صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
فلسفہ قربانی
عبادات

فلسفہ قربانی

✍️ Md Hassan Raza Misbahi

فلسفہ قربانی
✍️ محمد حسان خان مصباحی
اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں امت محمدیہﷺ میں پیدا فرمایا اور ہم پر بہت سارے احکام مقرر فرمائے (فرائض و واجبات وغیرہ) انہی احکام میں سے ایک حکم قربانی کا بھی ہے جو نہایت سخاوت و سعادت کا باعث اور رفعت و عظمت کا سبب اور زندہ قوموں کا شعار ہے قربانی قربانی دینے والوں کو پستی کی بجائے بلندی عطا کر دیتی ہے اور دور فرقت میں جلنے والوں کو پیغام وصل سناتی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جو قوم مرنا اور قربان ہونا سیکھ لیتی ہے زندگی اسی قوم کو ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ قربانی کا تصور ہر قوم اور ہر دور میں مختلف انداز سے رہا ہے اسی طرح قربانی کا تصور اسلام میں بھی تمام ادیان و اقوام سے الگ رہا ہے اور اسلام نے اسے کئی موقع بھی فراہم کیے ہیں ان میں سے ایک موقع ١٠ ذی الحجہ کا مقدس دن بھی ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم الہی کے خاطر قربان کر دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت و فرمانبرداری اور جانثاری و رضامندی کا ثبوت دیا اور اپنی گردن اللہ رب العزت کے حضور جھکا دی اور قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا اور اللہ رب العزت نے دونوں کی فرمانبرداری کو شرف قبولیت بخشا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروانہ عطا کیا اور ان کی جگہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا اور اسے ذبح عظیم کا لقب عطا کیا
چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وفديناه بذبح عظيم(اور ہم نے اسماعیل کے بدلے میں ایک بڑا ذبیحہ دے دیا)
یعنی اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ اس نبی علیہ السلام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں (بیضاوی, الصافات, تحت الایة:٢٢/٥,١٠٧)
اور اسی طرح احادیث طیبہ میں بھی قربانی کی بہت زیادہ فضیلت اور اس کا ثواب ہے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو پسند نہیں طلب العلم من اعظم الاعمال التي تقرب الانسان الى ربه وترفع مكانته بين الناس فالعلم نور يهدي العقول الى الحق ويعين صاحبه على فهم امور الدين والدنيا والعمل بما ينفعه في حياته ويعود بالخير على مجتمعه وامته." ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ اللہ رب العزت کی یہاں قبول ہو جاتا ہے (مشکوة)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے
عید کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا یہ ایک ظاہری عمل ہے اور اس کا ایک باطنی عمل بھی ہے اور وہ تقوی ہے یعنی قربانی کا مطلب جانور ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھا لینا اور خون بہا دینا ہی نہیں اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. بلکہ جس خلوص و نیت کے ساتھ وہ جانور ذبح کیا جائے اس خلوص و نیت اور اس تقوے کو قربانی کہا جاتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے لن ينال الله لحومها ولا دمائها ولكن يناله التقوى (اللہ کے یہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے) (ترجمہ کنز العرفان)
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ہر امت ہر طبقے میں تصور قربانی موجود رہا ہے اور انہوں نے اپنے مذہبی عقائد و نظریات کے لحاظ سے قربانی کیا تاریخ کی اولین قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے کی ہے جسے قران عظیم نے یوں بیان کیا
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَٜ (27)لَىٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(28)اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ (29) (المآئدہ,٢٩,٢٨,٢٧)
ترجمہ
اور ( اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کر لی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی تو (وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے) کہا! اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے بے شک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے اوپر ہی پڑ جائیں تو تو دوزخی ہو جائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے (ترجمہ کنز العرفان)
اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. اس کے علاوہ تاریخ عالم میں مختلف قربانیوں کا ذکر ہے جیسے قوم نوح کی قربانی, یونانیوں, مجوسیوں, اور ہندوؤں کی قربانی مگر سب پر فائق امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ہے جس کا پس منظر یہ ہے

