صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور اپنے محبوب کا دامن پر امن عطا فرمایا۔ مسلمانانِ عالم کو اپنے دام فریب میں الجھانے کے لیے شیطان نے متعدد جال پھینک رکھے ہیں۔ سیکولرازم ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ جو دین کے وجود کو برابر کاٹتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک میں سیکولرازم نافذ ہے جو بظاہر لوگوں کے درمیان فرق کو مٹاتا اور مساوات کو قائم کرتا ہے۔ حالانکہ سیکولرازم کا یہ دستور العمل صرف دکھاوا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دنیا میں خدا پرستی کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے بلکہ لادینیت کی پہلی سیڑھی کا نام سیکولرازم ہے۔
سیکولرازم کی تعریف
سیکولرازم کی تعریف میں اختلاف بکثرت واقع ہے جس کی تفصیل اس موضوع کی کتب میں بآسانی مل جائے گی۔ یہاں طوالت سے بچتے ہوئے تعریف مشہور پر اکتفا کیا جاتا ہے:
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔
سیکولرازم کے معانی و مفاہیم
تعریف کے بعد مفاہیم کو بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں رہتی مگر
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے کہ سیکولرازم، لادینیت کی سیڑھی ہے، قرائن و احوال اس پر واضح دلیل ہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان امور کا اہتمام کریں، جن سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہو جائے۔
قارئین کرام: سیکولرازم کے تمام مقاصد کا اصل مرکز لادینیت ہے، انگریزی زبان کی کثیر لغات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ انگریزی کی مستند لغت دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں سیکولر ازم کے مندرجہ ذیل معنی بیان کیے گئے ہیں:
The doctrine that morality should be based soley on regard to the well-being of mankind in the present life to the exclusion of all considerations drawn from belief in God or in a future state
یہ نظریہ کہ خدا یا عقبیٰ کے اعتقاد سے اخذ شدہ تمام ملحوظات کو ترک کر اخلاقیات کو صرف بنی نوع انسان کی موجودہ زندگی کی فلاح و بہبود کے لحاظ پر مبنی ہونا چاہیے۔
انگریزی اصطلاحات کی معتبر قاموس انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں سیکولر ازم کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔
A movement in society directed away from otherworldliness to life on earth.
سماج میں اخرویت سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی ایک تحریک۔
دی نیو انٹر نیشنل انسائیکلوپیڈیا میں سیکولرازم کے مفہوم کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
As its name implies, it concentrates its attention upon the present life, neither denying nor affirming the existence of another. It inculcates an ethics not depent in any way on religion, although it does not formaly deny the truth of any religion.
یہ نام (سیکولرازم) جیسا کہ دلالت کرتا ہے، موجودہ زندگی کی طرف انسان کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نہ کسی چیز کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے وجود کی توثیق کرتا ہے۔ اور یہ مذہب پر انحصار کے بجائے اخلاقیات کو ذہن نشین کراتا ہے۔ اگر چہ یہ (نظریہ ) با قاعدہ طور پر کسی مذہب کی حقانیت کا انکار نہیں کرتا۔
چیمبرز انگلش ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی یوں بیان کیے گئے ہیں:
The belief that the state, morals, education etc should be independent of religion.
