یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

سیرت النبی ﷺ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
بت شکن آیا یہ کہہ کر منھ کے بل بت گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
چنانچہ اللہ جل جلالہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
بت شکن آیا یہ کہہ کر منھ کے بل بت گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
چنانچہ اللہ جل جلالہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا {سورۃ الفتح آیت ٢٨}
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب فرمایا، اور بے شک اللہ جل و علا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بطورِ شاہد کافی ہے۔ [مدارک التنزیل، تحتِ آیتِ مذکور]
نیز اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ {سورۃ الصف، آیت ٨}
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا، پڑے بُرا مانیں کافر۔
اللہ تعالیٰ ہر حال میں دینِ اسلام کو غالب فرمائے گا، اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں۔ [تفسیر خازن، تحت آیت مذکور]
نیز اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ {سورۃ الصف، آیت ٨}
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا، پڑے بُرا مانیں کافر۔
اللہ تعالیٰ ہر حال میں دینِ اسلام کو غالب فرمائے گا، اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں۔ [تفسیر خازن، تحت آیت مذکور]
صحیح بخاری شریف کی حدیث ہے:
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ (رقم الحدیث: ٣٥٣٢)
ترجمۂ حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی وہ کہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، اور میں عاقب ہوں یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
[تخریج حدیث: اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی]
[تخریج حدیث: اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی]
بخاری شریف کی حدیثِ مذکور سے بالکل واضح ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر و شرک کو مٹانے والے بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ ہی کی دعوت، تبلیغ اور سعیِ مسلسل کا نتیجہ ہے کہ اسلام عرب کے ریگ زاروں سے نکل کر آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راہِ حق میں بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑیں، جن میں واقعۂ طائف خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! بنو ثقیف کے لیے دعائے ضرر فرمائیے! مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جو رحمۃ للعالمین ہیں، نے اس کے برخلاف دعائے خیر فرمائی کہ اے اللہ بنو ثقیف کو ہدایت عطا فرما! جیسا کہ سنن ترمذی شریف کی حدیث میں ہے: قالوا: يا رسولَ اللهِ ! أَحْرَقَتْنا نِبالُ ثَقِيفٍ، فادْعُ اللهَ عليهم. فقال: اللهم اهْدِ ثَقِيفًا {رقم الحدیث: ٣٩٤٢}
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راہِ حق میں بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑیں، جن میں واقعۂ طائف خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! بنو ثقیف کے لیے دعائے ضرر فرمائیے! مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جو رحمۃ للعالمین ہیں، نے اس کے برخلاف دعائے خیر فرمائی کہ اے اللہ بنو ثقیف کو ہدایت عطا فرما! جیسا کہ سنن ترمذی شریف کی حدیث میں ہے: قالوا: يا رسولَ اللهِ ! أَحْرَقَتْنا نِبالُ ثَقِيفٍ، فادْعُ اللهَ عليهم. فقال: اللهم اهْدِ ثَقِيفًا {رقم الحدیث: ٣٩٤٢}
یہ دعا قبول ہوئی۔ بنو ثقیف نے باہمی مشورے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرلی، اور اپنا ایک وفد کنانہ بن عبد یالیل کی قیادت میں مدینہ منورہ، بارگاہِ رسالت میں روانہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجدِ نبوی شریف ہی میں خیمہ نصب کر کے قیام کرنے کا حکم فرمایا، تاکہ وہ قرآن کی تلاوت سنیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھیں۔
یہ وفد کئی دن تک مسجدِ نبوی میں ٹھہرا رہا، اور وقتاً فوقتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ خود مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے جاتے اور نہایت حکمت اور نرمی سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ {سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۴}
یہ وفد کئی دن تک مسجدِ نبوی میں ٹھہرا رہا، اور وقتاً فوقتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ خود مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے جاتے اور نہایت حکمت اور نرمی سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ {سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۴}
ابن سعد نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات نمازِ عشاء کے بعد تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے ان سے گفتگو فرماتے، حتیٰ کہ کبھی آپ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک قدم پر بوجھ ڈالتے اور کبھی دوسرے پر۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸]
موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بھی اسی وفد میں شامل تھے اور سب سے کم عمر تھے۔ وفد کے لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو انھیں خیمے میں چھوڑ جاتے، لیکن جب یہ لوگ دوپہر میں قیلولہ کرنے کے لیے واپس آتے تو عثمان بن ابوالعاص چپکے سے نکل کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے، قرآن سیکھتے اور دین کے متعلق بار بار سوالات کرتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دین میں کافی سمجھ حاصل کر لی۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸]
موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بھی اسی وفد میں شامل تھے اور سب سے کم عمر تھے۔ وفد کے لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو انھیں خیمے میں چھوڑ جاتے، لیکن جب یہ لوگ دوپہر میں قیلولہ کرنے کے لیے واپس آتے تو عثمان بن ابوالعاص چپکے سے نکل کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے، قرآن سیکھتے اور دین کے متعلق بار بار سوالات کرتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دین میں کافی سمجھ حاصل کر لی۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم محوِ استراحت ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر دین کا علم حاصل کرتے۔ وہ یہ سب کچھ اپنے ساتھیوں سے مخفی رکھتے۔ ان کی اسی محنت اور خلوص کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خوش ہوئے اور ان پر خاص عنایت فرمانے لگے۔
رفتہ رفتہ دینِ اسلام قبیلۂ ثقیف کے دلوں میں اُتر گیا۔ وفد کے سردار کنانہ بن عبد یالیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: زنا کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ ہم بکثرت سفر کرتے ہیں، اس لیے یہ ضرورت بن چکی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم پر حرام ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا {بنی اسرائیل: ۳۲}
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ! بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
پھر سود کے بارے میں پوچھا حضور نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ {سورۃ البقرہ آہت ۲۷۸}
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔
اسی طرح شراب کے متعلق دریافت کیا، حضور ﷺ نے فرمایا شراب حرام ہے اور پھر حرمت شراب کی آیت تلاوت فرمائی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم سے نماز معاف کر دیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خیر فی دین بلا صلوٰۃ یعنی نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں۔
بعد ازاں وہ سب مشورہ کرکے واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں مان لیں، سوائے اس کے کہ ان کا بت لات تین سال تک نہ گرایا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ مہلت کو ایک سال کر کے کم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے تو ایک ماہ کا مطالبہ کیا، لیکن حضور نے قلیل مدت کی مہلت بھی دینے سے انکار فرما دیا۔
رفتہ رفتہ دینِ اسلام قبیلۂ ثقیف کے دلوں میں اُتر گیا۔ وفد کے سردار کنانہ بن عبد یالیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: زنا کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ ہم بکثرت سفر کرتے ہیں، اس لیے یہ ضرورت بن چکی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم پر حرام ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا {بنی اسرائیل: ۳۲}
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ! بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
پھر سود کے بارے میں پوچھا حضور نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ {سورۃ البقرہ آہت ۲۷۸}
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔
اسی طرح شراب کے متعلق دریافت کیا، حضور ﷺ نے فرمایا شراب حرام ہے اور پھر حرمت شراب کی آیت تلاوت فرمائی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم سے نماز معاف کر دیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خیر فی دین بلا صلوٰۃ یعنی نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں۔
بعد ازاں وہ سب مشورہ کرکے واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں مان لیں، سوائے اس کے کہ ان کا بت لات تین سال تک نہ گرایا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ مہلت کو ایک سال کر کے کم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے تو ایک ماہ کا مطالبہ کیا، لیکن حضور نے قلیل مدت کی مہلت بھی دینے سے انکار فرما دیا۔
ابن اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ یہ مہلت اس لیے مانگتے تھے تاکہ اپنی قوم کے جاہل، عورتوں اور بچوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ اور انھیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لوگ بگڑ ہی نہ جائیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ جب ایمان دلوں میں اچھی طرح جاگزیں ہو جائے، تب بت کو گرایا جائے۔
پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہم خود بت کو نہیں گرائیں گے، البتہ ان کے گرانے کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے ساتھ کسی کو بھیجوں گا جو یہ کام انجام دے گا۔
پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہم خود بت کو نہیں گرائیں گے، البتہ ان کے گرانے کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے ساتھ کسی کو بھیجوں گا جو یہ کام انجام دے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اس وفد کے روانہ ہونے کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ان کے پیچھے ایک وفد روانہ فرمایا، جس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے لات کو منہدم کرنا شروع کیا۔ تو قبیلۂ ثقیف کی عورتیں ننگے سر گھروں سے باہر نکل آئیں، آہ و بکا کرنے لگیں اور اشعار پڑھتے ہوئے واویلا کرنے لگیں۔ جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کلہاڑی سے بت پر ضرب لگاتے تو حضرت ابو سفیان کہتے جاتے:
واها لك واها لك!
یعنی افسوس! افسوس! ہائے لات! آہ لات!
[سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۷]
واها لك واها لك!
یعنی افسوس! افسوس! ہائے لات! آہ لات!
[سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۷]
اس سے ان کا مقصد بت کا تمسخر اڑانا اور ان عورتوں کی نقل اتارنا تھا جو اس موقع پر رو پیٹ رہی تھیں۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: اس طرح ثقیف کے تمام افراد کے دلوں میں اسلام داخل ہو گیا۔ اور میں نے عرب میں کوئی ایسا قبیلہ یا کسی باپ کی اولاد ایسی نہیں دیکھی جن کا اسلام اتنا مضبوط، عقیدہ اتنا خالص اور پاک ہو جتنا قبیلۂ ثقیف کا تھا۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸، بحوالہ فقہ السیرۃ ص ۶۰۲–۶۰۵، فرید بُک اسٹال، اردو بازار، لاہور]
خلاصۂ کلام:
قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، آثار و روایات سے یہ امر بالیقین ثابت ہے کہ حضور پُرنور سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل جلالہ نے ماحی یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا، بشیر و نذیر، اور ہادی و منجی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور توحید کی روشنی کو چہار سو پھیلا دیا۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: اس طرح ثقیف کے تمام افراد کے دلوں میں اسلام داخل ہو گیا۔ اور میں نے عرب میں کوئی ایسا قبیلہ یا کسی باپ کی اولاد ایسی نہیں دیکھی جن کا اسلام اتنا مضبوط، عقیدہ اتنا خالص اور پاک ہو جتنا قبیلۂ ثقیف کا تھا۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸، بحوالہ فقہ السیرۃ ص ۶۰۲–۶۰۵، فرید بُک اسٹال، اردو بازار، لاہور]
خلاصۂ کلام:
قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، آثار و روایات سے یہ امر بالیقین ثابت ہے کہ حضور پُرنور سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل جلالہ نے ماحی یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا، بشیر و نذیر، اور ہادی و منجی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور توحید کی روشنی کو چہار سو پھیلا دیا۔










