یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

احوال قوم وملت
اشک فشاں گفت و شنید
اشک فشاں گفت و شنید
آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے گفت و شنید ہوئی
انداز تکلم ایسا کہ جب بھی بات کریں تو لگتا ہے کہ برسوں بعد آج کسی اپنے سے ملاقات ہوئی ہے جن سے حال دل، دل کھول کے کہا جائے آج درد دل، درد مند کو سنایا جائے ، آج غمگین کا غم غمخوار کو بتایا جائے آج وہ کہا جائے جو برسوں تک کسی سے نہ کہا جا سکا
ان کی محبتیں عنایتیں شفقتیں طلباء علوم دینیہ پر یوں ہی عام ہے اس میں مجھ ناچیز کی کوئی تخصیص نہیں
اصاغر نوازی کا ملکہ شاید و باید اس قدر کسی میں ہوتا ہے جیسا اس مرد درویش میں ہے
انداز تکلم ایسا کہ جب بھی بات کریں تو لگتا ہے کہ برسوں بعد آج کسی اپنے سے ملاقات ہوئی ہے جن سے حال دل، دل کھول کے کہا جائے آج درد دل، درد مند کو سنایا جائے ، آج غمگین کا غم غمخوار کو بتایا جائے آج وہ کہا جائے جو برسوں تک کسی سے نہ کہا جا سکا
ان کی محبتیں عنایتیں شفقتیں طلباء علوم دینیہ پر یوں ہی عام ہے اس میں مجھ ناچیز کی کوئی تخصیص نہیں
اصاغر نوازی کا ملکہ شاید و باید اس قدر کسی میں ہوتا ہے جیسا اس مرد درویش میں ہے
فرماتے ہیں:
لوگ گاؤں چھوڑ کر شہر جاتے ہیں میں شہر چھوڑ کر گاؤں آیا ہوں
بس اللہ پر بھروسہ کیے ہوئے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں
فرماتے ہیں:
میرا بس ایک آخری خواب ہے دعا کیجیے کہ شرمندۂ تعبیر ہو جائے
لوگ گاؤں چھوڑ کر شہر جاتے ہیں میں شہر چھوڑ کر گاؤں آیا ہوں
بس اللہ پر بھروسہ کیے ہوئے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں
فرماتے ہیں:
میرا بس ایک آخری خواب ہے دعا کیجیے کہ شرمندۂ تعبیر ہو جائے
پتہ ہے وہ خواب کونسا ہے؟

اشک فشاں گفت و شنید
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
اشک فشاں گفت و شنید
آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے گفت و شنید ہوئی
انداز تکلم ایسا کہ جب بھی بات کریں تو لگتا ہے کہ برسوں بعد آج کسی اپنے سے ملاقات ہوئی ہے جن سے حال دل، دل کھول کے کہا جائے آج درد دل، درد مند کو سنایا جائے ، آج غمگین کا غم غمخوار کو بتایا جائے آج وہ کہا جائے جو برسوں تک کسی سے نہ کہا جا سکا
ان کی محبتیں عنایتیں شفقتیں طلباء علوم دینیہ پر یوں ہی عام ہے اس میں مجھ ناچیز کی کوئی تخصیص نہیں
اصاغر نوازی کا ملکہ شاید و باید اس قدر کسی میں ہوتا ہے جیسا اس مرد درویش میں ہے
انداز تکلم ایسا کہ جب بھی بات کریں تو لگتا ہے کہ برسوں بعد آج کسی اپنے سے ملاقات ہوئی ہے جن سے حال دل، دل کھول کے کہا جائے آج درد دل، درد مند کو سنایا جائے ، آج غمگین کا غم غمخوار کو بتایا جائے آج وہ کہا جائے جو برسوں تک کسی سے نہ کہا جا سکا
ان کی محبتیں عنایتیں شفقتیں طلباء علوم دینیہ پر یوں ہی عام ہے اس میں مجھ ناچیز کی کوئی تخصیص نہیں
اصاغر نوازی کا ملکہ شاید و باید اس قدر کسی میں ہوتا ہے جیسا اس مرد درویش میں ہے
فرماتے ہیں:
لوگ گاؤں چھوڑ کر شہر جاتے ہیں میں شہر چھوڑ کر گاؤں آیا ہوں
بس اللہ پر بھروسہ کیے ہوئے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں
فرماتے ہیں:
میرا بس ایک آخری خواب ہے دعا کیجیے کہ شرمندۂ تعبیر ہو جائے
لوگ گاؤں چھوڑ کر شہر جاتے ہیں میں شہر چھوڑ کر گاؤں آیا ہوں
بس اللہ پر بھروسہ کیے ہوئے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں
فرماتے ہیں:
میرا بس ایک آخری خواب ہے دعا کیجیے کہ شرمندۂ تعبیر ہو جائے
پتہ ہے وہ خواب کونسا ہے؟
وہ ہے امام احمد رضا یونیورسٹی کی تعمیر جہاں سیمانچل بیرون سیمانچل کے طلبا زمانے سے ہم آہنگ تعلیم حاصل کر سکیں گے بیس ایکڑ زمین خریدی جا چکی ہے بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے
ایک زمانے سے ہمارے علما طلبا کو شکایت ہے کہ بہار میں خاص کر سیمانچل میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں زمانے سے ہم آہنگ اعلی تعلیم دی جاتی ہو لیکن جب وقت آیا ایک مرد درویش نے اس عظیم کارنامے کو انجام دینے کے لیے قدم آگے بڑھایا
تو کتنے خیر خواہان طلبا ہیں جنھوں نے اس عظیم کام میں حصہ لینے کے لیے پیش رفتی کی ؟
لیکن وہ مرد درویش ہیں کہ ایسے عالم میں بھی کشن گنج کے صحرا کو گلستان بنانے کے لیے شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں
بلکہ یوں کہیں:
تو کتنے خیر خواہان طلبا ہیں جنھوں نے اس عظیم کام میں حصہ لینے کے لیے پیش رفتی کی ؟
لیکن وہ مرد درویش ہیں کہ ایسے عالم میں بھی کشن گنج کے صحرا کو گلستان بنانے کے لیے شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں
بلکہ یوں کہیں:
بُوئے گُل لے گئی بیرونِ چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھُول ہیں غمّازِ چمن!
عہدِ گُل ختم ہوا، ٹُوٹ گیا سازِ چمن
اُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پردازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھُول ہیں غمّازِ چمن!
عہدِ گُل ختم ہوا، ٹُوٹ گیا سازِ چمن
اُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پردازِ چمن
ایک بُلبل ہے کہ ہے محوِ ترنّم اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک
فرماتے ہیں:
دور حاضر کے فارغین میں بس رکھ رکھاؤ سج سجاؤ کپڑے جبے دیکھ دکھاؤ رہ گیا ہے اگر درس نظامی میں پڑھانے کے لیے کوئی قابل استاذ تلاش کریں ملتے نہیں ہیں الا ماشاءاللہ دنیائے درس نظامی کے فارغین میں قحط پڑا ہوا ہے
دور حاضر کے فارغین میں بس رکھ رکھاؤ سج سجاؤ کپڑے جبے دیکھ دکھاؤ رہ گیا ہے اگر درس نظامی میں پڑھانے کے لیے کوئی قابل استاذ تلاش کریں ملتے نہیں ہیں الا ماشاءاللہ دنیائے درس نظامی کے فارغین میں قحط پڑا ہوا ہے
میں سمجھتا ہوں درس نظامی میں پڑھانے کے لیے نہ وہ جفا کش اساتذہ رہے اور نہ تلامذہ رہے جن کی صلاحیتوں کے علم پہاڑوں کی چوٹیوں پر لہراتے تھے اور اگر کچھ ہیں تو ان کے پاس مصروفیت اتنی کہ وہ مکمل وضاحت کے ساتھ پڑھا نہیں سکتے ورنہ دوسرے کام انجام پانے سے محروم رہ جائیں گے
آگے پڑھوگے، پیچھے پڑھ آئے ہو
اس دور میں جب کہ طلبا پڑھنے کا شوق کم رکھتے ہیں اگر اس میں بھی کوئی طالب علم قیل و قال ، چوں، چرا، کرتا ہے تو غنیمت ہے کہ اس میں قیل و قال کے جذبات اب بھی باقی ہیں لیکن یہ بھی کچھ دنوں کے بعد ماند پڑ جاتے ہیں
وجہ کیا ہے؟
اعدادیہ سے رابعہ تک کے طلبا جب کلاس میں پڑھتے ہیں اور دوران درس جب وہ اساتذہ سے سوال کرتے ہیں
وجہ کیا ہے؟
اعدادیہ سے رابعہ تک کے طلبا جب کلاس میں پڑھتے ہیں اور دوران درس جب وہ اساتذہ سے سوال کرتے ہیں
حضرت یہاں ایسا کیوں ؟
اس کی وضاحت کیا ہے؟
اس کی وضاحت کیا ہے؟
تو جواب ملتا ہے گھبراؤ نہیں آگے پڑھ لوگے یہ سب بیان آگے بھی آئیں گے جہاں آپ کو تفصیلا وضاحت کے ساتھ پڑھائے جائیں گے ابھی بس اتنا سمجھ لیں جو میں نے کہا اور اسے یاد رکھیں
پھر جب وہی طلبا آگے کی کلاس میں جاتے ہیں
یعنی خامسہ سے ثامنہ تک کے طلبا جب کلاس میں دوران درس اساتذہ سے پوچھتے ہیں
یعنی خامسہ سے ثامنہ تک کے طلبا جب کلاس میں دوران درس اساتذہ سے پوچھتے ہیں
حضرت اس کا مطلب کیا ہے؟
یہاں ایسا کیوں ہے ایسا کیوں نہیں؟
یہاں ایسا کیوں ہے ایسا کیوں نہیں؟
حضرت تھوڑی وضاحت فرما دیں آج کا سبق سمجھ میں نہیں آیا
جواب ملتا ہے
یہ سب آپ پیچھے پڑھ آئے ہو یہاں اتنا وقت نہیں کہ آپ کو تمام باتیں کھول کھول کے بتائی جائیں جس کو سمجھ میں نہیں آئے وہ پیچھے پڑھی ہوئی کتابوں کو اٹھا کر ایک بار پڑھ لے بات سمجھ میں آجائے گی
جواب ملتا ہے
یہ سب آپ پیچھے پڑھ آئے ہو یہاں اتنا وقت نہیں کہ آپ کو تمام باتیں کھول کھول کے بتائی جائیں جس کو سمجھ میں نہیں آئے وہ پیچھے پڑھی ہوئی کتابوں کو اٹھا کر ایک بار پڑھ لے بات سمجھ میں آجائے گی
اب دیکھیے بے چارے طلبا یہیں آ کر پھس جاتے ہیں اور کچھ کہہ بھی نہیں پاتے ہیں
اعدادیہ سے رابعہ تک پوچھا تو پوچھنے پر جواب ملا آگے پڑھ لوگے
اور جب خامسہ سے ثامنہ تک پوچھا تو پوچھنے پر جواب ملا پیچھے پڑھ آئے ہو
تو بتائیے اب طلبا کیا کرے ؟
کتاب کیسے سمجھے ؟
کیا ایسے طلبا مدرس بن سکتے ہیں؟
کیا اس میں فقط طلبا ہی قصوروار ہیں؟
اعدادیہ سے رابعہ تک پوچھا تو پوچھنے پر جواب ملا آگے پڑھ لوگے
اور جب خامسہ سے ثامنہ تک پوچھا تو پوچھنے پر جواب ملا پیچھے پڑھ آئے ہو
تو بتائیے اب طلبا کیا کرے ؟
کتاب کیسے سمجھے ؟
کیا ایسے طلبا مدرس بن سکتے ہیں؟
کیا اس میں فقط طلبا ہی قصوروار ہیں؟
خدارا خدارا اگر آپ مدرس ہیں تو طلبا کی زندگی کی اہمیت کو سمجھیں ان کے جذبات کی قدر کریں ان کو حتی الامکان پڑھ کر سمجھانے کی کوشش کریں یوں ہی ٹال مٹول نہ کریں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اور اگر آپ طلب علم ہیں تو ایسے سوالات کے جوابات خود ڈھونڈنے کی کوشش کریں اس پر بھی نہ ملیں تو دوسرے سے پوچھیں تیسرے سے پوچھیں ورنہ یاد رہے کہ نہ آگے پڑھ پاؤگے نہ پیچھے پڑھے رہوگے نتیجہ صفر ہوگا
آگے پڑھوگے+ پیچھے پڑھ آئے ہو= نو سال برباد
دور حاضر کے اکثر مدارس اسلامیہ کا یہی حال ہے اللہ کرم فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دور حاضر کے اکثر مدارس اسلامیہ کا یہی حال ہے اللہ کرم فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم