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ
(الٰہی مجھے لائق اولاد دے تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی سلام ہو ابراہیم پر ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک وہ ہمارے اعلی درجے کے کامل الایمان بندوں میں ہیں (کنز الایمان)
اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسماعیل ہیں یا حضرت اسحاق علیه‍ما السلام ہیں لیکن دلائل کی قوت ا یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں اور جنت سے بکری بھیجی گئی تھی فدیہ میں جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا (خزائن العرفان)
اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ارض مقدسہ کے مقام پر پہنچے تو اس وقت آپ کے پاس اولاد نہیں تھی تو آپ نے دعا کی اے میرے رب مجھے نیک اولاد عطا فرما جو کہ دین حق کی دعوت دینے میں اور تیری عبادت کرنے پر میری مددگار ہو اور اس سے مجھے پردیس میں انسیت حاصل ہو تو اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند عطا فرمایا وہ پلتے بڑھتے جب اس عمر تک پہنچ گئے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حاجت اور ضروریات میں ان کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئے تو ان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے خواب حق ہوتے ہیں اور ان کے افعال اللہ کے حکم سے ہوا کرتے ہیں اب تو دیکھ لے تیری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ اس لیے کہا تھا تاکہ انہیں ذبح ہونے سے وحشت نہ ہو اور اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت کے لیے رغبت کے ساتھ تیار ہوں جائیں چنانچہ اس فرزند ارجمند نے اللہ رب العزت کی رضا پر فدا ہونے کا کمال شوق سے اظہار کیا اور فرمایا اے میرے باپ آپ وہی کریں جس کا آپ کو اللہ رب العزت کی جانب سے حکم دیا جا رہا ہے اگر اللہ رب العزت نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے ذبح پر صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی " اے والد محترم! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کی چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تاکہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لیے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو اس وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہوگی اور وہ رقت اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دے دیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آجائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے انہیں اچھی طرح باندھ دیا پھر اپنی چھری کو تیز کیا اور اپنے فرزند کو منہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی پھر ان کے حلق پر چھری چلا دی تو اللہ رب العزت نے ان کے ہاتھ میں چھری پلٹ دی اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لیے بے دریغ پیش کر کے اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی بس اب اتنا کافی ہے یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو ( صراط الجنان )
صراط الجنان

فلسفہ قربانی

مضمون نگار: Md Hassan Raza Misbahi

فلسفہ قربانی
✍️ محمد حسان خان مصباحی
اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں امت محمدیہﷺ میں پیدا فرمایا اور ہم پر بہت سارے احکام مقرر فرمائے (فرائض و واجبات وغیرہ) انہی احکام میں سے ایک حکم قربانی کا بھی ہے جو نہایت سخاوت و سعادت کا باعث اور رفعت و عظمت کا سبب اور زندہ قوموں کا شعار ہے قربانی قربانی دینے والوں کو پستی کی بجائے بلندی عطا کر دیتی ہے اور دور فرقت میں جلنے والوں کو پیغام وصل سناتی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جو قوم مرنا اور قربان ہونا سیکھ لیتی ہے زندگی اسی قوم کو ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ قربانی کا تصور ہر قوم اور ہر دور میں مختلف انداز سے رہا ہے اسی طرح قربانی کا تصور اسلام میں بھی تمام ادیان و اقوام سے الگ رہا ہے اور اسلام نے اسے کئی موقع بھی فراہم کیے ہیں ان میں سے ایک موقع ١٠ ذی الحجہ کا مقدس دن بھی ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم الہی کے خاطر قربان کر دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت و فرمانبرداری اور جانثاری و رضامندی کا ثبوت دیا اور اپنی گردن اللہ رب العزت کے حضور جھکا دی اور قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا اور اللہ رب العزت نے دونوں کی فرمانبرداری کو شرف قبولیت بخشا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروانہ عطا کیا اور ان کی جگہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا اور اسے ذبح عظیم کا لقب عطا کیا
چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وفديناه بذبح عظيم(اور ہم نے اسماعیل کے بدلے میں ایک بڑا ذبیحہ دے دیا)
یعنی اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ اس نبی علیہ السلام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں (بیضاوی, الصافات, تحت الایة:٢٢/٥,١٠٧)
اور اسی طرح احادیث طیبہ میں بھی قربانی کی بہت زیادہ فضیلت اور اس کا ثواب ہے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو پسند نہیں طلب العلم من اعظم الاعمال التي تقرب الانسان الى ربه وترفع مكانته بين الناس فالعلم نور يهدي العقول الى الحق ويعين صاحبه على فهم امور الدين والدنيا والعمل بما ينفعه في حياته ويعود بالخير على مجتمعه وامته." ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ اللہ رب العزت کی یہاں قبول ہو جاتا ہے (مشکوة)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے
عید کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا یہ ایک ظاہری عمل ہے اور اس کا ایک باطنی عمل بھی ہے اور وہ تقوی ہے یعنی قربانی کا مطلب جانور ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھا لینا اور خون بہا دینا ہی نہیں اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. بلکہ جس خلوص و نیت کے ساتھ وہ جانور ذبح کیا جائے اس خلوص و نیت اور اس تقوے کو قربانی کہا جاتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے لن ينال الله لحومها ولا دمائها ولكن يناله التقوى (اللہ کے یہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے) (ترجمہ کنز العرفان)
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ہر امت ہر طبقے میں تصور قربانی موجود رہا ہے اور انہوں نے اپنے مذہبی عقائد و نظریات کے لحاظ سے قربانی کیا تاریخ کی اولین قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے کی ہے جسے قران عظیم نے یوں بیان کیا
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَٜ (27)لَىٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(28)اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ (29) (المآئدہ,٢٩,٢٨,٢٧)
ترجمہ
اور ( اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کر لی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی تو (وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے) کہا! اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے بے شک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے اوپر ہی پڑ جائیں تو تو دوزخی ہو جائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے (ترجمہ کنز العرفان)
اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. اس کے علاوہ تاریخ عالم میں مختلف قربانیوں کا ذکر ہے جیسے قوم نوح کی قربانی, یونانیوں, مجوسیوں, اور ہندوؤں کی قربانی مگر سب پر فائق امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ہے جس کا پس منظر یہ ہے

