صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور اپنے محبوب کا دامن پر امن عطا فرمایا۔ مسلمانانِ عالم کو اپنے دام فریب میں الجھانے کے لیے شیطان نے متعدد جال پھینک رکھے ہیں۔ سیکولرازم ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ جو دین کے وجود کو برابر کاٹتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک میں سیکولرازم نافذ ہے جو بظاہر لوگوں کے درمیان فرق کو مٹاتا اور مساوات کو قائم کرتا ہے۔ حالانکہ سیکولرازم کا یہ دستور العمل صرف دکھاوا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دنیا میں خدا پرستی کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے بلکہ لادینیت کی پہلی سیڑھی کا نام سیکولرازم ہے۔

سیکولرازم کی تعریف

سیکولرازم کی تعریف میں اختلاف بکثرت واقع ہے جس کی تفصیل اس موضوع کی کتب میں بآسانی مل جائے گی۔ یہاں طوالت سے بچتے ہوئے تعریف مشہور پر اکتفا کیا جاتا ہے:
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔

سیکولرازم کے معانی و مفاہیم

تعریف کے بعد مفاہیم کو بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں رہتی مگر
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے کہ سیکولرازم، لادینیت کی سیڑھی ہے، قرائن و احوال اس پر واضح دلیل ہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان امور کا اہتمام کریں، جن سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہو جائے۔
قارئین کرام: سیکولرازم کے تمام مقاصد کا اصل مرکز لادینیت ہے، انگریزی زبان کی کثیر لغات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ انگریزی کی مستند لغت دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں سیکولر ازم کے مندرجہ ذیل معنی بیان کیے گئے ہیں:
The doctrine that morality should be based soley on regard to the well-being of mankind in the present life to the exclusion of all considerations drawn from belief in God or in a future state
یہ نظریہ کہ خدا یا عقبیٰ کے اعتقاد سے اخذ شدہ تمام ملحوظات کو ترک کر اخلاقیات کو صرف بنی نوع انسان کی موجودہ زندگی کی فلاح و بہبود کے لحاظ پر مبنی ہونا چاہیے۔
انگریزی اصطلاحات کی معتبر قاموس انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں سیکولر ازم کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔
A movement in society directed away from otherworldliness to life on earth.
سماج میں اخرویت سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی ایک تحریک۔
دی نیو انٹر نیشنل انسائیکلوپیڈیا میں سیکولرازم کے مفہوم کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
As its name implies, it concentrates its attention upon the present life, neither denying nor affirming the existence of another. It inculcates an ethics not depent in any way on religion, although it does not formaly deny the truth of any religion.
یہ نام (سیکولرازم) جیسا کہ دلالت کرتا ہے، موجودہ زندگی کی طرف انسان کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نہ کسی چیز کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے وجود کی توثیق کرتا ہے۔ اور یہ مذہب پر انحصار کے بجائے اخلاقیات کو ذہن نشین کراتا ہے۔ اگر چہ یہ (نظریہ ) با قاعدہ طور پر کسی مذہب کی حقانیت کا انکار نہیں کرتا۔
چیمبرز انگلش ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی یوں بیان کیے گئے ہیں:
The belief that the state, morals, education etc should be independent of religion.
اس بات کا یقین کرنا کہ ریاست، اخلاقیات اور تعلیم وغیرہ کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے
ان تمام مفاہیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ بات کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ تحریک مذہب مخالف، لادینیت کی ترویج کرنے والی اور مذہبی عقائد و اعمال کی تردید کرنے والی تحریک ہے۔

سیکولرازم کی ابتدا

یورپ میں مسیحی علما و مقتدایان کا دبدبہ تھا۔ مذہب کے نام پر عوام کو پریشان کرنا، رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگانا، ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ حکام و سلاطین بھی ان مذہبی بھیڑیوں کے زیر اثر تھے۔ عوام کا چاروں طرف سے استحصال ہو رہا تھا۔ حتی کہ سائنس کا دور آیا، سائنسی ایجادات سے مذہبی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، چرچ کا تشخص متزلزل ہوا، جس کے نتیجہ میں چرچ نے سائنسدانوں کی کاوشوں کو بری طرح سے کچلا، بڑے بڑے سائنسدانوں کو سزائیں دی گئیں، زندہ جلا دیا گیا، قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور رجوع کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم و زیادتی کی بنا پر سائنسدانوں نے شدت سے مذہب بیزاری کی تحریک چلائی اور عوام کے سامنے مذہب کو ظلم و تشدد کا منبع و مصدر قرار دیا۔
اگرچہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے ساتھ زمانہ قدیم سے دنیا میں چلی آ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس کی اصطلاح متعارف نہ تھی۔ ۱۸۵۱ء اور بقول بعض ۱۸۴۶ء میں سیکولرازم کی اصطلاح سب سے پہلے برطانوی مصنف George Jacob نے متعارف کروائی اور ۱۸۵۷ء میں اسی نے لندن میں سینٹرل سیکولر سوسائٹی Central Secular Society قائم کی اور یوں سیکولرازم کی با قاعدہ ترویج شروع ہوگئی اور دھیرے دھیرے اس نے پورے یورپ بلکہ دنیا کی اکثر آبادی کو اپنی چپیٹ میں لے لیا۔

سیکولرازم کے اثرات

سیکولرازم کی تعریف و مفہوم سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ یہ ایک لادینی، مذہب مخالف تحریک ہے جو الحاد سے بہت زیادہ قریب ہے۔ سب سے پہلے سیکولرازم کی اصطلاح متعارف کرانے والا جارج جیکب اگرچہ اس کے لا دینی نہ ہونے کا قائل تھا مگر بعد میں سیکولرازم نے مذہب کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا اور ایک مذہب مخالف تحریک کی شکل میں ابھری۔
سیکولرازم کے نظریے کو عوام میں ایک نجات دہندہ فکر کی شکل میں شائع کیا گیا۔ چونکہ اس دور میں کسی بھی ملک میں متعدد مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ سب کا طریقہ کار دوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے قوانین کو ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے سیکولرازم کا پاٹھ پڑھایا گیا اور اسے بایں طور پیش کیا گیا کہ یہی وہ درخت ہے جس کے سایہ میں تمام مذاہب کے لوگ امن و چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ حقیقت سے غافل لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اور جن لوگوں نے اس پر تنبیہ کی اسے قدامت پسندی کے طعنہ سے مطعون کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکولرازم دانستہ و غیر دانستہ طور پر اذہان میں گھر کر گیا اور لوگوں کی گردنوں سے مذہب کا قلادہ اتار کر پھینک دیا۔
اس دور میں تقریبا تمام ممالک دانستہ و غیر دانستہ طور پر سیکولرازم ہی کے پیرو ہیں۔ ہمارے یہاں ملک ہندوستان میں سیکولرازم کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں ایک وہ جو حقیقت میں سیکولرازم ہے (آئین ہند کی بنیاد بھی اسی پر ہے) اور دوسری وہ جو ہمارے یہاں مشہور ہے۔ یعنی اپنے مذہب کو مانو، تمام مذاہب کی عزت کرو اور ان کے رسومات میں عملی طور پر شریک رہو۔ سیکولرازم کی یہ دونوں قسمیں غیر شرعی ہیں۔ جن کو اپنانا اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن پہلی قسم دوسری قسم سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
سیکولرازم کے اثرات صرف مذہب تک محدود نہیں رہے، بلکہ مذہب سے قطع نظر اس کے اثرات دوسرے شعبہ جات میں بھی پھیلے۔ سیکولرازم کے اثرات کے باعث جب مذہب کی حیثیت و وقعت کم ہوئی، تو معاشیات، سیاسیات اور اسی طرح تعلیمی و سماجی نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔

معاشرتی نظام پر سیکولرازم کا اثر

معاشرتی نظام انسانی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انسان کا بنیادی مسئلہ اور اس کی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ سیکولرازم نے معاشرتی نظام پر غیر معمولی اثر مرتب کیا۔ اہل یورپ سیکولرازم کے زیر اثر آنے سے قبل اپنے معاشرے میں مذہبی آئین کے سبب عفت و عصمت کی پاسداری کرتے تھے۔ معاشرہ میں اخلاقی اقدار زندہ تھیں اور لوگ با حیا، با رونق مذہبی زندگی گزارتے تھے۔ سیکولرازم کے باعث اس میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ حیا کی جگہ بے حیائی نے لے لی، خاندانی اور روایتی نظام پارہ پارہ ہو گیا، فحاشی و عریانیت کا ایک ایسا سیلاب امڑا جس نے پورے معاشرے کو تہذیب و تمدن سے عاری کر دیا اور پاکباز مذہبی معاشرتی نظام کو درہم برہم کر دیا۔

سیاسی نظام پر سیکولرازم کا اثر

سیاسی نظام پر سیکولرازم کچھ اس طرح اثر انداز ہوا کہ سیاست کی شکل و صورت کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ سیاست ایک مدت تک مذہبی و تہذیبی لباس میں ملبوس رہی لیکن سیکولرازم نے اسے لادینیت کی عریانیت کی جانب دھکیل دیا اور مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے متبائن قرار دے دیا۔ جدید سیکولر مغربی مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب کا ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور سیاست کو مذہبی بندشوں سے آزاد ہونا چاہیے۔

معاشی نظام پر سیکولرازم کا اثر

انسانی زندگی میں معاشیات کی قدر و منزلت ناقابل انکار ہے۔ معیشت کے بغیر خوبصورت انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سیکولرازم نے معاشی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور مذہبی رواداریوں کو معاشیات سے یکسر ختم کر دیا۔ لوگوں کے اذہان سے حلال و حرام، ممنوع و مباح، مشروع و غیر مشروع کا فرق ختم ہو گیا اور سودی کاروبار، سٹہ بازاری، قمار بازی جیسی پلید اور گھناؤنی چیزوں کو شیر مادر شمار کر صنعت و تجارت کے پورے نظام کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔

تعلیمی نظام پر سیکولرازم کا اثر

جس طرح سے سیکولرازم نے معاشرتی، سیاسی، معاشی نظاموں کو اپنے زیر اثر کر مذہب سے دور و نفور کیا اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی مذہب کی کوئی جگہ باقی نہ رکھی۔ جیسا کہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ہے۔
Of education instruction : Relating to non-religious subjects.
یعنی تعلیمی نظام غیر مذہبی مضامین سے متعلق ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان کے علاوہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات پر سیکولرازم کی تحریک نے بھرپور اثر کیا اور مذہب کو فقط عبادت گاہ تک محدود کر دیا۔ سیکولرازم نے اب تک جس مذہب پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ عیسائیت ہے۔ دنیا میں عیسائی آبادی ۳۱.۲ فیصد ہے، اس کے باوجود ان میں تصلب فی الدین کا مادہ کلیۃً مفقود ہے اور اس کی وجہ سیکولرازم ہی ہے۔ عیسائیت کے بعد سیکولرازم کا سب سے بڑا ٹارگیٹ اور اس کے آگے سب سے بڑی دیوار اسلام ہے۔ اس دور میں سیکولرازم کا مقصد اصلی اور مرکزِ نگاہ اسلام پر اثرانداز ہو کر مسلمانوں کو اپنا اسیر بنانا ہے۔ کچھ حد تک سیکولرازم کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ملک عزیز ہندوستان کے حالات کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں، پورے ملک میں قرون وسطٰی کے یورپ کی طرح مذہبی تشدد عام ہے، حکومت ہند مذہبی متشددین کے زیر اثر ہے۔ اسے بھی کسی نہ کسی دن زائل ہونا ہی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اس کے تشدد سے دوچار ہوں گے وہ آئندہ زمانے میں سیکولرازم کو اپنی پناہ گاہ بنائیں گے اور پورے ملک میں اسے عام کرنے کی کوشش کریں گے، جس کا اثر اقوام مسلمین پر پڑنا واجبی ہے۔
لہذا اہل علم کو چاہیے کہ اس مہلک وبا کا بروقت علاج کر اپنا فرض منصبی ادا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
راقم الحروف
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور اپنے محبوب کا دامن پر امن عطا فرمایا۔ مسلمانانِ عالم کو اپنے دام فریب میں الجھانے کے لیے شیطان نے متعدد جال پھینک رکھے ہیں۔ سیکولرازم ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ جو دین کے وجود کو برابر کاٹتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک میں سیکولرازم نافذ ہے جو بظاہر لوگوں کے درمیان فرق کو مٹاتا اور مساوات کو قائم کرتا ہے۔ حالانکہ سیکولرازم کا یہ دستور العمل صرف دکھاوا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دنیا میں خدا پرستی کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے بلکہ لادینیت کی پہلی سیڑھی کا نام سیکولرازم ہے۔

سیکولرازم کی تعریف

سیکولرازم کی تعریف میں اختلاف بکثرت واقع ہے جس کی تفصیل اس موضوع کی کتب میں بآسانی مل جائے گی۔ یہاں طوالت سے بچتے ہوئے تعریف مشہور پر اکتفا کیا جاتا ہے:
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔

سیکولرازم کے معانی و مفاہیم

تعریف کے بعد مفاہیم کو بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں رہتی مگر
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے کہ سیکولرازم، لادینیت کی سیڑھی ہے، قرائن و احوال اس پر واضح دلیل ہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان امور کا اہتمام کریں، جن سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہو جائے۔
قارئین کرام: سیکولرازم کے تمام مقاصد کا اصل مرکز لادینیت ہے، انگریزی زبان کی کثیر لغات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ انگریزی کی مستند لغت دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں سیکولر ازم کے مندرجہ ذیل معنی بیان کیے گئے ہیں:
The doctrine that morality should be based soley on regard to the well-being of mankind in the present life to the exclusion of all considerations drawn from belief in God or in a future state
یہ نظریہ کہ خدا یا عقبیٰ کے اعتقاد سے اخذ شدہ تمام ملحوظات کو ترک کر اخلاقیات کو صرف بنی نوع انسان کی موجودہ زندگی کی فلاح و بہبود کے لحاظ پر مبنی ہونا چاہیے۔
انگریزی اصطلاحات کی معتبر قاموس انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں سیکولر ازم کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔
A movement in society directed away from otherworldliness to life on earth.
سماج میں اخرویت سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی ایک تحریک۔
دی نیو انٹر نیشنل انسائیکلوپیڈیا میں سیکولرازم کے مفہوم کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
As its name implies, it concentrates its attention upon the present life, neither denying nor affirming the existence of another. It inculcates an ethics not depent in any way on religion, although it does not formaly deny the truth of any religion.
یہ نام (سیکولرازم) جیسا کہ دلالت کرتا ہے، موجودہ زندگی کی طرف انسان کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نہ کسی چیز کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے وجود کی توثیق کرتا ہے۔ اور یہ مذہب پر انحصار کے بجائے اخلاقیات کو ذہن نشین کراتا ہے۔ اگر چہ یہ (نظریہ ) با قاعدہ طور پر کسی مذہب کی حقانیت کا انکار نہیں کرتا۔
چیمبرز انگلش ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی یوں بیان کیے گئے ہیں:
The belief that the state, morals, education etc should be independent of religion.
اس بات کا یقین کرنا کہ ریاست، اخلاقیات اور تعلیم وغیرہ کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے
ان تمام مفاہیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ بات کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ تحریک مذہب مخالف، لادینیت کی ترویج کرنے والی اور مذہبی عقائد و اعمال کی تردید کرنے والی تحریک ہے۔

سیکولرازم کی ابتدا

یورپ میں مسیحی علما و مقتدایان کا دبدبہ تھا۔ مذہب کے نام پر عوام کو پریشان کرنا، رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگانا، ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ حکام و سلاطین بھی ان مذہبی بھیڑیوں کے زیر اثر تھے۔ عوام کا چاروں طرف سے استحصال ہو رہا تھا۔ حتی کہ سائنس کا دور آیا، سائنسی ایجادات سے مذہبی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، چرچ کا تشخص متزلزل ہوا، جس کے نتیجہ میں چرچ نے سائنسدانوں کی کاوشوں کو بری طرح سے کچلا، بڑے بڑے سائنسدانوں کو سزائیں دی گئیں، زندہ جلا دیا گیا، قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور رجوع کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم و زیادتی کی بنا پر سائنسدانوں نے شدت سے مذہب بیزاری کی تحریک چلائی اور عوام کے سامنے مذہب کو ظلم و تشدد کا منبع و مصدر قرار دیا۔
اگرچہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے ساتھ زمانہ قدیم سے دنیا میں چلی آ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس کی اصطلاح متعارف نہ تھی۔ ۱۸۵۱ء اور بقول بعض ۱۸۴۶ء میں سیکولرازم کی اصطلاح سب سے پہلے برطانوی مصنف George Jacob نے متعارف کروائی اور ۱۸۵۷ء میں اسی نے لندن میں سینٹرل سیکولر سوسائٹی Central Secular Society قائم کی اور یوں سیکولرازم کی با قاعدہ ترویج شروع ہوگئی اور دھیرے دھیرے اس نے پورے یورپ بلکہ دنیا کی اکثر آبادی کو اپنی چپیٹ میں لے لیا۔

سیکولرازم کے اثرات

سیکولرازم کی تعریف و مفہوم سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ یہ ایک لادینی، مذہب مخالف تحریک ہے جو الحاد سے بہت زیادہ قریب ہے۔ سب سے پہلے سیکولرازم کی اصطلاح متعارف کرانے والا جارج جیکب اگرچہ اس کے لا دینی نہ ہونے کا قائل تھا مگر بعد میں سیکولرازم نے مذہب کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا اور ایک مذہب مخالف تحریک کی شکل میں ابھری۔
سیکولرازم کے نظریے کو عوام میں ایک نجات دہندہ فکر کی شکل میں شائع کیا گیا۔ چونکہ اس دور میں کسی بھی ملک میں متعدد مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ سب کا طریقہ کار دوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے قوانین کو ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے سیکولرازم کا پاٹھ پڑھایا گیا اور اسے بایں طور پیش کیا گیا کہ یہی وہ درخت ہے جس کے سایہ میں تمام مذاہب کے لوگ امن و چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ حقیقت سے غافل لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اور جن لوگوں نے اس پر تنبیہ کی اسے قدامت پسندی کے طعنہ سے مطعون کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکولرازم دانستہ و غیر دانستہ طور پر اذہان میں گھر کر گیا اور لوگوں کی گردنوں سے مذہب کا قلادہ اتار کر پھینک دیا۔
اس دور میں تقریبا تمام ممالک دانستہ و غیر دانستہ طور پر سیکولرازم ہی کے پیرو ہیں۔ ہمارے یہاں ملک ہندوستان میں سیکولرازم کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں ایک وہ جو حقیقت میں سیکولرازم ہے (آئین ہند کی بنیاد بھی اسی پر ہے) اور دوسری وہ جو ہمارے یہاں مشہور ہے۔ یعنی اپنے مذہب کو مانو، تمام مذاہب کی عزت کرو اور ان کے رسومات میں عملی طور پر شریک رہو۔ سیکولرازم کی یہ دونوں قسمیں غیر شرعی ہیں۔ جن کو اپنانا اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن پہلی قسم دوسری قسم سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
سیکولرازم کے اثرات صرف مذہب تک محدود نہیں رہے، بلکہ مذہب سے قطع نظر اس کے اثرات دوسرے شعبہ جات میں بھی پھیلے۔ سیکولرازم کے اثرات کے باعث جب مذہب کی حیثیت و وقعت کم ہوئی، تو معاشیات، سیاسیات اور اسی طرح تعلیمی و سماجی نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔

معاشرتی نظام پر سیکولرازم کا اثر

معاشرتی نظام انسانی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انسان کا بنیادی مسئلہ اور اس کی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ سیکولرازم نے معاشرتی نظام پر غیر معمولی اثر مرتب کیا۔ اہل یورپ سیکولرازم کے زیر اثر آنے سے قبل اپنے معاشرے میں مذہبی آئین کے سبب عفت و عصمت کی پاسداری کرتے تھے۔ معاشرہ میں اخلاقی اقدار زندہ تھیں اور لوگ با حیا، با رونق مذہبی زندگی گزارتے تھے۔ سیکولرازم کے باعث اس میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ حیا کی جگہ بے حیائی نے لے لی، خاندانی اور روایتی نظام پارہ پارہ ہو گیا، فحاشی و عریانیت کا ایک ایسا سیلاب امڑا جس نے پورے معاشرے کو تہذیب و تمدن سے عاری کر دیا اور پاکباز مذہبی معاشرتی نظام کو درہم برہم کر دیا۔

سیاسی نظام پر سیکولرازم کا اثر

سیاسی نظام پر سیکولرازم کچھ اس طرح اثر انداز ہوا کہ سیاست کی شکل و صورت کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ سیاست ایک مدت تک مذہبی و تہذیبی لباس میں ملبوس رہی لیکن سیکولرازم نے اسے لادینیت کی عریانیت کی جانب دھکیل دیا اور مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے متبائن قرار دے دیا۔ جدید سیکولر مغربی مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب کا ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور سیاست کو مذہبی بندشوں سے آزاد ہونا چاہیے۔

معاشی نظام پر سیکولرازم کا اثر

انسانی زندگی میں معاشیات کی قدر و منزلت ناقابل انکار ہے۔ معیشت کے بغیر خوبصورت انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سیکولرازم نے معاشی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور مذہبی رواداریوں کو معاشیات سے یکسر ختم کر دیا۔ لوگوں کے اذہان سے حلال و حرام، ممنوع و مباح، مشروع و غیر مشروع کا فرق ختم ہو گیا اور سودی کاروبار، سٹہ بازاری، قمار بازی جیسی پلید اور گھناؤنی چیزوں کو شیر مادر شمار کر صنعت و تجارت کے پورے نظام کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔

تعلیمی نظام پر سیکولرازم کا اثر

جس طرح سے سیکولرازم نے معاشرتی، سیاسی، معاشی نظاموں کو اپنے زیر اثر کر مذہب سے دور و نفور کیا اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی مذہب کی کوئی جگہ باقی نہ رکھی۔ جیسا کہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ہے۔
Of education instruction : Relating to non-religious subjects.
یعنی تعلیمی نظام غیر مذہبی مضامین سے متعلق ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان کے علاوہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات پر سیکولرازم کی تحریک نے بھرپور اثر کیا اور مذہب کو فقط عبادت گاہ تک محدود کر دیا۔ سیکولرازم نے اب تک جس مذہب پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ عیسائیت ہے۔ دنیا میں عیسائی آبادی ۳۱.۲ فیصد ہے، اس کے باوجود ان میں تصلب فی الدین کا مادہ کلیۃً مفقود ہے اور اس کی وجہ سیکولرازم ہی ہے۔ عیسائیت کے بعد سیکولرازم کا سب سے بڑا ٹارگیٹ اور اس کے آگے سب سے بڑی دیوار اسلام ہے۔ اس دور میں سیکولرازم کا مقصد اصلی اور مرکزِ نگاہ اسلام پر اثرانداز ہو کر مسلمانوں کو اپنا اسیر بنانا ہے۔ کچھ حد تک سیکولرازم کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ملک عزیز ہندوستان کے حالات کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں، پورے ملک میں قرون وسطٰی کے یورپ کی طرح مذہبی تشدد عام ہے، حکومت ہند مذہبی متشددین کے زیر اثر ہے۔ اسے بھی کسی نہ کسی دن زائل ہونا ہی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اس کے تشدد سے دوچار ہوں گے وہ آئندہ زمانے میں سیکولرازم کو اپنی پناہ گاہ بنائیں گے اور پورے ملک میں اسے عام کرنے کی کوشش کریں گے، جس کا اثر اقوام مسلمین پر پڑنا واجبی ہے۔
لہذا اہل علم کو چاہیے کہ اس مہلک وبا کا بروقت علاج کر اپنا فرض منصبی ادا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
راقم الحروف
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
85
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 44
Kalam 40
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