اس بات کا یقین کرنا کہ ریاست، اخلاقیات اور تعلیم وغیرہ کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے
ان تمام مفاہیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ بات کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ تحریک مذہب مخالف، لادینیت کی ترویج کرنے والی اور مذہبی عقائد و اعمال کی تردید کرنے والی تحریک ہے۔
سیکولرازم کی ابتدا
یورپ میں مسیحی علما و مقتدایان کا دبدبہ تھا۔ مذہب کے نام پر عوام کو پریشان کرنا، رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگانا، ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ حکام و سلاطین بھی ان مذہبی بھیڑیوں کے زیر اثر تھے۔ عوام کا چاروں طرف سے استحصال ہو رہا تھا۔ حتی کہ سائنس کا دور آیا، سائنسی ایجادات سے مذہبی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، چرچ کا تشخص متزلزل ہوا، جس کے نتیجہ میں چرچ نے سائنسدانوں کی کاوشوں کو بری طرح سے کچلا، بڑے بڑے سائنسدانوں کو سزائیں دی گئیں، زندہ جلا دیا گیا، قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور رجوع کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم و زیادتی کی بنا پر سائنسدانوں نے شدت سے مذہب بیزاری کی تحریک چلائی اور عوام کے سامنے مذہب کو ظلم و تشدد کا منبع و مصدر قرار دیا۔
اگرچہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے ساتھ زمانہ قدیم سے دنیا میں چلی آ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس کی اصطلاح متعارف نہ تھی۔ ۱۸۵۱ء اور بقول بعض ۱۸۴۶ء میں سیکولرازم کی اصطلاح سب سے پہلے برطانوی مصنف George Jacob نے متعارف کروائی اور ۱۸۵۷ء میں اسی نے لندن میں سینٹرل سیکولر سوسائٹی Central Secular Society قائم کی اور یوں سیکولرازم کی با قاعدہ ترویج شروع ہوگئی اور دھیرے دھیرے اس نے پورے یورپ بلکہ دنیا کی اکثر آبادی کو اپنی چپیٹ میں لے لیا۔
سیکولرازم کے اثرات
سیکولرازم کی تعریف و مفہوم سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ یہ ایک لادینی، مذہب مخالف تحریک ہے جو الحاد سے بہت زیادہ قریب ہے۔ سب سے پہلے سیکولرازم کی اصطلاح متعارف کرانے والا جارج جیکب اگرچہ اس کے لا دینی نہ ہونے کا قائل تھا مگر بعد میں سیکولرازم نے مذہب کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا اور ایک مذہب مخالف تحریک کی شکل میں ابھری۔
سیکولرازم کے نظریے کو عوام میں ایک نجات دہندہ فکر کی شکل میں شائع کیا گیا۔ چونکہ اس دور میں کسی بھی ملک میں متعدد مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ سب کا طریقہ کار دوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے قوانین کو ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے سیکولرازم کا پاٹھ پڑھایا گیا اور اسے بایں طور پیش کیا گیا کہ یہی وہ درخت ہے جس کے سایہ میں تمام مذاہب کے لوگ امن و چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ حقیقت سے غافل لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اور جن لوگوں نے اس پر تنبیہ کی اسے قدامت پسندی کے طعنہ سے مطعون کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکولرازم دانستہ و غیر دانستہ طور پر اذہان میں گھر کر گیا اور لوگوں کی گردنوں سے مذہب کا قلادہ اتار کر پھینک دیا۔
اس دور میں تقریبا تمام ممالک دانستہ و غیر دانستہ طور پر سیکولرازم ہی کے پیرو ہیں۔ ہمارے یہاں ملک ہندوستان میں سیکولرازم کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں ایک وہ جو حقیقت میں سیکولرازم ہے (آئین ہند کی بنیاد بھی اسی پر ہے) اور دوسری وہ جو ہمارے یہاں مشہور ہے۔ یعنی اپنے مذہب کو مانو، تمام مذاہب کی عزت کرو اور ان کے رسومات میں عملی طور پر شریک رہو۔ سیکولرازم کی یہ دونوں قسمیں غیر شرعی ہیں۔ جن کو اپنانا اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن پہلی قسم دوسری قسم سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
سیکولرازم کے اثرات صرف مذہب تک محدود نہیں رہے، بلکہ مذہب سے قطع نظر اس کے اثرات دوسرے شعبہ جات میں بھی پھیلے۔ سیکولرازم کے اثرات کے باعث جب مذہب کی حیثیت و وقعت کم ہوئی، تو معاشیات، سیاسیات اور اسی طرح تعلیمی و سماجی نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔
معاشرتی نظام پر سیکولرازم کا اثر
معاشرتی نظام انسانی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انسان کا بنیادی مسئلہ اور اس کی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ سیکولرازم نے معاشرتی نظام پر غیر معمولی اثر مرتب کیا۔ اہل یورپ سیکولرازم کے زیر اثر آنے سے قبل اپنے معاشرے میں مذہبی آئین کے سبب عفت و عصمت کی پاسداری کرتے تھے۔ معاشرہ میں اخلاقی اقدار زندہ تھیں اور لوگ با حیا، با رونق مذہبی زندگی گزارتے تھے۔ سیکولرازم کے باعث اس میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ حیا کی جگہ بے حیائی نے لے لی، خاندانی اور روایتی نظام پارہ پارہ ہو گیا، فحاشی و عریانیت کا ایک ایسا سیلاب امڑا جس نے پورے معاشرے کو تہذیب و تمدن سے عاری کر دیا اور پاکباز مذہبی معاشرتی نظام کو درہم برہم کر دیا۔
سیاسی نظام پر سیکولرازم کا اثر
سیاسی نظام پر سیکولرازم کچھ اس طرح اثر انداز ہوا کہ سیاست کی شکل و صورت کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ سیاست ایک مدت تک مذہبی و تہذیبی لباس میں ملبوس رہی لیکن سیکولرازم نے اسے لادینیت کی عریانیت کی جانب دھکیل دیا اور مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے متبائن قرار دے دیا۔ جدید سیکولر مغربی مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب کا ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور سیاست کو مذہبی بندشوں سے آزاد ہونا چاہیے۔
معاشی نظام پر سیکولرازم کا اثر
انسانی زندگی میں معاشیات کی قدر و منزلت ناقابل انکار ہے۔ معیشت کے بغیر خوبصورت انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سیکولرازم نے معاشی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور مذہبی رواداریوں کو معاشیات سے یکسر ختم کر دیا۔ لوگوں کے اذہان سے حلال و حرام، ممنوع و مباح، مشروع و غیر مشروع کا فرق ختم ہو گیا اور سودی کاروبار، سٹہ بازاری، قمار بازی جیسی پلید اور گھناؤنی چیزوں کو شیر مادر شمار کر صنعت و تجارت کے پورے نظام کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔
تعلیمی نظام پر سیکولرازم کا اثر
جس طرح سے سیکولرازم نے معاشرتی، سیاسی، معاشی نظاموں کو اپنے زیر اثر کر مذہب سے دور و نفور کیا اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی مذہب کی کوئی جگہ باقی نہ رکھی۔ جیسا کہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ہے۔
Of education instruction : Relating to non-religious subjects.
یعنی تعلیمی نظام غیر مذہبی مضامین سے متعلق ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان کے علاوہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات پر سیکولرازم کی تحریک نے بھرپور اثر کیا اور مذہب کو فقط عبادت گاہ تک محدود کر دیا۔ سیکولرازم نے اب تک جس مذہب پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ عیسائیت ہے۔ دنیا میں عیسائی آبادی ۳۱.۲ فیصد ہے، اس کے باوجود ان میں تصلب فی الدین کا مادہ کلیۃً مفقود ہے اور اس کی وجہ سیکولرازم ہی ہے۔ عیسائیت کے بعد سیکولرازم کا سب سے بڑا ٹارگیٹ اور اس کے آگے سب سے بڑی دیوار اسلام ہے۔ اس دور میں سیکولرازم کا مقصد اصلی اور مرکزِ نگاہ اسلام پر اثرانداز ہو کر مسلمانوں کو اپنا اسیر بنانا ہے۔ کچھ حد تک سیکولرازم کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ملک عزیز ہندوستان کے حالات کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں، پورے ملک میں قرون وسطٰی کے یورپ کی طرح مذہبی تشدد عام ہے، حکومت ہند مذہبی متشددین کے زیر اثر ہے۔ اسے بھی کسی نہ کسی دن زائل ہونا ہی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اس کے تشدد سے دوچار ہوں گے وہ آئندہ زمانے میں سیکولرازم کو اپنی پناہ گاہ بنائیں گے اور پورے ملک میں اسے عام کرنے کی کوشش کریں گے، جس کا اثر اقوام مسلمین پر پڑنا واجبی ہے۔