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ
(الٰہی مجھے لائق اولاد دے تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی سلام ہو ابراہیم پر ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک وہ ہمارے اعلی درجے کے کامل الایمان بندوں میں ہیں (کنز الایمان)
اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسماعیل ہیں یا حضرت اسحاق علیه‍ما السلام ہیں لیکن دلائل کی قوت ا یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں اور جنت سے بکری بھیجی گئی تھی فدیہ میں جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا (خزائن العرفان)
اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ارض مقدسہ کے مقام پر پہنچے تو اس وقت آپ کے پاس اولاد نہیں تھی تو آپ نے دعا کی اے میرے رب مجھے نیک اولاد عطا فرما جو کہ دین حق کی دعوت دینے میں اور تیری عبادت کرنے پر میری مددگار ہو اور اس سے مجھے پردیس میں انسیت حاصل ہو تو اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند عطا فرمایا وہ پلتے بڑھتے جب اس عمر تک پہنچ گئے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حاجت اور ضروریات میں ان کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئے تو ان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے خواب حق ہوتے ہیں اور ان کے افعال اللہ کے حکم سے ہوا کرتے ہیں اب تو دیکھ لے تیری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ اس لیے کہا تھا تاکہ انہیں ذبح ہونے سے وحشت نہ ہو اور اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت کے لیے رغبت کے ساتھ تیار ہوں جائیں چنانچہ اس فرزند ارجمند نے اللہ رب العزت کی رضا پر فدا ہونے کا کمال شوق سے اظہار کیا اور فرمایا اے میرے باپ آپ وہی کریں جس کا آپ کو اللہ رب العزت کی جانب سے حکم دیا جا رہا ہے اگر اللہ رب العزت نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے ذبح پر صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی " اے والد محترم! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کی چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تاکہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لیے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو اس وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہوگی اور وہ رقت اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دے دیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آجائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے انہیں اچھی طرح باندھ دیا پھر اپنی چھری کو تیز کیا اور اپنے فرزند کو منہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی پھر ان کے حلق پر چھری چلا دی تو اللہ رب العزت نے ان کے ہاتھ میں چھری پلٹ دی اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لیے بے دریغ پیش کر کے اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی بس اب اتنا کافی ہے یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو ( صراط الجنان )
صراط الجنان
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Hassan Raza Misbahi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
73
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Md Hassan Raza Misbahi
زمرہ جات

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