صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ماں کی نصیحت
اصلاح معاشرہ

ماں کی نصیحت

✍️ Azad 3

ماں کی نصیحت
ایک دوست اپنے دوست سے ملنے کے لیے بے قرار تھا۔ غمِ فراق نے اس کے چہرے پر ایسے آثار چھوڑ دیے تھے کہ جو بھی اسے دیکھتا، بیمار سمجھتا۔ آنکھیں اس قدر سرخ تھیں جیسے مدتوں سے سویا نہ ہو؛ جیسے کسی کی یاد نے اس کی راتوں کی نیند چھین لی ہو اور وہ شب بھر جاگ کر اپنے محبوب دوست کی جدائی کا ماتم کرتا رہا ہو۔
کئی دنوں سے اس کے دل میں ایک ہی آرزو مچل رہی تھی کہ کسی طرح اپنے عزیز دوست سے ملاقات ہو جائے۔پھر ایک دن اچانک اس کی امید کی کرن روشن ہوئی اسے اپنے دوست تک پہنچنے کا راستہ مل گیا آج وہ اسی دوست سے ملنے جا رہا تھا جس کی جدائی نے اسے بے قرار کر رکھا تھا۔
صبح ہی صبح اس کی ماں نے اسے غسل دیا، نہلا دھلا کر پاکیزہ لباس پہنایا اور خوشبو سے معطر کردیا۔ مگر بیٹے کو تیار کرتے ہوئے ماں کے چہرے پر عجیب سی اداسی تھی۔ آنکھوں میں محبت بھی تھی اور ایک انجانا سا خوف بھی وہ مسکرانا چاہتی تھی، مگر جیسے کوئی فکر اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ روک رہی ہو۔آخرکار اس نے بیٹے کی طرف دیکھا، ہلکا سا مسکرائی اور نہایت سنجیدہ لہجے میں بولی: بیٹا! ایک بات اپنے ذہن کے دریچے اور دل کے نہاں خانے میں ہمیشہ کے لیے نقش کرلو۔بیٹا خاموشی سے ماں کی طرف دیکھنے لگا۔
ماں نے کہا: کبھی اپنے استاد کی گستاخی نہ کرنا۔ یاد رکھو! استاد صرف سبق پڑھانے والا نہیں ہوتا، وہ طالبِ علم کی تربیت بھی کرتا ہے۔ استاد کی بے ادبی انسان کو علم کی برکت سے محروم کرسکتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
بیٹے نے ادب سے سر جھکا دیا۔ ماں! میں وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی اپنے استاد کی گستاخی نہیں کروں گا۔ماں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔اللہ تمہیں اپنے وعدے پر قائم رکھے، بیٹا! اور یوں وہ ماں کی دعائیں اور نصیحتیں اپنے دل میں لیے گھر سے روانہ ہوگیا۔ اس کا رخ مدرسے کی طرف تھا۔مدرسے کے دروازے پرکافی سفر کے بعد جب وہ مدرسے کے قریب پہنچا اور دروازے پر قدم رکھا ہی تھا کہ اچانک کسی نے لرزتی ہوئی آواز میں اسے پکارا:دوست!وہ چونک کر رک گیا۔آواز جیسے برسوں سے اس کے دل میں بسی ہوئی تھی۔اس نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔سامنے وہی شخص کھڑا تھا جس کی جدائی میں اس نے کتنی ہی راتیں بے قراری میں گزاری تھیں۔چند لمحوں کے لیے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر جیسے برسوں کا فاصلہ ایک لمحے میں سمٹ گیا۔دونوں آگے بڑھے اور ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیاکسی کےپاس کہنے کو الفاظ نہیں تھے۔ آنسو خود بول رہے تھے۔کچھ دیر بعد ایک دوست نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:بہت دنوں سے میرے دل میں ایک تمنا مچل رہی تھی۔دوسرے نے اس کی طرف دیکھا۔وہ بولتا گیا:اس تمنا کی تکمیل کے لیے میں نے نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنا اختیار کیا۔ میری کیفیت اس مریض کی سی ہوگئی تھی جو کسی بھی شخص سے اپنی منزل کا پوچھتا اور جو جدھر کا راستہ بتا دیتا، اسی طرف چل پڑتا۔