لہذا اہل علم کو چاہیے کہ اس مہلک وبا کا بروقت علاج کر اپنا فرض منصبی ادا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
راقم الحروف
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور اپنے محبوب کا دامن پر امن عطا فرمایا۔ مسلمانانِ عالم کو اپنے دام فریب میں الجھانے کے لیے شیطان نے متعدد جال پھینک رکھے ہیں۔ سیکولرازم ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک زہر قاتل ہے۔ جو دین کے وجود کو برابر کاٹتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک میں سیکولرازم نافذ ہے جو بظاہر لوگوں کے درمیان فرق کو مٹاتا اور مساوات کو قائم کرتا ہے۔ حالانکہ سیکولرازم کا یہ دستور العمل صرف دکھاوا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دنیا میں خدا پرستی کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے بلکہ لادینیت کی پہلی سیڑھی کا نام سیکولرازم ہے۔
سیکولرازم کی تعریف
سیکولرازم کی تعریف میں اختلاف بکثرت واقع ہے جس کی تفصیل اس موضوع کی کتب میں بآسانی مل جائے گی۔ یہاں طوالت سے بچتے ہوئے تعریف مشہور پر اکتفا کیا جاتا ہے:
دین کو معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی سے نکال دینا۔
سیکولرازم کے معانی و مفاہیم
تعریف کے بعد مفاہیم کو بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں رہتی مگر
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے کہ سیکولرازم، لادینیت کی سیڑھی ہے، قرائن و احوال اس پر واضح دلیل ہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان امور کا اہتمام کریں، جن سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہو جائے۔
قارئین کرام: سیکولرازم کے تمام مقاصد کا اصل مرکز لادینیت ہے، انگریزی زبان کی کثیر لغات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ انگریزی کی مستند لغت دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں سیکولر ازم کے مندرجہ ذیل معنی بیان کیے گئے ہیں:
The doctrine that morality should be based soley on regard to the well-being of mankind in the present life to the exclusion of all considerations drawn from belief in God or in a future state
یہ نظریہ کہ خدا یا عقبیٰ کے اعتقاد سے اخذ شدہ تمام ملحوظات کو ترک کر اخلاقیات کو صرف بنی نوع انسان کی موجودہ زندگی کی فلاح و بہبود کے لحاظ پر مبنی ہونا چاہیے۔
انگریزی اصطلاحات کی معتبر قاموس انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں سیکولر ازم کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔
A movement in society directed away from otherworldliness to life on earth.
سماج میں اخرویت سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی ایک تحریک۔
دی نیو انٹر نیشنل انسائیکلوپیڈیا میں سیکولرازم کے مفہوم کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
As its name implies, it concentrates its attention upon the present life, neither denying nor affirming the existence of another. It inculcates an ethics not depent in any way on religion, although it does not formaly deny the truth of any religion.
یہ نام (سیکولرازم) جیسا کہ دلالت کرتا ہے، موجودہ زندگی کی طرف انسان کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نہ کسی چیز کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے وجود کی توثیق کرتا ہے۔ اور یہ مذہب پر انحصار کے بجائے اخلاقیات کو ذہن نشین کراتا ہے۔ اگر چہ یہ (نظریہ ) با قاعدہ طور پر کسی مذہب کی حقانیت کا انکار نہیں کرتا۔
چیمبرز انگلش ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی یوں بیان کیے گئے ہیں:
The belief that the state, morals, education etc should be independent of religion.
