یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

فقہ، اصول فقہ
تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں
تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا العلم بربنا فصح لنا الإيمان : وعلى اله وصحبه وتابعيهم بإحسان۔
الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا العلم بربنا فصح لنا الإيمان : وعلى اله وصحبه وتابعيهم بإحسان۔
اللہ وحدہ لاشریک لہ کی وحدانیت اور شارع اسلام خاتم انبیاء کرام محمد رسول اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام کی رسالت اور سائر ضروریات دین پر ایمان لانا فرض عین ہے ان میں سے کسی کا انکار یا ان میں ادنی شک بھی لانا کفر ہے جیسا کہ مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العٰلمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامه الله لنا حتى نلقاء به يوم القيامۃ وتدخل به بفضل رحمته دار السلام أمين!
اور معاذ اللہ ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنی شک لانا کفر"۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵ کتاب الرد و المناظرہ]
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العٰلمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامه الله لنا حتى نلقاء به يوم القيامۃ وتدخل به بفضل رحمته دار السلام أمين!
اور معاذ اللہ ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنی شک لانا کفر"۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵ کتاب الرد و المناظرہ]
کفر لزومی اور کفر التزامی________
اس انکار کی بھی دو قسم ہے لزومی اور التزامی اسی کو کفر فقہی اور کفر کلامی کہتے ہیں جیسا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ متذکرہ عبارت کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
اس انکار کی بھی دو قسم ہے لزومی اور التزامی اسی کو کفر فقہی اور کفر کلامی کہتے ہیں جیسا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ متذکرہ عبارت کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا العلم بربنا فصح لنا الإيمان : وعلى اله وصحبه وتابعيهم بإحسان۔
الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا العلم بربنا فصح لنا الإيمان : وعلى اله وصحبه وتابعيهم بإحسان۔
اللہ وحدہ لاشریک لہ کی وحدانیت اور شارع اسلام خاتم انبیاء کرام محمد رسول اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام کی رسالت اور سائر ضروریات دین پر ایمان لانا فرض عین ہے ان میں سے کسی کا انکار یا ان میں ادنی شک بھی لانا کفر ہے جیسا کہ مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العٰلمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامه الله لنا حتى نلقاء به يوم القيامۃ وتدخل به بفضل رحمته دار السلام أمين!
اور معاذ اللہ ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنی شک لانا کفر"۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵ کتاب الرد و المناظرہ]
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العٰلمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامه الله لنا حتى نلقاء به يوم القيامۃ وتدخل به بفضل رحمته دار السلام أمين!
اور معاذ اللہ ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنی شک لانا کفر"۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵ کتاب الرد و المناظرہ]
کفر لزومی اور کفر التزامی________
اس انکار کی بھی دو قسم ہے لزومی اور التزامی اسی کو کفر فقہی اور کفر کلامی کہتے ہیں جیسا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ متذکرہ عبارت کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
اس انکار کی بھی دو قسم ہے لزومی اور التزامی اسی کو کفر فقہی اور کفر کلامی کہتے ہیں جیسا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ متذکرہ عبارت کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
پھر یہ انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے دو طرح ہوتا ہے، لزومی و التزامی ۔ التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شی کا تصریحا خلاف کرے، یہ قطعا اجماعا کفر ہے ، اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں کہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتا ہو، جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائفِ کفار میں بھی نہ پایا جائے گا، ہم نے دیکھا ہے بہتیرے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں، بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا، یا جس بات کا اس نے دعوی کیا، وہ بعینہ کفر و مخالف ضروریات دین ہو، جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک و جن و شیطان و آسمان و نار و جنان و معجزات انبیا علیہم افضل الصلوة والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی بر حق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا، اور اپنی تاویلات باطلہ و توہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے ، نہ محبت اسلام و ہمدردی قوم کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے۔ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ
{القرآن سورة المنافقون: ٤]
{القرآن سورة المنافقون: ٤]
اور لزومی یہ کہ جو بات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے، یعنی مآل سخن و لازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے لے چلیے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنھما سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی، اور وہ قطعا کفر، مگر انھوں نے صراحت اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا، بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام و غیر ہم چند اکابر کرام علیٰ مولاهم و علیہم الصلوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپنا پیشوا بناتے اور خلافت صدیقی و فاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں، اس قسم کے کفر میں علمائے اہل سنت مختلف ہو گئے، جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی، حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعت و بدمذہبی و ضلالت وگمراہی ہے۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵-۱۷۶ کتاب الرد و المناظرہ]
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵-۱۷۶ کتاب الرد و المناظرہ]
ضروریات دین اور دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں:
ایک ضروریات دین : ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔
دوم ضروریات عقائد اہل سنت: ان کا منکر بد مذ ہب گمراہ ہوتا ہے۔
سوم وہ مسائل کہ علماے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں: اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں ۔
(فتاوی رضویہ کامل: ۲۵۸/۱۸)
(فتاوی رضویہ کامل: ۲۵۸/۱۸)
اسی کی مزید توضیح و تشریح کرتے ہوئے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ الصارم الربانی مشمولہ فتاوی رضویہ میں رقم طراز ہیں:
مانی ہوئی باتیں چار قسم ہوتی ہیں۔
(1) ضروریات دین:
ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحة الافادات سے ہوتا ہے جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔ اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کا فر ہوتا ہے۔
ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحة الافادات سے ہوتا ہے جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔ اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کا فر ہوتا ہے۔
(۲) ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت :
ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے ۔ اس لیے ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ بد مذہب ، بد دین کہلاتا ہے۔
ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے ۔ اس لیے ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ بد مذہب ، بد دین کہلاتا ہے۔
(۳) ثابتات محکمہ :
ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح ومضمحل اور التقات خاص کے نا قابل بنا دے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث آحاد، صیح یا حسن کافی ، اور قول سواد اظلم و جمهور علما کی سند وافی (فان ید الله على الجماعة)
ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح ومضمحل اور التقات خاص کے نا قابل بنا دے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث آحاد، صیح یا حسن کافی ، اور قول سواد اظلم و جمهور علما کی سند وافی (فان ید الله على الجماعة)
ان کا منکر وضوح امر کے بعد خاطی و آثم خطا کار و گناہ گار قرار پاتا ہے، نہ بد دین و گمراہ نہ کافر خارج از اسلام
(۴) ظنیات محتمله :
ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافی جس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وار کہا جائے گا نہ گنہ گار، چہ جائے کہ گمراہ، چہ جائے کہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرق مراتب نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکار فیلسوف ۔۔۔۔۔۔ ع ہر سخن وقتے ہر نکتہ مقامی دارد
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ع گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافی جس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وار کہا جائے گا نہ گنہ گار، چہ جائے کہ گمراہ، چہ جائے کہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرق مراتب نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکار فیلسوف ۔۔۔۔۔۔ ع ہر سخن وقتے ہر نکتہ مقامی دارد
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ع گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
اور بالخصوص قرآن عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح ہونے کی تو اصلا ضرورت نہیں حتی کہ مرتبہ اعلی اعنی ضروریات دین بھی۔ بہت باتیں ضروریات دین سے ہیں جن کا منکر یقینا کافر مگر ان کا ذکر آیات واحادیث میں نہیں ، مثلاً باری تعالیٰ عزوجل کا جہل محال ہونا۔ قرآن عظیم میں اللہ عزوجل کے علم واحاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں ، پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شک اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے ، عالم الغيب والشهادة ہے، کوئی ذرہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔ مگر ممکن ہےکہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلب صریح قرآن میں مذکور نہیں۔ حاشا للہ! ضرور کافرہے اور جو اسے کافر نہ کہے تو خود کافر تو جب ضروریات دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریح قرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑچڑاپن کہ ہمیں قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گے نری جہالت ہے یا صریح ضلالت مگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں
تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو کہ ہم اماموں کا قول نہیں جانتے۔ ہمیں قرآن و حدیث چاہیے۔ جان لو کہ یہ گمراہ ہے، اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بد دین ہے، دین خدا کا بد خواہ ہے ۔
تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو کہ ہم اماموں کا قول نہیں جانتے۔ ہمیں قرآن و حدیث چاہیے۔ جان لو کہ یہ گمراہ ہے، اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بد دین ہے، دین خدا کا بد خواہ ہے ۔
مسلمانو تم ان گمراہوں کی ایک نہ سنو۔ اور جب تمہیں قرآن میں شبہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔ اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تو ائمۂ دین کا دامن پکڑو اس درجے پر آ کر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہوا سارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضال، مضل طائفے بھاگتے نظر آئیں گے . ﴿كَأَنَّهُمۡ حُمُرࣱ مُّسۡتَنفِرَةࣱ﴾ [المدثر ٥٠]
(گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں )
( الصارم الربانی ملخصا)
[فتاوی رضویہ جلد ۱۸ ص ۲۵۹-۲۶۰ کتاب العقائد و الکلام]
(گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں )
( الصارم الربانی ملخصا)
[فتاوی رضویہ جلد ۱۸ ص ۲۵۹-۲۶۰ کتاب العقائد و الکلام]
امام احمد رضا خان قدس سرہ ” رد الرفضہ" میں ضروریات دین کی تشریح کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:
اصل مدار ضروریات دین ہیں، اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقا ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلاً نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر، مثلاً عالم کے بجميع اجزاءہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی ، غایت یہ کہ آسمان وزمین کا حدوث ارشاد ہوا ہے، مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے، جس کی اسانید کثیرہ فقیر کے رسالہ مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید میں مذکور تو وجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اللہ ضروریات دین سے ہے، کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں ... یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی ۔
(رساله رد الرفضه فتاوی رضویہ مترجم جلد ۴ صفحه ۲۶۶)
(رساله رد الرفضه فتاوی رضویہ مترجم جلد ۴ صفحه ۲۶۶)
فتاوی رضویہ جلد اول کے بالکل شروع میں ہی ضروریات دین کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
جس کے علم میں خواص و عوام سب شریک ہوں ( کہ یہ دین کا حصہ ہے ) ، اقول: یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین سے شغل رکھتے ہیں اور علما سے ملتے جلتے ہیں، ورنہ بہت سے جاہل دیہاتی خصوصاً ہندوستان اور مشرقی علاقوں میں ایسے ہیں جن کو کثیر ضروریات دین کا علم نہیں ، اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے منکر ہیں، بلکہ اس معنی میں کہ وہ ان سے غافل ہیں۔ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہاں ضرورت بداہت کے معنی میں ہے، یہ بات معلوم ہے کہ بداہت و نظریت لوگوں کے اختلاف سے مختلف ہوتی رہتی ہے، کہ بہت سے نظری مسئلے جو دوسرے نظری مسئلے پر مبنی ہوں جب دوسرا واضح ہو جائے تو پہلا جو اپنے ظہور میں دوسرے کے ظہور کا محتاج تھا ان کے نزدیک بدیہیات سے ہو جاتا ہے اگر چہ وہ نظری مسئلہ تھا۔
( ملخصا متر جما فتاوی رضویہ قدیم جلد اول صفحہ ۷ ناشر رضا اکیڈمی ممبئی)
( ملخصا متر جما فتاوی رضویہ قدیم جلد اول صفحہ ۷ ناشر رضا اکیڈمی ممبئی)
ایک بہت ہی اہم تحقیق حقیق جو امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے الزلال الانقی فی بحر سبقۃ الاتقی میں فرمائی ہے ملاحظہ فرمائیں:
واضح رہے کہ علم قطعی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
اول : احتمال بالکل ختم ہو جائے اور اس کا نام و نشان نہ رہے۔ قطعی بالمعنی الاخص ہے ۔ یہ اس محکم و مفسر میں ہوتا ہے جو متواتر ہیں۔ اصول دین اور عقائد اسلام میں یہی مطلوب ہے ۔
دوم: احتمال تو ہے مگر بلا دلیل ہے۔ جیسے : مجاز تخصیص یا تاویل کی دوسری قسمیں جو ظاہر اور نص یا احادیث مشہورہ میں ہوتی ہیں۔ یہ قطعی بالمعنی الاعم ہے۔
اول کا نام علم الیقین ہے۔ اس کا منکر و مخالف کا فر ہے۔
اول کا نام علم الیقین ہے۔ اس کا منکر و مخالف کا فر ہے۔
البتہ یہاں ایک اختلاف ہے فقہا منکر کو علی الاطلاق کافر کہتے ہیں اور متکلمین اس میں ضروریات دین کی قید لگاتے ہیں۔
دوم کا نام علم طمانیت ہے، اس کا مخالف و منکر بدعتی و گمراہ ہے ۔ یہاں کافر کہنے کی گنجائش نہیں۔ جیسے قیامت میں اعمال کا تولا جانا۔ دیدار الہی۔ آسمانوں کی بلندی تک معراج جسمانی۔
اسی طرح ظن کے دو معنی ہیں : ظن بالمعنى الاخص، ظن بالمعنى الاعم.
