یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟
برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
📱8446974711📱
📱8446974711📱
جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب کھیتوں کی ہریالی زردی میں بدلنے لگتی ہے، جب کنویں اور تالاب خشک ہونے لگتے ہیں اور لوگ بارش کی ایک ایک بوند کے منتظر ہو جاتے ہیں تو دل میں ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا برسات کی کمی صرف موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، یا یہ ہمارے اعمال کی کمی کا بھی ایک پیغام ہے؟
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے اور ہر آزمائش میں اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اسی کے ذریعے زمین زندہ ہوتی ہے، کھیت لہلہاتے ہیں، درخت پھل دیتے ہیں اور انسان و حیوان کی زندگی کا نظام قائم رہتا ہے۔ جب یہ نعمت کم ہو جائے تو ایک سچا مسلمان صرف ظاہری اسباب ہی نہیں دیکھتا بلکہ اپنے کردار اور اعمال کی طرف بھی نظر دوڑاتا ہے۔
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے اور ہر آزمائش میں اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اسی کے ذریعے زمین زندہ ہوتی ہے، کھیت لہلہاتے ہیں، درخت پھل دیتے ہیں اور انسان و حیوان کی زندگی کا نظام قائم رہتا ہے۔ جب یہ نعمت کم ہو جائے تو ایک سچا مسلمان صرف ظاہری اسباب ہی نہیں دیکھتا بلکہ اپنے کردار اور اعمال کی طرف بھی نظر دوڑاتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں گناہوں کی کثرت، جھوٹ، دھوکہ دہی، سود خوری، ناانصافی، بے حیائی، والدین کی نافرمانی اور حقوق العباد کی پامالی عام ہوتی جا رہی ہے۔ زبانوں پر ذکرِ الٰہی کم اور دنیا کی باتیں زیادہ ہیں، مسجدوں سے تعلق کمزور اور گناہوں سے تعلق مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟
مضمون نگار: Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
📱8446974711📱
📱8446974711📱
جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب کھیتوں کی ہریالی زردی میں بدلنے لگتی ہے، جب کنویں اور تالاب خشک ہونے لگتے ہیں اور لوگ بارش کی ایک ایک بوند کے منتظر ہو جاتے ہیں تو دل میں ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا برسات کی کمی صرف موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، یا یہ ہمارے اعمال کی کمی کا بھی ایک پیغام ہے؟
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے اور ہر آزمائش میں اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اسی کے ذریعے زمین زندہ ہوتی ہے، کھیت لہلہاتے ہیں، درخت پھل دیتے ہیں اور انسان و حیوان کی زندگی کا نظام قائم رہتا ہے۔ جب یہ نعمت کم ہو جائے تو ایک سچا مسلمان صرف ظاہری اسباب ہی نہیں دیکھتا بلکہ اپنے کردار اور اعمال کی طرف بھی نظر دوڑاتا ہے۔
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے اور ہر آزمائش میں اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اسی کے ذریعے زمین زندہ ہوتی ہے، کھیت لہلہاتے ہیں، درخت پھل دیتے ہیں اور انسان و حیوان کی زندگی کا نظام قائم رہتا ہے۔ جب یہ نعمت کم ہو جائے تو ایک سچا مسلمان صرف ظاہری اسباب ہی نہیں دیکھتا بلکہ اپنے کردار اور اعمال کی طرف بھی نظر دوڑاتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں گناہوں کی کثرت، جھوٹ، دھوکہ دہی، سود خوری، ناانصافی، بے حیائی، والدین کی نافرمانی اور حقوق العباد کی پامالی عام ہوتی جا رہی ہے۔ زبانوں پر ذکرِ الٰہی کم اور دنیا کی باتیں زیادہ ہیں، مسجدوں سے تعلق کمزور اور گناہوں سے تعلق مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے ماحول میں اگر برکتیں کم ہونے لگیں تو ایک مومن کو رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں ہماری کوتاہیاں ہی اس کا سبب تو نہیں؟
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ وہ فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ بار بار موقع دیتا ہے کہ بندے سنبھل جائیں، توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔ بعض اوقات نعمتوں میں کمی اور مشکلات کا آنا بھی اسی تنبیہ کا ایک انداز ہوتا ہے تاکہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائے اور اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ وہ فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ بار بار موقع دیتا ہے کہ بندے سنبھل جائیں، توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔ بعض اوقات نعمتوں میں کمی اور مشکلات کا آنا بھی اسی تنبیہ کا ایک انداز ہوتا ہے تاکہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائے اور اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔
افسوس یہ ہے کہ ہم بارش کی کمی پر پریشان تو ہوتے ہیں مگر اپنی زندگیوں میں موجود گناہوں پر کم ہی فکر کرتے ہیں۔ ہم آسمان سے پانی مانگتے ہیں مگر اپنی آنکھوں سے توبہ کے آنسو بہانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ رحمت کے بادل برسیں مگر یہ نہیں چاہتے کہ اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر استغفار کو اپنا شعار بنائیں، نمازوں کی پابندی کریں، ظلم اور ناانصافی سے بچیں، حلال رزق اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں۔ جب معاشرہ نیکی، تقویٰ اور خوفِ خدا سے مزین ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی متوجہ ہوں گی اور برکتوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔
برسات کی کمی ہمیں صرف خشک زمین کا منظر نہیں دکھاتی بلکہ یہ ہمیں اپنے خشک ہوتے ہوئے روحانی حالات پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زمین پر رحمت کے بادل برسیں تو ہمیں اپنے دلوں میں توبہ، استغفار اور اطاعتِ الٰہی کی بارش برسانی ہوگی۔
برسات کی کمی ہمیں صرف خشک زمین کا منظر نہیں دکھاتی بلکہ یہ ہمیں اپنے خشک ہوتے ہوئے روحانی حالات پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زمین پر رحمت کے بادل برسیں تو ہمیں اپنے دلوں میں توبہ، استغفار اور اطاعتِ الٰہی کی بارش برسانی ہوگی۔
کیونکہ جب اعمال سنور جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی جوش میں آ جاتی ہیں، اور جب بندے اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں تو آسمان بھی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
razamarkazi@gmail.com
razamarkazi@gmail.com