اس بات کا یقین کرنا کہ ریاست، اخلاقیات اور تعلیم وغیرہ کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے
ان تمام مفاہیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ بات کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ تحریک مذہب مخالف، لادینیت کی ترویج کرنے والی اور مذہبی عقائد و اعمال کی تردید کرنے والی تحریک ہے۔
سیکولرازم کی ابتدا
یورپ میں مسیحی علما و مقتدایان کا دبدبہ تھا۔ مذہب کے نام پر عوام کو پریشان کرنا، رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگانا، ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ حکام و سلاطین بھی ان مذہبی بھیڑیوں کے زیر اثر تھے۔ عوام کا چاروں طرف سے استحصال ہو رہا تھا۔ حتی کہ سائنس کا دور آیا، سائنسی ایجادات سے مذہبی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، چرچ کا تشخص متزلزل ہوا، جس کے نتیجہ میں چرچ نے سائنسدانوں کی کاوشوں کو بری طرح سے کچلا، بڑے بڑے سائنسدانوں کو سزائیں دی گئیں، زندہ جلا دیا گیا، قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور رجوع کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم و زیادتی کی بنا پر سائنسدانوں نے شدت سے مذہب بیزاری کی تحریک چلائی اور عوام کے سامنے مذہب کو ظلم و تشدد کا منبع و مصدر قرار دیا۔
اگرچہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے ساتھ زمانہ قدیم سے دنیا میں چلی آ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس کی اصطلاح متعارف نہ تھی۔ ۱۸۵۱ء اور بقول بعض ۱۸۴۶ء میں سیکولرازم کی اصطلاح سب سے پہلے برطانوی مصنف George Jacob نے متعارف کروائی اور ۱۸۵۷ء میں اسی نے لندن میں سینٹرل سیکولر سوسائٹی Central Secular Society قائم کی اور یوں سیکولرازم کی با قاعدہ ترویج شروع ہوگئی اور دھیرے دھیرے اس نے پورے یورپ بلکہ دنیا کی اکثر آبادی کو اپنی چپیٹ میں لے لیا۔
سیکولرازم کے اثرات
سیکولرازم کی تعریف و مفہوم سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ یہ ایک لادینی، مذہب مخالف تحریک ہے جو الحاد سے بہت زیادہ قریب ہے۔ سب سے پہلے سیکولرازم کی اصطلاح متعارف کرانے والا جارج جیکب اگرچہ اس کے لا دینی نہ ہونے کا قائل تھا مگر بعد میں سیکولرازم نے مذہب کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا اور ایک مذہب مخالف تحریک کی شکل میں ابھری۔
سیکولرازم کے نظریے کو عوام میں ایک نجات دہندہ فکر کی شکل میں شائع کیا گیا۔ چونکہ اس دور میں کسی بھی ملک میں متعدد مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ سب کا طریقہ کار دوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے قوانین کو ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے سیکولرازم کا پاٹھ پڑھایا گیا اور اسے بایں طور پیش کیا گیا کہ یہی وہ درخت ہے جس کے سایہ میں تمام مذاہب کے لوگ امن و چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ حقیقت سے غافل لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اور جن لوگوں نے اس پر تنبیہ کی اسے قدامت پسندی کے طعنہ سے مطعون کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکولرازم دانستہ و غیر دانستہ طور پر اذہان میں گھر کر گیا اور لوگوں کی گردنوں سے مذہب کا قلادہ اتار کر پھینک دیا۔
اس دور میں تقریبا تمام ممالک دانستہ و غیر دانستہ طور پر سیکولرازم ہی کے پیرو ہیں۔ ہمارے یہاں ملک ہندوستان میں سیکولرازم کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں ایک وہ جو حقیقت میں سیکولرازم ہے (آئین ہند کی بنیاد بھی اسی پر ہے) اور دوسری وہ جو ہمارے یہاں مشہور ہے۔ یعنی اپنے مذہب کو مانو، تمام مذاہب کی عزت کرو اور ان کے رسومات میں عملی طور پر شریک رہو۔ سیکولرازم کی یہ دونوں قسمیں غیر شرعی ہیں۔ جن کو اپنانا اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن پہلی قسم دوسری قسم سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
سیکولرازم کے اثرات صرف مذہب تک محدود نہیں رہے، بلکہ مذہب سے قطع نظر اس کے اثرات دوسرے شعبہ جات میں بھی پھیلے۔ سیکولرازم کے اثرات کے باعث جب مذہب کی حیثیت و وقعت کم ہوئی، تو معاشیات، سیاسیات اور اسی طرح تعلیمی و سماجی نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔
معاشرتی نظام پر سیکولرازم کا اثر
معاشرتی نظام انسانی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انسان کا بنیادی مسئلہ اور اس کی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ سیکولرازم نے معاشرتی نظام پر غیر معمولی اثر مرتب کیا۔ اہل یورپ سیکولرازم کے زیر اثر آنے سے قبل اپنے معاشرے میں مذہبی آئین کے سبب عفت و عصمت کی پاسداری کرتے تھے۔ معاشرہ میں اخلاقی اقدار زندہ تھیں اور لوگ با حیا، با رونق مذہبی زندگی گزارتے تھے۔ سیکولرازم کے باعث اس میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ حیا کی جگہ بے حیائی نے لے لی، خاندانی اور روایتی نظام پارہ پارہ ہو گیا، فحاشی و عریانیت کا ایک ایسا سیلاب امڑا جس نے پورے معاشرے کو تہذیب و تمدن سے عاری کر دیا اور پاکباز مذہبی معاشرتی نظام کو درہم برہم کر دیا۔
سیاسی نظام پر سیکولرازم کا اثر
سیاسی نظام پر سیکولرازم کچھ اس طرح اثر انداز ہوا کہ سیاست کی شکل و صورت کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ سیاست ایک مدت تک مذہبی و تہذیبی لباس میں ملبوس رہی لیکن سیکولرازم نے اسے لادینیت کی عریانیت کی جانب دھکیل دیا اور مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے متبائن قرار دے دیا۔ جدید سیکولر مغربی مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب کا ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور سیاست کو مذہبی بندشوں سے آزاد ہونا چاہیے۔
معاشی نظام پر سیکولرازم کا اثر
انسانی زندگی میں معاشیات کی قدر و منزلت ناقابل انکار ہے۔ معیشت کے بغیر خوبصورت انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سیکولرازم نے معاشی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور مذہبی رواداریوں کو معاشیات سے یکسر ختم کر دیا۔ لوگوں کے اذہان سے حلال و حرام، ممنوع و مباح، مشروع و غیر مشروع کا فرق ختم ہو گیا اور سودی کاروبار، سٹہ بازاری، قمار بازی جیسی پلید اور گھناؤنی چیزوں کو شیر مادر شمار کر صنعت و تجارت کے پورے نظام کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔
تعلیمی نظام پر سیکولرازم کا اثر
جس طرح سے سیکولرازم نے معاشرتی، سیاسی، معاشی نظاموں کو اپنے زیر اثر کر مذہب سے دور و نفور کیا اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی مذہب کی کوئی جگہ باقی نہ رکھی۔ جیسا کہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ہے۔
Of education instruction : Relating to non-religious subjects.
یعنی تعلیمی نظام غیر مذہبی مضامین سے متعلق ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان کے علاوہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات پر سیکولرازم کی تحریک نے بھرپور اثر کیا اور مذہب کو فقط عبادت گاہ تک محدود کر دیا۔ سیکولرازم نے اب تک جس مذہب پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ عیسائیت ہے۔ دنیا میں عیسائی آبادی ۳۱.۲ فیصد ہے، اس کے باوجود ان میں تصلب فی الدین کا مادہ کلیۃً مفقود ہے اور اس کی وجہ سیکولرازم ہی ہے۔ عیسائیت کے بعد سیکولرازم کا سب سے بڑا ٹارگیٹ اور اس کے آگے سب سے بڑی دیوار اسلام ہے۔ اس دور میں سیکولرازم کا مقصد اصلی اور مرکزِ نگاہ اسلام پر اثرانداز ہو کر مسلمانوں کو اپنا اسیر بنانا ہے۔ کچھ حد تک سیکولرازم کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ملک عزیز ہندوستان کے حالات کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں، پورے ملک میں قرون وسطٰی کے یورپ کی طرح مذہبی تشدد عام ہے، حکومت ہند مذہبی متشددین کے زیر اثر ہے۔ اسے بھی کسی نہ کسی دن زائل ہونا ہی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اس کے تشدد سے دوچار ہوں گے وہ آئندہ زمانے میں سیکولرازم کو اپنی پناہ گاہ بنائیں گے اور پورے ملک میں اسے عام کرنے کی کوشش کریں گے، جس کا اثر اقوام مسلمین پر پڑنا واجبی ہے۔
لہذا اہل علم کو چاہیے کہ اس مہلک وبا کا بروقت علاج کر اپنا فرض منصبی ادا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
راقم الحروف
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323
Author Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

اس کاتب کی تفصیل موجود نہیں ہے۔

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا - سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔ اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0