ظنی اسے کہتے ہیں جس میں کوئی احتمال ہو۔ اگر احتمال کسی دلیل کی بنیاد پر ہے تو یہ ظنی بالاخص ہے ۔ اور بلا دلیل ہے تو ظنی بالاعم ۔
(اسی کو اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ عام کا مقابل خاص اور خاص کا مقابل عام ہوتا ہے ) اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ مسئلۂ تفضیل قطعی بالمعنی الاعم ہے، اور ہم اس کے منکر کو کافر نہیں کہتے البتہ بدعتی گمراہی ہیں۔ اور جس نے یہ کہا کہ مسئلۂ تفضیل میں نصوص متعارض ہیں لہذا استدلال ساقط ۔ تو ایسا قول ساقط الاعتبار ہے اگر اس کی مراد تعارض حقیقی ہے۔ رہا تعارض صوری تو مسئلہ پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب بات واضح ہو گئی کہ ہمارے ائمہ کرام میں بعض نے جو مسئلہ تفضیل کو قطعی کہا ہے اور ظنی کی نفی کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاعم ہے جس سے علم طمانیت حاصل ہوتا ہے۔ اور ظنی سے ظنی بالمعنی الاخص کی نفی ہے۔ یعنی اس میں کوئی احتمال بالدلیل نہیں۔
ظنی اسے کہتے ہیں جس میں کوئی احتمال ہو۔ اگر احتمال کسی دلیل کی بنیاد پر ہے تو یہ ظنی بالاخص ہے ۔ اور بلا دلیل ہے تو ظنی بالاعم ۔
(اسی کو اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ عام کا مقابل خاص اور خاص کا مقابل عام ہوتا ہے ) اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ مسئلۂ تفضیل قطعی بالمعنی الاعم ہے، اور ہم اس کے منکر کو کافر نہیں کہتے البتہ بدعتی گمراہی ہیں۔ اور جس نے یہ کہا کہ مسئلۂ تفضیل میں نصوص متعارض ہیں لہذا استدلال ساقط ۔ تو ایسا قول ساقط الاعتبار ہے اگر اس کی مراد تعارض حقیقی ہے۔ رہا تعارض صوری تو مسئلہ پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب بات واضح ہو گئی کہ ہمارے ائمہ کرام میں بعض نے جو مسئلہ تفضیل کو قطعی کہا ہے اور ظنی کی نفی کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاعم ہے جس سے علم طمانیت حاصل ہوتا ہے۔ اور ظنی سے ظنی بالمعنی الاخص کی نفی ہے۔ یعنی اس میں کوئی احتمال بالدلیل نہیں۔
اور جنھوں نے ظنی کہا اور قطعی کی نفی کی تو مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاخص نہیں جس میں سرے سے احتمال ہی نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں ۔ اور ظنی سے مراد ظنی بالمعنی الاعم ہے ، جس میں احتمال تو ہوتا ہے مگر بلا دلیل ۔ لہذا یہ اختلاف محض لفظی ہے۔
یہاں کسی کو یہ کھٹک ہو سکتی ہے کہ مسئلہ تو اعتقادی ہے پھر قطعی بالمعنی الاعم یعنی ظنی بالمعنی الاعم پر اعتماد کیوں کر روا ہو گا۔
جواب یہ ہے کہ مسئلہ اصول اسلام سے نہیں ۔ جیسے خلفائے راشدین کی خلافت۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہماری تحقیق کے ذریعہ بہت سے اقوال میں تطبیق ہو گئی ، لہذا اس کو اختیار کر لو۔ [فتاوی رضویہ جلد ۲۱ ص ۲۴۴-۲۴۵ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی]
جواب یہ ہے کہ مسئلہ اصول اسلام سے نہیں ۔ جیسے خلفائے راشدین کی خلافت۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہماری تحقیق کے ذریعہ بہت سے اقوال میں تطبیق ہو گئی ، لہذا اس کو اختیار کر لو۔ [فتاوی رضویہ جلد ۲۱ ص ۲۴۴-۲۴۵ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی]
متذکرہ بالا عبارات کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ کفر کلامی / التزامی صرف ضروریات دین کا انکار ہے اگر کوئی ضروریات دین کا انکار کرتا ہے تو اسے کافر کہیں گے جیسے طواغیت اربعہ ورنہ ہر گز کافر نہ کہیں گے یہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کا مذہب مختار ہے جیسا کہ رسالہ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار میں فرماتے ہیں:
ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتا ہے اسے کافر نہیں کہتے ۔
(ص ۱۰)
(ص ۱۰)
تکفیر میں احتیاط اس درجہ چاہیے کہ جب تک کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے حکم کفر نہیں دیا جائے گا جیسا کہ ذیل کی عبارت سے واضح ہے
فرماتے ہیں:
اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجیے ، یہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تک ان کی صریح دشناموں پر اطلاع نہ تھی مسئلہ امکان کذب کے باعث ان پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کر کے سبحان السبوح میں بالآ خر صفحہ ۸۰ پر یہی لکھا: حاشا للہ حاشا للہ ہزار بار حاشا للہ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا ، ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کو ابھی تک مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں ۔ اور امام الطائفہ کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے ، اور حکم اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے، فان الاسلام يعلو ولا يعلیٰ۔
(ملتقطا تمهید ایمان از فتاوی رضویه مترجم ۳۵۰/۳۰ تا ۳۵۴)
فرماتے ہیں:
اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجیے ، یہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تک ان کی صریح دشناموں پر اطلاع نہ تھی مسئلہ امکان کذب کے باعث ان پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کر کے سبحان السبوح میں بالآ خر صفحہ ۸۰ پر یہی لکھا: حاشا للہ حاشا للہ ہزار بار حاشا للہ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا ، ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کو ابھی تک مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں ۔ اور امام الطائفہ کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے ، اور حکم اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے، فان الاسلام يعلو ولا يعلیٰ۔
(ملتقطا تمهید ایمان از فتاوی رضویه مترجم ۳۵۰/۳۰ تا ۳۵۴)
مذکورہ بالا مذہب متکلمین کا ہے رہی بات فقہاء کرام کی توہ وہ مآل مقال لازم سخن کی طرف نظر کرتے ہوئے مسئلہ اجماعی یا قطعی الثبوت کے انکار پر بھی حکم کفر سنا دیتے ہیں اسی کو کفر لزومی / فقہی کہتے ہیں
امام اہل سنت المعتمد المستند میں رقم طراز ہیں :
تحقيق المقام أن أكثر الحنفية يكفرون بإنكار كل مقطوع كما هو المصرح في رد المحتار وغيره. وهم ومن واقفهم قائلون بإنكار كل مجمع عليه بعد ما كان الاجماع قطعياً نقلاً ودلالة، ولا حاجة إلى وجود النص. والمحققون لا يكفرون إلا بإنكار ما علم من الدين ضرورة بحيث يشترك في معرفته الخاص والعام المخالطون للخواص فإذا كان المجمع عليه هكذا كفر منكره، وإلا لا.
(ص: ۱۹۵)
(ص: ۱۹۵)
تحقیق یہ ہے کہ اکثر علمائے احناف ہر قطعی دینی مسئلہ کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں جو دلائل قطعیہ سے ثابت ہوں اور حنفیہ اور ان کے موافقین مسئلہ اجماعی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت کے انکار پر بھی حکم کفر صادر کرتے ہیں اور محققین صرف مسائل دینیہ ضروریہ کے انکار پر ہاں کوئی اجماعی مسئلہ ضروری ہو جائے تو اس کے انکار پر بھی ، ورنہ نہیں۔
تو مسئلۂ تکفیر میں فقہا اور متکلمین کے درمیان کلیدی اور عنصری اختلاف یہی ہوا کہ متکلمین / محققین صرف ضروریات دینیہ کے منکر پر حکم کفر صادر کرتے ہیں اور فقہا کرام مسئلہ اجماعی یا قطعی الثبوت کے منکر پر بھی حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین کو اس سے اختلاف ہے البتہ بد مذہبیت میں انھیں بھی کوئی شک نہیں ہے ہاں اگر کوئی اجماعی یا قطعی الثبوت مسئلہ ضروریات دین کی حد میں داخل ہو جائے تو متکلمین اس کے منکر کی تکفیر کرتے ہیں مگر اس وجہ سے نہیں کہ وہ اجماعی یا قطعی الثبوت مسئلہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ضروری دینی ہے
تکفیر_______
امام اہل سنت نے جن لوگوں کی تکفیر ضروریات دین کے انکار کے سبب کی ہے حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان رضی اللہ عنہ نے فتاوی مصطفویہ میں ان ضروریات دین کی یوں تفصیل کی ہے
فرماتے ہیں:
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ان لوگوں کی تکفیر کی ہے جنھوں نے جنت و دوزخ کا انکار کیا، فرشتوں اور شیاطین کا انکار کیا، نماز و روزے کا انکار کیا، اور وہ جنھوں نے اللہ ورسول کی کھلی کھلی توہینیں کیں اس سبوح وقدس جل مجدہ کو عیبی جانا ، جھوٹ جیسے عیب کو اس سے واقع مانا ، چوری ، شراب خوری ، جہل و ظلم جیسے عیب کا اس پاک ذات پر دھبہ لگایا، حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم عظیم سے شیطان لعین کے علم کو وسیع بتایا ، شیطان کے علم کے لیے علم غیب نص سے ثابت مانا اور حضور کے لیے ماننے کو شرک بتایا، یوں یا شیطان کو غیر خدا نہ جانا ، یا اپنے منھ شیطان کے لیے علم غیب مان کر مشرک ہوا، اور شرک کو نص سے ثابت جانا ، اور وہ جس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم شریف کے بارے میں یہ لکھا کہ ایسا علم تو زید و عمرو، بلکہ ہر صبی و مجنون ، بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے حاصل ہے ۔ معاذ اللہ اور وہ جس نے حضور خاتم النبین علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد نبوت کی تجویز کی اور قرآن پر بے ربطی کی لم لگائی ، حضور کے بعد ، بلکہ حضور کے زمانے میں کہیں کوئی نبی پیدا ہونے سے ختم نبوت میں کوئی خلل نہ جانا، خاتم النبیین کے نئے معنی گڑھے ، اور جو معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور آج تک تمام مسلمان سمجھتے رہے، اسے خیال عوام ٹھہرایا ، اور اسے صحیح نہ جانا ، اور جنھوں نے اپنی نبوت کا ادعا کیا، اور جو ان جھوٹے مدعیوں کو نبی مانتے ، یا مجدد جانتے ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں، اور وہ جنھوں نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام ، یا کسی اور نبی کی توہینیں کی ہیں ، یا ان کی نبوت سے انکار کیا ہے، اور محض مقدس بھاری واعظ اور ایک مصلح جانا ہے۔
امام اہل سنت نے جن لوگوں کی تکفیر ضروریات دین کے انکار کے سبب کی ہے حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان رضی اللہ عنہ نے فتاوی مصطفویہ میں ان ضروریات دین کی یوں تفصیل کی ہے
فرماتے ہیں:
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ان لوگوں کی تکفیر کی ہے جنھوں نے جنت و دوزخ کا انکار کیا، فرشتوں اور شیاطین کا انکار کیا، نماز و روزے کا انکار کیا، اور وہ جنھوں نے اللہ ورسول کی کھلی کھلی توہینیں کیں اس سبوح وقدس جل مجدہ کو عیبی جانا ، جھوٹ جیسے عیب کو اس سے واقع مانا ، چوری ، شراب خوری ، جہل و ظلم جیسے عیب کا اس پاک ذات پر دھبہ لگایا، حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم عظیم سے شیطان لعین کے علم کو وسیع بتایا ، شیطان کے علم کے لیے علم غیب نص سے ثابت مانا اور حضور کے لیے ماننے کو شرک بتایا، یوں یا شیطان کو غیر خدا نہ جانا ، یا اپنے منھ شیطان کے لیے علم غیب مان کر مشرک ہوا، اور شرک کو نص سے ثابت جانا ، اور وہ جس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم شریف کے بارے میں یہ لکھا کہ ایسا علم تو زید و عمرو، بلکہ ہر صبی و مجنون ، بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے حاصل ہے ۔ معاذ اللہ اور وہ جس نے حضور خاتم النبین علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد نبوت کی تجویز کی اور قرآن پر بے ربطی کی لم لگائی ، حضور کے بعد ، بلکہ حضور کے زمانے میں کہیں کوئی نبی پیدا ہونے سے ختم نبوت میں کوئی خلل نہ جانا، خاتم النبیین کے نئے معنی گڑھے ، اور جو معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور آج تک تمام مسلمان سمجھتے رہے، اسے خیال عوام ٹھہرایا ، اور اسے صحیح نہ جانا ، اور جنھوں نے اپنی نبوت کا ادعا کیا، اور جو ان جھوٹے مدعیوں کو نبی مانتے ، یا مجدد جانتے ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں، اور وہ جنھوں نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام ، یا کسی اور نبی کی توہینیں کی ہیں ، یا ان کی نبوت سے انکار کیا ہے، اور محض مقدس بھاری واعظ اور ایک مصلح جانا ہے۔
اور وہ جنھوں نے مولی علی کو خدا مانا ، یا خدا کو ان میں رسا ہوا ٹھہرا، یا حضرات اہل بیت کرام کو سوائے حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام سے افضل جانا ، جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام کو غلط کار اور خائن ٹھہرایا، یا غیر نبی مولی علی کو نبوت کا اہل اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور نبی الانبیاء کو نبوت کے لائق نہ جانا ، جن کا عقیدہ ہے کہ نبوت بھیجی تو اللہ نے مولیٰ علی کو تھی اور جبریل غلطی سے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو دے گئے ، اور وہ جنھوں نے اس قرآن کو دخل بشری سے محفوظ نہ جانا ، بیاض عثمانی ٹھہرایا، یا ناقص بتایا ، جنھوں نے خدا پر یہ عیب لگایا کہ وہ حکم دے کر پچھتاتا ہے، وغیرہ وغیرہ کفریات ، اور وہ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ جولا الہ الا اللہ کہتا ہے کیسے گندے گھناؤنے ، کفری عقیدہ رکھتا ہو مسلمان ، اور وہ جو گاندھی کی آندھی میں اڑے جنھوں نے کھلے کھلے الفاظ کفریہ بکے اور افعال کفریہ کیے، یوں ہی اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ہر اس شخص کی تکفیر کی ہے جو ضروریات دین سے کسی ضروری دینی کا منکر ہو۔
(فتاوی مصطفویہ صفحہ ۲۶۰،۲۵۹)
(فتاوی مصطفویہ صفحہ ۲۶۰،۲۵۹)
کفر کلامی اور کفر فقہی کا حکم_______
جس کا کفر کلامی ہو اس کے سارے اعمال اکارت ہوں گے اور نکاح باطل ہو گا اور اس حالت میں اختلاط سے جتنے بچے پیدا ہوئے سب ولد الزنا ہوئے۔
اور جس کے کفر میں اختلاف ہے ، اس کو بھی قاضی تو بہ اور استغفار اور دوبارہ نکاح پڑھانے کا حکم دیگا تاکہ عورت کے ساتھ اس کا اختلاط سب کے نزدیک حلال ہو جائے۔
اور جس کے کفر میں اختلاف ہے ، اس کو بھی قاضی تو بہ اور استغفار اور دوبارہ نکاح پڑھانے کا حکم دیگا تاکہ عورت کے ساتھ اس کا اختلاط سب کے نزدیک حلال ہو جائے۔
قاضی عیاض رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ گروہ متکلمین بھی جو کفر فقہی پر تکفیر نہیں کرتے ، اُن پر سختی و تنگی روار کھتے ہیں۔
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم . (جلد دوم، ص: ۲۹۴)
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم . (جلد دوم، ص: ۲۹۴)
ایسا کرنے والے جب تک اپنی گمرہی سے رجوع نہیں کر لیتے ، تکفیر نہ کرنے والے حضرات بھی تکلیف و تادیب ، اور شدید زجر و توبیخ کے ذریعہ سختی فرماتے اور ان کا بائکاٹ کرتے ہیں۔
[اصول تکفیر ص ٥٩-٦٠]
[اصول تکفیر ص ٥٩-٦٠]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
خاتمہ
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جن چیزوں کی تصدیق کرنے سے انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار یا ان میں ادنی شک کرنے سے بھی انسان خارج از اسلام ہو جاتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
لا یخرج الانسان من الاسلام الا جحود ما ادخلہ فیہ
[فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم ص ۱۰۱]
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جن چیزوں کی تصدیق کرنے سے انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار یا ان میں ادنی شک کرنے سے بھی انسان خارج از اسلام ہو جاتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
لا یخرج الانسان من الاسلام الا جحود ما ادخلہ فیہ
[فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم ص ۱۰۱]
اللہ جل و علا ہمیں کفر شرک سے بچائے اور اطاعت رسول میں زندگی گزر بسر کرنے توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و صحبہ اجمعین










