یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ترغیبات
یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!
یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!
دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض تعلیم و تعلم کے لیے نہیں ہوا بلکہ تزکیۂ نفس، حفاظت دین اور اقامتِ شریعت کے لیے عمل میں آیا ہے۔
یہاں وہ افراد پروان چڑھتے ہیں جو زمانے میں باطل کے خلاف سینہ سپر اور حرمتِ اسلام کے علمبردار ہوتے ہیں جن کے دلوں میں شرم، حیا، غیرت اور حمیت کا چراغ روشن ہوتا ہے، یہاں کا ہر ہر ذرہ خدا کی اطاعت کا پیغام دیتا ہے۔
مگر صد حیف آج وہی ادارے تماشہ گاہ، کیمرہ ہاؤس اور شہرت یابی کے اڈے بن چکے ہیں، یوم ازادی کے نام پر جن دینی اداروں میں بے حیائی جاہلیت اور غیر شرعی رسومات کا اعلانیہ طوفان برپا ہے وہ نہ صرف اسلامی شریعت کی توہین ہے بلکہ ان مقدس اداروں کی روح کے ساتھ صریح خیانت بھی ہے،
بچیوں کے اسٹیج پر نمائش، رقص نما حرکات، ملی ترانوں کے نام پر فحاشی، رنگ برنگے لباس اور نامحرم نگاہوں کے سامنے پاک دامن بچیوں کی پیش رفتی — یہ سب کچھ نہ صرف اسلامی غیرت کی تذلیل ہے بلکہ نسل نو کی روحانی تباہی کا اعلان بھی ہے
بچیوں کے اسٹیج پر نمائش، رقص نما حرکات، ملی ترانوں کے نام پر فحاشی، رنگ برنگے لباس اور نامحرم نگاہوں کے سامنے پاک دامن بچیوں کی پیش رفتی — یہ سب کچھ نہ صرف اسلامی غیرت کی تذلیل ہے بلکہ نسل نو کی روحانی تباہی کا اعلان بھی ہے

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!
مضمون نگار: Md Razaullah Quadri Markazi
یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!
دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض تعلیم و تعلم کے لیے نہیں ہوا بلکہ تزکیۂ نفس، حفاظت دین اور اقامتِ شریعت کے لیے عمل میں آیا ہے۔
یہاں وہ افراد پروان چڑھتے ہیں جو زمانے میں باطل کے خلاف سینہ سپر اور حرمتِ اسلام کے علمبردار ہوتے ہیں جن کے دلوں میں شرم، حیا، غیرت اور حمیت کا چراغ روشن ہوتا ہے، یہاں کا ہر ہر ذرہ خدا کی اطاعت کا پیغام دیتا ہے۔
مگر صد حیف آج وہی ادارے تماشہ گاہ، کیمرہ ہاؤس اور شہرت یابی کے اڈے بن چکے ہیں، یوم ازادی کے نام پر جن دینی اداروں میں بے حیائی جاہلیت اور غیر شرعی رسومات کا اعلانیہ طوفان برپا ہے وہ نہ صرف اسلامی شریعت کی توہین ہے بلکہ ان مقدس اداروں کی روح کے ساتھ صریح خیانت بھی ہے،
بچیوں کے اسٹیج پر نمائش، رقص نما حرکات، ملی ترانوں کے نام پر فحاشی، رنگ برنگے لباس اور نامحرم نگاہوں کے سامنے پاک دامن بچیوں کی پیش رفتی — یہ سب کچھ نہ صرف اسلامی غیرت کی تذلیل ہے بلکہ نسل نو کی روحانی تباہی کا اعلان بھی ہے
بچیوں کے اسٹیج پر نمائش، رقص نما حرکات، ملی ترانوں کے نام پر فحاشی، رنگ برنگے لباس اور نامحرم نگاہوں کے سامنے پاک دامن بچیوں کی پیش رفتی — یہ سب کچھ نہ صرف اسلامی غیرت کی تذلیل ہے بلکہ نسل نو کی روحانی تباہی کا اعلان بھی ہے
اس پر مستزاد یہ کہ ویڈیوز اور تصاویر کی لعنت نے حیا کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی ہے، کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر ننھی ننھی تصور کی جانے والی بچیاں وہ حرکات دہرا رہی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک خدا ترس دل کانپ اٹھے، ساتھ ہی ان ویڈیوز اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر بڑے فخر کے ساتھ اپلوڈ کیا جاتا ہے گویا کہ معصیت کی تشہیر کوئی کار ثواب ہو، افسوس کہ یہ سب کچھ کام اللہ کے دین کے نام اور یوم آزادی کے جشن کے نام پر دینی اداروں کی عمارتوں میں انجام پارہا ہے،
کیا یہ وہ قوم ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناموس قرار دیا۔؟
کیا یہی وہ ملت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے الحیاء شعبۃ من الایمان„۔۔؟
وہ غیرت وہ حیا وہ دینی وقار اور دین کا جذبہ اور درد کہاں چلے گئے۔۔؟
کیا یہ وہ قوم ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناموس قرار دیا۔؟
کیا یہی وہ ملت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے الحیاء شعبۃ من الایمان„۔۔؟
وہ غیرت وہ حیا وہ دینی وقار اور دین کا جذبہ اور درد کہاں چلے گئے۔۔؟
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اخر ان تمام خرافات کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔؟
یقینا اس کے ذمہ دار وہ ناظمین ہیں جو پروگرام کی کامیابی پر خوب واہ واہی لوٹتے ہیں، وہ اساتذہ ہیں جو خاموشی سے تماشہ بنے رہتے ہیں اور وہ والدین ہیں جو اپنی بچیوں کو گڑیا سمجھ کر نمائش کے لیے پیش کرتے ہیں یہ سب کے سب عند اللہ
جواب دہ ضرور ہوں گے۔
یقینا اس کے ذمہ دار وہ ناظمین ہیں جو پروگرام کی کامیابی پر خوب واہ واہی لوٹتے ہیں، وہ اساتذہ ہیں جو خاموشی سے تماشہ بنے رہتے ہیں اور وہ والدین ہیں جو اپنی بچیوں کو گڑیا سمجھ کر نمائش کے لیے پیش کرتے ہیں یہ سب کے سب عند اللہ
جواب دہ ضرور ہوں گے۔
یاد رکھیں مدارس کا وجود دینی فروخت کے لیے ہے نہ کہ بدعات اور غیر شرعی رسومات کے اجراء کے لیے، اگر یہی صورت حال رہی اور ہم نے ابھی آنکھ نہ کھولی تو ان اداروں سے وہ روح نکل جائے گی جو انہیں باطل کے مقابل علم و عمل کے شمشیر بناتی ہیں پھر یہ علم و عمل کے قلعے نہیں بلکہ فتنوں کے مراکز بن جائیں گے۔"
رب قدیر ہمارے حال پر رحم فرما اور ہمارے اداروں کو ریاکاری، غیر شرعی رسومات اور فتنوں کے زہر سے محفوظ فرما آمین
اور ہمیں وہ بصیرت و استقامت عطا فرما جس سے ہم حق کو حق سمجھ کر اپنائیں اور باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑ دیں وہ غیرت بخش جو ہماری بچیوں کی عصمت کا محافظ بنے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
رب قدیر ہمارے حال پر رحم فرما اور ہمارے اداروں کو ریاکاری، غیر شرعی رسومات اور فتنوں کے زہر سے محفوظ فرما آمین
اور ہمیں وہ بصیرت و استقامت عطا فرما جس سے ہم حق کو حق سمجھ کر اپنائیں اور باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑ دیں وہ غیرت بخش جو ہماری بچیوں کی عصمت کا محافظ بنے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم










