یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

تحقیق و تعاقب
دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
میں اکثر کہتا ہوں دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذابمثلاً اس ابو زہیر دیوبندی کوہی دیکھ لے کہ کہہ رہا ہے کہ اعلی حضرت نے کوا اور چمگاڈر کھانے کو جائز لکھا ہے اور حوالہ فتاویٰ رضویہ کا دے رہا ہے ،حالانکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
رشید احمد گنگوہی کے کوا کی حلت کے فتویٰ کے باوجود جب لوگوں نے اس کی جانب کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، بلکہ ہر طرف اس کی رسوائی ہونے لگی اور اس کے اس فتویٰ کی تردید جس کا اقرار تذکیرۃ الرشید میں ان لفظوں میں ہے:
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
لیکن انہیں لوگوں کی نفرت سے کیا مطلب انہیں تو کوا بریانی چاہیے تھی، اس لیے پھر کوا کھانے پر ثواب کا حکم لکھ مارا چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 532پر ہے :
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi
دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
میں اکثر کہتا ہوں دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذابمثلاً اس ابو زہیر دیوبندی کوہی دیکھ لے کہ کہہ رہا ہے کہ اعلی حضرت نے کوا اور چمگاڈر کھانے کو جائز لکھا ہے اور حوالہ فتاویٰ رضویہ کا دے رہا ہے ،حالانکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
رشید احمد گنگوہی کے کوا کی حلت کے فتویٰ کے باوجود جب لوگوں نے اس کی جانب کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، بلکہ ہر طرف اس کی رسوائی ہونے لگی اور اس کے اس فتویٰ کی تردید جس کا اقرار تذکیرۃ الرشید میں ان لفظوں میں ہے:
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
لیکن انہیں لوگوں کی نفرت سے کیا مطلب انہیں تو کوا بریانی چاہیے تھی، اس لیے پھر کوا کھانے پر ثواب کا حکم لکھ مارا چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 532پر ہے :
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
اور تذکیرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
مجھے کیا خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں اس قدر اجر رکھا ہے
مجھے کیا خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں اس قدر اجر رکھا ہے
اب سوال ہے کہ کوا کھانے میں ثواب کا ہونا کس قرآنی آیات یاحدیث پاک سے ثابت ،یا یہ فتویٰ اپنے پسندیدہ کوا بریانی کے تحفہ کے حصول کے لیے دیا گیا ہے ۔!
پڑی ہے اندھے کو عادت کے شوربے ہی سے کھاۓ
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
قارئین کرام!دیوبندی مولوی رشید گنگوہی کوا کو حلال بلکہ کھانے کو کارثواب کہہ رہا ہے، حالانکہ حدیث شریف میں اس کو فواسق میں شمار کیا گیا ہے ہے : عن أم المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا ۔"
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فواسق (بہت بری) ہیں جن کا قتل کیا جاتا ہے حل اور حرم میں : سانپ ، سیاہ کوا ، چوہا ، کاٹنے والا کتا ، اور چیل ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 1198)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فواسق (بہت بری) ہیں جن کا قتل کیا جاتا ہے حل اور حرم میں : سانپ ، سیاہ کوا ، چوہا ، کاٹنے والا کتا ، اور چیل ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 1198)
خیر یہ دیوبندیوں کا ہی نصیبہ ہے کہ وہ حرام کو حلال اور کفر کو ایمان ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں ،اب ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے وہابیہ مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اعلی حضرت نے کوا کھانے کو جائز لکھا ہے پھر ہم رشید گنگوہی کی عبارت سے موازنہ کرینگے کہ فقہا کے اقوال کے موافق کس کا قول ہے؟
اعلی حضرت کی عبارت مندرجہ ذیل ہیں :
