یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

فقہ وفتاویٰ
استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
۲۰۲۳ء ماہ شوال المکرم میں بعض مجیبی حضرات راقم الحروف کے پاس آئے تو تکفیر دیابنہ پر بحث چھڑ گئی تھوڑی دیر بعد دوران بحث انھوں نے کہا کہ جس طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ دیابنہ کافر و مرتد نہیں ہیں یہی عقیدہ تو زید جو کہ ایک متبحر عالم دین ہے ان کا بھی ہے میں نے کہا یہ آپ حضرات کو کیسے پتہ کہ ان کا عقیدہ یہی ہے تو انھوں نے کہا یہ سب جانتے ہیں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے آپ نہیں جانتے ہیں تو ان کا گھر یہیں ۔۔۔۔۔۔قریب میں ہے جائیے اور جاکر ان سے خود ہی پوچھ لیجیے اسی غرض سے راقم الحروف نے اپنے ساتھ محمد عامر محمد فیروز صاحب کو لے کر زید سے ملاقات کرنے ۲۸ اپریل ۲۰۲۳ء کو ان کے گھر گیا زید سے جو گفت و شنید ہوئی اسے راقم الحروف ہو بہو نقل کرکے باصر نواز کرتا ہے
واضح رہے اس تحریر میں جہاں قال ز لکھا ہے اس سے مراد زید ہے اور جہاں قال ب لکھا ہے اس سے مراد فقیر راقم الحروف بکر ہے اور جہاں قال غ لکھا ہے اس سے مراد زید کے ارد گرد بیٹھے ہوئے دوسرے حضرات ہیں

استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
۲۰۲۳ء ماہ شوال المکرم میں بعض مجیبی حضرات راقم الحروف کے پاس آئے تو تکفیر دیابنہ پر بحث چھڑ گئی تھوڑی دیر بعد دوران بحث انھوں نے کہا کہ جس طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ دیابنہ کافر و مرتد نہیں ہیں یہی عقیدہ تو زید جو کہ ایک متبحر عالم دین ہے ان کا بھی ہے میں نے کہا یہ آپ حضرات کو کیسے پتہ کہ ان کا عقیدہ یہی ہے تو انھوں نے کہا یہ سب جانتے ہیں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے آپ نہیں جانتے ہیں تو ان کا گھر یہیں ۔۔۔۔۔۔قریب میں ہے جائیے اور جاکر ان سے خود ہی پوچھ لیجیے اسی غرض سے راقم الحروف نے اپنے ساتھ محمد عامر محمد فیروز صاحب کو لے کر زید سے ملاقات کرنے ۲۸ اپریل ۲۰۲۳ء کو ان کے گھر گیا زید سے جو گفت و شنید ہوئی اسے راقم الحروف ہو بہو نقل کرکے باصر نواز کرتا ہے
واضح رہے اس تحریر میں جہاں قال ز لکھا ہے اس سے مراد زید ہے اور جہاں قال ب لکھا ہے اس سے مراد فقیر راقم الحروف بکر ہے اور جہاں قال غ لکھا ہے اس سے مراد زید کے ارد گرد بیٹھے ہوئے دوسرے حضرات ہیں
زید سے گفت و شنید
قال ز
علم کلام علم عقائد کا فن جو ہے وہ بہت اہم ہے اشرف العلوم ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے اعلی حضرت نے کہیں بھی یہ بات اعلی حضرت کے کسی فتوی میں یہ لکھا ہے کہ کو حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرے وہ کافر ہے کہیں بھی ان کے فتوے میں ہے بلکہ یہ فرمایا کہ اگر حسام الحرمین کی تصدیق نہیں کرتا ہے تو وہ ضرور منھم ہے لوگ منھم کو کافر سمجھ رہے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں ہے منھم یہ کفر کو متعین نہیں کرتا ہے جیسے کہ قرآن میں آیا ہے وَمَن یَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ جو کفار و مشرکین کے ساتھ موالات کرے گا تو وہ ضرور منھم ہے تو اس سے موالات کرنے والے پر کفر کا فتویٰ ہے بلکہ وہ کہا گیا گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں ان پر کفر ثابت نہیں منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا ہے اعلی حضرت سے مختلف فتاوی میں ہم نے دیکھا جہاں بھی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرنے والے کی بات آئی تو انھوں نے سیدھے کہہ دیا کہ منھم ہے ضرور منھم ہے یہ کھلم کھلا نہیں فرمایا کہ وہ ضرور کافر ہے اور آج کل لوگ اگر کوئی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرے تو کافر کہہ دیتے ہیں یہی دیکھائیے کہ اعلی حضرت نے کہیں بھی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرنے والوں پر کھلم کھلا کافر کہا ہے کہا کہ ضرور منھم ہے اور لوگ ضرور منھم کا مطلب یہ بھئی ایک جگہ اگر آپ منھم لکھتے ہیں تو دس جگہ پھر آپ منھم کیوں لکھ رہے ہیں کہیں پر تو کافر لکھتے آپ، تو ضرور منھم ہے اور ضرور کافر ہے دونوں میں فرق ہے سمجھے کہ نہیں مگر وہ کھلم کھلا کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا منھم کا لفظ استعمال کیا ایسے ہی یہ ہے کہ من تشبہ بقوم فھو منھم من کثر سواد قوم فھو منھم اس سے یہ نہیں لازم آئے گا کہ کسی مشرک کے تہوار میں جا کر شرکت کرنے والا ان کی جماعت کو بڑھانے والا ضرور منھم ہے اس کا مطلب وہ کافر ہے ؟
قال غ
عملی تشابہ میں آئے گا
قال ز
نہیں: منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا
قال ب
تو حضرت آپ کے بارے میں
قال ز
آں
قال ب
عملی تشابہ میں آئے گا
قال ز
نہیں: منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا
قال ب
تو حضرت آپ کے بارے میں
قال ز
آں
قال ب
تو آپ کے بارے میں یہ حضرات مغالطہ میں ڈالتے ہیں یہ پھلواری والے جو آپ کے بارے میں ہمیں مغالطے میں ڈالتے ہیں تو ان کو پھر کیا جواب دیا جائے گا
قال ز
پھلواری والے کہاں ہم سے کوئی بات چیت کیے ہیں ہم سے تو کوئی بات چیت نہیں
قال ب
وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہم اس کے قائل نہیں ہیں یعنی تکفیر نہیں کرتے ہیں تو حضرت بھی نہیں کرتے ہیں تکفیر
قال ز
نہیں نہیں: وہ نہیں کرتے ہیں یا کرتے ہیں تو اگر وہ نہیں کرتے ہیں تو کیا کافر کہہ دیں گے ان کو
