حرام ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا {بنی اسرائیل: ۳۲}
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ! بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
پھر سود کے بارے میں پوچھا حضور نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ {سورۃ البقرہ آہت ۲۷۸}
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔
اسی طرح شراب کے متعلق دریافت کیا، حضور ﷺ نے فرمایا شراب حرام ہے اور پھر حرمت شراب کی آیت تلاوت فرمائی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم سے نماز معاف کر دیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خیر فی دین بلا صلوٰۃ یعنی نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں۔
بعد ازاں وہ سب مشورہ کرکے واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں مان لیں، سوائے اس کے کہ ان کا بت لات تین سال تک نہ گرایا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ مہلت کو ایک سال کر کے کم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے تو ایک ماہ کا مطالبہ کیا، لیکن حضور نے قلیل مدت کی مہلت بھی دینے سے انکار فرما دیا۔
ابن اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ یہ مہلت اس لیے مانگتے تھے تاکہ اپنی قوم کے جاہل، عورتوں اور بچوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ اور انھیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لوگ بگڑ ہی نہ جائیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ جب ایمان دلوں میں اچھی طرح جاگزیں ہو جائے، تب بت کو گرایا جائے۔
پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہم خود بت کو نہیں گرائیں گے، البتہ ان کے گرانے کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے ساتھ کسی کو بھیجوں گا جو یہ کام انجام دے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس وفد کے روانہ ہونے کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ان کے پیچھے ایک وفد روانہ فرمایا، جس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے لات کو منہدم کرنا شروع کیا۔ تو قبیلۂ ثقیف کی عورتیں ننگے سر گھروں سے باہر نکل آئیں، آہ و بکا کرنے لگیں اور اشعار پڑھتے ہوئے واویلا کرنے لگیں۔ جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کلہاڑی سے بت پر ضرب لگاتے تو حضرت ابو سفیان کہتے جاتے:
واها لك واها لك!
یعنی افسوس! افسوس! ہائے لات! آہ لات!
[سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۷]
اس سے ان کا مقصد بت کا تمسخر اڑانا اور ان عورتوں کی نقل اتارنا تھا جو اس موقع پر رو پیٹ رہی تھیں۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: اس طرح ثقیف کے تمام افراد کے دلوں میں اسلام داخل ہو گیا۔ اور میں نے عرب میں کوئی ایسا قبیلہ یا کسی باپ کی اولاد ایسی نہیں دیکھی جن کا اسلام اتنا مضبوط، عقیدہ اتنا خالص اور پاک ہو جتنا قبیلۂ ثقیف کا تھا۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸، بحوالہ فقہ السیرۃ ص ۶۰۲–۶۰۵، فرید بُک اسٹال، اردو بازار، لاہور]
خلاصۂ کلام:
قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، آثار و روایات سے یہ امر بالیقین ثابت ہے کہ حضور پُرنور سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل جلالہ نے ماحی یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا، بشیر و نذیر، اور ہادی و منجی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور توحید کی روشنی کو چہار سو پھیلا دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
بت شکن آیا یہ کہہ کر منھ کے بل بت گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
چنانچہ اللہ جل جلالہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا {سورۃ الفتح آیت ٢٨}
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب فرمایا، اور بے شک اللہ جل و علا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بطورِ شاہد کافی ہے۔ [مدارک التنزیل، تحتِ آیتِ مذکور]
نیز اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ {سورۃ الصف، آیت ٨}
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا، پڑے بُرا مانیں کافر۔
اللہ تعالیٰ ہر حال میں دینِ اسلام کو غالب فرمائے گا، اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں۔ [تفسیر خازن، تحت آیت مذکور]
صحیح بخاری شریف کی حدیث ہے:
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ (رقم الحدیث: ٣٥٣٢)
ترجمۂ حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی وہ کہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، اور میں عاقب ہوں یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
[تخریج حدیث: اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی]
بخاری شریف کی حدیثِ مذکور سے بالکل واضح ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر و شرک کو مٹانے والے بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ ہی کی دعوت، تبلیغ اور سعیِ مسلسل کا نتیجہ ہے کہ اسلام عرب کے ریگ زاروں سے نکل کر آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راہِ حق میں بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑیں، جن میں واقعۂ طائف خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! بنو ثقیف کے لیے دعائے ضرر فرمائیے! مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جو رحمۃ للعالمین ہیں، نے اس کے برخلاف دعائے خیر فرمائی کہ اے اللہ بنو ثقیف کو ہدایت عطا فرما! جیسا کہ سنن ترمذی شریف کی حدیث میں ہے: قالوا: يا رسولَ اللهِ ! أَحْرَقَتْنا نِبالُ ثَقِيفٍ، فادْعُ اللهَ عليهم. فقال: اللهم اهْدِ ثَقِيفًا {رقم الحدیث: ٣٩٤٢}
یہ دعا قبول ہوئی۔ بنو ثقیف نے باہمی مشورے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرلی، اور اپنا ایک وفد کنانہ بن عبد یالیل کی قیادت میں مدینہ منورہ، بارگاہِ رسالت میں روانہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجدِ نبوی شریف ہی میں خیمہ نصب کر کے قیام کرنے کا حکم فرمایا، تاکہ وہ قرآن کی تلاوت سنیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھیں۔
یہ وفد کئی دن تک مسجدِ نبوی میں ٹھہرا رہا، اور وقتاً فوقتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ خود مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے جاتے اور نہایت حکمت اور نرمی سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ {سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۴}
ابن سعد نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات نمازِ عشاء کے بعد تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے ان سے گفتگو فرماتے، حتیٰ کہ کبھی آپ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک قدم پر بوجھ ڈالتے اور کبھی دوسرے پر۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸]
موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بھی اسی وفد میں شامل تھے اور سب سے کم عمر تھے۔ وفد کے لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو انھیں خیمے میں چھوڑ جاتے، لیکن جب یہ لوگ دوپہر میں قیلولہ کرنے کے لیے واپس آتے تو عثمان بن ابوالعاص چپکے سے نکل کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے، قرآن سیکھتے اور دین کے متعلق بار بار سوالات کرتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دین میں کافی سمجھ حاصل کر لی۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم محوِ استراحت ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر دین کا علم حاصل کرتے۔ وہ یہ سب کچھ اپنے ساتھیوں سے مخفی رکھتے۔ ان کی اسی محنت اور خلوص کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خوش ہوئے اور ان پر خاص عنایت فرمانے لگے۔
رفتہ رفتہ دینِ اسلام قبیلۂ ثقیف کے دلوں میں اُتر گیا۔ وفد کے سردار کنانہ بن عبد یالیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: زنا کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ ہم بکثرت سفر کرتے ہیں، اس لیے یہ ضرورت بن چکی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم پر حرام ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا {بنی اسرائیل: ۳۲}
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ! بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
پھر سود کے بارے میں پوچھا حضور نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ {سورۃ البقرہ آہت ۲۷۸}
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔
اسی طرح شراب کے متعلق دریافت کیا، حضور ﷺ نے فرمایا شراب حرام ہے اور پھر حرمت شراب کی آیت تلاوت فرمائی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم سے نماز معاف کر دیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خیر فی دین بلا صلوٰۃ یعنی نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں۔
بعد ازاں وہ سب مشورہ کرکے واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں مان لیں، سوائے اس کے کہ ان کا بت لات تین سال تک نہ گرایا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ مہلت کو ایک سال کر کے کم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے تو ایک ماہ کا مطالبہ کیا، لیکن حضور نے قلیل مدت کی مہلت بھی دینے سے انکار فرما دیا۔
ابن اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ یہ مہلت اس لیے مانگتے تھے تاکہ اپنی قوم کے جاہل، عورتوں اور بچوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ اور انھیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لوگ بگڑ ہی نہ جائیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ جب ایمان دلوں میں اچھی طرح جاگزیں ہو جائے، تب بت کو گرایا جائے۔
پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہم خود بت کو نہیں گرائیں گے، البتہ ان کے گرانے کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے ساتھ کسی کو بھیجوں گا جو یہ کام انجام دے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس وفد کے روانہ ہونے کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ان کے پیچھے ایک وفد روانہ فرمایا، جس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے لات کو منہدم کرنا شروع کیا۔ تو قبیلۂ ثقیف کی عورتیں ننگے سر گھروں سے باہر نکل آئیں، آہ و بکا کرنے لگیں اور اشعار پڑھتے ہوئے واویلا کرنے لگیں۔ جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کلہاڑی سے بت پر ضرب لگاتے تو حضرت ابو سفیان کہتے جاتے:
واها لك واها لك!
یعنی افسوس! افسوس! ہائے لات! آہ لات!
[سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۷]
اس سے ان کا مقصد بت کا تمسخر اڑانا اور ان عورتوں کی نقل اتارنا تھا جو اس موقع پر رو پیٹ رہی تھیں۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: اس طرح ثقیف کے تمام افراد کے دلوں میں اسلام داخل ہو گیا۔ اور میں نے عرب میں کوئی ایسا قبیلہ یا کسی باپ کی اولاد ایسی نہیں دیکھی جن کا اسلام اتنا مضبوط، عقیدہ اتنا خالص اور پاک ہو جتنا قبیلۂ ثقیف کا تھا۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸، بحوالہ فقہ السیرۃ ص ۶۰۲–۶۰۵، فرید بُک اسٹال، اردو بازار، لاہور]
خلاصۂ کلام:
قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، آثار و روایات سے یہ امر بالیقین ثابت ہے کہ حضور پُرنور سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل جلالہ نے ماحی یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا، بشیر و نذیر، اور ہادی و منجی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور توحید کی روشنی کو چہار سو پھیلا دیا۔
Author Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate
اس کاتب کی جملہ مضامین 39

تقریب افتتاح درجۂ عالمیت- مرکز الدراسات الاسلامیہ للبنات

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0