یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

دفاع اہل سنت
کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں عبادت کا مفہوم اور مرکزِ عقیدت کا دائرۂ کار یکساں نہیں ہوتا۔ اسلام، جس کی بنیاد عقیدۂ توحید پر استوار ہے، بندگی کو صرف اور صرف ذاتِ واحد، خالقِ کائنات، اللہ رب العزت کے لیے خاص قرار دیتا ہے؛ جب کہ دیگر ادیان میں شرک، تعددِ آلہہ اور تجسیمِ معبود کے خرافاتی تصورات پائے جاتے ہیں۔
برصغیر کے مذہبی و سماجی ماحول میں حالیہ کچھ عرصہ سے ایک فکری انحراف اور علمی بے بصری کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے کہ بعض سادہ لوح یا مغرض افراد اسلامی مزارات کو ہندوانہ مندروں کے مماثل ٹھہرا کر سادہ ذہنوں میں تردد پیدا کرنے کی لا حاصل کوشش کرریے ہیں۔ حالاں کہ مزار اور مندر کے مابین زمین و آسمان بلکہ حق و باطل کا فاصلہ ہے۔ ایک مرکزِ دعا، فیضانِ روحانیت اور تربیتِ قلب و باطن ہے، تو دوسرا بت پرستی، شرک اور مجسمہ پرستی کا گڑھ۔
اس مقالے میں ہم مندر اور مزارات پر ہونے والے افعال کے مابین فرق کوواضح کریں گے، تاکہ حقیقت کا ادراک ہو اور مغالطے دور ہوں۔اور اس سلسلے میں دیابنہ و اہل حدیث کے مغالطات کا جواب بھی سپرد قرطاس کرینگے ۔وماتوفیقی الا باللہ

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi
کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں عبادت کا مفہوم اور مرکزِ عقیدت کا دائرۂ کار یکساں نہیں ہوتا۔ اسلام، جس کی بنیاد عقیدۂ توحید پر استوار ہے، بندگی کو صرف اور صرف ذاتِ واحد، خالقِ کائنات، اللہ رب العزت کے لیے خاص قرار دیتا ہے؛ جب کہ دیگر ادیان میں شرک، تعددِ آلہہ اور تجسیمِ معبود کے خرافاتی تصورات پائے جاتے ہیں۔
برصغیر کے مذہبی و سماجی ماحول میں حالیہ کچھ عرصہ سے ایک فکری انحراف اور علمی بے بصری کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے کہ بعض سادہ لوح یا مغرض افراد اسلامی مزارات کو ہندوانہ مندروں کے مماثل ٹھہرا کر سادہ ذہنوں میں تردد پیدا کرنے کی لا حاصل کوشش کرریے ہیں۔ حالاں کہ مزار اور مندر کے مابین زمین و آسمان بلکہ حق و باطل کا فاصلہ ہے۔ ایک مرکزِ دعا، فیضانِ روحانیت اور تربیتِ قلب و باطن ہے، تو دوسرا بت پرستی، شرک اور مجسمہ پرستی کا گڑھ۔
اس مقالے میں ہم مندر اور مزارات پر ہونے والے افعال کے مابین فرق کوواضح کریں گے، تاکہ حقیقت کا ادراک ہو اور مغالطے دور ہوں۔اور اس سلسلے میں دیابنہ و اہل حدیث کے مغالطات کا جواب بھی سپرد قرطاس کرینگے ۔وماتوفیقی الا باللہ
مندر کی حقیقت
مندر سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے اردومیں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے ۔یہ وہ جگہ ہے جہاں ہندوستان میں ہندو اپنے دیوتاؤں کی مورتیاں رکھتے ہیں اور پوجا پاٹ کرتے ہیں ۔( اردو لغت ملخصا)
اس سے معلوم ہوا کہ ہندؤں کے عبادت خانے کو مندر کہتے ہیں ۔ہندو قوم وہاں جاکر اپنے مختلف دیوی دیوتا کی پرستش کرتی ہے اور اس کو سجدہ کرتی ہے اور اس سے حقیقی حاجت روا سمجھ کر مدد مانگتی ہیں اور انہیں نفع ونقصان کا مالک جانتی ہیں جو کہ اسلامی نقطہ نظر اور عقیدۂ توحید کے بالکل ہی خلاف ہے۔اس لۓ وہاں جانا شرعا ناجائز وحرام ہے۔
مزار کی حقیقت اور وہاں حاضری کا ثبوت شرعی
مزار عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں زیارت کی جگہ۔ اسلامی اصطلاح میں مزار اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی ولی، بزرگ، عالمِ دین، شہید یا کسی نیک شخصیت کو دفن کیا گیا ہو۔ اس کو درگاہ، آستانہ یا روضہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں مسلمان آخرت کی یاد تازہ کرنے اورایصال ثواب کرنے کے لۓ،دعاؤں کی قبولیت ،اور روحانی سکون ،اور صاحب مزار کے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں ۔اور شرع مطہرہ میں اس کی اجازت بھی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا(رواہ مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن تم اب اس کی زیارت کیا کرو (کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا(رواہ مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن تم اب اس کی زیارت کیا کرو (کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے)
اور خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر ہر سال تشریف لے جاتے تھے جیسا کہ تفسیر در منثور میں ہے:
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عَلَى رَاسِ كُلِّ حَوْلِ فَيَقُولُ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَ الدَّارِ وَالخُلَفَاء الارُبَعَةُ هَكَذَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
حضور ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ہر سال شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتے اور ان کو سلام فرماتے تھے اور چاروں خلفاء رضی اللہ تعالی عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عَلَى رَاسِ كُلِّ حَوْلِ فَيَقُولُ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَ الدَّارِ وَالخُلَفَاء الارُبَعَةُ هَكَذَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
حضور ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ہر سال شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتے اور ان کو سلام فرماتے تھے اور چاروں خلفاء رضی اللہ تعالی عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اور نیک بندوں کی قبر پر جاکر دعا کرنا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء اربعہ کی سنت ہے ۔جبکہ مندرمیں جانے سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے بلکہ توڑنے کا حکم نافذ فرمایا ہے ۔تو وہ لوگ عقل سے کام لے جو مندر اور مزار کو ایک کہتے ہیں ،اور اللہ والوں کی بارگاہ سے عوام کو متنفر کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں حالانکہ دونوں میں فرق مثل آفتاب آشکار ہے لیکن پھر بھی اپنی دکان چلانے کے لئے عوام کو دھوکا دیتے ہیں اور اس شعر کے مصداق بنتے ہیں!
س ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی بات چیت
بنتی نہیں ہے خلق کو دھوکا دۓ بغیر
بنتی نہیں ہے خلق کو دھوکا دۓ بغیر
کیا مزارات پر صرف شرک ہوتا ہے؟
چند مہینے ہوۓ کہ رفیق محترم مولانا قاسم مرکزی صاحب نے ایک پو سٹر بھیجا جو دیوبندیوں کی جانب سے شائع ہوا تھا جس میں لکھا ہوا تھا :
آج لوگ کہتے ہیں مزار پر حاضری دو کہ وہاں فیض ملتا ہے لیکن میں کہتا ہوں آج وہاں صرف کھل عام شرک ہی ہوتا ہے بوسہ دینا ایک شرک، سجدہ کرنا دوسرا شرک,غیراللہ سے مانگنا تیسرا شرک کیوں کہ قرآن مجید میں صراحتاً ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(سورہ اعراف 194)
ترجمہ:
بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا مدد کیلئے پکارتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ- (سورہ حج)
ترجمہ:
بیشک اللہ کے سوا جن کو تم مدد کیلئے پکارتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکیں گے اگرچہ سب اس کیلئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں گے۔
آج لوگ کہتے ہیں مزار پر حاضری دو کہ وہاں فیض ملتا ہے لیکن میں کہتا ہوں آج وہاں صرف کھل عام شرک ہی ہوتا ہے بوسہ دینا ایک شرک، سجدہ کرنا دوسرا شرک,غیراللہ سے مانگنا تیسرا شرک کیوں کہ قرآن مجید میں صراحتاً ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(سورہ اعراف 194)
ترجمہ:
بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا مدد کیلئے پکارتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ- (سورہ حج)
ترجمہ:
بیشک اللہ کے سوا جن کو تم مدد کیلئے پکارتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکیں گے اگرچہ سب اس کیلئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں گے۔
جواب
معترض دیوبندی نے اس پوسٹر میں چار باتیں کہیں ہیں جو قابل غور اور تردید ہیں:
اول:مزار پر کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ۔
دوم :مزار کو بوسہ دینا شرک۔
سوم :مزار کو سجدہ کرنا شرک۔
چہارم :اولیاء اللہ سے مدد مانگنا شرک اور بطور دلیل دو آیات کریمہ پیش کی ہیں ۔
اول :معترض کو چاہۓتھاکہ وہ اپنے دعوی کو(جبکہ وہاں کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ) دلیل سے مزین کرتے لیکن معترض کے پاس کوئ دلیل نہیں بس زبانی دعویٰ کردیا جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں ۔
اول:مزار پر کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ۔
دوم :مزار کو بوسہ دینا شرک۔
سوم :مزار کو سجدہ کرنا شرک۔
چہارم :اولیاء اللہ سے مدد مانگنا شرک اور بطور دلیل دو آیات کریمہ پیش کی ہیں ۔
اول :معترض کو چاہۓتھاکہ وہ اپنے دعوی کو(جبکہ وہاں کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ) دلیل سے مزین کرتے لیکن معترض کے پاس کوئ دلیل نہیں بس زبانی دعویٰ کردیا جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں ۔
س نہ دیکھا ہے نہ پڑھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے
کیا مزار کو بوسہ دینااور سجدہ کرنا شرک ہے؟
دوم ،سوم :اور مزار کو بوسہ دینے کوشرک سے تعبیر کرنایہ ان کے جہالت کا بین ثبوت ہے ۔
اولا فتاوی عالمگیری جلد 5صفحہ 351میں ہےولاباس بتقبیل قبر والدیہوالدین کے قبر کو بوسہ دینے میں حرج نہیں (فرط محبت میں )
اور فتاوی دارالعلوم دیوبندآن لائن جواب نمبر 35942 میں ہے;
ہاں اگر کوئ تنہائی میں فرط محبت وعقیدت کی بناپروالدین کے قبر کو بوسہ لےتوغریب روایت کی بنا پر گنجائش ہے اس سے ثابت ہوا کہ قبر کو بوسہ دینا شرک نہیں،اور اگر معترض شرک مانتا ہے تو بتاےتنہای میں گنجائش کیوں؟ جیساکہ فتاوی دیوبند میں ہے حالانکہ شرک کا حکم تنہائی اور مجمع میں یکساں ہے ۔
اور فتاوی دارالعلوم دیوبندآن لائن جواب نمبر 35942 میں ہے;
ہاں اگر کوئ تنہائی میں فرط محبت وعقیدت کی بناپروالدین کے قبر کو بوسہ لےتوغریب روایت کی بنا پر گنجائش ہے اس سے ثابت ہوا کہ قبر کو بوسہ دینا شرک نہیں،اور اگر معترض شرک مانتا ہے تو بتاےتنہای میں گنجائش کیوں؟ جیساکہ فتاوی دیوبند میں ہے حالانکہ شرک کا حکم تنہائی اور مجمع میں یکساں ہے ۔
ثانیا حفظ الایمان صفحہ6پر درمختار کے حوالے سے منقول ہے:
وكذاما يفعلونه من تقبیل الارض بين يدى العلماء والعظماء فحرام والفاعل و الراضی به آثمان لا نہ یشبه عبادة الوثن وهل يكفر ان على وجد العبادة والتعظيم كفر ان على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا لكبيرة۔
(ترجمہ) اوراسی طرح جو لوگ زمین بوسی کرتے ہیں علماء اور سرداروں کے سامنے حرام ہےکرنے والاراضی ہونے والا دونوں گنہگار ہوتےہیں کیونکہ یہ عبادت بت کے مشابہ ہےاورایاوہ کافر ہوجائے گا یانہیں سواگر بطریق عبادت اور تعظیم ہوتب تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیۃوسلام کے ہو تو کافر نہ ہوگا
وكذاما يفعلونه من تقبیل الارض بين يدى العلماء والعظماء فحرام والفاعل و الراضی به آثمان لا نہ یشبه عبادة الوثن وهل يكفر ان على وجد العبادة والتعظيم كفر ان على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا لكبيرة۔
(ترجمہ) اوراسی طرح جو لوگ زمین بوسی کرتے ہیں علماء اور سرداروں کے سامنے حرام ہےکرنے والاراضی ہونے والا دونوں گنہگار ہوتےہیں کیونکہ یہ عبادت بت کے مشابہ ہےاورایاوہ کافر ہوجائے گا یانہیں سواگر بطریق عبادت اور تعظیم ہوتب تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیۃوسلام کے ہو تو کافر نہ ہوگا
اس میں صاف ہیکہ بوسہ دینے والا کافر نہ ہوگا جبکہ بطور تحیۃوسلام کے ہو اس کو شرک کہنا جہالت اور اصول دین سے نا واقفیت ہے ۔
کوئی بھی مسلمان بزرگان دین کے قبر کو سجدہ بطور عبادت نہیں کرتا اور یہ ان سے متصور بھی نہیں ہے۔
کوئی بھی مسلمان بزرگان دین کے قبر کو سجدہ بطور عبادت نہیں کرتا اور یہ ان سے متصور بھی نہیں ہے۔
اہلسنت والجماعت بریلوی کا موقف وہی ہے جو در مختار سے منقول ہوا اس کی پوری تفصیل اعلی حضرت امام احمدرضا بریلوی رحمۃاللہ علیہ کے رسالہ الزبدۃالزکیۃ فی حرمۃ السجدہ والتحیۃمیں مسطور ہے۔جس کاجی چاہے مطالعہ کرلیں ۔
چہارم :غیر اللہ سے مدد مانگنے کو شرک کہنا یہ بھی اصول شرع کے خلاف ہے کیونکہ غیر اللہ سے مدد مانگنا شرعا جائز قرآن واحادیث میں اس کی صراحت موجود ہے :
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ (التوبہ (1)
دوسری جگہ فرماتا ہے: نَحْنُ أَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ. (فصلت (۲)
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ (التوبہ (1)
دوسری جگہ فرماتا ہے: نَحْنُ أَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ. (فصلت (۲)
معلوم ہوا کہ رب تعالٰی بھی مددگار ہے اور مسلمان بھی آپس میں ایک دوسرے کے ،مگررب تعالی بالذات مددگار اور یہ بالعرض۔
رہی بات اولیاء اللہ کے مزارات پر جاکر مانگنا جائز ہے یا نہیں اس کے سلسلے میں مشکوٰۃ شریف(باب زیارۃ القبور) کے حاشیہ میں ہے:
وَأَمَّا الْإِسْتِمْدَادُ بِأَهْلِ الْقُبُورِ فِي غَيْرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوِ الْأَنْبِيَاءِ فَقَدْ أَنْكَرَهُ كَثِيرٌ مِّنَ الْفُقَهَاءِ وَاثبتہ الْمَشَائِحُ الصُّوفِيَّةُ وَبَعْضُ الْفُقَهَاءِ قَالَ الْإِمَام الشَّافِعِيُّ قَبُرُ مُوسَى الْكَاظِمِ تِرْيَاقَ مُجرب لاجَابَةِ الدُّعَاءِ وَقَالَ الْإِمَامُ الْغَزَالِيُّ مَنْ يُسْتَمْدُ فِي حَيَاتِهِ يَسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
(ترجمہ) نبی علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کے علاوہ اور اہل قبور سے دعا مانگنے کا بہت سے فقہاء نے انکار کیا اور مشائخ صوفیہ اور بعض فقہاء نے اس کو ثابت رکھا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کے لئے ازمودہ تریاق ہے اور امام محمد غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جاسکتی ہے۔
وَأَمَّا الْإِسْتِمْدَادُ بِأَهْلِ الْقُبُورِ فِي غَيْرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوِ الْأَنْبِيَاءِ فَقَدْ أَنْكَرَهُ كَثِيرٌ مِّنَ الْفُقَهَاءِ وَاثبتہ الْمَشَائِحُ الصُّوفِيَّةُ وَبَعْضُ الْفُقَهَاءِ قَالَ الْإِمَام الشَّافِعِيُّ قَبُرُ مُوسَى الْكَاظِمِ تِرْيَاقَ مُجرب لاجَابَةِ الدُّعَاءِ وَقَالَ الْإِمَامُ الْغَزَالِيُّ مَنْ يُسْتَمْدُ فِي حَيَاتِهِ يَسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
(ترجمہ) نبی علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کے علاوہ اور اہل قبور سے دعا مانگنے کا بہت سے فقہاء نے انکار کیا اور مشائخ صوفیہ اور بعض فقہاء نے اس کو ثابت رکھا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کے لئے ازمودہ تریاق ہے اور امام محمد غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جاسکتی ہے۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر انبیائے کرام سے مدد مانگنے میں تو کسی کا اختلاف نہیں۔ قبور اولیاء اللہ سے مدد مانگنے میں اختلاف ہے، علمائے ظاہرین نے انکار کیا ہےلیکن صوفیاء کرام اور فقہاء اہل کشف نے جائز فرمایا۔ حصن حصین صفحہ ۲۰۲ میں ہے:
وَإِنْ أَرَادَ عَوْنًا فَلْيَقُلْ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي يَا عِبَادَ الله أَعْيُنُونِي يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي.
جب مدد لینا چاہے تو کہہ اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو،اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو۔
وَإِنْ أَرَادَ عَوْنًا فَلْيَقُلْ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي يَا عِبَادَ الله أَعْيُنُونِي يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي.
جب مدد لینا چاہے تو کہہ اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو،اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو۔
مزید برآں ہمارے بزرگان دین کا اس پر عمل بھی ہے کہ وہ مشائخ کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور ان سے استعانت کرتے ہیں اور ان کے وسیلے سے رب تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں جیسا کی در مختار کے حوالے سے بہار شریعت جلد3 ص 1045پر ہے:
امام شافعی علیہ الرحمہ کا بارگاہ امام ابوحنیفہ (علیہ الرحمہ) میں ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے برکت حاصل کرتا ہوں اور آپ کی قبر پر حاضری دیتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو میں دو رکعت نماز نفل ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کے قریب آکر اس کے حل کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے۔
امام شافعی علیہ الرحمہ کا بارگاہ امام ابوحنیفہ (علیہ الرحمہ) میں ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے برکت حاصل کرتا ہوں اور آپ کی قبر پر حاضری دیتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو میں دو رکعت نماز نفل ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کے قریب آکر اس کے حل کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے۔
کیا معترض دیوبندی امام شافعی اور دیگر مشائخ جو اس کو جائز سمجھتے ہیں مشرک کہنے کی جسارت کرینگے نہیں ہر گز نہیں تو !
س دو رنگی چھوڑ دیں یک رنگ ہوجا
سراسر موم ہوجا یا پھر سنگ ہوجا
سراسر موم ہوجا یا پھر سنگ ہوجا
اور معترض نے جن دو آیت کو غیر اللہ سے استعانت کے شرک ہونے پر بطور استدلال پیش کیا ہے ۔اس کا صاحب مزار اور اللہ والوں سے استعانت کرنے سے کوئ تعلق نہیں بلکہ وہ بت بنانے اور بت پرستی کی مزمت میں ہے۔ہندؤں کا مندر جاکر اپنے معبودانِ باطلہ سے مدد مانگنا اور مسلمانوں کا مزار شریف پر حاضر ہوکر صاحب مزارکے واسطے سے رب تعالیٰ سے دعا مانگنے میں بہت فرق ہے کیونکہ ہندؤ اپنے معبودانِ باطلہ کو حقیقی مدد کرنے والا سمجھ کر مانگتے ہیں جبکہ مسلمان صاحب مزار کواللہ تعالیٰ کا مظہر اتم اور اللہ کا خاص بندہ سمجھ کر اس کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں ۔مذکورہ سطور سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ مزارات اور مندر میں ہونے والے افعال میں بون بعید ہیں ۔جواہل حق پر آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہے ۔اور اس میں تساوی کا قول کرنا جنون وجہالت ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ہم سبھوں کو حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر :7492077390
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر :7492077390