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خور کو اجسے غراب الابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق نا جائز ہے
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا ہے اور موسم گرما میں آتا ہے، اور خلط کر نیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیبہ میں کلام نہیں ،(فتاویٰ رضویہ جلد بیس صفحہ 319/320)
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خور کو اجسے غراب الابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق نا جائز ہے
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا ہے اور موسم گرما میں آتا ہے، اور خلط کر نیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیبہ میں کلام نہیں ،(فتاویٰ رضویہ جلد بیس صفحہ 319/320)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں کوا کی تین قسمیں کی ہیں:ایک (غراب زرع)کو بالاتفاق جائز لکھا دوسرے ابقع کو بالاتفاق حرام قرار دیا اور تیسرے عقعق کو مختلف فیہ قرار دیا ہے اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ تفصیل رد المحتار صفحہ 443پر یوں ہے:
وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة : نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره في الكتاب. وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف والأخير هو العقعق
ترجمہ :رہا غراب ابقع اور سیاہ کوا تو وہ تین طرح کے ہیں :
ایک وہ جو دانہ کھاۓ اور مردار نہ کھائے وہ مکروہ نہیں(حلال ہے) ،دوسری وہ جو صرف مردار کھائیں یہ وہی ہے جس کو مصنف نے ابقع کہا ہے اور یہ یقیناً مکروہ تحریمی ہے،تیسری وہ جو کبھی دانہ کھائیں اور کبھی مردار، مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے وہ غیر مکروہ (حلال )ہےامام اعظم کے نزدیک ،اور مکروہ ہے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ۔آخری قسم وہ عقعق ہے۔
وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة : نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره في الكتاب. وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف والأخير هو العقعق
ترجمہ :رہا غراب ابقع اور سیاہ کوا تو وہ تین طرح کے ہیں :
ایک وہ جو دانہ کھاۓ اور مردار نہ کھائے وہ مکروہ نہیں(حلال ہے) ،دوسری وہ جو صرف مردار کھائیں یہ وہی ہے جس کو مصنف نے ابقع کہا ہے اور یہ یقیناً مکروہ تحریمی ہے،تیسری وہ جو کبھی دانہ کھائیں اور کبھی مردار، مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے وہ غیر مکروہ (حلال )ہےامام اعظم کے نزدیک ،اور مکروہ ہے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ۔آخری قسم وہ عقعق ہے۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع كذا في البدائع
( فتاوی عالمگیری، كتاب الكراهية، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان ومالا يؤكل، ج ۵، ص : ۲۸۹)
ترجمہ :وہ کوا جو دانہ اور کھیتی کھاتا ہے بالاجماع حلال ہے جیسا کہ بدایع میں ہے ۔
والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع كذا في البدائع
( فتاوی عالمگیری، كتاب الكراهية، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان ومالا يؤكل، ج ۵، ص : ۲۸۹)
ترجمہ :وہ کوا جو دانہ اور کھیتی کھاتا ہے بالاجماع حلال ہے جیسا کہ بدایع میں ہے ۔
اور در مختار میں ہے :
والغراب الا بقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث
ترجمہ :اور حلال نہیں غراب ابقع جو مردار کھاتا ہے۔کیونکہ وہ خباثت سے ملحق ہے ۔
اور غایۃ الاوطار اردو ترجمہ در مختار میں ہے :
والغراب الابقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث قاله المصنف ثم قال والخبيث مایستخبته الطبباع السلیمہ
اور حلال نہیں ابقع کوا جو مردار کھاتا ہے اس واسطے کہ وہ حیوانات خبیثہ کے ساتھ ملحق ہے یہ کہا ہے مصنف نے اپنی شرح میں پھر مصنف نے کہا کہ خبیث وہ وہ چیز ہے جس سے طبائع سلیمہ گھنائیں اور اس کو مکروہ اور خبیث جانیں، هم غراب الابقع وہ ہے جس میں سیاہی اور سفیدی ہو کذا فی الطحطاوی( غایۃ الاوطار جلد چہارم صفحہ 192)
والغراب الا بقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث
ترجمہ :اور حلال نہیں غراب ابقع جو مردار کھاتا ہے۔کیونکہ وہ خباثت سے ملحق ہے ۔
اور غایۃ الاوطار اردو ترجمہ در مختار میں ہے :
والغراب الابقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث قاله المصنف ثم قال والخبيث مایستخبته الطبباع السلیمہ
اور حلال نہیں ابقع کوا جو مردار کھاتا ہے اس واسطے کہ وہ حیوانات خبیثہ کے ساتھ ملحق ہے یہ کہا ہے مصنف نے اپنی شرح میں پھر مصنف نے کہا کہ خبیث وہ وہ چیز ہے جس سے طبائع سلیمہ گھنائیں اور اس کو مکروہ اور خبیث جانیں، هم غراب الابقع وہ ہے جس میں سیاہی اور سفیدی ہو کذا فی الطحطاوی( غایۃ الاوطار جلد چہارم صفحہ 192)
فقہا کی ان تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کوا کے سلسلے میں جو تفصیلات اعلی حضرت نے فرمائی وہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے ،لیکن رشید احمد گنگوہی کا قول فقہا کے اقوال کے خلاف ہے کیونکہ اس نے دیسی کوا اور زاغ معروفہ کو حلال لکھا ہے جیساکہ تذکرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
دیسی کوا اور زاغ معروفہ وہی ہے جس کو فقہا نے ابقع کہا ہے جس کی حرمت کی تصریح فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ،اس کا قائل صرف علمائے اہل سنت نہیں بلکہ علمائے دیوبند بھی ہے کہ ابقع ہی دیسی کوا ہے جیسا کہ احسن نانوتوی دیوبندی لکھتا ہے :
عربی میں میں ابلق کوے کی جگہ ابقع ہے اور ا بقع ابلق کو کہتے ہیں جس میں سیاہی اور سپیدی دونوں ہوں بعض علماء نے اس ابلق سے یہی دییسی کوا مراد لیا ہے جو اکثر آبادی میں رہتا ہے اور جس کی گردن کا رنگ بنسبت پروں کے سپیدی مائل ہوتا ہے۔اس پر ابقع کا اطلاق کرکے حرام قرار دیا ہے "(احسن المسائل صفحہ 358)
عربی میں میں ابلق کوے کی جگہ ابقع ہے اور ا بقع ابلق کو کہتے ہیں جس میں سیاہی اور سپیدی دونوں ہوں بعض علماء نے اس ابلق سے یہی دییسی کوا مراد لیا ہے جو اکثر آبادی میں رہتا ہے اور جس کی گردن کا رنگ بنسبت پروں کے سپیدی مائل ہوتا ہے۔اس پر ابقع کا اطلاق کرکے حرام قرار دیا ہے "(احسن المسائل صفحہ 358)
اورمولوی غلام مصطفی قاسمی سندھی دیوبندی نے دیسی کوے کو حرام قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
اعلم أن الغراب الذي يقال له كوافى الهندية وكان في السندية ، فنص على حرمته رأس المحققين المخدوم محمد هاشم السندى التنوى في رسالته : فاكهة البستان -
(شرح مختصر القدوری، کتاب الصيد والذبائح، صفحہ ۴۷۳، )
ترجمہ: جان لو کہ غراب “، جسے ہندی میں کوا، اور سندھی میں کان کہتے ہیں، اس کے حرام ہونے کی تصريح رئيس المحققين، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نے اپنے رسالہ فاكهة البستان میں کی ہے
اعلم أن الغراب الذي يقال له كوافى الهندية وكان في السندية ، فنص على حرمته رأس المحققين المخدوم محمد هاشم السندى التنوى في رسالته : فاكهة البستان -
(شرح مختصر القدوری، کتاب الصيد والذبائح، صفحہ ۴۷۳، )
ترجمہ: جان لو کہ غراب “، جسے ہندی میں کوا، اور سندھی میں کان کہتے ہیں، اس کے حرام ہونے کی تصريح رئيس المحققين، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نے اپنے رسالہ فاكهة البستان میں کی ہے
ان تمام تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ رشید گنگوہی نے اسی دیسی کوا کھانے کو ثواب لکھا ہے جس کو فقہا نے حرام قرار دیا ہے ,حقیقتا یہ دیوبندیوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے ،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو میلاد شریف ،گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کی شیرینی کو حرام قرار دیتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس پر سزا مقرر فرمایا کہ اس کو کوا خور بنا دیا !
مٹھائی محفل میلاد کی یہ کس طرح کھائیں
کہ اس کمبخت کو چسکا تو کوے کی غذا کا ہے
کہ اس کمبخت کو چسکا تو کوے کی غذا کا ہے
اور اس خبیث ابو زہیر کا اعلی حضرت پر چمگادڑ کی حلت کا الزام لگانا تو یہ اس کی کور باطن ہے کیونکہ اعلی حضرت نے خود فتاوی رضویہ میں اس کی وضاحت پیش کردی ہے مکمل فتویٰ ہدیۂ قارئین ہے:
* مولنا صاحب مجمع فضائل و منبع فواضل فرید العصر، وحید الزمان، مخدوم مکرمی دام افضالكم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدہ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوی ارسال فرمایا، اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ، یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
لا باس بما ليس بذي مخلب كالبوم الخ
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
تو کیا چمگادڑ اور با گل بھی حلال ہے ؟ جواب با تشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز ، بینوا توجروا
لا باس بما ليس بذي مخلب كالبوم الخ
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
تو کیا چمگادڑ اور با گل بھی حلال ہے ؟ جواب با تشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز ، بینوا توجروا
#الجواب :
چمگادڑ چھوٹا ہو و یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطالقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا در مختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی، ہندیہ میں ظہیر یہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذكر في بعض المواضع انه يوكل فی بعض المواضع انه لا يوكل لان له نابا له ورایتنی كتبت على بأمشه ما نصه فيه انه لا يصيد بنابه لا يصول وليس كل ماله ناب حراماً
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے ، اور بعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایا جائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کیلے سے شکار نہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت).
چمگادڑ چھوٹا ہو و یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطالقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا در مختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی، ہندیہ میں ظہیر یہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذكر في بعض المواضع انه يوكل فی بعض المواضع انه لا يوكل لان له نابا له ورایتنی كتبت على بأمشه ما نصه فيه انه لا يصيد بنابه لا يصول وليس كل ماله ناب حراماً
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے ، اور بعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایا جائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کیلے سے شکار نہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت).
بر جندی میں ہے:
ذكر في المحيط ان في الخفاش اختلاف العلماءا۔ھ محیط میں مذکور ہے کہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
ذكر في المحيط ان في الخفاش اختلاف العلماءا۔ھ محیط میں مذکور ہے کہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
در مختار میں ہے:
وقيل الخفاش لانه ذو ناب -
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
وقيل الخفاش لانه ذو ناب -
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے:
قال الاتقانى وفيه نظر لان كل ذي ناب ليس بمنھی عنه اذا كان لا يصطاد بنايه ا۔ھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہر کیلے والاحرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتا ہو۔اھ (ت)
قال الاتقانى وفيه نظر لان كل ذي ناب ليس بمنھی عنه اذا كان لا يصطاد بنايه ا۔ھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہر کیلے والاحرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتا ہو۔اھ (ت)
بر جندی میں ہے:
المراد الناب الذي هو سلاح وذو الناب الحيوان الذی ينهب بالناب ا،ھ۔
(کیلے) سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنے، اور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ آور ہو ۔واللہ سبحانہ و تعالی ا علم و علمه جل مجدہ اتم واحكم (ت)
( فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 318/319)*
المراد الناب الذي هو سلاح وذو الناب الحيوان الذی ينهب بالناب ا،ھ۔
(کیلے) سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنے، اور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ آور ہو ۔واللہ سبحانہ و تعالی ا علم و علمه جل مجدہ اتم واحكم (ت)
( فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 318/319)*
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بدمذہبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین حق مسلک اہل سنت المعروف مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم رکھے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
رابطہ نمب:ر 7492077390
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
رابطہ نمب:ر 7492077390










