یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح
بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح
عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بعض مقتدی کی جانب سے پشت کا انحراف ہوتا ہے، جبکہ بعض کی جانب سے نہیں ہوتا ،حالانکہ شریعتِ مطہرہ کو مطلوب مطلقاً انحراف بایں طور کہ کسی مقتدی کی طرف پشت نہ رہے, اس لئے ائمہ کو اس من مانی اور غلط روش سے باز آنا چاہیے چنانچہ محدث عصر شیخ بریلوی بقیۃ السلف عمدۃ الخلف علامہ مفتی شیخ صالح رضوی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں :
بھائیو! تمہیں معلوم ہو کہ اس حکم سے شرع کو اصل مطلوب یہ ہے کہ اب ( بعد سلام ) مقتدیوں کی طرف امام کی پشت نہ رہے ،اور یہ جبھی حاصل ہو گا جب پورا انحراف کرے گا۔ کیونکہ اب اسے امامت والی اپنی امتیازی شان برقرار رکھنے کی تدبیر زیبا نہیں ۔ لہذا امام کو مقتدیوں کی طرف سے اپنی پیٹھ بالکل پھیر لینی چاہئے، اور چاہئے کہ قوم کا ایک فرد دکھے، اور ان کا احترام اور لحاظ پاس کرے ۔ طرز تواضع اختیار ،اور تفوق سے احتراز کرے۔ لہذا بعد سلام اس طرح رخ پھیر لے کہ اب کسی ایک بھی فرد کی طرف اس کی پیٹھ نہ ہو۔( منتخب فتوے ص36)
بھائیو! تمہیں معلوم ہو کہ اس حکم سے شرع کو اصل مطلوب یہ ہے کہ اب ( بعد سلام ) مقتدیوں کی طرف امام کی پشت نہ رہے ،اور یہ جبھی حاصل ہو گا جب پورا انحراف کرے گا۔ کیونکہ اب اسے امامت والی اپنی امتیازی شان برقرار رکھنے کی تدبیر زیبا نہیں ۔ لہذا امام کو مقتدیوں کی طرف سے اپنی پیٹھ بالکل پھیر لینی چاہئے، اور چاہئے کہ قوم کا ایک فرد دکھے، اور ان کا احترام اور لحاظ پاس کرے ۔ طرز تواضع اختیار ،اور تفوق سے احتراز کرے۔ لہذا بعد سلام اس طرح رخ پھیر لے کہ اب کسی ایک بھی فرد کی طرف اس کی پیٹھ نہ ہو۔( منتخب فتوے ص36)
اور دوسرے مقام پر آپ فرماتے ہیں :
جب یہ معلوم ہو لیا کہ مطلوب شرع ایسا انحراف ہے جس کے سبب مقتدیوں کی طرف سے امام کی پشت پھری رہے تو ان نادان اماموں کا یہ ادھورا انحراف ( یعنی داہنی طرف کو ذرا ساترچھا ہو جانا خواہ کسی مقصد کے تحت ہو یا یوں ہی محض، دیکھا دیکھی کے اثر سے بلا مقصد ہو) شرعاً کیوں کر درست؟ اور ادائے مطلوب کے لئے کیسے کافی ہو سکتا ہے؟ ہرگز کافی نہیں ہو گا نہ ایسا کرنے کی کسی امام کو شرعاً چھوٹ ( رخصت ) مل سکتی ہے ،یہ ڈھرا ان غافلوں کا بے شک غلط ہے ،خلاف سنت ہے ،مطلوب شرع سے کوسوں دور ہے ،کیونکہ من چاہی روش ہے نہ کہ امتثال حکم شرع ۔ بھائی! ہر ادا ہر جگہ مناسب نہیں ہوتی ہے جہت مدینہ منورہ کا لحاظ ، اور اوقات میں (مثلاً درود شریف پڑھتے وقت یا سلام منظوم پڑھنے کی حالت میں ) مناسب ہوتا ہے، جس کے استحباب و استحسان کی تصریح کتابوں میں مذکور ومتقرر ہے۔ مگر امام کے لئے وقت انحراف یہ لحاظ و التزام روا نہیں، کیونکہ اس سے کار مسنون کی مخالفت لازم آرہی ہے، اور ادائے مطلوب سے چشم پوشی اور لا پرواہی بھی۔ تو! یہ غفلت ، یہ بے حسی ، یہ لا پرواہی اور بے اعتدالی اچھی نہیں۔ بہت مضرہے ،ایسے غافل اماموں کو پہلی فرصت میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔"(منتخب فتوے ص 38/39)
جب یہ معلوم ہو لیا کہ مطلوب شرع ایسا انحراف ہے جس کے سبب مقتدیوں کی طرف سے امام کی پشت پھری رہے تو ان نادان اماموں کا یہ ادھورا انحراف ( یعنی داہنی طرف کو ذرا ساترچھا ہو جانا خواہ کسی مقصد کے تحت ہو یا یوں ہی محض، دیکھا دیکھی کے اثر سے بلا مقصد ہو) شرعاً کیوں کر درست؟ اور ادائے مطلوب کے لئے کیسے کافی ہو سکتا ہے؟ ہرگز کافی نہیں ہو گا نہ ایسا کرنے کی کسی امام کو شرعاً چھوٹ ( رخصت ) مل سکتی ہے ،یہ ڈھرا ان غافلوں کا بے شک غلط ہے ،خلاف سنت ہے ،مطلوب شرع سے کوسوں دور ہے ،کیونکہ من چاہی روش ہے نہ کہ امتثال حکم شرع ۔ بھائی! ہر ادا ہر جگہ مناسب نہیں ہوتی ہے جہت مدینہ منورہ کا لحاظ ، اور اوقات میں (مثلاً درود شریف پڑھتے وقت یا سلام منظوم پڑھنے کی حالت میں ) مناسب ہوتا ہے، جس کے استحباب و استحسان کی تصریح کتابوں میں مذکور ومتقرر ہے۔ مگر امام کے لئے وقت انحراف یہ لحاظ و التزام روا نہیں، کیونکہ اس سے کار مسنون کی مخالفت لازم آرہی ہے، اور ادائے مطلوب سے چشم پوشی اور لا پرواہی بھی۔ تو! یہ غفلت ، یہ بے حسی ، یہ لا پرواہی اور بے اعتدالی اچھی نہیں۔ بہت مضرہے ،ایسے غافل اماموں کو پہلی فرصت میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔"(منتخب فتوے ص 38/39)
اور امام اہلسنت مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان انحراف امام کے متعلق فرماتے ہیں :

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح
مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi
بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح
عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بعض مقتدی کی جانب سے پشت کا انحراف ہوتا ہے، جبکہ بعض کی جانب سے نہیں ہوتا ،حالانکہ شریعتِ مطہرہ کو مطلوب مطلقاً انحراف بایں طور کہ کسی مقتدی کی طرف پشت نہ رہے, اس لئے ائمہ کو اس من مانی اور غلط روش سے باز آنا چاہیے چنانچہ محدث عصر شیخ بریلوی بقیۃ السلف عمدۃ الخلف علامہ مفتی شیخ صالح رضوی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں :
بھائیو! تمہیں معلوم ہو کہ اس حکم سے شرع کو اصل مطلوب یہ ہے کہ اب ( بعد سلام ) مقتدیوں کی طرف امام کی پشت نہ رہے ،اور یہ جبھی حاصل ہو گا جب پورا انحراف کرے گا۔ کیونکہ اب اسے امامت والی اپنی امتیازی شان برقرار رکھنے کی تدبیر زیبا نہیں ۔ لہذا امام کو مقتدیوں کی طرف سے اپنی پیٹھ بالکل پھیر لینی چاہئے، اور چاہئے کہ قوم کا ایک فرد دکھے، اور ان کا احترام اور لحاظ پاس کرے ۔ طرز تواضع اختیار ،اور تفوق سے احتراز کرے۔ لہذا بعد سلام اس طرح رخ پھیر لے کہ اب کسی ایک بھی فرد کی طرف اس کی پیٹھ نہ ہو۔( منتخب فتوے ص36)
بھائیو! تمہیں معلوم ہو کہ اس حکم سے شرع کو اصل مطلوب یہ ہے کہ اب ( بعد سلام ) مقتدیوں کی طرف امام کی پشت نہ رہے ،اور یہ جبھی حاصل ہو گا جب پورا انحراف کرے گا۔ کیونکہ اب اسے امامت والی اپنی امتیازی شان برقرار رکھنے کی تدبیر زیبا نہیں ۔ لہذا امام کو مقتدیوں کی طرف سے اپنی پیٹھ بالکل پھیر لینی چاہئے، اور چاہئے کہ قوم کا ایک فرد دکھے، اور ان کا احترام اور لحاظ پاس کرے ۔ طرز تواضع اختیار ،اور تفوق سے احتراز کرے۔ لہذا بعد سلام اس طرح رخ پھیر لے کہ اب کسی ایک بھی فرد کی طرف اس کی پیٹھ نہ ہو۔( منتخب فتوے ص36)
اور دوسرے مقام پر آپ فرماتے ہیں :
جب یہ معلوم ہو لیا کہ مطلوب شرع ایسا انحراف ہے جس کے سبب مقتدیوں کی طرف سے امام کی پشت پھری رہے تو ان نادان اماموں کا یہ ادھورا انحراف ( یعنی داہنی طرف کو ذرا ساترچھا ہو جانا خواہ کسی مقصد کے تحت ہو یا یوں ہی محض، دیکھا دیکھی کے اثر سے بلا مقصد ہو) شرعاً کیوں کر درست؟ اور ادائے مطلوب کے لئے کیسے کافی ہو سکتا ہے؟ ہرگز کافی نہیں ہو گا نہ ایسا کرنے کی کسی امام کو شرعاً چھوٹ ( رخصت ) مل سکتی ہے ،یہ ڈھرا ان غافلوں کا بے شک غلط ہے ،خلاف سنت ہے ،مطلوب شرع سے کوسوں دور ہے ،کیونکہ من چاہی روش ہے نہ کہ امتثال حکم شرع ۔ بھائی! ہر ادا ہر جگہ مناسب نہیں ہوتی ہے جہت مدینہ منورہ کا لحاظ ، اور اوقات میں (مثلاً درود شریف پڑھتے وقت یا سلام منظوم پڑھنے کی حالت میں ) مناسب ہوتا ہے، جس کے استحباب و استحسان کی تصریح کتابوں میں مذکور ومتقرر ہے۔ مگر امام کے لئے وقت انحراف یہ لحاظ و التزام روا نہیں، کیونکہ اس سے کار مسنون کی مخالفت لازم آرہی ہے، اور ادائے مطلوب سے چشم پوشی اور لا پرواہی بھی۔ تو! یہ غفلت ، یہ بے حسی ، یہ لا پرواہی اور بے اعتدالی اچھی نہیں۔ بہت مضرہے ،ایسے غافل اماموں کو پہلی فرصت میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔"(منتخب فتوے ص 38/39)
جب یہ معلوم ہو لیا کہ مطلوب شرع ایسا انحراف ہے جس کے سبب مقتدیوں کی طرف سے امام کی پشت پھری رہے تو ان نادان اماموں کا یہ ادھورا انحراف ( یعنی داہنی طرف کو ذرا ساترچھا ہو جانا خواہ کسی مقصد کے تحت ہو یا یوں ہی محض، دیکھا دیکھی کے اثر سے بلا مقصد ہو) شرعاً کیوں کر درست؟ اور ادائے مطلوب کے لئے کیسے کافی ہو سکتا ہے؟ ہرگز کافی نہیں ہو گا نہ ایسا کرنے کی کسی امام کو شرعاً چھوٹ ( رخصت ) مل سکتی ہے ،یہ ڈھرا ان غافلوں کا بے شک غلط ہے ،خلاف سنت ہے ،مطلوب شرع سے کوسوں دور ہے ،کیونکہ من چاہی روش ہے نہ کہ امتثال حکم شرع ۔ بھائی! ہر ادا ہر جگہ مناسب نہیں ہوتی ہے جہت مدینہ منورہ کا لحاظ ، اور اوقات میں (مثلاً درود شریف پڑھتے وقت یا سلام منظوم پڑھنے کی حالت میں ) مناسب ہوتا ہے، جس کے استحباب و استحسان کی تصریح کتابوں میں مذکور ومتقرر ہے۔ مگر امام کے لئے وقت انحراف یہ لحاظ و التزام روا نہیں، کیونکہ اس سے کار مسنون کی مخالفت لازم آرہی ہے، اور ادائے مطلوب سے چشم پوشی اور لا پرواہی بھی۔ تو! یہ غفلت ، یہ بے حسی ، یہ لا پرواہی اور بے اعتدالی اچھی نہیں۔ بہت مضرہے ،ایسے غافل اماموں کو پہلی فرصت میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔"(منتخب فتوے ص 38/39)
اور امام اہلسنت مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان انحراف امام کے متعلق فرماتے ہیں :
بعد سلام قبلہ رو بیٹھا رہنا ہر نماز میں امام کو مکروہ ہے۔ شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے ۔ مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں اگر چہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو تو مشرق کو یعنی جانب مقتدیان منہ نہ کرے ۔ بہر حال پھرنا شرع کو مطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رو بیٹھا رہا تو مبتلائے کراہت و تارک سنت ہوگا" (فتاوی رضویہ قدیم صفحہ 74 جلد ۳)
اور سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے انحراف امام کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرمایا ;
دعا قبلہ رو مانگنا آداب دعا سے ہے۔ مگرامام کو، اس کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ جنوبا یا شمالاً اور اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو شرقا تحویل کرے ۔تاکہ مسلمانوں کو پشت نہ ہو ,لان حرمۃ المسلم الواحد ارجح عند اللہ من حرمۃ الکعبۃ کما فی الغنیۃ فی شرح المنیۃ " ( فتاوی مصطفویہ ص 175)
دعا قبلہ رو مانگنا آداب دعا سے ہے۔ مگرامام کو، اس کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ جنوبا یا شمالاً اور اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو شرقا تحویل کرے ۔تاکہ مسلمانوں کو پشت نہ ہو ,لان حرمۃ المسلم الواحد ارجح عند اللہ من حرمۃ الکعبۃ کما فی الغنیۃ فی شرح المنیۃ " ( فتاوی مصطفویہ ص 175)
لہٰذا ائمۂ کرام کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ میں محض رائج معمول یا عوامی روش کو معیار نہ بنائیں، بلکہ نصوص شرعیہ اور اکابرِ اہلِ سنت کی تصریحات کی روشنی میں اپنی اصلاح کریں۔ عبادات میں معمولی سی بے احتیاطی بھی قابلِ التفات ہوتی ہے، اس لیے سنتِ مطہرہ کے ہر تقاضے کو پوری دیانت و اہتمام کے ساتھ ادا کرنا ہی امام کی حقیقی زینت اور اس کی دینی ذمہ داری ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ ائمۂ اہلِ سنت کو سنتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع، فقہائے امت کے ارشادات پر استقامت، اور ہر اس طرزِ عمل سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے جو خلافِ سنت یا خلافِ مطلوبِ شرع ہو۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف










