صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دربارۂ رویت ہلال ایک مطالعہ
فقہ وفتاویٰ

دربارۂ رویت ہلال ایک مطالعہ

✍️ Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

دربارۂ رویت ہلال ایک مطالعہ
جدید ذرائع ابلاغ سے ثبوت ہلال میں علماء مختلف ہیں جس کے نتیجے میں ہر رمضان کے شروع و آخر میں ایک معرکۃ الآراء بحث کا آغاز ہوجاتا ہے ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے عوام در کنار علماء کا حال دگر گوں ہوتا ہے مجھے بھی اس موضوع پر کچھ ذوق ہوا میں نے جائزہ لینا شروع کیا آخر اتنا ہنگامہ کیوں ہے اور پڑھنا شروع کیا ۔
جناب مفتی نظام الدین صاحب کی استفاضہ کے متعلق کتاب (موبائل سے استفاضۂ خبر کب اور کیسے ؟) کا بالاستیعاب مطالعہ کیاـ آپ نے امام اہلسنت کی تحقیق کو حرف آخر فرمایا اپنی اس جدید تحقیق کو فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں ہونے کا دعوی فرمایا ۔ دل کو سکون و اطمینان حاصل ہوا پڑھنے کا جو مزہ تھا اس لفظ نے دو گنا کردیا مگر یہ خوشی بھی عادت کے مطابق زیادہ دیر تک نہ رہی پڑھنے کے بعد اس جملے کی صداقت تحقیق میں نظر نہ آئی ـ
آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں
حضرت نے طرق موجبہ شمار فرمائے اور پھر ایک طریق آیا جس کا نام استفاضہ ہے حضرت نے یہاں تنبیہ فرمائی غور سے سننے سمجھنے کی میں بھی ہمہ تن گوش ہوگیا کہ مجھے بھی یہی سمجھنا تھا فرماتے ہیں ایک علاقہ یا مختلف دیار وامصار کے لوگوں نے کثرت سے چاند دیکھا اور اس بات کی تحقیق ہو کہ واقعی ان لوگوں نے چاند دیکھا یا چاند دیکھنے والوں سے براہ راست خود سنا اور وہ خبر عام و مشہور ہو جائے تو وہ خبر مستفیض ہو جاتی ہے اور خبر کی یہ شہرت استفاضہ کہلاتی ہے۔
مزید فرماتے ہیں استفاضہ کے معنی ہیں پھیل جانا ، مشہور ہو جانا ، پھیلنے والی دو خبریں ہیں 1 خبر متواتر 2 خبر مشہور اور خبر مشہور ہی کو خبر استفاضہ اور خبر مستفیض کہا جاتا ہے(انتھی کلامہ)
مفتی صاحب نے اپنی اس بات پر کوئ دلیل پیش نہ فرمائ جس سے ظاہر ہوتا کہ خبر مستفیض باب فقہ میں خبر مشہور کو کہتے ہیں؟
ممکن ہے حضرت نے بدیہی سمجھ کر چھوڑ دیا ہو ؟ لغت کے حساب سے تو مفہوم صحیح ہے مگر فقہی جزئیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خبر ِمستفیض خبر مشہور نہیں بلکہ خبر متواتر کے مترادف ہے

فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت نے شامی سے نقل فرمایا

رد المحتار میں ہے "قال الرحمتى معنى الاستفاضة ان تأتي من تلك البلدة جماعات متعددون كل منهم يخبر عن اهل تلك البلدة انهم صاموا عن روية لا مجرد الشياع من غير علم بمن اشاعه كما قد تشيع اخبار يتحدث بها سائر اهل البلدة ولا يعلم من اشاعها (فتاوی رضویہ ج 4ص553)
علامہ شامی منحۃ الخالق میں لامجرد الشیوع کی جگہ لا مجرد الاستفاضہ فرماتے ہیں
پوری عبارت یوں ہے لا مجرد الاستفاضہ لانھا قد تکون مبنیۃ علی اخبار رجل واحد فیشیع الخبر عنہ ولاشک ان ھذا لا یکفی بدلیل قولھم اذا استفاض الخبر و تحقق فان التحقق لایکون الا بما ذکرنا
امام اہلسنت فرماتے ہیں وہ استفاضہ جو شرعاً معتبر ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس شہر سے گروہ کے گروہ متعدد جماعتیں آئیں اور سب بالاتفاق ایک زبان کہیں کہ وہاں فلاں شب چاند دیکھ کر لوگوں نے روزہ رکھا یہاں تک کہ ان کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو جائے (ج 10 ص435)
دیکھئے علامہ رحمتی کی عبارت اور امام اہلسنت کی یہ عبارت اور ساتھ میں علامہ شامی کا لا مجرد الشیوع فرمانا اور منحۃ الخالق میں یہ فرمانا کہ تحقق ہمارے ذکر کردہ طریقے یعنی تواتر والی صورت پر ہوگا کیسے آپ کے موقف کا رد کررہے ہیں اور خبر مستفیض کو خبر متواتر فرمارہے ہیں جس کی صراحت آگے بھی آرہی ہے ۔
متعدد جماعتوں کا آنا، سب کا یک زبان کہنا ، پھر یقین شرعی حاصل ہونا یعنی اس کے بعد بھی استفاضہ تحقق پر موقوف ہے ۔
موبائل سے استفاضہ میں جماعت کہاں سے آئی ؟ ایک شخص سے فون پر گفتگو ہوئی تو وہ فرد واحد ہے جماعت نہیں ـ بیک وقت کثیر افراد سے گفتگو ہو تو بھی حضور متصور نہیں
دوسری چیز جب یہ خبر متواتر ہے اس میں صحت خبر کے لئے محض سماع بھی کافی نہیں ہوگا بلکہ اتصال بھی ضروری ہوگا جیسا کہ امام بخاری نے صحت خبر کے لئے بالفعل ملاقات کی شرط رکھی اور امام مسلم نے امکان ملاقات کو شرط فرمایا
تو موبائل سے نہ ملاقات پائی جائے اور نہ ہی متعدد جماعت کا ورود ممکن پھر فقہا نے الصوت یشبہ الصوت قرار دیا دیوار کی آڑ سے اگر کوئ خبر دے تو معتبر نہیں ہے۔
بتائیے کیا یہاں بھی اتنی تحقیق نہ ہولی جتنی کہ موبائل کے ذریعہ خبر میں ہوتی ہے باوجود اس کے فقہا نے قبول نہ فرمایا جس طرح دیوار کے پیچھے کھڑا شخص نظر سے غائب ہوتا ہے یوہیں موبائل پر بات کرنے والا شخص بھی حاضر نہیں ہوتا ہے جبکہ مخبرین کا روبرو قاضی ہونا بھی ضروری ہے جیسا کہ ان تاتی من تلک البلدۃ علامہ رحمتی کا فرمان اور من الواردین من تلک البلدۃ علامہ شامی کا فرمان اس پر شاھد ہے

موبائل سے خبر میں یہ سب مفقود ہے

اب آپ کا یہ مفہوم بنانا کہ علامہ رحمتی نے اپنے زمانے کے لحاظ سے یہ قید فرمائ ہے حضور یہ بات مسلم نہیں ہے کیوں کہ علامہ رحمتی نے استفاضہ کی صورت نہیں بیان فرمائی بلکہ استفاضے کا معنی بیان فرمایا ہے اور معنی زمانے کے تغیر سے متغیر نہیں ہوگا چلئیے ہم آپ کی یہ بات تسلیم بھی کرلیں تو فرمائیے امام اہلسنت نے کیوں نہ فرمادیا کہ علامہ رحمتی کا استفاضے کا معنی اپنے زمانے کے اعتبار سے ہے ؟ اور تار و خط وغیرہ کے ذریعہ جواز کا حکم فرما دیتے مگر آپ نے بھی وہی تعریف فرمائی اور اس کو باقی رکھا جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک صورت نہیں بلکہ استفاضے کا معنی ہے اور یہ زمانے کی نشیب و فراز سے بدل نہیں جائے گا ۔
امام اہلسنت فرماتے ہیں شریعت مطہرہ نے دربارہ ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پر بنا فرمایا اور ان میں بھی کافی وشرعی ہونے کے لئے بہت قیود و شرائط لگائیں جس کے بغیر ہر گز گواہی وشہرت بکار آمد نہیں [ج 4 ص 524]
دیکھئے امام اہلسنت نے صاف تواتر کی قید فرمائ اور آپ خبر مشہور فرمارہے ہیں تو آپ کی تحقیق فتاوی رضویہ کے خلاف ہوگئی ؟
ابھی بھی اگر یہ قضیہ نہیں حل ہوا تو اور بھی صریح سنئیے جس کو علامہ شامی قدس سرہ السامی نے منحۃ الخالق میں فرمایا اعلم ان المراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی البلدۃ التی لم یثبت بھا لامجرد الاستفاضہ(ج 2 ص 472 پی ڈی ایف)
دیکھئے اس میں تواتر کی قید ملحوظ ہے لھذا معلوم ہوا کہ خبر متواتر کے مرادف ہے اور اس کے تحقق لئے چند گروہ درکار ہیں یہاں سے ظاہر ہوا استفاضہ کا معنی زمانے کے اعتبار سے نہیں بلکہ اصل اصطلاح ہی اس پر قائم ہے ۔
مفتی صاحب قبلہ نے اعلی حضرت سرکار کے فرمان ٹیلی فون اور تار کی خبر چاند کے بارے میں بالکل غیر معتبر ہے کا مطلب بیان فرمایا کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے چاند کا ثبوت نہ ہوگا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے ثابت شدہ چاند کا اعلان بھی نہ ہوگا یعنی صاف لفظوں میں خبر اور اعلان میں فرق فرمایا اعلان معتبر خبر کو غیر معتبر قرار دیا۔
پھر آگے چل کر ص 29 پر فرماتے ہیں واقعہ یہ ہو کہ کسی نے چاند دیکھا پونے میں کسی نے چاند دیکھا مدراس میں کسی نے چاند دیکھا میسور میں کسی نے چاند دیکھا بنگلور میں کسی نے چاند دیکھا کلکتہ میں کسی نے چاند دیکھا گجرات میں کسی نے چاند دیکھا آسام میں غرض یہ کہ چودہ پندرہ لوگوں نے چاند دیکھا اور دور دراز کے مختلف شہروں اور علاقوں میں چاند دیکھا ہم سب کو اکٹھا نہیں کر سکتے نہ وہ سب آسکتے ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟
طویل گفتگو فرمانے کے بعد فرماتے ہیں تو استفاضہ کے لئے خبر کا صحیح ہونا ضروری ہے اور علماء جب خبر دیتے ہیں تو ہم مانتے ہیں کہ یہ لوگ صحیح بول رہے ہیں لیکن ایک احتمال کذب کا بھی ہے اس جھوٹ کے احتمال کو دور کرنے کے لئے کثرت چاہئے ہم کو میسور سے چار پانچ لوگوں نے فون پر خبر دی اسی طرح کلکتہ سے خبر دے دی گجرات سے ،کرناٹک سے یوپی کے مختلف اضلاع سے بہار سے خبر دے دی جھارکھنڈ سے خبر دے دی اب ہمارے پاس چودہ پندرہ یا اس سے زیادہ قابل اعتماد ثقہ لوگوں کی طرف سے چاند دیکھنے کی خبریں آگئیں اطمئنان قلب حاصل ہوگیا کہ اتنے کثیر اور ذمہ دار لوگ مختلف مقامات سے تقریبا وقت واحد میں بمضمون واحد خبر دے رہے ہیں تو وہ ضرور سچے اور ان کی خبر ضرور سچی ودرست ہے لہذا ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ استفاضہ ہوگیا اور جب استفاضہ ہوگیا تو چاند ثابت ہوگیا۔
دیکھئے دونوں عبارتیں امام اہلسنت کی عبارت کی وضاحت میں فرمایا اس سے چاند ثابت نہیں ہوتا تھوڑی دیر بعد ہی ثابت بھی فرمادیا یہ کیسا تعارض ہے ؟ اور اعلان کا نام تک نہ لیا فون پر خبر اور اس خبر سے استفاضہ پھر استفاضہ سے چاند ثابت ہوا ۔
آپ نے فرمایا اعلان تو ہو ہی سکتا ہے اب اعلان ہوگا تو لوگ اس پر عمل کرے گیں لیکن امام الحجۃ فرماتے ہیں امور شرعیہ میں تار کی خبر محض نامعتبر اور یہ طریقہ کہ تحقیق ہلال کے لئے تراشا گیا باطل وبے اثر ـ مسلمانوں کو ایسے اعلان پر عمل حرام اور جو اس کی بنا پر مرتکب اعلان ہو سب سے زیادہ مبتلائے آثام [ج 4 ص 524]

اب فرمائیے آپ کی وہ تحقیق اس قول کے تناظر میں کیا رہ گئی ؟

مفتی صاحب نے اس کو قیاس فرمایا قیاس فرمانا ہی اس بات پر دلیل ہے کہ واضح کوئ نص نہیں رکھتے ہیں ورنہ اس جانب ضرورت ہی کیوں پیش آتی خیر فرماتے ہیں اگر انتیس کو فائر ہوئے نقارہ بجا دیا گیا تو علماء فرماتے ہیں دیہات والوں پر روزہ رکھنا فرض ہوگیا عید فرض ہوگئ جہاں جہاں تک اس کی آواز پہنچے گی ان سب پر لازم ہوگیا کہ روزہ رکھیں یا عید کریں توپ وغیرہ کی خبر محض ایک آواز ہی ہے نا ؟
دیکھئے مفتی صاحب نے اب اعلان اور خبر کے مابین کوئ فرق نہ کیا حالانکہ اوپر فرق کر چکے ہیں توپ سے جو اعلان ہوتا تھا اس کو بڑی استقامت کے ساتھ خبر تسلیم فرمایا پھر مفتی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی کرامات کے عنوان سے ایک پیرا گراف چھوڑا جس میں یہ ہے کہ وغیرہ کہہ کر اعلی حضرت نے ہمارے زمانے کے موبائل کو بھی شامل کرلیا
یعنی بتانا یہ مکمل عبارت سے چاہ رہے ہیں نقارے وغیرہ پر قیاس کرکے کہ اس کی کوئ حد متعین نہیں ہے جہاں تک خبر چلی جائے یا بقول حضرت کے اعلان پہنچ جائے وہاں تک حکم نافذ ہوگا تو موبائل سے چونکہ دور دراز مقام تک پہنچ جاتی ہے لھذا پورے ملک کے لئے بھی ہوسکتی ہے
لیجئے صاحب فقہا کی سب دقیق بحثیں رکھی رہ گئیں اور ایک موبائل نے سب آسان کردیا ؟
کہیں دور نہیں جاتے ہیں اسی کتاب کے شروع میں مفتی صاحب قبلہ نے جن دو بزرگ شخصیات کی نسبت سے خود کو ممتاز فرمایا ہے ان کی بارگاہ میں ہی چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کیا نقارے وغیرہ کی آواز جہاں تک جائے گی وہاں والوں کے لئے بھی اعلان مانا جائے گا ۔
چناچہ مفتی شریف الحق امجدی صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی یا قاضی القضاۃ کا اعلان صرف اسی شہر کے اور اس کے ملحق دیہات کے لئے ہے جہاں سے وہ اعلان کررہا ہے دوسرے شہر اور اس کے لواحقین کے لئے ناکافی
فرض کیجئے اگر بہت اونچی آواز کی توپ کسی اونچے پہاڑ پر ایک شہر میں داغی جائے اور اس کی آواز دوسرے شہر میں سنائ دے تو یہ بھی ناکافی وجہ یہی ہے کہ ایک شہر سے دوسرے میں ثبوت رویت کے طریق موجب شرط ہے اور اعلان قاضی دوسرے شہر کے لئے طریق موجب نہیں اس لئے اعلان محض دوسرے شہر میں مثبت ہلال نہیں(فتاوی مبارکہ دربارۂ رویت ہلال)
اب آپ اپنے مرشد سرکار مفتئ اعظم ہند کا فرمان بھی سماعت فرمائیں توپ کی آواز اور قنادیل ظاہر ہے کہ شہر اور مضافات کے لئے نشانی ہیں جہاں وہ کی گئی ہیں قاضی القضاۃ ہو یا خود سلطان کسی کا بھی ریڈیو پر اعلان دوسرے شہر کے لئے ہر گز معتبر نہیں ہوسکتا من جہۃ الشرع ہرگز لازم نہیں کہ ایسا انتظام کیا جائے کہ سارے ملک میں ایک ہی روز روزہ شروع ہو ایک ہی روز ختم اور ایک ہی روز ملک بھر کے مسلمان عید منائیں(فتاوی مبارکہ دربارۂ رویت ہلال)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت مفتی صاحب قبلہ نے انھیں دونوں بزرگ کی طرف اپنی نسبت فرمائی تھی اور فقہ وفتوی کے علم کا سہرا بھی دونوں نفوس قدسیہ کے سر سجایا تھا مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں فقیر اتنا ہی عرض کر سکتا ہے کہ تحقیق کو تحقق کی ضرورت ہے اور ہلال بذریعہ جدید آلات کے تحقق کو تحقیق کی ضرورت ہے
✍️ ہشام الدین قادری حنیفی مرکزی

دربارۂ رویت ہلال ایک مطالعہ

مضمون نگار: Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

دربارۂ رویت ہلال ایک مطالعہ
جدید ذرائع ابلاغ سے ثبوت ہلال میں علماء مختلف ہیں جس کے نتیجے میں ہر رمضان کے شروع و آخر میں ایک معرکۃ الآراء بحث کا آغاز ہوجاتا ہے ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے عوام در کنار علماء کا حال دگر گوں ہوتا ہے مجھے بھی اس موضوع پر کچھ ذوق ہوا میں نے جائزہ لینا شروع کیا آخر اتنا ہنگامہ کیوں ہے اور پڑھنا شروع کیا ۔
جناب مفتی نظام الدین صاحب کی استفاضہ کے متعلق کتاب (موبائل سے استفاضۂ خبر کب اور کیسے ؟) کا بالاستیعاب مطالعہ کیاـ آپ نے امام اہلسنت کی تحقیق کو حرف آخر فرمایا اپنی اس جدید تحقیق کو فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں ہونے کا دعوی فرمایا ۔ دل کو سکون و اطمینان حاصل ہوا پڑھنے کا جو مزہ تھا اس لفظ نے دو گنا کردیا مگر یہ خوشی بھی عادت کے مطابق زیادہ دیر تک نہ رہی پڑھنے کے بعد اس جملے کی صداقت تحقیق میں نظر نہ آئی ـ
آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں
حضرت نے طرق موجبہ شمار فرمائے اور پھر ایک طریق آیا جس کا نام استفاضہ ہے حضرت نے یہاں تنبیہ فرمائی غور سے سننے سمجھنے کی میں بھی ہمہ تن گوش ہوگیا کہ مجھے بھی یہی سمجھنا تھا فرماتے ہیں ایک علاقہ یا مختلف دیار وامصار کے لوگوں نے کثرت سے چاند دیکھا اور اس بات کی تحقیق ہو کہ واقعی ان لوگوں نے چاند دیکھا یا چاند دیکھنے والوں سے براہ راست خود سنا اور وہ خبر عام و مشہور ہو جائے تو وہ خبر مستفیض ہو جاتی ہے اور خبر کی یہ شہرت استفاضہ کہلاتی ہے۔
مزید فرماتے ہیں استفاضہ کے معنی ہیں پھیل جانا ، مشہور ہو جانا ، پھیلنے والی دو خبریں ہیں 1 خبر متواتر 2 خبر مشہور اور خبر مشہور ہی کو خبر استفاضہ اور خبر مستفیض کہا جاتا ہے(انتھی کلامہ)
مفتی صاحب نے اپنی اس بات پر کوئ دلیل پیش نہ فرمائ جس سے ظاہر ہوتا کہ خبر مستفیض باب فقہ میں خبر مشہور کو کہتے ہیں؟
ممکن ہے حضرت نے بدیہی سمجھ کر چھوڑ دیا ہو ؟ لغت کے حساب سے تو مفہوم صحیح ہے مگر فقہی جزئیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خبر ِمستفیض خبر مشہور نہیں بلکہ خبر متواتر کے مترادف ہے

فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت نے شامی سے نقل فرمایا

رد المحتار میں ہے "قال الرحمتى معنى الاستفاضة ان تأتي من تلك البلدة جماعات متعددون كل منهم يخبر عن اهل تلك البلدة انهم صاموا عن روية لا مجرد الشياع من غير علم بمن اشاعه كما قد تشيع اخبار يتحدث بها سائر اهل البلدة ولا يعلم من اشاعها (فتاوی رضویہ ج 4ص553)
علامہ شامی منحۃ الخالق میں لامجرد الشیوع کی جگہ لا مجرد الاستفاضہ فرماتے ہیں
پوری عبارت یوں ہے لا مجرد الاستفاضہ لانھا قد تکون مبنیۃ علی اخبار رجل واحد فیشیع الخبر عنہ ولاشک ان ھذا لا یکفی بدلیل قولھم اذا استفاض الخبر و تحقق فان التحقق لایکون الا بما ذکرنا
امام اہلسنت فرماتے ہیں وہ استفاضہ جو شرعاً معتبر ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس شہر سے گروہ کے گروہ متعدد جماعتیں آئیں اور سب بالاتفاق ایک زبان کہیں کہ وہاں فلاں شب چاند دیکھ کر لوگوں نے روزہ رکھا یہاں تک کہ ان کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو جائے (ج 10 ص435)
دیکھئے علامہ رحمتی کی عبارت اور امام اہلسنت کی یہ عبارت اور ساتھ میں علامہ شامی کا لا مجرد الشیوع فرمانا اور منحۃ الخالق میں یہ فرمانا کہ تحقق ہمارے ذکر کردہ طریقے یعنی تواتر والی صورت پر ہوگا کیسے آپ کے موقف کا رد کررہے ہیں اور خبر مستفیض کو خبر متواتر فرمارہے ہیں جس کی صراحت آگے بھی آرہی ہے ۔
متعدد جماعتوں کا آنا، سب کا یک زبان کہنا ، پھر یقین شرعی حاصل ہونا یعنی اس کے بعد بھی استفاضہ تحقق پر موقوف ہے ۔
موبائل سے استفاضہ میں جماعت کہاں سے آئی ؟ ایک شخص سے فون پر گفتگو ہوئی تو وہ فرد واحد ہے جماعت نہیں ـ بیک وقت کثیر افراد سے گفتگو ہو تو بھی حضور متصور نہیں
دوسری چیز جب یہ خبر متواتر ہے اس میں صحت خبر کے لئے محض سماع بھی کافی نہیں ہوگا بلکہ اتصال بھی ضروری ہوگا جیسا کہ امام بخاری نے صحت خبر کے لئے بالفعل ملاقات کی شرط رکھی اور امام مسلم نے امکان ملاقات کو شرط فرمایا
تو موبائل سے نہ ملاقات پائی جائے اور نہ ہی متعدد جماعت کا ورود ممکن پھر فقہا نے الصوت یشبہ الصوت قرار دیا دیوار کی آڑ سے اگر کوئ خبر دے تو معتبر نہیں ہے۔
بتائیے کیا یہاں بھی اتنی تحقیق نہ ہولی جتنی کہ موبائل کے ذریعہ خبر میں ہوتی ہے باوجود اس کے فقہا نے قبول نہ فرمایا جس طرح دیوار کے پیچھے کھڑا شخص نظر سے غائب ہوتا ہے یوہیں موبائل پر بات کرنے والا شخص بھی حاضر نہیں ہوتا ہے جبکہ مخبرین کا روبرو قاضی ہونا بھی ضروری ہے جیسا کہ ان تاتی من تلک البلدۃ علامہ رحمتی کا فرمان اور من الواردین من تلک البلدۃ علامہ شامی کا فرمان اس پر شاھد ہے

موبائل سے خبر میں یہ سب مفقود ہے

اب آپ کا یہ مفہوم بنانا کہ علامہ رحمتی نے اپنے زمانے کے لحاظ سے یہ قید فرمائ ہے حضور یہ بات مسلم نہیں ہے کیوں کہ علامہ رحمتی نے استفاضہ کی صورت نہیں بیان فرمائی بلکہ استفاضے کا معنی بیان فرمایا ہے اور معنی زمانے کے تغیر سے متغیر نہیں ہوگا چلئیے ہم آپ کی یہ بات تسلیم بھی کرلیں تو فرمائیے امام اہلسنت نے کیوں نہ فرمادیا کہ علامہ رحمتی کا استفاضے کا معنی اپنے زمانے کے اعتبار سے ہے ؟ اور تار و خط وغیرہ کے ذریعہ جواز کا حکم فرما دیتے مگر آپ نے بھی وہی تعریف فرمائی اور اس کو باقی رکھا جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک صورت نہیں بلکہ استفاضے کا معنی ہے اور یہ زمانے کی نشیب و فراز سے بدل نہیں جائے گا ۔
امام اہلسنت فرماتے ہیں شریعت مطہرہ نے دربارہ ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پر بنا فرمایا اور ان میں بھی کافی وشرعی ہونے کے لئے بہت قیود و شرائط لگائیں جس کے بغیر ہر گز گواہی وشہرت بکار آمد نہیں [ج 4 ص 524]
دیکھئے امام اہلسنت نے صاف تواتر کی قید فرمائ اور آپ خبر مشہور فرمارہے ہیں تو آپ کی تحقیق فتاوی رضویہ کے خلاف ہوگئی ؟
ابھی بھی اگر یہ قضیہ نہیں حل ہوا تو اور بھی صریح سنئیے جس کو علامہ شامی قدس سرہ السامی نے منحۃ الخالق میں فرمایا اعلم ان المراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی البلدۃ التی لم یثبت بھا لامجرد الاستفاضہ(ج 2 ص 472 پی ڈی ایف)
دیکھئے اس میں تواتر کی قید ملحوظ ہے لھذا معلوم ہوا کہ خبر متواتر کے مرادف ہے اور اس کے تحقق لئے چند گروہ درکار ہیں یہاں سے ظاہر ہوا استفاضہ کا معنی زمانے کے اعتبار سے نہیں بلکہ اصل اصطلاح ہی اس پر قائم ہے ۔
مفتی صاحب قبلہ نے اعلی حضرت سرکار کے فرمان ٹیلی فون اور تار کی خبر چاند کے بارے میں بالکل غیر معتبر ہے کا مطلب بیان فرمایا کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے چاند کا ثبوت نہ ہوگا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے ثابت شدہ چاند کا اعلان بھی نہ ہوگا یعنی صاف لفظوں میں خبر اور اعلان میں فرق فرمایا اعلان معتبر خبر کو غیر معتبر قرار دیا۔
پھر آگے چل کر ص 29 پر فرماتے ہیں واقعہ یہ ہو کہ کسی نے چاند دیکھا پونے میں کسی نے چاند دیکھا مدراس میں کسی نے چاند دیکھا میسور میں کسی نے چاند دیکھا بنگلور میں کسی نے چاند دیکھا کلکتہ میں کسی نے چاند دیکھا گجرات میں کسی نے چاند دیکھا آسام میں غرض یہ کہ چودہ پندرہ لوگوں نے چاند دیکھا اور دور دراز کے مختلف شہروں اور علاقوں میں چاند دیکھا ہم سب کو اکٹھا نہیں کر سکتے نہ وہ سب آسکتے ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟
طویل گفتگو فرمانے کے بعد فرماتے ہیں تو استفاضہ کے لئے خبر کا صحیح ہونا ضروری ہے اور علماء جب خبر دیتے ہیں تو ہم مانتے ہیں کہ یہ لوگ صحیح بول رہے ہیں لیکن ایک احتمال کذب کا بھی ہے اس جھوٹ کے احتمال کو دور کرنے کے لئے کثرت چاہئے ہم کو میسور سے چار پانچ لوگوں نے فون پر خبر دی اسی طرح کلکتہ سے خبر دے دی گجرات سے ،کرناٹک سے یوپی کے مختلف اضلاع سے بہار سے خبر دے دی جھارکھنڈ سے خبر دے دی اب ہمارے پاس چودہ پندرہ یا اس سے زیادہ قابل اعتماد ثقہ لوگوں کی طرف سے چاند دیکھنے کی خبریں آگئیں اطمئنان قلب حاصل ہوگیا کہ اتنے کثیر اور ذمہ دار لوگ مختلف مقامات سے تقریبا وقت واحد میں بمضمون واحد خبر دے رہے ہیں تو وہ ضرور سچے اور ان کی خبر ضرور سچی ودرست ہے لہذا ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ استفاضہ ہوگیا اور جب استفاضہ ہوگیا تو چاند ثابت ہوگیا۔
دیکھئے دونوں عبارتیں امام اہلسنت کی عبارت کی وضاحت میں فرمایا اس سے چاند ثابت نہیں ہوتا تھوڑی دیر بعد ہی ثابت بھی فرمادیا یہ کیسا تعارض ہے ؟ اور اعلان کا نام تک نہ لیا فون پر خبر اور اس خبر سے استفاضہ پھر استفاضہ سے چاند ثابت ہوا ۔
آپ نے فرمایا اعلان تو ہو ہی سکتا ہے اب اعلان ہوگا تو لوگ اس پر عمل کرے گیں لیکن امام الحجۃ فرماتے ہیں امور شرعیہ میں تار کی خبر محض نامعتبر اور یہ طریقہ کہ تحقیق ہلال کے لئے تراشا گیا باطل وبے اثر ـ مسلمانوں کو ایسے اعلان پر عمل حرام اور جو اس کی بنا پر مرتکب اعلان ہو سب سے زیادہ مبتلائے آثام [ج 4 ص 524]

اب فرمائیے آپ کی وہ تحقیق اس قول کے تناظر میں کیا رہ گئی ؟

مفتی صاحب نے اس کو قیاس فرمایا قیاس فرمانا ہی اس بات پر دلیل ہے کہ واضح کوئ نص نہیں رکھتے ہیں ورنہ اس جانب ضرورت ہی کیوں پیش آتی خیر فرماتے ہیں اگر انتیس کو فائر ہوئے نقارہ بجا دیا گیا تو علماء فرماتے ہیں دیہات والوں پر روزہ رکھنا فرض ہوگیا عید فرض ہوگئ جہاں جہاں تک اس کی آواز پہنچے گی ان سب پر لازم ہوگیا کہ روزہ رکھیں یا عید کریں توپ وغیرہ کی خبر محض ایک آواز ہی ہے نا ؟
دیکھئے مفتی صاحب نے اب اعلان اور خبر کے مابین کوئ فرق نہ کیا حالانکہ اوپر فرق کر چکے ہیں توپ سے جو اعلان ہوتا تھا اس کو بڑی استقامت کے ساتھ خبر تسلیم فرمایا پھر مفتی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی کرامات کے عنوان سے ایک پیرا گراف چھوڑا جس میں یہ ہے کہ وغیرہ کہہ کر اعلی حضرت نے ہمارے زمانے کے موبائل کو بھی شامل کرلیا
یعنی بتانا یہ مکمل عبارت سے چاہ رہے ہیں نقارے وغیرہ پر قیاس کرکے کہ اس کی کوئ حد متعین نہیں ہے جہاں تک خبر چلی جائے یا بقول حضرت کے اعلان پہنچ جائے وہاں تک حکم نافذ ہوگا تو موبائل سے چونکہ دور دراز مقام تک پہنچ جاتی ہے لھذا پورے ملک کے لئے بھی ہوسکتی ہے
لیجئے صاحب فقہا کی سب دقیق بحثیں رکھی رہ گئیں اور ایک موبائل نے سب آسان کردیا ؟
کہیں دور نہیں جاتے ہیں اسی کتاب کے شروع میں مفتی صاحب قبلہ نے جن دو بزرگ شخصیات کی نسبت سے خود کو ممتاز فرمایا ہے ان کی بارگاہ میں ہی چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کیا نقارے وغیرہ کی آواز جہاں تک جائے گی وہاں والوں کے لئے بھی اعلان مانا جائے گا ۔
چناچہ مفتی شریف الحق امجدی صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی یا قاضی القضاۃ کا اعلان صرف اسی شہر کے اور اس کے ملحق دیہات کے لئے ہے جہاں سے وہ اعلان کررہا ہے دوسرے شہر اور اس کے لواحقین کے لئے ناکافی
فرض کیجئے اگر بہت اونچی آواز کی توپ کسی اونچے پہاڑ پر ایک شہر میں داغی جائے اور اس کی آواز دوسرے شہر میں سنائ دے تو یہ بھی ناکافی وجہ یہی ہے کہ ایک شہر سے دوسرے میں ثبوت رویت کے طریق موجب شرط ہے اور اعلان قاضی دوسرے شہر کے لئے طریق موجب نہیں اس لئے اعلان محض دوسرے شہر میں مثبت ہلال نہیں(فتاوی مبارکہ دربارۂ رویت ہلال)
اب آپ اپنے مرشد سرکار مفتئ اعظم ہند کا فرمان بھی سماعت فرمائیں توپ کی آواز اور قنادیل ظاہر ہے کہ شہر اور مضافات کے لئے نشانی ہیں جہاں وہ کی گئی ہیں قاضی القضاۃ ہو یا خود سلطان کسی کا بھی ریڈیو پر اعلان دوسرے شہر کے لئے ہر گز معتبر نہیں ہوسکتا من جہۃ الشرع ہرگز لازم نہیں کہ ایسا انتظام کیا جائے کہ سارے ملک میں ایک ہی روز روزہ شروع ہو ایک ہی روز ختم اور ایک ہی روز ملک بھر کے مسلمان عید منائیں(فتاوی مبارکہ دربارۂ رویت ہلال)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت مفتی صاحب قبلہ نے انھیں دونوں بزرگ کی طرف اپنی نسبت فرمائی تھی اور فقہ وفتوی کے علم کا سہرا بھی دونوں نفوس قدسیہ کے سر سجایا تھا مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں فقیر اتنا ہی عرض کر سکتا ہے کہ تحقیق کو تحقق کی ضرورت ہے اور ہلال بذریعہ جدید آلات کے تحقق کو تحقیق کی ضرورت ہے
✍️ ہشام الدین قادری حنیفی مرکزی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
22
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 13
Kalam 0
Mufti Hishamuddin Quadri Markazi
زمرہ جات

الله يعلم المفسد من المصلح

بدر ملت بدر شریعت ہمہ جہت شخصیت

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 29 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
تاثرات 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