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا، پھر بولا: ایک دن میں بیٹھا اپنی زندگی کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔کیا خیال؟یہی کہ مجھے مدرسے کی طرف بھی جانا چاہیے۔دوسرا دوست خاموشی سے سنتا رہا۔میں نے سوچا، شاید یہاں میری پیاس بجھ جائے۔ شاید یہاں مجھے وہ چیز مل جائے جس کی تلاش میں میں مدتوں سے بھٹک رہا ہوں۔ ممکن ہے میری امید کا سورج اسی آنگن سے طلوع ہو۔وہ مسکرایا۔بس! اسی دن میں نے دل میں ٹھان لیا کہ اب مدرسے ہی جاؤں گا۔"
دوسرے دوست نے فوراً کہا:
عجیب اتفاق ہے! یہی خیال میرے ذہن کے باغ میں بھی آیا تھا۔ میں بھی اسی امید کے ساتھ یہاں چلا آیا۔دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے مدرسے کے اندر داخل ہوگئے۔
مدرسے کا پہلا منظرمدرسے کی خوب صورت اور دلفریب عمارت دیکھ کر دونوں چند لمحوں کے لیے ششدر رہ گئے۔کشادہ صحن، بلند و بالا دیواریں، صاف ستھرے کمرے اور چاروں طرف پھیلی ہوئی ایک عجیب روحانی فضا۔دونوں حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے۔
کیا ہم واقعی یہیں رہیں گے؟ایک نے دھیرے سے پوچھا۔دوسرے نے مسکرا کر جواب دیا:ہاں، اب ہماری منزل شاید یہی ہے۔دونوں ہلکی آواز میں باتیں کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔مگر ایک دوست کے دل میں ماں کی نصیحت بار بار دستک دے رہی تھی۔
کبھی استاد کی گستاخی نہ کرنا!یہ الفاظ اس کے دل میں اس طرح نقش ہوگئے تھے جیسے کسی نے انہیں پتھر پر کندہ کردیا ہو۔آخرکار وہ اپنے دوست سے رہا نہ گیا۔دوست نے بھی محسوس کرلیا کہ اس کے دل میں کوئی بات ہے جسے وہ چھپا رہا ہے۔اس نے کئی بار پوچھا:کیا بات ہے؟ تم کچھ پریشان معلوم ہوتے ہو۔وہ ٹالتا رہا۔مگر جب دوست نے بار بار اصرار کیا تو آخرکار اس نے اپنی ماں کی نصیحت اسے سنا دی۔دوست نے خاموشی سے پوری بات سنی اور کہا:تمہاری ماں نے بہت قیمتی بات کہی ہے۔
مدرسے کی پہلی شبوہ دونوں کی مدرسے میں پہلی رات تھی۔مدرسے کے صحن میں قندیلیں روشن تھیں۔ ان کی مدھم روشنی رات کے سکوت میں ایک عجیب حسن پیدا کر رہی تھی۔ادھر اُدھر پروانے روشنی کے گرد منڈلا رہے تھے۔دور کسی حجرے سے طلبہ کی قرأت کی آواز آ رہی تھی۔قرآنِ پاک کی آواز جب مدرسے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی تو پورا ماحول ایک عجیب روحانی کیفیت میں ڈوب جاتا۔دونوں دوست اپنے کمرے میں بیٹھے ایک دوسرے کو تجسس کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے دونوں کے دل میں بہت سی باتیں ہیں، مگر کوئی پہل نہیں کر پا رہا۔پھر ماضی کی باتیں چھڑیں۔دونوں اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے کبھی مسکراتے، کبھی خاموش ہوجاتے۔باتوں ہی باتوں میں انہوں نے اپنے مستقبل کے مقاصد پر بھی گفتگو کی۔کافی دیر تک دونوں محوِ گفتگو رہے۔اچانک ان کی نظر کمرے کے دروازے پر پڑی۔وہاں ایک شخص کھڑا تھا۔جسمانی اعتبار سے لحیم و شحیم، چہرے پر رعب و دبدبہ، پیشانی پر وقار اور آنکھوں میں ایسی سنجیدگی کہ پہلی نظر میں ہی طبیعت پر اثر پیدا ہو۔دونوں کی نظریں بے اختیار اس شخص پر جم گئیں۔انہوں نے اس سے پہلے ایسا باوقار شخص نہیں دیکھا تھا۔
ایک دوست بے اختیار بول اٹھا:یہ اتنا لحیم و شحیم شخص کون ہے جو دروازے پر کھڑا ہمیں دیکھ رہا ہے؟جملہ ابھی اس کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ دوسرے دوست کو فوراً اپنی ماں کی نصیحت یاد آگئی۔وہ قدرے سنجیدہ ہو کر بولا:غالباً یہ ہمارے استاد ہیں۔ ہمیں ان کی شان میں اس طرح گفتگو کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔دوسرا دوست خاموش ہوگیا۔اس کے دل میں بھی کچھ حرکت پیدا ہوئی۔شاید ماں کی نصیحت نے اس کے دل پر دستک دی تھی۔اسی وقت استاد نے دونوں کو غور سے دیکھا اور پوچھا:کیا بات ہے؟ تم دونوں کسی فکر میں مبتلا معلوم ہوتے ہو؟دونوں نے ادب سے سر جھکا دیا۔ایک نے آہستہ سے کہا:استاد محترم! میری ماں کی ایک نصیحت نے مجھے فکر مند کر رکھا ہے۔استاد نے مسکرا کر پوچھا:کیا نصیحت؟اس نے ساری بات عرض کردی۔استاد نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے فرمایا:اچھا! کل ہم اور آپ دونوں پہلا سبق پڑھیں گے۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔استاد نے مزید کہا: اور مجھے امید ہے کہ وہ سبق آپ دونوں کے لیے دلفریب بھی ہوگا اور یادگار بھی۔*یہ کہہ کر استاد وہاں سے چلے گئے۔مگر ان کے جاتے ہی دونوں دوستوں کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرنے لگا:آخر وہ پہلا سبق کیا ہوگا؟
پہلا سبقرات بستر پر لیٹے ہوئے بھی دونوں اسی موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ایک نے پوچھا:"وہ سبق کیسا ہوگا؟دوسرا بولا:نہ جانے اس میں کون سی تحقیقی بات ہوگی؟کس موضوع پر گفتگو ہوگی؟اور اس کا عنوان کیا ہوگا؟باتیں کرتے کرتے رات گزر گئی۔دونوں کے دل میں ایک نئی امید جاگ چکی تھی۔آخر صبح ہوگئی۔مدرسے میں حسبِ معمول ہلچل شروع ہوگئی۔طلبہ اپنی اپنی جماعتوں کی طرف جانے لگے۔کچھ ہی دیر بعد استاد کلاس میں داخل ہوئے۔تمام طلبہ ادب سے کھڑے ہوگئے۔ایک دوست نے فوراً ہاتھ باندھ لیے، سر جھکا لیا اور نگاہیں نیچی کرلیں۔مگر دوسرا اپنی جگہ کھڑا نہ ہوا۔استاد کی نظر اس پر پڑی۔کمرۂ جماعت میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔وہی دوست جو کل رات ماں کی نصیحت سن چکا تھا، خاموشی سے اپنے ساتھی کی طرف دیکھنے لگا۔اس کے چہرے پر تشویش تھی۔
استاد نے نرمی سے کہا:
بیٹا! استاد کا ادب صرف کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ طالب علم کے کردار کی بنیاد ہے۔پھر انہوں نے پوری جماعت کی طرف دیکھا اور فرمایا:علم صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ علم کی برکت ادب سے پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص علم چاہتا ہے، اسے پہلے ادب سیکھنا چاہیے۔دوسرا دوست خاموش بیٹھا رہا۔اس کے دل پر جیسے کسی نے دستک دی۔اسے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔کل رات ماں کی نصیحت سن کر بھی اس نے اسے معمولی سمجھا تھا، مگر آج استاد کے سامنے وہی بات اس کے دل میں تیر کی طرح اتر رہی تھی۔
وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھا۔سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا اور نہایت عاجزی سے بولا:
استاد محترم! مجھے معاف فرما دیجیے۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔"استاد نے شفقت سے اس کی طرف دیکھا۔
بیٹا! غلطی ہوجانا بڑی بات نہیں، غلطی پر قائم رہنا بڑی بات ہے۔ اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو یہی تمہاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔*اس نے نم آنکھوں سے استاد کی طرف دیکھا۔
اور اسی لمحے اسے اپنی ماں کی وہ نصیحت یاد آئی جو گھر سے نکلتے وقت اس کے کانوں میں پڑی تھی:

بھی اپنے استاد کی گستاخی نہ کرنا۔

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب اسے سمجھ آگیا تھا کہ ماں نے اسے صرف ایک نصیحت نہیں کی تھی؛ بلکہ اس کے ہاتھ میں پوری زندگی کی ایک ایسی کنجی دے دی تھی جو علم کے دروازے کھولنے والی تھی۔وہ خاموشی سے اپنے استاد کے قدموں کی طرف دیکھنے لگا۔اور اس کے دل میں پہلی بار یہ حقیقت پوری طرح اتر گئی کہ:استاد کا ادب صرف ایک رسم نہیں، علم کی روح ہے؛ اور جس دل میں ادب نہیں، وہاں علم کی روشنی دیر تک قائم نہیں رہتی۔
از قلم : محمد عسجد حسین السبحانی آستانۂ عالیہ سبحانیہ شیخن پوروہ لکھیم پور کھیری 9151663241

ماں کی نصیحت

مضمون نگار: Azad 3

ماں کی نصیحت
ایک دوست اپنے دوست سے ملنے کے لیے بے قرار تھا۔ غمِ فراق نے اس کے چہرے پر ایسے آثار چھوڑ دیے تھے کہ جو بھی اسے دیکھتا، بیمار سمجھتا۔ آنکھیں اس قدر سرخ تھیں جیسے مدتوں سے سویا نہ ہو؛ جیسے کسی کی یاد نے اس کی راتوں کی نیند چھین لی ہو اور وہ شب بھر جاگ کر اپنے محبوب دوست کی جدائی کا ماتم کرتا رہا ہو۔
کئی دنوں سے اس کے دل میں ایک ہی آرزو مچل رہی تھی کہ کسی طرح اپنے عزیز دوست سے ملاقات ہو جائے۔پھر ایک دن اچانک اس کی امید کی کرن روشن ہوئی اسے اپنے دوست تک پہنچنے کا راستہ مل گیا آج وہ اسی دوست سے ملنے جا رہا تھا جس کی جدائی نے اسے بے قرار کر رکھا تھا۔
صبح ہی صبح اس کی ماں نے اسے غسل دیا، نہلا دھلا کر پاکیزہ لباس پہنایا اور خوشبو سے معطر کردیا۔ مگر بیٹے کو تیار کرتے ہوئے ماں کے چہرے پر عجیب سی اداسی تھی۔ آنکھوں میں محبت بھی تھی اور ایک انجانا سا خوف بھی وہ مسکرانا چاہتی تھی، مگر جیسے کوئی فکر اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ روک رہی ہو۔آخرکار اس نے بیٹے کی طرف دیکھا، ہلکا سا مسکرائی اور نہایت سنجیدہ لہجے میں بولی: بیٹا! ایک بات اپنے ذہن کے دریچے اور دل کے نہاں خانے میں ہمیشہ کے لیے نقش کرلو۔بیٹا خاموشی سے ماں کی طرف دیکھنے لگا۔
ماں نے کہا: کبھی اپنے استاد کی گستاخی نہ کرنا۔ یاد رکھو! استاد صرف سبق پڑھانے والا نہیں ہوتا، وہ طالبِ علم کی تربیت بھی کرتا ہے۔ استاد کی بے ادبی انسان کو علم کی برکت سے محروم کرسکتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
بیٹے نے ادب سے سر جھکا دیا۔ ماں! میں وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی اپنے استاد کی گستاخی نہیں کروں گا۔ماں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔اللہ تمہیں اپنے وعدے پر قائم رکھے، بیٹا! اور یوں وہ ماں کی دعائیں اور نصیحتیں اپنے دل میں لیے گھر سے روانہ ہوگیا۔ اس کا رخ مدرسے کی طرف تھا۔مدرسے کے دروازے پرکافی سفر کے بعد جب وہ مدرسے کے قریب پہنچا اور دروازے پر قدم رکھا ہی تھا کہ اچانک کسی نے لرزتی ہوئی آواز میں اسے پکارا:دوست!وہ چونک کر رک گیا۔آواز جیسے برسوں سے اس کے دل میں بسی ہوئی تھی۔اس نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔سامنے وہی شخص کھڑا تھا جس کی جدائی میں اس نے کتنی ہی راتیں بے قراری میں گزاری تھیں۔چند لمحوں کے لیے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر جیسے برسوں کا فاصلہ ایک لمحے میں سمٹ گیا۔دونوں آگے بڑھے اور ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیاکسی کےپاس کہنے کو الفاظ نہیں تھے۔ آنسو خود بول رہے تھے۔کچھ دیر بعد ایک دوست نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:بہت دنوں سے میرے دل میں ایک تمنا مچل رہی تھی۔دوسرے نے اس کی طرف دیکھا۔وہ بولتا گیا:اس تمنا کی تکمیل کے لیے میں نے نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنا اختیار کیا۔ میری کیفیت اس مریض کی سی ہوگئی تھی جو کسی بھی شخص سے اپنی منزل کا پوچھتا اور جو جدھر کا راستہ بتا دیتا، اسی طرف چل پڑتا۔
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا، پھر بولا: ایک دن میں بیٹھا اپنی زندگی کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔کیا خیال؟یہی کہ مجھے مدرسے کی طرف بھی جانا چاہیے۔دوسرا دوست خاموشی سے سنتا رہا۔میں نے سوچا، شاید یہاں میری پیاس بجھ جائے۔ شاید یہاں مجھے وہ چیز مل جائے جس کی تلاش میں میں مدتوں سے بھٹک رہا ہوں۔ ممکن ہے میری امید کا سورج اسی آنگن سے طلوع ہو۔وہ مسکرایا۔بس! اسی دن میں نے دل میں ٹھان لیا کہ اب مدرسے ہی جاؤں گا۔"
دوسرے دوست نے فوراً کہا:
عجیب اتفاق ہے! یہی خیال میرے ذہن کے باغ میں بھی آیا تھا۔ میں بھی اسی امید کے ساتھ یہاں چلا آیا۔دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے مدرسے کے اندر داخل ہوگئے۔
مدرسے کا پہلا منظرمدرسے کی خوب صورت اور دلفریب عمارت دیکھ کر دونوں چند لمحوں کے لیے ششدر رہ گئے۔کشادہ صحن، بلند و بالا دیواریں، صاف ستھرے کمرے اور چاروں طرف پھیلی ہوئی ایک عجیب روحانی فضا۔دونوں حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے۔
کیا ہم واقعی یہیں رہیں گے؟ایک نے دھیرے سے پوچھا۔دوسرے نے مسکرا کر جواب دیا:ہاں، اب ہماری منزل شاید یہی ہے۔دونوں ہلکی آواز میں باتیں کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔مگر ایک دوست کے دل میں ماں کی نصیحت بار بار دستک دے رہی تھی۔
کبھی استاد کی گستاخی نہ کرنا!یہ الفاظ اس کے دل میں اس طرح نقش ہوگئے تھے جیسے کسی نے انہیں پتھر پر کندہ کردیا ہو۔آخرکار وہ اپنے دوست سے رہا نہ گیا۔دوست نے بھی محسوس کرلیا کہ اس کے دل میں کوئی بات ہے جسے وہ چھپا رہا ہے۔اس نے کئی بار پوچھا:کیا بات ہے؟ تم کچھ پریشان معلوم ہوتے ہو۔وہ ٹالتا رہا۔مگر جب دوست نے بار بار اصرار کیا تو آخرکار اس نے اپنی ماں کی نصیحت اسے سنا دی۔دوست نے خاموشی سے پوری بات سنی اور کہا:تمہاری ماں نے بہت قیمتی بات کہی ہے۔
مدرسے کی پہلی شبوہ دونوں کی مدرسے میں پہلی رات تھی۔مدرسے کے صحن میں قندیلیں روشن تھیں۔ ان کی مدھم روشنی رات کے سکوت میں ایک عجیب حسن پیدا کر رہی تھی۔ادھر اُدھر پروانے روشنی کے گرد منڈلا رہے تھے۔دور کسی حجرے سے طلبہ کی قرأت کی آواز آ رہی تھی۔قرآنِ پاک کی آواز جب مدرسے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی تو پورا ماحول ایک عجیب روحانی کیفیت میں ڈوب جاتا۔دونوں دوست اپنے کمرے میں بیٹھے ایک دوسرے کو تجسس کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے دونوں کے دل میں بہت سی باتیں ہیں، مگر کوئی پہل نہیں کر پا رہا۔پھر ماضی کی باتیں چھڑیں۔دونوں اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے کبھی مسکراتے، کبھی خاموش ہوجاتے۔باتوں ہی باتوں میں انہوں نے اپنے مستقبل کے مقاصد پر بھی گفتگو کی۔کافی دیر تک دونوں محوِ گفتگو رہے۔اچانک ان کی نظر کمرے کے دروازے پر پڑی۔وہاں ایک شخص کھڑا تھا۔جسمانی اعتبار سے لحیم و شحیم، چہرے پر رعب و دبدبہ، پیشانی پر وقار اور آنکھوں میں ایسی سنجیدگی کہ پہلی نظر میں ہی طبیعت پر اثر پیدا ہو۔دونوں کی نظریں بے اختیار اس شخص پر جم گئیں۔انہوں نے اس سے پہلے ایسا باوقار شخص نہیں دیکھا تھا۔
ایک دوست بے اختیار بول اٹھا:یہ اتنا لحیم و شحیم شخص کون ہے جو دروازے پر کھڑا ہمیں دیکھ رہا ہے؟جملہ ابھی اس کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ دوسرے دوست کو فوراً اپنی ماں کی نصیحت یاد آگئی۔وہ قدرے سنجیدہ ہو کر بولا:غالباً یہ ہمارے استاد ہیں۔ ہمیں ان کی شان میں اس طرح گفتگو کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔دوسرا دوست خاموش ہوگیا۔اس کے دل میں بھی کچھ حرکت پیدا ہوئی۔شاید ماں کی نصیحت نے اس کے دل پر دستک دی تھی۔اسی وقت استاد نے دونوں کو غور سے دیکھا اور پوچھا:کیا بات ہے؟ تم دونوں کسی فکر میں مبتلا معلوم ہوتے ہو؟دونوں نے ادب سے سر جھکا دیا۔ایک نے آہستہ سے کہا:استاد محترم! میری ماں کی ایک نصیحت نے مجھے فکر مند کر رکھا ہے۔استاد نے مسکرا کر پوچھا:کیا نصیحت؟اس نے ساری بات عرض کردی۔استاد نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے فرمایا:اچھا! کل ہم اور آپ دونوں پہلا سبق پڑھیں گے۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔استاد نے مزید کہا: اور مجھے امید ہے کہ وہ سبق آپ دونوں کے لیے دلفریب بھی ہوگا اور یادگار بھی۔*یہ کہہ کر استاد وہاں سے چلے گئے۔مگر ان کے جاتے ہی دونوں دوستوں کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرنے لگا:آخر وہ پہلا سبق کیا ہوگا؟
پہلا سبقرات بستر پر لیٹے ہوئے بھی دونوں اسی موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ایک نے پوچھا:"وہ سبق کیسا ہوگا؟دوسرا بولا:نہ جانے اس میں کون سی تحقیقی بات ہوگی؟کس موضوع پر گفتگو ہوگی؟اور اس کا عنوان کیا ہوگا؟باتیں کرتے کرتے رات گزر گئی۔دونوں کے دل میں ایک نئی امید جاگ چکی تھی۔آخر صبح ہوگئی۔مدرسے میں حسبِ معمول ہلچل شروع ہوگئی۔طلبہ اپنی اپنی جماعتوں کی طرف جانے لگے۔کچھ ہی دیر بعد استاد کلاس میں داخل ہوئے۔تمام طلبہ ادب سے کھڑے ہوگئے۔ایک دوست نے فوراً ہاتھ باندھ لیے، سر جھکا لیا اور نگاہیں نیچی کرلیں۔مگر دوسرا اپنی جگہ کھڑا نہ ہوا۔استاد کی نظر اس پر پڑی۔کمرۂ جماعت میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔وہی دوست جو کل رات ماں کی نصیحت سن چکا تھا، خاموشی سے اپنے ساتھی کی طرف دیکھنے لگا۔اس کے چہرے پر تشویش تھی۔
استاد نے نرمی سے کہا:
بیٹا! استاد کا ادب صرف کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ طالب علم کے کردار کی بنیاد ہے۔پھر انہوں نے پوری جماعت کی طرف دیکھا اور فرمایا:علم صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ علم کی برکت ادب سے پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص علم چاہتا ہے، اسے پہلے ادب سیکھنا چاہیے۔دوسرا دوست خاموش بیٹھا رہا۔اس کے دل پر جیسے کسی نے دستک دی۔اسے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔کل رات ماں کی نصیحت سن کر بھی اس نے اسے معمولی سمجھا تھا، مگر آج استاد کے سامنے وہی بات اس کے دل میں تیر کی طرح اتر رہی تھی۔
وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھا۔سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا اور نہایت عاجزی سے بولا:
استاد محترم! مجھے معاف فرما دیجیے۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔"استاد نے شفقت سے اس کی طرف دیکھا۔
بیٹا! غلطی ہوجانا بڑی بات نہیں، غلطی پر قائم رہنا بڑی بات ہے۔ اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو یہی تمہاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔*اس نے نم آنکھوں سے استاد کی طرف دیکھا۔
اور اسی لمحے اسے اپنی ماں کی وہ نصیحت یاد آئی جو گھر سے نکلتے وقت اس کے کانوں میں پڑی تھی:

بھی اپنے استاد کی گستاخی نہ کرنا۔

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب اسے سمجھ آگیا تھا کہ ماں نے اسے صرف ایک نصیحت نہیں کی تھی؛ بلکہ اس کے ہاتھ میں پوری زندگی کی ایک ایسی کنجی دے دی تھی جو علم کے دروازے کھولنے والی تھی۔وہ خاموشی سے اپنے استاد کے قدموں کی طرف دیکھنے لگا۔اور اس کے دل میں پہلی بار یہ حقیقت پوری طرح اتر گئی کہ:استاد کا ادب صرف ایک رسم نہیں، علم کی روح ہے؛ اور جس دل میں ادب نہیں، وہاں علم کی روشنی دیر تک قائم نہیں رہتی۔
از قلم : محمد عسجد حسین السبحانی آستانۂ عالیہ سبحانیہ شیخن پوروہ لکھیم پور کھیری 9151663241
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Azad 3

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
33
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Azad 3
زمرہ جات

زندگی! ذرا ٹھہر کر گزر (صدیوں کے جھروکوں سے)

فتح بہیڑی کا مختصر تجزیہ

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