قال ب
اور یہی [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
قال ز
پھلواری والے کہاں ہم سے کوئی بات چیت کیے ہیں ہم سے تو کوئی بات چیت نہیں
قال ب
وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہم اس کے قائل نہیں ہیں یعنی تکفیر نہیں کرتے ہیں تو حضرت بھی نہیں کرتے ہیں تکفیر
قال ز
نہیں نہیں: وہ نہیں کرتے ہیں یا کرتے ہیں تو اگر وہ نہیں کرتے ہیں تو کیا کافر کہہ دیں گے ان کو
قال ب
اور یہی [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
نہیں: پھلواری والے اگر وہ نہیں کہتے ہیں تو آپ زیادہ سے زیادہ منھم کہہ سکتے ہیں لیکن یہ تو نہیں کہ وہ کافر ہیں آپ جو کفر کا فتوی لگا رہے ہیں پھلواری والے پر پہلے اس کو ثابت کیجیے اسی بنا پر نا کہ حسام الحرمین کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں یہی تو بات میں کہہ رہا ہوں کہ حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرنے والا بالکل کافر ہوتا ہے یا ان کے اوپر منھم ہی کے دائرے میں حکم لگتا ہے
قال ب
اطلاع شرعی کے با وجود
قال ز
آں
قال ب
اطلاع شرعی کے با وجود
قال ز
آں
قال ب
اطلاع شرعی کے باوجود اگر کوئی کف لسان کرے
قال ز
اطلاع شرعی کیسے معلوم کہ ان کو اطلاع شرعی ہوئی کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
کیونکہ انھوں نے جو کتابیں لکھی ہیں پھلواری والے جو کتابیں لکھی ہیں [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
نہیں نہیں: اطلاع شرعی کس ہو کہتے ہیں کتاب لکھی ہے یا نہیں لکھی ہے کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
ان تک وہ بات وہ کیا کہتے ہیں کہ جیسے [پھر مجھے روک دیا گیا]
قال ز
قال ز
اطلاع شرعی کیسے معلوم کہ ان کو اطلاع شرعی ہوئی کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
کیونکہ انھوں نے جو کتابیں لکھی ہیں پھلواری والے جو کتابیں لکھی ہیں [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
نہیں نہیں: اطلاع شرعی کس ہو کہتے ہیں کتاب لکھی ہے یا نہیں لکھی ہے کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
ان تک وہ بات وہ کیا کہتے ہیں کہ جیسے [پھر مجھے روک دیا گیا]
قال ز
نہیں نہیں: اطلاع شرعی کس کو کہتے ہیں اس کو وضح کیجیے اطلاع شرعی بھی ہوتی ہے اطلاع عرفی بھی ہوتی ہے یقین شرعی بھی ہوتی ہے یین عرفی بھی ہوتا ہے کہنا یہ ہے کہ یقین شرعی کس کو کہتے ہیں یقین عرفی کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی کس کو کہیں گے اطلاع عرفی کس کو کہیں گے اطلاع یہ عرفی ہے کہ اطلاع شرعی اطلاع شرعی کے اوپر آپ کی دلیل کیا ہے کس کو آپ اطلاع شرعی کہتے ہیں
یہ سب بلا وجہ کی بات ہے
سوال یہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ پھلواری والوں پر آپ پر کفر کا فتوی کس بنا پر دیتے ہیں اگر اس بنا پر دیتے ہیں کہ حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہیں کرتے ہیں تو کیا اعلی حضرت نے حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہ کرنے پر کہیں بھی کھلم کھلا کافر کا لفظ استعمال کیا ہے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ضرور منھم ہیں ضرور منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا ہے
قال ب
تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر جو ہے
قال ز
ویسے جیسے من شک من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر ہے اب کوئی قصدا جان بوجھ نماز نہ پڑھے تو کافر ہو گیا وہ
قال ب
نہیں
قال ز
من شک سے مراد یہی ہوتا ہے کہ جو کوئی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جانے کے بعد شک کرے گا تو کافر ہوگا وہ اگر اطلاع شرعی یقینی کی منزل میں نہیں پہنچا اور اس لیے شک ہے اس کو تو کیا کافر ہو جائے گا اور اطلاع شرعی یقینی کس کو کہتے ہیں اب اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اطلاع شرعی یقینی کا مطلب یہ ہے کہ قول صراحتا ضروریات دین کے انکار پر مشتمل ہو ایک
دوسرا یہ ہے کہ قائل متعین ہو
تیسرا یہ ہے کہ قائل نے ہوش و حواس میں وہ بات لکھی یا کہی ہو
ان تینوں احتمال فی الکلام احتمال فی التکلم احتمال فی المتکلم ان تینوں میں سے کسی میں بھی ادنی اگر احتمال ہو جائے گا تو اب وہ اطلاع شرعی یقینی نہیں ہے
سوال یہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ پھلواری والوں پر آپ پر کفر کا فتوی کس بنا پر دیتے ہیں اگر اس بنا پر دیتے ہیں کہ حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہیں کرتے ہیں تو کیا اعلی حضرت نے حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہ کرنے پر کہیں بھی کھلم کھلا کافر کا لفظ استعمال کیا ہے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ضرور منھم ہیں ضرور منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا ہے
قال ب
تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر جو ہے
قال ز
ویسے جیسے من شک من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر ہے اب کوئی قصدا جان بوجھ نماز نہ پڑھے تو کافر ہو گیا وہ
قال ب
نہیں
قال ز
من شک سے مراد یہی ہوتا ہے کہ جو کوئی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جانے کے بعد شک کرے گا تو کافر ہوگا وہ اگر اطلاع شرعی یقینی کی منزل میں نہیں پہنچا اور اس لیے شک ہے اس کو تو کیا کافر ہو جائے گا اور اطلاع شرعی یقینی کس کو کہتے ہیں اب اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اطلاع شرعی یقینی کا مطلب یہ ہے کہ قول صراحتا ضروریات دین کے انکار پر مشتمل ہو ایک
دوسرا یہ ہے کہ قائل متعین ہو
تیسرا یہ ہے کہ قائل نے ہوش و حواس میں وہ بات لکھی یا کہی ہو
ان تینوں احتمال فی الکلام احتمال فی التکلم احتمال فی المتکلم ان تینوں میں سے کسی میں بھی ادنی اگر احتمال ہو جائے گا تو اب وہ اطلاع شرعی یقینی نہیں ہے
احتمال فی الکلام بھی نہ ہو احتمال فی المتکلم بھی نہ ہو احتمال فی التکلم بھی نہ ہو ان تینوں چیزوں پر جب ہم کو یقین حاصل ہو جائے گا اب وہ اطلاع شرعی یقینی ہے تب ان کے اوپر اب فقد کفر کا حکم آئے گا اور کسی کو اگر یہ منزل حاصل نہیں ہوئی تو ابھی وہ منھم ہی میں ہوگا لیکن وہ کھلم کھلا کافر نہیں کہلائے گا سمجھے کہ نہیں
آپ کہاں رہتے ہیں
قال ب
بائسی میں
قال ز
بائسی میں کونسی جگہ
قال ب
پانیصدرہ
قال ز
پانیصدرہ: پانیصدرہ میں تو پھلواری شریف ہی کے لوگ ہیں
قال ز
تو گھر وہیں ہوا پانیصدرہ میں
قال ب
جی پانیصدرہ میں
قال ز
قال ب
بائسی میں
قال ز
بائسی میں کونسی جگہ
قال ب
پانیصدرہ
قال ز
پانیصدرہ: پانیصدرہ میں تو پھلواری شریف ہی کے لوگ ہیں
قال ز
تو گھر وہیں ہوا پانیصدرہ میں
قال ب
جی پانیصدرہ میں
قال ز
میرا یہ کہنا ہے کہ اطلاع شرعی یقینی حاصل ہونے کے بعد شک کرے گا تو کافر ہوگا اگر کسی کو یہ اطلاع نہیں ہے تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگے گا خلاصہ یہی ہے سمجھے کہ نہیں
قال ب
جی
قال ز
اور اس کی تصدیق یہ ہوتی ہے کہ مبارک پور میں جو الجامعۃ الاشرفیہ کے سنگ بنیاد کی کانفرنس تھی علامہ مشتاق نظامی صاحب سے بات ہوئی کہ کانفرنس تو ہو رہی ہے اور بہت سے علماء اہل سنت جمع ہوں گے میرے اس مسئلے کا کہ اسمعیل کی تکفیر اعلی حضرت کیوں نہیں کی اس پر گفتگو کر لیجیے ان علما کرام کے سامنے ہمیں لے جائیے میں پہنچا وہاں نظامی صاحب پہنچے ہوئے تھے وہاں پر میں نے اسے یاد دلایا کہ آپ نے کہا تھا علما کی جماعت میں میں لکھ کے لے گیا تھا اور لکھنے کے بعد ان کے سامنے رکھا اکابر علما مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب بھی مفتی رضوان الرحمن صاحب مفتی غلام محمد صاحب اشرفیہ کے اسٹاف کے علاوہ قاری شمس الدین صاحب [۔۔۔۔08:15۔۔۔۔۔یہاں کوئی ایک لفظ ہے جو سمجھ نہیں آیا] بہت سارے لوگ تھے کچھ دیر تک تو سکوت کا ماحول رہا خاموشی کا اس کے بعد مفتی رضوان الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ نے بہت ساری باتیں درج کی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عبارتوں کے سیاق وسباق کو بھی دیکھ لیا جائے برائے تحقیق جو معنی آپ لے رہے ہیں کوئی ضروری نہیں جو آپ لے رہے ہیں وہی صحیح ہو اس لیے سیاق و سباق دیکھنے کے لیے ضرورت اس کی ہے کہ اس کی نقل آپ تیار کر کے ہم سب کو دے دیجیے پھر ہم لوگ اس کو دیکھ کر تب آپ کو جواب دیں گے
قال ب
جی
قال ز
اور اس کی تصدیق یہ ہوتی ہے کہ مبارک پور میں جو الجامعۃ الاشرفیہ کے سنگ بنیاد کی کانفرنس تھی علامہ مشتاق نظامی صاحب سے بات ہوئی کہ کانفرنس تو ہو رہی ہے اور بہت سے علماء اہل سنت جمع ہوں گے میرے اس مسئلے کا کہ اسمعیل کی تکفیر اعلی حضرت کیوں نہیں کی اس پر گفتگو کر لیجیے ان علما کرام کے سامنے ہمیں لے جائیے میں پہنچا وہاں نظامی صاحب پہنچے ہوئے تھے وہاں پر میں نے اسے یاد دلایا کہ آپ نے کہا تھا علما کی جماعت میں میں لکھ کے لے گیا تھا اور لکھنے کے بعد ان کے سامنے رکھا اکابر علما مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب بھی مفتی رضوان الرحمن صاحب مفتی غلام محمد صاحب اشرفیہ کے اسٹاف کے علاوہ قاری شمس الدین صاحب [۔۔۔۔08:15۔۔۔۔۔یہاں کوئی ایک لفظ ہے جو سمجھ نہیں آیا] بہت سارے لوگ تھے کچھ دیر تک تو سکوت کا ماحول رہا خاموشی کا اس کے بعد مفتی رضوان الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ نے بہت ساری باتیں درج کی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عبارتوں کے سیاق وسباق کو بھی دیکھ لیا جائے برائے تحقیق جو معنی آپ لے رہے ہیں کوئی ضروری نہیں جو آپ لے رہے ہیں وہی صحیح ہو اس لیے سیاق و سباق دیکھنے کے لیے ضرورت اس کی ہے کہ اس کی نقل آپ تیار کر کے ہم سب کو دے دیجیے پھر ہم لوگ اس کو دیکھ کر تب آپ کو جواب دیں گے
قال ز سمجھے
قال ب جی
قال ز
اس وقت تو یہ فوٹو اسٹیٹ کا دور تھا نہیں کاربن منگوایا کاربن پہ فرمایا مجھ سے کہا بھئی اس کی نقل کر کے سب کے حوالے کر دیا جائے ایک سال گزر گیا کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا پتہ ایڈریس وغیرہ سب دیا تھا پن کوڈ کے ساتھ دیا تھا اتفاق ہم چلے گئے ممبئی تو مجاہد ملت وہاں پہنچے ہوئے تھے مجاہد ملت نے ہم کو دیکھا تو ہم کو اشارے سے ہم دور میں تھے ہم کو اشارے سے بلایا بھئی یہ آپ مغرب کی نماز زکریا مسجد میں آ کے پڑھیے آپ سے کچھ بات کرنی ہے میں نے کہا ٹھیک میں پہنچ گیا زکریا مسجد پہنچنے کے بعد مغرب کے بعد امام صاحب کے حجرے میں ہم لوگ تھے انھوں نے کہا وہ سوال جو آپ نے کیا تھا اشرفیہ مبارک پور کی سنگ بنیاد کی کانفرنس کے موقع سے تو اس سوال کا جواب آیا آپ کو حالانکہ اس میں وہ بھی تھے میں نے ادبا نہیں کہا کہ آپ سے بھی کہا گیا تھا میں نے سوال دیا تھا آپ کو بھی آپ نے بھی کوئی جواب نہیں دیا یہ نہیں میں نے کہا اب تک کوئی جواب نہیں آیا ملا نہیں ہے تو پلٹ کر کے وہ مناظرانہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ پھر آپ نے کیا سوچا ہے اپنے سوال کا جواب آپ کے نظر میں کیا ہے یہ انھوں نے کہا میں نے کہا میرے پاس جو جواب ہے شاید کہ آپ حضرات اس سے اتفاق نہیں کریں گے انھوں نے کہا کیا جواب ہے بتاؤ میں نے ہی کہا کہ من شک کے مطلب کے سمجھنے میں لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہیں اصل میں من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا مطلب وہ نہیں جو ظاہری عبارت کے ترجمے سے سمجھ میں آتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کو بھی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ شک کرے گا تو کافر ہو جائے گا بس، بس تو نے صحیح سمجھا [۔۔۔۔۔۔۔11:07.40۔۔۔۔۔۔(یہاں ایک چھوٹا سا جملہ ہے سمجھ نہیں آیا غالبا کہا) بس اتنا کافی ہے] اس کی تائید انھوں نے فرمائی مجاہد ملت نے کہ تو نے صحیح سمجھا بات یہ ہے کہ اطلاع شرعی یقینی جس کو حاصل ہو جائے اب اس کے بعد بھی اگر وہ شک کرتا ہے اس کو کافر کہنے میں تو اس کے اوپر فقد کفر کا حکم لگے گا نہیں تو منھم کے درجے میں ہو گا سمجھے کہ نہیں جیسے کہ اعلی حضرت نے بہت ساری جگہوں میں اگر کوئی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرے تو وہ ضرور منھم ہے تو ضرور منھم کی حد تک ہی فتوی ہوگا مگر کھلم کھلا اس پر کفر کا فتویٰ نہیں ہوگا سمجھے کہ نہیں
قال ب جی
قال ز
اس وقت تو یہ فوٹو اسٹیٹ کا دور تھا نہیں کاربن منگوایا کاربن پہ فرمایا مجھ سے کہا بھئی اس کی نقل کر کے سب کے حوالے کر دیا جائے ایک سال گزر گیا کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا پتہ ایڈریس وغیرہ سب دیا تھا پن کوڈ کے ساتھ دیا تھا اتفاق ہم چلے گئے ممبئی تو مجاہد ملت وہاں پہنچے ہوئے تھے مجاہد ملت نے ہم کو دیکھا تو ہم کو اشارے سے ہم دور میں تھے ہم کو اشارے سے بلایا بھئی یہ آپ مغرب کی نماز زکریا مسجد میں آ کے پڑھیے آپ سے کچھ بات کرنی ہے میں نے کہا ٹھیک میں پہنچ گیا زکریا مسجد پہنچنے کے بعد مغرب کے بعد امام صاحب کے حجرے میں ہم لوگ تھے انھوں نے کہا وہ سوال جو آپ نے کیا تھا اشرفیہ مبارک پور کی سنگ بنیاد کی کانفرنس کے موقع سے تو اس سوال کا جواب آیا آپ کو حالانکہ اس میں وہ بھی تھے میں نے ادبا نہیں کہا کہ آپ سے بھی کہا گیا تھا میں نے سوال دیا تھا آپ کو بھی آپ نے بھی کوئی جواب نہیں دیا یہ نہیں میں نے کہا اب تک کوئی جواب نہیں آیا ملا نہیں ہے تو پلٹ کر کے وہ مناظرانہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ پھر آپ نے کیا سوچا ہے اپنے سوال کا جواب آپ کے نظر میں کیا ہے یہ انھوں نے کہا میں نے کہا میرے پاس جو جواب ہے شاید کہ آپ حضرات اس سے اتفاق نہیں کریں گے انھوں نے کہا کیا جواب ہے بتاؤ میں نے ہی کہا کہ من شک کے مطلب کے سمجھنے میں لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہیں اصل میں من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا مطلب وہ نہیں جو ظاہری عبارت کے ترجمے سے سمجھ میں آتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کو بھی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ شک کرے گا تو کافر ہو جائے گا بس، بس تو نے صحیح سمجھا [۔۔۔۔۔۔۔11:07.40۔۔۔۔۔۔(یہاں ایک چھوٹا سا جملہ ہے سمجھ نہیں آیا غالبا کہا) بس اتنا کافی ہے] اس کی تائید انھوں نے فرمائی مجاہد ملت نے کہ تو نے صحیح سمجھا بات یہ ہے کہ اطلاع شرعی یقینی جس کو حاصل ہو جائے اب اس کے بعد بھی اگر وہ شک کرتا ہے اس کو کافر کہنے میں تو اس کے اوپر فقد کفر کا حکم لگے گا نہیں تو منھم کے درجے میں ہو گا سمجھے کہ نہیں جیسے کہ اعلی حضرت نے بہت ساری جگہوں میں اگر کوئی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرے تو وہ ضرور منھم ہے تو ضرور منھم کی حد تک ہی فتوی ہوگا مگر کھلم کھلا اس پر کفر کا فتویٰ نہیں ہوگا سمجھے کہ نہیں
قال غ اور وہ علیم اللہ صاحب سلام پیش کیے ہیں
قال ز علیم اللہ صاحب وعلیکم السلام
قال ز کب آپ پہنچے؟
قال غ پڑسوں
قال ز سب لوگ ٹھیک ہیں
قال غ جی الحمدللہ
قال ز اس بار عید کی نماز آپ کو وہیں پڑھنی پڑی
قال غ جی
قال ز وہاں نہیں پڑھے
قال غ نہیں سیوان میں
قال ز ہاں
قال غ پانچ چھ سال سے جو ہے وہیں پہ پڑھانی پڑتی ہے چار پانچ سال سے عیدین کی نماز وہیں پڑھانی پڑتی ہے
قال ز ہوں: لوگ تو عید کے موقع پر گھر آ کر عید منانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگ جو ہیں نا گھر چھوڑ دیتے ہیں
قال غ آنے نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہاں پہ کچھ اختلافی مسائل ہیں
قال ز علیم اللہ صاحب وعلیکم السلام
قال ز کب آپ پہنچے؟
قال غ پڑسوں
قال ز سب لوگ ٹھیک ہیں
قال غ جی الحمدللہ
قال ز اس بار عید کی نماز آپ کو وہیں پڑھنی پڑی
قال غ جی
قال ز وہاں نہیں پڑھے
قال غ نہیں سیوان میں
قال ز ہاں
قال غ پانچ چھ سال سے جو ہے وہیں پہ پڑھانی پڑتی ہے چار پانچ سال سے عیدین کی نماز وہیں پڑھانی پڑتی ہے
قال ز ہوں: لوگ تو عید کے موقع پر گھر آ کر عید منانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگ جو ہیں نا گھر چھوڑ دیتے ہیں
قال غ آنے نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہاں پہ کچھ اختلافی مسائل ہیں
قال ز آں
قال غ کچھ اختلافی مسئلے ہیں وہاں پہ ایک جو مدرسہ اور چلتا ہے مولانا امجد القادری صاحب رضوی انھیں کے گھر کے جو ہیں سب لوگ رضوی ہیں باقی تو نائنٹی پرسنٹ [٪90] جو ہیں سب رشیدی ہیں وہاں
قال ز ہوں
قال غ تو معاملہ بہت ساری باتیں ہیں ان کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا نہیں چاہتے ہیں
قال ز اچھا
قال غ جی وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لوگ نہیں رہیں گے تو مجبوراً پڑھنا پڑے گا ان کے پیچھے
قال ز خیر چلیے رشیدی اس لیے آپ کو رکنا پڑ رہا ہے
قال غ جی اب الگ جماعت ہو رہی ہے کچھ
قال ز اچھا یہ مولوی احسان جو بات کر رہے تھے کیا حال ہے ان کا
قال غ اس کا کڈنی کا مسئلہ ہے اک کڈنی جو ہے فیل ہے
قال ز تو پھر
قال غ علاج چل رہا ہے دلی کا جو ہے علاج چل رہا ہے
قال ز ایک کڈنی فیل ہے تو گاڑی چلنے والی ہے ایسا نہیں ہے کہ ایک کڈنی کی وجہ سے گاڑی چلے گی لیکن یہ ہے کہ احتیاط کرنی پڑے گی
قال غ جی کمزوری بہت زیادہ ہے کافی کمزور ہو گئے ہیں تھوڑی دور اگر چلتے ہیں تھکاوٹ ہو جاتی ہے زیادہ چل نہیں چل پھر نہیں پا رہے ہیں کمزوری ہے تھکاوٹ زیادہ ہے
قال ز احساس مرض نے ان کو اور کمزور کر دیا ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اتنا احساس نہیں کرنا چاہیے ایک تو مرض اپنی جگہ پر ہے اور احساس مرض اس سے بڑھ کے ہے اب ہم بچیں گے نہیں ہم بچیں گے نہیں یہ احساس کرے گا تو اور کیا ہوگا
قال غ گاؤں ہی کے وہ مولانا ہیں امجد القادری صاحب
قال ز معلوم ہے معلوم ہے
قال غ جی بہت زیادہ اختلاف پھیلا ہے ابھی جو ہے تین طرف کے لوگ ایک جانب ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی وہ مصلی چھوڑ نہیں رہے ہیں
قال غ کچھ اختلافی مسئلے ہیں وہاں پہ ایک جو مدرسہ اور چلتا ہے مولانا امجد القادری صاحب رضوی انھیں کے گھر کے جو ہیں سب لوگ رضوی ہیں باقی تو نائنٹی پرسنٹ [٪90] جو ہیں سب رشیدی ہیں وہاں
قال ز ہوں
قال غ تو معاملہ بہت ساری باتیں ہیں ان کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا نہیں چاہتے ہیں
قال ز اچھا
قال غ جی وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لوگ نہیں رہیں گے تو مجبوراً پڑھنا پڑے گا ان کے پیچھے
قال ز خیر چلیے رشیدی اس لیے آپ کو رکنا پڑ رہا ہے
قال غ جی اب الگ جماعت ہو رہی ہے کچھ
قال ز اچھا یہ مولوی احسان جو بات کر رہے تھے کیا حال ہے ان کا
قال غ اس کا کڈنی کا مسئلہ ہے اک کڈنی جو ہے فیل ہے
قال ز تو پھر
قال غ علاج چل رہا ہے دلی کا جو ہے علاج چل رہا ہے
قال ز ایک کڈنی فیل ہے تو گاڑی چلنے والی ہے ایسا نہیں ہے کہ ایک کڈنی کی وجہ سے گاڑی چلے گی لیکن یہ ہے کہ احتیاط کرنی پڑے گی
قال غ جی کمزوری بہت زیادہ ہے کافی کمزور ہو گئے ہیں تھوڑی دور اگر چلتے ہیں تھکاوٹ ہو جاتی ہے زیادہ چل نہیں چل پھر نہیں پا رہے ہیں کمزوری ہے تھکاوٹ زیادہ ہے
قال ز احساس مرض نے ان کو اور کمزور کر دیا ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اتنا احساس نہیں کرنا چاہیے ایک تو مرض اپنی جگہ پر ہے اور احساس مرض اس سے بڑھ کے ہے اب ہم بچیں گے نہیں ہم بچیں گے نہیں یہ احساس کرے گا تو اور کیا ہوگا
قال غ گاؤں ہی کے وہ مولانا ہیں امجد القادری صاحب
قال ز معلوم ہے معلوم ہے
قال غ جی بہت زیادہ اختلاف پھیلا ہے ابھی جو ہے تین طرف کے لوگ ایک جانب ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی وہ مصلی چھوڑ نہیں رہے ہیں
قال ز وہ جو مدرسہ ہے جس مدرسے میں وہ عمل دخل ان کا ہے اس میں انصاری برادری کے لوگ زیادہ سر گرم ہیں اور یہ بھی غالبا اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ادھر جس طرح پٹھان لوگ ہیں وہ ان میں سے اختلاف ہے
قال غ ابھی کچھ جو ہے انصاری برادری کے لوگ بھی ادھر شامل ہو گئے ہیں
قال ز شامل ہو گئے ہیں ؟
قال غ جی [٪25] پچیس پرسنٹ لوگ ہیں
قال ز خیر جو جیسا کرتا ہے اس کا انجام اس کے ساتھ ہے سمجھے کہ نہیں
قال غ ابھی کچھ جو ہے انصاری برادری کے لوگ بھی ادھر شامل ہو گئے ہیں
قال ز شامل ہو گئے ہیں ؟
قال غ جی [٪25] پچیس پرسنٹ لوگ ہیں
قال ز خیر جو جیسا کرتا ہے اس کا انجام اس کے ساتھ ہے سمجھے کہ نہیں
قال غ مدرسے کا زمانے سے مدرسے کا کوئی حساب کتاب نہیں اپنی مرضی سے وہ چلا رہے ہیں کیا آمدنی ہے کیا خرچ ہے اس سے کوئی مطلب نہیں تعلیم وغیرہ سے بھی کوئی مطلب نہیں ایک سال کوئی بھی مدرس آتے ہیں سال بھر رہتے ہیں اس کے بعد پھر ان کو جواب مل جاتا ہے یعنی اپنی مرضی چلاتے ہیں
قال ز ہوں : کوئی بھی مذہب اگر باطل ہے اگر کفر کا فتویٰ نہیں ہے لیکن گمراہ تو ہیں لہذا علمی مسلمان اگر فاسق ہو تو ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور اگر ایک مسلمان ہے جو گمراہی کے درجے میں ہے یعنی اس پر کفر کا فتویٰ تو نہیں ہے مگر گمراہ ہے بد مذہب ہے یہ عقیدے کی خرابی اس عمل کی خرابی سے بڑھ کر ہے اس کے پیچھے نماز اور بدرجۂ اولی مکروہ تحریمی ہوگی تو پھلواری شریف والوں نے افراط اور تفریط کے درمیان راہ نکالنے کے لیے چاہیے تھا کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھتے احتیاط
کیونکہ نماز عبادت ہے اور عبادت کے معاملے میں احتیاط چاہیے جیسے ایک فرقہ ان کو کافر قرار دے رہا ہے جیسے بریلویوں کا فرقہ تو کم سے کم اگر کافر نہ سہی تو گمراہی میں تو کوئی شک نہیں گمراہی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو ان کے ساتھ مجالست مواکلت یعنی ایک ساتھ بیٹھنا یا کھانا پینا نہ کرو سمجھے کہ نہیں مگر ان لوگوں نے اس کی پروا نہیں کی اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیں گے اس کے ساتھ بیٹھیں گے بھی کھائیں گے پییں گے بھی اب اس سے جو ہے بہت زیادہ بدنامی کے [۔۔۔17:21.54۔۔۔(شاید یہاں آپ نے کہا:) پھٹکار] ملیں گے سمجھے کچھ
قال ز ہوں : کوئی بھی مذہب اگر باطل ہے اگر کفر کا فتویٰ نہیں ہے لیکن گمراہ تو ہیں لہذا علمی مسلمان اگر فاسق ہو تو ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور اگر ایک مسلمان ہے جو گمراہی کے درجے میں ہے یعنی اس پر کفر کا فتویٰ تو نہیں ہے مگر گمراہ ہے بد مذہب ہے یہ عقیدے کی خرابی اس عمل کی خرابی سے بڑھ کر ہے اس کے پیچھے نماز اور بدرجۂ اولی مکروہ تحریمی ہوگی تو پھلواری شریف والوں نے افراط اور تفریط کے درمیان راہ نکالنے کے لیے چاہیے تھا کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھتے احتیاط
کیونکہ نماز عبادت ہے اور عبادت کے معاملے میں احتیاط چاہیے جیسے ایک فرقہ ان کو کافر قرار دے رہا ہے جیسے بریلویوں کا فرقہ تو کم سے کم اگر کافر نہ سہی تو گمراہی میں تو کوئی شک نہیں گمراہی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو ان کے ساتھ مجالست مواکلت یعنی ایک ساتھ بیٹھنا یا کھانا پینا نہ کرو سمجھے کہ نہیں مگر ان لوگوں نے اس کی پروا نہیں کی اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیں گے اس کے ساتھ بیٹھیں گے بھی کھائیں گے پییں گے بھی اب اس سے جو ہے بہت زیادہ بدنامی کے [۔۔۔17:21.54۔۔۔(شاید یہاں آپ نے کہا:) پھٹکار] ملیں گے سمجھے کچھ
اور اسی وجہ سے جو رضوی حضرات ہیں وہ ان کو اپنے میں نہیں شمار کرتے ہیں لیکن ان سے اختلاف اور احتیاط تو چاہیے تھا کہ ٹھیک ہے اگر کفر کا فتوی نہ سہی گمراہی میں تو شک نہیں ہے سوء عقیدہ اور بدعقیدگی میں تو کوئی کلام نہیں ہے جو اسے عقیدہ اور بدعقیدگی کے پاروں سے ہو جو بد عملی کی صورت میں بھی ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے تو بدعقیدگی میں تو بدرجۂ اولی ہوگی ان کے پیچھے نماز کیوں پڑھتے ہیں نہیں پڑھنا چاہیے اب اس میں وہ لوگ افراط اور تفریط کے درمیان چلنا چاہیے تھا لیکن وہ تفریط کے منزل میں آ گئے ہیں سمجھے کہ نہیں یہی سب چیزوں کی وجہ سے اعتراضات کے انبار لگتے ہیں اب یہ کہ فلاں تکفیر کے قائل ہے کہ نہیں ان سب بحثوں میں جا کر کے ان کو اپنا ڈھال بنانے کے چکر میں نہیں رہیں گے بلکہ ان کو احتیاط کا تو تقاضا ہے میں ان لوگوں سے نہ سلام کرتا ہوں نہ کلام کرتا ہوں نہ ان کی جناب والا نشست و برخاست ہوتی ہے ہماری گو کہ ہمارا ایک سوال ہے کہ بھئی یہ مسئلہ غور طلب ہے سمجھنے کی ضرورت ہے بس کافر کہنے کے سلسلے میں ہے لیکن بد مذہبیت میں تو کوئی کلام نہیں ہے لیکن ان لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ لوگ اس کو بد مذہب بھی نہیں سمجھتے ہیں یہ چیز جو ہے غور کرنے کی بات ہے
قال غ جی ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں دیوبندی کے پیچھے میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بائسی سے وہ کٹر دیوبندی کو بلا کے نماز پڑھایا ہے فیاضل میں
قال ز جیسے کہ معتزلہ فرقہ گمراہ ہے خوارج یہ بھی گمراہ ہے خارجی فرقہ اگر چہ ان پر جماعت اور فرقے کے اعتبار سے کفر کا حکم تو نہیں ہے مگر بدمذہبیت کا تو حکم ہے معتزلہ کے بارے میں بھی خوارج کے بارے میں بھی سمجھے کہ نہیں یہ بدمذہبیت سے اجتناب کروگے کہ نہیں اجتناب ہے
رہا یہ ہے کہ کسی بھی بدمذہب کا کوئی بھی مسئلہ یعنی کہ قول اگر صواب اور درست ہے تو ہم اس کو خوامخواہ بد مذہب ہونے کی وجہ پر اس درست قول کو نا درست کہیں یہ بھی ٹھیک نہیں مثلا زمخشری ہے جار اللہ زمخشری بہت بڑا نحوی بھی گزرا ہے سمجھے کہ نہیں اور ساتھ ساتھ یہ ہے کی مفسر بھی گزرا ہے وہ کشاف قرآن کی تفسیر لکھی اس نے معتزلی فرقے کا ماننے والا علم فقہ میں بھی ان کو کافی درک تھا زمخشری معتزلی تھا مگر تفسیروں میں جہاں پر نحو و صرف کی گفتگو قرآن میں آئی ہے تو زمخشری کے بھی حوالے ملتے ہیں اب جو بات معقول ان کی ہے ان کی بات کو لیتے ہیں لیکن اس کی بات کو لینے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم زمخشری کے مطلب اس کو کھلم کھلا مومن صالح مانتے ہوں سچا پکا مسلمان مانتے ہوں ایسا تو نہیں ہے کبھی کبھی بد مذہب کی بھی کوئی بات اچھی ہوتی ہے تو جو اچھی بات ہوتی ہے اس اچھی بات کو بات ہونے کے اعتبار سے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات انھوں نے اچھی کہی ہے
قال ز جیسے کہ معتزلہ فرقہ گمراہ ہے خوارج یہ بھی گمراہ ہے خارجی فرقہ اگر چہ ان پر جماعت اور فرقے کے اعتبار سے کفر کا حکم تو نہیں ہے مگر بدمذہبیت کا تو حکم ہے معتزلہ کے بارے میں بھی خوارج کے بارے میں بھی سمجھے کہ نہیں یہ بدمذہبیت سے اجتناب کروگے کہ نہیں اجتناب ہے
رہا یہ ہے کہ کسی بھی بدمذہب کا کوئی بھی مسئلہ یعنی کہ قول اگر صواب اور درست ہے تو ہم اس کو خوامخواہ بد مذہب ہونے کی وجہ پر اس درست قول کو نا درست کہیں یہ بھی ٹھیک نہیں مثلا زمخشری ہے جار اللہ زمخشری بہت بڑا نحوی بھی گزرا ہے سمجھے کہ نہیں اور ساتھ ساتھ یہ ہے کی مفسر بھی گزرا ہے وہ کشاف قرآن کی تفسیر لکھی اس نے معتزلی فرقے کا ماننے والا علم فقہ میں بھی ان کو کافی درک تھا زمخشری معتزلی تھا مگر تفسیروں میں جہاں پر نحو و صرف کی گفتگو قرآن میں آئی ہے تو زمخشری کے بھی حوالے ملتے ہیں اب جو بات معقول ان کی ہے ان کی بات کو لیتے ہیں لیکن اس کی بات کو لینے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم زمخشری کے مطلب اس کو کھلم کھلا مومن صالح مانتے ہوں سچا پکا مسلمان مانتے ہوں ایسا تو نہیں ہے کبھی کبھی بد مذہب کی بھی کوئی بات اچھی ہوتی ہے تو جو اچھی بات ہوتی ہے اس اچھی بات کو بات ہونے کے اعتبار سے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات انھوں نے اچھی کہی ہے
قال غ آج بھی حوالہ دیا جا سکتا ہے اشرف علی تھانوی نے بھی یہ بات کہی ہے
قال ز ہوں: سمجھے کہ نہیں تو کسی کی بات کی تحسین بھی مطلقا کفر نہیں ہے بلکہ بد مذہب کوئی ایسی بات کہے تو سمجھے کہ نہیں ایسے ہی لبید شاعر تھا ابھی اسلام نہیں لایا تھا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر پر ان کی تحسین فرمائی جی اشعر الشعراء الشاعر لبید تمام شعرائے عرب میں سب سے اچھا شاعر لبید ہے انھوں نے یہ شعر کہا کہ
قال ز ہوں: سمجھے کہ نہیں تو کسی کی بات کی تحسین بھی مطلقا کفر نہیں ہے بلکہ بد مذہب کوئی ایسی بات کہے تو سمجھے کہ نہیں ایسے ہی لبید شاعر تھا ابھی اسلام نہیں لایا تھا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر پر ان کی تحسین فرمائی جی اشعر الشعراء الشاعر لبید تمام شعرائے عرب میں سب سے اچھا شاعر لبید ہے انھوں نے یہ شعر کہا کہ
وكل شيء ما خلا الله باطل
یعنی جو چیز اللہ کے ما سوا ہے باطل ہے اس شعر پر وہی تحسین فرمائی حضور نے حالانکہ وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے بعد میں اسلام لائے وہ تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بد مذہب ہو اگر کوئی اس کی بات اچھی ہے تو ہم اس کو یہ نہیں دشمنی میں یہ نہیں کہیں گے کہ وہ کوئی اچھی بات کہہ دے تو بھی وہ غلط ہے مگر کسی اچھی بات کے اچھا کہنے پر یہ لازم نہیں ہوتا ہے کہ کہنے والا بھی اچھا ہے سمجھے کہ نہیں ایک غیر مسلم ہی کہیں کوئی بات اچھی کہہ دیتا ہے کہیں اچھا فیصلہ کر دیتا ہے کہیں گے یہ فیصلہ اس نے اچھا کیا تاکہ جج جو ہے عدالت میں کہ ایسا انصاف پر مبنی کوئی فیصلہ کر دیا کہیں گے کہ یہ فیصلہ انھوں نے اچھا کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے حاکم کی تعریف کر دی تو اس لیے تعریف کی بنا پر ہم بھی اسلام سے خارج ہو گئے میں ان کی بات کی اچھائی کو بیان کیا سمجھے کہ نہیں یہ بات اس لیے حقیقی ہے سمجھ گیا نا ہوں
قول کا اچھا ہونا قائل کے اچھا ہونے پر دلیل نہیں ہے لازم نہیں سمجھے اس کو قرآن سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں سورۂ منافقین سورۂ منافقون میں ہے پہلی ہی آیت میں یہ آیا ہے کہ یہ منافق جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے إِذَا جَاۤءَكَ ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ
اے رسول جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں بے شک کہہ کر منافق کہہ رہے ہیں بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ اللہ تو جانتا ہے کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَكَـٰذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتا ہے اس بات پر یہ منافق اپنی بولی میں جھوٹے ہیں کیا ہے ان کی بولی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ غلط تھی؟ پھر جھوٹا کیسے ہو گئے وہ جو بولی وہ بول رہے ہیں وہ تو بالکل سچی ہے حضور کو کہنا کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے مگر اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید بھی فرمائی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ اللہ جانتا ہے مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں یعنی انك لرسول اللہ کہنے میں یہ جھوٹے ہیں بولی تو سچی ضرور ہے لیکن بولنے والا سچا نہیں ہے کسی کی بات اچھی ہو کوئی ضروری نہیں کہ یہ بات بولنے والا بھی اچھا سمجھا جائے کسی کی بات سچی ہو تو ضروری نہیں کہ بولنے والے کو سچا سمجھا جائے بولی کا اچھا ہونا بولی کا سچا ہونا بولنے والے کی اچھائی یا سچائی کی دلیل نہیں ہے
یعنی جو چیز اللہ کے ما سوا ہے باطل ہے اس شعر پر وہی تحسین فرمائی حضور نے حالانکہ وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے بعد میں اسلام لائے وہ تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بد مذہب ہو اگر کوئی اس کی بات اچھی ہے تو ہم اس کو یہ نہیں دشمنی میں یہ نہیں کہیں گے کہ وہ کوئی اچھی بات کہہ دے تو بھی وہ غلط ہے مگر کسی اچھی بات کے اچھا کہنے پر یہ لازم نہیں ہوتا ہے کہ کہنے والا بھی اچھا ہے سمجھے کہ نہیں ایک غیر مسلم ہی کہیں کوئی بات اچھی کہہ دیتا ہے کہیں اچھا فیصلہ کر دیتا ہے کہیں گے یہ فیصلہ اس نے اچھا کیا تاکہ جج جو ہے عدالت میں کہ ایسا انصاف پر مبنی کوئی فیصلہ کر دیا کہیں گے کہ یہ فیصلہ انھوں نے اچھا کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے حاکم کی تعریف کر دی تو اس لیے تعریف کی بنا پر ہم بھی اسلام سے خارج ہو گئے میں ان کی بات کی اچھائی کو بیان کیا سمجھے کہ نہیں یہ بات اس لیے حقیقی ہے سمجھ گیا نا ہوں
قول کا اچھا ہونا قائل کے اچھا ہونے پر دلیل نہیں ہے لازم نہیں سمجھے اس کو قرآن سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں سورۂ منافقین سورۂ منافقون میں ہے پہلی ہی آیت میں یہ آیا ہے کہ یہ منافق جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے إِذَا جَاۤءَكَ ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ
اے رسول جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں بے شک کہہ کر منافق کہہ رہے ہیں بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ اللہ تو جانتا ہے کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَكَـٰذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتا ہے اس بات پر یہ منافق اپنی بولی میں جھوٹے ہیں کیا ہے ان کی بولی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ غلط تھی؟ پھر جھوٹا کیسے ہو گئے وہ جو بولی وہ بول رہے ہیں وہ تو بالکل سچی ہے حضور کو کہنا کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے مگر اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید بھی فرمائی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ اللہ جانتا ہے مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں یعنی انك لرسول اللہ کہنے میں یہ جھوٹے ہیں بولی تو سچی ضرور ہے لیکن بولنے والا سچا نہیں ہے کسی کی بات اچھی ہو کوئی ضروری نہیں کہ یہ بات بولنے والا بھی اچھا سمجھا جائے کسی کی بات سچی ہو تو ضروری نہیں کہ بولنے والے کو سچا سمجھا جائے بولی کا اچھا ہونا بولی کا سچا ہونا بولنے والے کی اچھائی یا سچائی کی دلیل نہیں ہے
خیر چلیے اور باقی لوگ جو آئے ہیں آپ لوگ کیا کام لے کے آئے ہیں مولوی مرغوب صاحب تو آئے تھے نا چلے گئے کیا
قال مرغوب جی
قال ز او ہیں آپ یہ ان لوگوں کا مسئلہ آپ ہی کو حل کرنا ہے
قال ب حضرت ہم یہ کہ رہے ہیں کہ آپ تک اطلاع شرعی یقینی موصول ہوئی ؟
قال مرغوب جی
قال ز او ہیں آپ یہ ان لوگوں کا مسئلہ آپ ہی کو حل کرنا ہے
قال ب حضرت ہم یہ کہ رہے ہیں کہ آپ تک اطلاع شرعی یقینی موصول ہوئی ؟
قال ز ہم کو اطلاع شرعی یقینی حاصل ہوئی نہیں اس سے کیا مطلب آپ کو آپ آگے پوچھیں گے آپ تہجد کی نماز پڑھتے ہیں کہ نہیں کئے رکعات پڑھتے ہیں یہ سب پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کسی کا کوئی عمل ہے اپنی جگہ پر ہے
سمجھے کہ نہیں یہ سب چیزیں بلا وجہ کی باتیں ہیں بے وجہ کرنا ہے ہم کرتے ہیں کہ نہیں کرتے ہیں وہ ہم جانتے ہیں سمجھے کہ نہیں آپ کسی چیز کو پردہ ڈالنے کے لیے کسی کو ہلکار مت بنائیے ہم کو اہلکار کیوں بنا رہے ہیں ہم کو جس کو جو ہے بنائے مسئلہ ہوگا تو وہ ہمارے پاس آئے گا اگر کوئی مسئلہ پوچھنا ہوگا تو ہم سے آ کر پوچھے گا یہ اہلکار بنانے کی ضرورت ہے
قال غ حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے جی
قال ز یہ سب نہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے
قال غ مسئلہ بتا دیا گیا ہے آپ اس سے خود سمجھ لیجیے گا
قال ز ذیشان صاحب ہوئے یا کوئی بھی جن لوگوں نے مطلب یہ ہے کہ سکوت برتا ہے توقف کرنے والے وہ ہمی لوگوں کو ڈھال بنانا چاہتے ہیں بھئی آپ اپنی طرف سے تحقیق پیش کیجیے نا آپ میدان میں آئیے کہیے مجھے سوالوں کا جواب دیجیے جو لوگ آپ کے اوپر الزام لگا رہے ہیں جو آپ کو لوگ غلط قرار دے رہے ہیں تو آپ ان سے نقلیہ کیجیے اب خوامخواہ ہم کو بیچ میں لا کر کے اپنے لیے ڈھال کیوں بنانا چاہتے ہیں دیکھے
قال غ جی
قال ز آپ کو جانا چاہیے اور کسی کو دعا تعویذ کی ضرورت ہو تو کر دیجیے اس کے بعد تیار ہو جائیے اور وہ پانی ذرا سا دم کر دو ان کو نکاح پڑھانے کے لیے جانا ہے اور جمعہ بھی پڑھنا ہے جمعہ کے بعد نکاح ہے
[مفتی صاحب کی ان باتوں کی ریکارڈنگ راقم الحروف کے پاس موجود ہے]
قال غ حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے جی
قال ز یہ سب نہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے
قال غ مسئلہ بتا دیا گیا ہے آپ اس سے خود سمجھ لیجیے گا
قال ز ذیشان صاحب ہوئے یا کوئی بھی جن لوگوں نے مطلب یہ ہے کہ سکوت برتا ہے توقف کرنے والے وہ ہمی لوگوں کو ڈھال بنانا چاہتے ہیں بھئی آپ اپنی طرف سے تحقیق پیش کیجیے نا آپ میدان میں آئیے کہیے مجھے سوالوں کا جواب دیجیے جو لوگ آپ کے اوپر الزام لگا رہے ہیں جو آپ کو لوگ غلط قرار دے رہے ہیں تو آپ ان سے نقلیہ کیجیے اب خوامخواہ ہم کو بیچ میں لا کر کے اپنے لیے ڈھال کیوں بنانا چاہتے ہیں دیکھے
قال غ جی
قال ز آپ کو جانا چاہیے اور کسی کو دعا تعویذ کی ضرورت ہو تو کر دیجیے اس کے بعد تیار ہو جائیے اور وہ پانی ذرا سا دم کر دو ان کو نکاح پڑھانے کے لیے جانا ہے اور جمعہ بھی پڑھنا ہے جمعہ کے بعد نکاح ہے
[مفتی صاحب کی ان باتوں کی ریکارڈنگ راقم الحروف کے پاس موجود ہے]
اسی مضمون سے ملتی ہوئی تحریر مفتی صاحب کے حوالے سے ذیشان سراوی کی کتاب مسئلۂ تکفیر و متکلمین میں ہے ذیشان سراوی اگر چہ بد مذہب ہے لیکن بد مذہب کی ہر بات غلط بھی نہیں ہوتی ہے راقم الحروف کو لگتا ہے اس معاملے میں ذیشان سراوی کی یاد داشت بخیر ہے کیونکہ مسئلۂ تکفیر و متکلمین کی بات اور اوپر مفتی صاحب سے نقل کردہ باتوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے دیکھیے مسئلۂ تکفیر و متکلمین صفحہ ۲۲۱ تا ۲۲۴
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید نے جو کچھ بیان کیا وہ صحیح ہے یا نہیں اگر نہیں تو مفتی صاحب پر کیا حکم شرع نافذ ہوتا ہے؟ بینوا توجروا
مستفتی : محمد جسیم اکرم مرکزی
پتہ: بائسی پورنیہ بہار
رابطہ نمبر: 9523788434
پتہ: بائسی پورنیہ بہار
رابطہ نمبر: 9523788434










