یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

رد دیوبندیت ووہابیت
دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی
دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی
کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی وہ تحریر جو آج سے تین روز قبل دارالعوام دیوبند سے رد رضا خانیت کے عنوان سے شائع ہونے والے پرچہ کی تردید میں’’اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی ،اس کو بھڑکاؤ مضمون قرار دیا اور دارالعلوم دیوبند کے پرچہ کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ساتھ ہی دبے لفظوں میں یہ بھی اقرار کیا کہ واقعی دارالعلوم دیوبند میں اہل سنت کے خلاف طلبہ کی ذہن سازی کی جاتی ہے، اور مستقبل میں فتنہ انگیزی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے افراد بھی تیار کئے جاتے ہیں اگرچہ معدود چند طلباء ہی کہ شکل میں ،تاکہ وہ اہل سنت سے متنفر ہوں۔
لیکن ذرا رکیں! یہی پلاموی صاحب دو سال قبل جامعۃ الرضا کے سالانہ امتحان میں حسام الحرمین کے پرچہ پر تبصرہ کرتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’’بریلوی اپنے مدارس میں علماے دیوبند کے خلاف سازش کر رہے ہیں، اپنے طلبہ کو تیار کر رہے ہیں، اور فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں اور ہمارے دیوبندی مدارس کے ذمہ دار کچھ نہیں کر رہے۔بلکہ ان کی زبان میں کہا جائے تویوں کہا جائے گا کہ دیوبندی اتنے معصوم ہیں، بے چارے! کہ معصوم پرندے کی طرح بیٹھے ہوئے ہے کچھ حرکت نہیں کر رہے ہیں سفید کبوتر کی طرح پر امن بیٹھے ہوئے ہیں اور فخر سے اُس وقت یوٹیوب پر ویڈیو اپلوڈ کیا، تھیمنل لگایا: *علماے دیوبند کے خلاف بریلوی مدارس میں خطرناک سازش"اور اپنے ہی اکابر و مدارس کے ذمہ داروں کو برا بھلا کہا کہ تم لوگ اپنے طلبا کی ذہن سازی نہیں کرتے، جبکہ بریلوی حضرات ہمارے خلاف سازش رچ رہے ہیں ، وقت کی ضرورت کو سمجھا جائے وغیرہ۔ اور جامعۃ الرضا کے حسام الحرمین کے پرچہ پر منفی تبصرہ کیا۔
اب سوال یہ ہے: جب جامعۃ الرضا کا پرچہ آپ کے ہاتھ لگا تھا تو آپ نے اس پر منفی تبصرے پیش کئے اور جب اہل سنت کے خلاف دیوبند کا پرچہ وائرل ہوا ،جو دیوبندی مدارس کے فتنہ انگیزی کا غماز ہے اس لیے فقیر قادری نے اس پر تبصرہ کیا تو فوراً ویڈیو بنانے کی کھجلی ہوئی اور تھیمنل لگایا: ’’دارالعلوم دیوبند کا امتحانی پرچہ اور بریلویت میں خوف کا ماحول‘‘۔اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس پرچہ سے اہل سنت کے حقیقی مصداق سنی بریلوی علماء خائف ہیں ،تو جناب امتیاز پلاموی وہابی! اگر پرچے پر تبصرہ کرنا خوف کی دلیل ہے، تو پھر آپ کے دو سال قبل کے تبصرے کو کیا کہا جائے؟ کیا آپ اس وقت علماے اہل سنت سے ڈر گئے تھے کہ اپنے دیوبندی ذمہ داروں کو نصیحت کرنے لگے؟ اور اہل سنت کو برا بھلا سنایا ؟

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی
مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi
دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی
کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی وہ تحریر جو آج سے تین روز قبل دارالعوام دیوبند سے رد رضا خانیت کے عنوان سے شائع ہونے والے پرچہ کی تردید میں’’اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی ،اس کو بھڑکاؤ مضمون قرار دیا اور دارالعلوم دیوبند کے پرچہ کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ساتھ ہی دبے لفظوں میں یہ بھی اقرار کیا کہ واقعی دارالعلوم دیوبند میں اہل سنت کے خلاف طلبہ کی ذہن سازی کی جاتی ہے، اور مستقبل میں فتنہ انگیزی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے افراد بھی تیار کئے جاتے ہیں اگرچہ معدود چند طلباء ہی کہ شکل میں ،تاکہ وہ اہل سنت سے متنفر ہوں۔
