یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

احوال قوم وملت
امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے
امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
8446974711
8446974711
محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی اسلامی سال کا ایک نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کا یہ سفر انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے، حال کا جائزہ لے اور مستقبل کے لیے اپنی ترجیحات طے کرے۔ نئے اسلامی سال کی آمد صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک تازہ پیغام، ایک نئی دعوتِ فکر اور ایک نیا عہدِ عمل ہے۔
آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں فکری یلغار ہے، کہیں اخلاقی زوال، کہیں تعلیمی پسماندگی اور کہیں باہمی انتشار۔ دشمن کی سازشیں اپنی جگہ، مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی کمزوریوں کو خود پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے قرآن سے اپنا تعلق کمزور کیا، علم کی شمع کو مدھم ہونے دیا اور اتحاد کی نعمت کو اختلافات کی نذر کر دیا۔

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے
مضمون نگار: Mufti Md Raza Rifai Markazi
امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
8446974711
8446974711
محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی اسلامی سال کا ایک نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کا یہ سفر انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے، حال کا جائزہ لے اور مستقبل کے لیے اپنی ترجیحات طے کرے۔ نئے اسلامی سال کی آمد صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک تازہ پیغام، ایک نئی دعوتِ فکر اور ایک نیا عہدِ عمل ہے۔
آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں فکری یلغار ہے، کہیں اخلاقی زوال، کہیں تعلیمی پسماندگی اور کہیں باہمی انتشار۔ دشمن کی سازشیں اپنی جگہ، مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی کمزوریوں کو خود پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے قرآن سے اپنا تعلق کمزور کیا، علم کی شمع کو مدھم ہونے دیا اور اتحاد کی نعمت کو اختلافات کی نذر کر دیا۔
نئے اسلامی سال کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ امت اپنے اصل سرچشمے یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرے۔ جن قوموں نے اپنی بنیادوں کو مضبوط رکھا، تاریخ نے انہیں سربلند کیا، اور جنہوں نے اپنی شناخت کھو دی، وہ زمانے کی گرد میں گم ہو گئیں۔ مسلمانوں کی عزت، ان کی قوت اور ان کا وقار بھی اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب وہ اپنے دین کو محض رسم و رواج نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات سمجھ کر اختیار کریں۔
دوسرا بڑا تقاضا اتحاد و اتفاق ہے۔ افسوس کہ آج معمولی اختلافات بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ زبان، علاقے، رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم نے امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن ہمیں بھائی بھائی بن کر رہنے کا درس دیتا ہے۔ دشمن ہمیشہ منتشر قوموں کو نشانہ بناتا ہے اور متحد قوموں سے خوف کھاتا ہے۔
نئے سال کا تیسرا تقاضا علم کا فروغ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان علم، تحقیق اور تعلیم کے میدان میں آگے تھے تو دنیا ان کی رہنمائی کی محتاج تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کی جائے، تاکہ امت علمی میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔
چوتھا تقاضا کردار سازی ہے۔ ایک مسلمان کی اصل پہچان اس کا اخلاق، دیانت، سچائی اور امانت ہوتی ہے۔ اگر ہماری عبادتیں ہمارے کردار میں حسن پیدا نہ کریں تو ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ اچھے کردار والے افراد سے بنتا ہے۔
محرم الحرام کا آغاز ہمیں ہجرتِ نبوی ﷺ اور کربلا کے عظیم اسباق بھی یاد دلاتا ہے۔ ہجرت ہمیں قربانی، جدوجہد اور اللہ پر بھروسے کا درس دیتی ہے، جبکہ کربلا ہمیں حق پر استقامت، باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور دین کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہ دونوں واقعات امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ عزت اور کامیابی صرف اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے اسلامی سال کو محض مبارک بادوں اور رسمی پیغامات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ وہ نمازوں کی پابندی کرے گا، قرآن سے تعلق مضبوط کرے گا، والدین کا احترام کرے گا، اپنی اولاد کی دینی تربیت کرے گا اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے گا۔
اگر امتِ مسلمہ نئے سال کے ان تقاضوں کو سمجھ لے اور ان پر عمل پیرا ہو جائے تو یقیناً اس کے زوال کی رات طویل نہیں رہے گی۔ پھر وہی امت جو کبھی دنیا کی رہنما تھی، دوبارہ عزت، وقار اور سربلندی کی منزلوں کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ وقت بدلنے کا انتظار نہ کرو، خود کو بدل لو۔ حالات کی شکایت کرنے کے بجائے اصلاحِ احوال کی کوشش کرو۔ کیونکہ جب ایک فرد بدلتا ہے تو خاندان بدلتا ہے، خاندان بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم وقت کی قدر کریں۔ جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ جو آج ہمارے پاس ہے، کل شاید نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دنوں کو نیکی، علم، خدمتِ خلق اور عبادت سے آباد کریں۔ نمازوں کی پابندی، قرآنِ کریم سے تعلق، والدین کی خدمت، رشتوں کا احترام اور اخلاقِ حسنہ وہ سرمایہ ہیں جو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔
محرم الحرام کا آغاز ہمیں کربلا کے عظیم پیغام کی یاد بھی دلاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، اصولوں کی حفاظت کے لیے مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور دین کی سربلندی کے لیے کبھی کبھی اپنی خواہشات کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ جذبۂ عمل ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑا اور حق کو ہمیشہ کے لیے سربلند کر دیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے اسلامی سال کو محض کیلنڈر کی تبدیلی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی زندگی میں ایک حقیقی تبدیلی کا آغاز بنائیں۔ اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اپنی اصلاح کا عزم کریں اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہمارا ہر نیا سال ہمیں اللہ کے قریب اور گناہوں سے دور کر دے تو یہی اس سال کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
آئیے! نئے اسلامی سال کے آغاز پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم صرف خواب نہیں دیکھیں گے بلکہ عمل کریں گے، صرف خواہشیں نہیں پالیں گے بلکہ محنت کریں گے، صرف دعوے نہیں کریں گے بلکہ اپنے کردار سے اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کریں گے۔ کیونکہ قوموں کی ترقی کا راز بھی عمل میں ہے اور فرد کی کامیابی کا راز بھی عمل ہی میں پوشیدہ ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے: وقت کم ہے، سفر طویل ہے اور منزل عظیم ہے۔ اٹھو، سنبھلو اور اپنے رب کی رضا کے راستے پر چل پڑو، یہی نئے اسلامی سال کا حقیقی پیغامِ عمل ہے۔
razamarkazi@gmail.com
razamarkazi@gmail.com