لیکن ذرا رکیں! یہی پلاموی صاحب دو سال قبل جامعۃ الرضا کے سالانہ امتحان میں حسام الحرمین کے پرچہ پر تبصرہ کرتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’’بریلوی اپنے مدارس میں علماے دیوبند کے خلاف سازش کر رہے ہیں، اپنے طلبہ کو تیار کر رہے ہیں، اور فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں اور ہمارے دیوبندی مدارس کے ذمہ دار کچھ نہیں کر رہے۔بلکہ ان کی زبان میں کہا جائے تویوں کہا جائے گا کہ دیوبندی اتنے معصوم ہیں، بے چارے! کہ معصوم پرندے کی طرح بیٹھے ہوئے ہے کچھ حرکت نہیں کر رہے ہیں سفید کبوتر کی طرح پر امن بیٹھے ہوئے ہیں اور فخر سے اُس وقت یوٹیوب پر ویڈیو اپلوڈ کیا، تھیمنل لگایا: *علماے دیوبند کے خلاف بریلوی مدارس میں خطرناک سازش"اور اپنے ہی اکابر و مدارس کے ذمہ داروں کو برا بھلا کہا کہ تم لوگ اپنے طلبا کی ذہن سازی نہیں کرتے، جبکہ بریلوی حضرات ہمارے خلاف سازش رچ رہے ہیں ، وقت کی ضرورت کو سمجھا جائے وغیرہ۔ اور جامعۃ الرضا کے حسام الحرمین کے پرچہ پر منفی تبصرہ کیا۔
اب سوال یہ ہے: جب جامعۃ الرضا کا پرچہ آپ کے ہاتھ لگا تھا تو آپ نے اس پر منفی تبصرے پیش کئے اور جب اہل سنت کے خلاف دیوبند کا پرچہ وائرل ہوا ،جو دیوبندی مدارس کے فتنہ انگیزی کا غماز ہے اس لیے فقیر قادری نے اس پر تبصرہ کیا تو فوراً ویڈیو بنانے کی کھجلی ہوئی اور تھیمنل لگایا: ’’دارالعلوم دیوبند کا امتحانی پرچہ اور بریلویت میں خوف کا ماحول‘‘۔اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس پرچہ سے اہل سنت کے حقیقی مصداق سنی بریلوی علماء خائف ہیں ،تو جناب امتیاز پلاموی وہابی! اگر پرچے پر تبصرہ کرنا خوف کی دلیل ہے، تو پھر آپ کے دو سال قبل کے تبصرے کو کیا کہا جائے؟ کیا آپ اس وقت علماے اہل سنت سے ڈر گئے تھے کہ اپنے دیوبندی ذمہ داروں کو نصیحت کرنے لگے؟ اور اہل سنت کو برا بھلا سنایا ؟
الجھا ہے پاؤ یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
ویسے ویڈیو میں آپ کا خوف دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ کیونکہ آپ کے اپنے الفاظ جو جامعۃ الرضا کے پرچے کے سلسلے میں ہے ۔ آپ کے خائف ہونے کی غماز ہیں:
دیکھئے یہ چھٹی جماعت کا مطالعہ کا پرچہ ہے۔۔۔ آپ اندازہ لگائیے یہ مولوی بنتے بنتے کس قدر محنت کرتے ہونگے خارجی مطالعہ میں، خاص طور پر علماء دیوبند کے خلاف کیسی تیاری کرتے ہونگے۔۔۔
(حوالہ: دو سال قبل اپلوڈ شدہ ویڈیو، مفتی امتیاز پلاموی آفیشل پر)
دیکھئے یہ چھٹی جماعت کا مطالعہ کا پرچہ ہے۔۔۔ آپ اندازہ لگائیے یہ مولوی بنتے بنتے کس قدر محنت کرتے ہونگے خارجی مطالعہ میں، خاص طور پر علماء دیوبند کے خلاف کیسی تیاری کرتے ہونگے۔۔۔
(حوالہ: دو سال قبل اپلوڈ شدہ ویڈیو، مفتی امتیاز پلاموی آفیشل پر)
اس اقتباس سے دیوبندی امتیاز پلاموی کا خوف صاف جھلکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اضافہ فرماۓ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
خیر قارئین کرام! اس ویڈیو کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دو سال قبل پلاموی صاحب یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اہل سنت دیوبندیوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں، افراد تیار کر رہے ہیں اور دیوبندی کچھ نہیں۔ بلکہ سفید کبوتر کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں جیسا کہ دوسال قبل اپلوڈ کردہ ویڈیو میں سناجا سکتا ہے:
قارئین کے لئے نیچے وہ کلمات حاضر کرتا ہوں
ابھی جس طریقے سے فرقہ باطلہ، فرقہ ضالہ کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں ہمارے خلاف تحریکات چل رہی ہیں اور افراد تیار کیے جا رہے ہیں، اس طریقے سے ہمارے مدرسے میں افراد تیار نہیں کیے جا رہے ہیں۔(یہی تاثر دوسرے دیوبندی علماء بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں)
قارئین کے لئے نیچے وہ کلمات حاضر کرتا ہوں
ابھی جس طریقے سے فرقہ باطلہ، فرقہ ضالہ کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں ہمارے خلاف تحریکات چل رہی ہیں اور افراد تیار کیے جا رہے ہیں، اس طریقے سے ہمارے مدرسے میں افراد تیار نہیں کیے جا رہے ہیں۔(یہی تاثر دوسرے دیوبندی علماء بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں)
لیکن جب دارالعلوم دیوبند کا پرچہ وائرل ہوا اور فقیر قادری کا تبصرہ جس میں دیوبندی مدارس کے مکروہ چہرہ کو اجا گر کیا گیاہے تو وہی پلاموی صاحب زبان سے یہ کہنے پر مجبور ہوئے:
دارالعلوم دیوبند ایشیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔۔۔ جس میں محاضرات علمیہ کا شعبہ ہے، جہاں مختلف فرقوں کے تعارفات اور تعاقبات پیش کیے جاتے ہیں جیسے رد شیعت، رد قادیانیت، اس میں رد رضا خانیت بھی ہے۔ ظاہر ہے جب پڑھایا جاتا ہے تو امتحان بھی ہوگا۔۔۔
(حوالہ: کل اپلوڈ کردہ ویڈیو)
دارالعلوم دیوبند ایشیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔۔۔ جس میں محاضرات علمیہ کا شعبہ ہے، جہاں مختلف فرقوں کے تعارفات اور تعاقبات پیش کیے جاتے ہیں جیسے رد شیعت، رد قادیانیت، اس میں رد رضا خانیت بھی ہے۔ ظاہر ہے جب پڑھایا جاتا ہے تو امتحان بھی ہوگا۔۔۔
(حوالہ: کل اپلوڈ کردہ ویڈیو)
سبحان اللہ! مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری۔
یعنی جس بات (مدارس دیوبند میں فرقہ واریت کا فروغ) کو امتیاز پلاموی کل تک جھوٹ کہہ رہے تھے آج اسی کو تسلیم کرلیا ،تو سوال یہ ہے کہ کون سا بیان سچ ہے؟ اقرار یا انکار؟ کیا یہ کھلی دوغلی پالیسی اور مکاری نہیں؟ جب کالا چٹھا کھلا تو اقرار ورنہ انکار ؟
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
خیر، پلاموی کو معذور سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ جب تک یہ جھوٹ اور مکرو فریب سے کام نہ لے اس کا دھندا نہیں چل سکتا۔ پھر وہ پیروکار بھی ہیں اشرفعلی تھانوی کے، جس نے خود اپنے بارے میں کہا تھا:
میرا سن ولادت 1280 ہے، پانچویں ربیع الثانی بوقت صبح صادق، مادہ تاریخی کرم عظیم ہے یا مَکْرِ عظیم کہیے۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد 16، ص 29)
اور اگلے صفحہ پر لکھا:
حضرت نے احقر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھیے میرا مادہ تاریخی مَکْرِ عظیم ٹھیک ہے یا نہیں۔
(ایضا، ص 30)
میرا سن ولادت 1280 ہے، پانچویں ربیع الثانی بوقت صبح صادق، مادہ تاریخی کرم عظیم ہے یا مَکْرِ عظیم کہیے۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد 16، ص 29)
اور اگلے صفحہ پر لکھا:
حضرت نے احقر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھیے میرا مادہ تاریخی مَکْرِ عظیم ٹھیک ہے یا نہیں۔
(ایضا، ص 30)
پس تعجب نہیں کہ جس کا پیشوا ’’مَکْرِ عظیم‘‘ کو اپنا مادہ تاریخ بتاتاہو، اور پوری زندگی مکر وفریب کی اشاعت میں کوشاں ہو، اُس کے پیروکار تضاد بیانی اور دوغلا پن ہی میں پہچانے جائیں !
نہ تم صدمہ ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
بالآخر امتیاز پلاموی اور اُن جیسے دیگر دیوبندی کو میرا صاف پیغام ہے:
ہوش میں آجاؤ، اور اہل سنت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا چھوڑ دو،اور اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے گند کو صاف کرو،ورنہ اگر ہم غلامانِ اعلی حضرت میدان میں آگئے تو تم منھ دکھانے کے قابل بھی نہ رہو گے۔ ابھی تو صرف تمہارے تضادات دکھائے گئے ہیں فقط اس سلسلے میں، اگر آئندہ خدمت کاموقع دیا تو تمہارے ساتھ تمہارے اکابر کا کالا چٹھا بھی کھول کر رکھ دوں گا۔ پھر مزید وہ رسوائیاں ہوگی جسے دنیا دیکھے گی۔ اس لئے !
ہوش میں آجاؤ، اور اہل سنت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا چھوڑ دو،اور اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے گند کو صاف کرو،ورنہ اگر ہم غلامانِ اعلی حضرت میدان میں آگئے تو تم منھ دکھانے کے قابل بھی نہ رہو گے۔ ابھی تو صرف تمہارے تضادات دکھائے گئے ہیں فقط اس سلسلے میں، اگر آئندہ خدمت کاموقع دیا تو تمہارے ساتھ تمہارے اکابر کا کالا چٹھا بھی کھول کر رکھ دوں گا۔ پھر مزید وہ رسوائیاں ہوگی جسے دنیا دیکھے گی۔ اس لئے !
روک لے اے ضبط جو آنسو کے چشم تر میں ہے
کچھ نہیں بگڑا ابھی تک گھر کی دولت گھر میں ہے
کچھ نہیں بگڑا ابھی تک گھر کی دولت گھر میں ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
نوٹ ; امتیاز پلاموی وہابی کے ویڈیو کا جواب آیڈیو میں بھی RaddeBatilReaction @چینل پر سماعت کیا جا سکتا ہے ۔
از: محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف










