صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ
اسلامیات

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

✍️ Mufti Belal Markazi Maturidi

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ
انسانی فکر و فلسفہ کی تاریخ میں خدا کے وجود کا تصور اور اس کا انکار، دونوں ہی قدیم ترین مباحث میں شامل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف خالقِ کائنات پر ایمان لانے والوں کی طویل تاریخ ہے، وہیں دوسری جانب الحاد (Atheism) بھی ایک فکری مذہب کے طور پر موجود رہا ہے جو خالق ِکائنات کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ تمام ماوراء الطبیعیات (Metaphysics) کا انکار کرتا ہے لیکن اس زمانہ میں الحاد ایک مستقل فکری مذہب کے طور پر بہت تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ہم اس مضمون میں الحاد کے مفہوم، اس کی تاریخی جڑوں، مختلف اقسام اور عصرِ حاضر کے ملحدین کا مختصر تعارف پیش کریں گے۔

الحاد کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں لفظ الحادکا مادہ ل ح د ہے، جس کے لغوی معنی قصد سے پھر جانا، عدول کرنا اور ٹیڑھا ہونا ہیں۔ عربوں کے ہاں کسی بھی ایسی بدعت یا انحراف کو الحاد سے تعبیر کیا جاتا تھا جو حق سے ہٹ کر ہو۔
قرآنی تناظر میں: قرآن کریم میں لفظ الحادکا استعمال حق سے باطل کی طرف مائل ہونے کے معنی میں ، خالق کی نشانیوں کو جھٹلانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے "وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ '( الحج: ٢٥) اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ ( حم السجدة :٤٠) بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں ۔ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ- (الأعراف: ١٤٠) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں۔
:Atheism انگریزی میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے شروع میں اگر A لگا دیا جائے تو ان میں نفی کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ Atheism بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ یہ درحقیقت A+Theismہے، جب A کو Theism کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو Atheism بن جاتا ہے اور اس میں Theism کی نفی پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا Atheism کے لغوی معنی ہوئے: تھیزم کا انکار۔
اِتھیزم، تھیزم کا انکار ہے۔ یعنی جہاں تھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے اقرار کا نام ہے، تو اِتھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے انکار کا نام ہے۔ اِتھیزم کے حاملین کو ملحدین، Atheistsیا Non Believers کہا جاتا ہے۔ Atheism کے مترادفات میں Disbeliefاور Ir-religion مستعمل ہیں۔
Atheism کا اردو معنی الحاد، لادینیت، لامذہبیت اور دہریت سے کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح Atheist کو ملحد (جمع: ملحدین)، لادین، لامذہب اور دہریہ کہا جاتا ہے۔
Atheism کے مذکورہ تمام معانی مشکلات سے خالی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی معنی اس کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا، لیکن چونکہ عرف میں یہ معانی مقبول ہیں، لہٰذا ہم بھی انہی پر اکتفا کریں گے۔
Atheism سے لغوی طور پر Theism کا انکار مراد ہے، اصطلاح میں Atheism سے مراد یہ نظریہ ہے کہ خدا یا مابعد الطبیعی حقیقتِ مطلقہ موجود نہیں جو حیات و کائنات کے اس نظام کی خالق ہو۔ یعنی وجودِ باری تعالیٰ کا انکار کرنا Atheism ہے۔
انگریزی لٹریچر میں Atheism سے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے۔ ایسا شخص جو خدا کے وجود کو نہیں مانتا وہ Atheist کہلاتا ہے۔ مغربی علمی حلقیات میں اگر کوئی شخص خدا کا منکر تو نہ ہو لیکن اسلام، عیسائیت، یہودیت غرض کسی بھی مذہب کو درست نہ مانتا ہو، تو Atheist نہیں کہا جاتا بلکہ ہر ہر نوعیت کے منکر کے لیے الگ الگ اصطلاح ہے۔ مثلاً اگر کوئی خدا کو تو مانتا ہے لیکن مذہب کو نہیں مانتا تو اسے اہلِ مغرب Deist کہتے ہیں اور اس تصور کو Deism کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی لٹریچر میں الحاد کا تصور مغربی تصور سے قدرے مختلف ہے۔ مغرب میں الحاد صرف وجودِ باری تعالیٰ کے انکار سے خاص ہے، جبکہ اسلامی لٹریچر میں لفظ الحاد کسی بھی طرح کی گمراہی، ہٹ دھرمی، حق سے روگردانی وغیرہ سے عام ہے۔

الحاد کی صطلاحی تعریف:

علمی و فکری اصطلاح میں الحاد وہ مذہب ہے جو کائنات کے خالق کے وجود کی مکمل نفی کرتا ہے۔ مغربی لٹریچر میں 'Atheismسے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے، جبکہ اسلامی اصطلاح میں ہر وہ گمراہی جو دین کے بنیادی اصولوں سے انحراف پر مبنی ہو، الحاد کہلاتی ہے۔" (از- تاریخ الحادِ مغرب)

الحاد سے متعلقہ دیگر اصطلاحات

الحاد کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اس سے وابستہ دیگر فکری زمروں کو جاننا ضروری ہے:
1. لا دینیت (Irreligious): وہ لوگ جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہوتے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ خدا کے وجود کے منکر ہوں۔
2. ضدِ دین (Antitheist):وہ ملحد جو نہ صرف خدا کا منکر ہو بلکہ مذہب اور مذہبی لوگوں کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتا ہو۔
3. رِبوَبیت (Deism): یہ گروہ مانتا ہے کہ خدا نے کائنات پیدا کی ہے، لیکن وہ انسانوں سے وحی یا انبیاء کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا۔
4. لا ادریت (Agnosticism): یہ فلسفہ کہتا ہے کہ انسانی عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے نہ نفی؛ اس لیے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانا جا سکتا۔
5. تشکک (Skepticism): وہ لوگ جو خدا کے وجود کے دلائل کو ناکافی سمجھتے ہیں اور شک کی بنیاد پر فیصلہ معلق رکھتے ہیں۔
الحاد کا تاریخی ارتقاء
الحاد کی تاریخ کو انسانی تہذیب کے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: عہدِ قدیم: قدیم تاریخ میں خالص الحاد (خالق کا انکار) بہت کم ملتا ہے۔ فرعون اور نمرود جیسے لوگوں نے خالق کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ یونانِ قدیم میں دیاغوراس (Diagoras) وہ پہلا شخص مانا جاتا ہے جس نے سرِعام دیوتاؤں کا انکار کیا۔ اس کے علاوہ کرسٹیاس، ڈیوجن اور تھیوڈورس جیسے نام بھی تاریخ میں ملتے ہیں جنہوں نے خالق کے وجود کی نفی کی۔
عہدِ وسطیٰ: یہ دور مذہب اور الہیات کے غلبے کا دور تھا، جہاں فلسفہ کلی طور پر مذہب کے تابع رہا۔ تاہم، اسی دور میں اسکالسٹس ازم(Scholasticism) یا مدرسی فلسفہ ابھرا، جس کا مقصد مذہبی عقائد کو افلاطون (Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے کے ذریعے عقلی بنیادیں فراہم کرنا تھا۔
عہدِ جدید (تحریکِ تنویر): سترہویں اور اٹھارہویں صدی میںتحریکِ تنویر (Enlightenment) کے بعد انسانی عقل کو وحی پر حاکم قرار دے دیا گیا۔ والٹیئر، رووسو اور ڈڈیرو جیسے مفکرین نے مذہب کی روایتی ہیئت پر سوالات اٹھائے۔ اس دور میں ڈی ازم (Deism) ایک مقبول فکری مذہب بن کر ابھرا، جس نے خدا کو ایک گھڑی ساز (Clockmaker) قرار دیا کہ خدا نے کائنات بنا کر اسے اپنے قوانین کے حوالے کر دیا اور خود الگ تھلگ ہو گیا۔

الحاد کی مختلف شکلیں

الحاد محض ایک سادہ انکار نہیں بلکہ اس کے کئی فکری رنگ ہیں
1. Philosophical Atheism (فلسفیانہ الحاد): جو فلسفیانہ موشگافیوں اور لایعنی بحثوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اور فلسفیانہ دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے ۔
2. Scientific Atheism (سائنسی الحاد): جدید سائنس، خصوصاً نظریہ ارتقاء کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے اور سائنس کو خدا کا متبادل سمجھتا ہے ۔
3. Strong Atheism / Positive Atheism (قوی الحاد): یقین کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار اور اس کے حق میں دلائل دیتا ہے۔
4. Weak Atheism / Negative Atheism (ضعیف الحاد): یہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا، مگر اس کی بھرپور تبلیغ یا دفاع بھی نہیں کرتا ہے۔
5. Absolute Atheism (مطلق الحاد): خدا، وحی، نبوت اور تمام مذاہب کا مکمل انکار کرتا ہے
6. Partial Atheism (جزوی الحاد): خدا کو خالق مانتا ہے، لیکن اس کی تدبیر، مداخلت یا ہدایت کا انکار کرتا ہے ۔
7.Agnosticism & Nihilism (لاأدریت و عدمیت): خدا یا آخرت کے بارے میں یقین کو ناممکن سمجھتا ہے اور زندگی کو بے مقصد تصور کرتا ہے ۔
8. Existential Atheism (وجودی الحاد): یعنی زندگی کے معنی اور مقصد کا تعین صرف انسان خود کرتا ہے، الٰہی رہنمائی اسکے لئے ضروری نہیں ہے۔
9. Seeking Atheism (یقین کی تلاش والا الحاد): شکوک و شبہات کی بنا پر تحقیق کرتے ہوئے عارضی طور پر الحاد کی طرف مائل ہوجانا۔
10. Reactionary / Revenge Atheism (انتقامی الحاد): مذہب یا مذہبی شخصیات کے تلخ تجربات کی وجہ سے مذہب سے نفرت پیدا ہو جانا اور پھر مذہب کا انکار کر بیٹھنا
11. Rebellious Atheism (تمردی الحاد): ہر قسم کی مذہبی یا سماجی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں الحاد اختیار کرنا۔
12.Communist Atheism (اشتراکی/کمیونسٹ الحاد): کمیونسٹ نظریے کی بنیاد پر مذہب کو معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
13.Escapist Atheism (مذہب سے فرار والا الحاد): مذہبی پابندیوں یا ذاتی مفادات کی وجہ سے دین کو چھوڑ دینا۔
14.Skepticism (شکاکیت): ہر چیز میں شک کرنا اورکسی عقیدے پر قطعی یقین کو نہ پہونچنا ۔
15. Gnostic Atheism ( علمیاتی الحاد) : اس میں ملحد پورے وثوق اور دعویٰ کے ساتھ خدا کی نفی کرتا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ کوئی دلیل ، منطق یا علم کی بنیاد پر انکار خدا کر رہا ہے۔

الحادِ نو (New Atheism) اور چار شہسوار ملحدین

اکیسویں صدی کے آغاز میں الحاد کی ایک نئی اور جارحانہ لہر اٹھی جسے الحادِ نو کہا جاتا ہے۔ اس کے چار اہم ستون ہیں جنہیں چار شہسوار (The Four Horsemen) کہا جاتا ہے:
1. ریچرڈ ڈوکنز (Richard Dawkins): اپنی کتابThe God Delusion کے ذریعے الحاد کو حیاتیاتی بنیادوں پر عام کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مذہبی عقیدہ ایک وہم(Delusion) ہے۔
2. سیم ہیرس (Sam Harris)'The End of Faithکا مصنف، جو مذہب کو معاشرے کے لیے زہر سمجھتا ہے۔
3. کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens): اسکا دعویٰ تھا کہ مذہب ہر چیز کو زہریلا بنا دیتا ہے۔
4. ڈینیئل ڈینٹ (Daniel Dennett): اس نے مذہب کی نفسیاتی و ارتقائی تشریح پیش کی۔

الحاد کے اسباب و محرکات

تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ الحاد کے پیچھے ہمیشہ سائنسی دلائل نہیں ہوتے، بلکہ کئی نفسیاتی و سماجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں:
خواہشات کی پیروی:بہت سے لوگ اخلاقی حدود سے فرار کے لیے الحاد کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
نفسیاتی گرہیں: بچپن کی تلخ یادیں، مذہبی پیشواؤں کا غلط رویہ یا کسی عزیز کی موت پر خدا سے ناراضگی الحاد کا باعث بنتی ہے۔
سائنسی مغالطے: یہ سمجھ لینا کہ سائنس نے کائنات کے تمام اسرار حل کر دیے ہیں، حالانکہ خود نیوٹن جیسے سائنسدان خدا کے وجود کے قائل تھے۔
کِبر اور خود پسندی: اپنی عقل کو حرفِ آخر سمجھنا اور کسی اعلٰی ہستی کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا۔

خلاصہ کلام

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الحاد درحقیقت علم کی کمی، نفسیاتی الجھنوں یا نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہے۔ جدید ملحدین جن سائنسی نظریات کا سہارا لیتے ہیں، وہ خود تضادات کا شکار ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسانیت کبھی بھی خدا کے تصور کے بغیر زندہ نہیں رہی، اور الحاد ہمیشہ سے ایک محدود اور منفی رجحان رہا ہے جو انسانی زندگی کو مقصدیت سے محروم کر دیتا ہے۔
محمد بلال مرکزی ماتریدی
خادم التدریس : جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ لکھنؤ

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

مضمون نگار: Mufti Belal Markazi Maturidi

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ
انسانی فکر و فلسفہ کی تاریخ میں خدا کے وجود کا تصور اور اس کا انکار، دونوں ہی قدیم ترین مباحث میں شامل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف خالقِ کائنات پر ایمان لانے والوں کی طویل تاریخ ہے، وہیں دوسری جانب الحاد (Atheism) بھی ایک فکری مذہب کے طور پر موجود رہا ہے جو خالق ِکائنات کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ تمام ماوراء الطبیعیات (Metaphysics) کا انکار کرتا ہے لیکن اس زمانہ میں الحاد ایک مستقل فکری مذہب کے طور پر بہت تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ہم اس مضمون میں الحاد کے مفہوم، اس کی تاریخی جڑوں، مختلف اقسام اور عصرِ حاضر کے ملحدین کا مختصر تعارف پیش کریں گے۔

الحاد کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں لفظ الحادکا مادہ ل ح د ہے، جس کے لغوی معنی قصد سے پھر جانا، عدول کرنا اور ٹیڑھا ہونا ہیں۔ عربوں کے ہاں کسی بھی ایسی بدعت یا انحراف کو الحاد سے تعبیر کیا جاتا تھا جو حق سے ہٹ کر ہو۔
قرآنی تناظر میں: قرآن کریم میں لفظ الحادکا استعمال حق سے باطل کی طرف مائل ہونے کے معنی میں ، خالق کی نشانیوں کو جھٹلانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے "وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ '( الحج: ٢٥) اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ ( حم السجدة :٤٠) بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں ۔ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ- (الأعراف: ١٤٠) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں۔
:Atheism انگریزی میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے شروع میں اگر A لگا دیا جائے تو ان میں نفی کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ Atheism بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ یہ درحقیقت A+Theismہے، جب A کو Theism کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو Atheism بن جاتا ہے اور اس میں Theism کی نفی پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا Atheism کے لغوی معنی ہوئے: تھیزم کا انکار۔
اِتھیزم، تھیزم کا انکار ہے۔ یعنی جہاں تھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے اقرار کا نام ہے، تو اِتھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے انکار کا نام ہے۔ اِتھیزم کے حاملین کو ملحدین، Atheistsیا Non Believers کہا جاتا ہے۔ Atheism کے مترادفات میں Disbeliefاور Ir-religion مستعمل ہیں۔
Atheism کا اردو معنی الحاد، لادینیت، لامذہبیت اور دہریت سے کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح Atheist کو ملحد (جمع: ملحدین)، لادین، لامذہب اور دہریہ کہا جاتا ہے۔
Atheism کے مذکورہ تمام معانی مشکلات سے خالی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی معنی اس کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا، لیکن چونکہ عرف میں یہ معانی مقبول ہیں، لہٰذا ہم بھی انہی پر اکتفا کریں گے۔
Atheism سے لغوی طور پر Theism کا انکار مراد ہے، اصطلاح میں Atheism سے مراد یہ نظریہ ہے کہ خدا یا مابعد الطبیعی حقیقتِ مطلقہ موجود نہیں جو حیات و کائنات کے اس نظام کی خالق ہو۔ یعنی وجودِ باری تعالیٰ کا انکار کرنا Atheism ہے۔
انگریزی لٹریچر میں Atheism سے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے۔ ایسا شخص جو خدا کے وجود کو نہیں مانتا وہ Atheist کہلاتا ہے۔ مغربی علمی حلقیات میں اگر کوئی شخص خدا کا منکر تو نہ ہو لیکن اسلام، عیسائیت، یہودیت غرض کسی بھی مذہب کو درست نہ مانتا ہو، تو Atheist نہیں کہا جاتا بلکہ ہر ہر نوعیت کے منکر کے لیے الگ الگ اصطلاح ہے۔ مثلاً اگر کوئی خدا کو تو مانتا ہے لیکن مذہب کو نہیں مانتا تو اسے اہلِ مغرب Deist کہتے ہیں اور اس تصور کو Deism کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی لٹریچر میں الحاد کا تصور مغربی تصور سے قدرے مختلف ہے۔ مغرب میں الحاد صرف وجودِ باری تعالیٰ کے انکار سے خاص ہے، جبکہ اسلامی لٹریچر میں لفظ الحاد کسی بھی طرح کی گمراہی، ہٹ دھرمی، حق سے روگردانی وغیرہ سے عام ہے۔

الحاد کی صطلاحی تعریف:

علمی و فکری اصطلاح میں الحاد وہ مذہب ہے جو کائنات کے خالق کے وجود کی مکمل نفی کرتا ہے۔ مغربی لٹریچر میں 'Atheismسے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے، جبکہ اسلامی اصطلاح میں ہر وہ گمراہی جو دین کے بنیادی اصولوں سے انحراف پر مبنی ہو، الحاد کہلاتی ہے۔" (از- تاریخ الحادِ مغرب)

الحاد سے متعلقہ دیگر اصطلاحات

الحاد کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اس سے وابستہ دیگر فکری زمروں کو جاننا ضروری ہے:
1. لا دینیت (Irreligious): وہ لوگ جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہوتے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ خدا کے وجود کے منکر ہوں۔
2. ضدِ دین (Antitheist):وہ ملحد جو نہ صرف خدا کا منکر ہو بلکہ مذہب اور مذہبی لوگوں کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتا ہو۔
3. رِبوَبیت (Deism): یہ گروہ مانتا ہے کہ خدا نے کائنات پیدا کی ہے، لیکن وہ انسانوں سے وحی یا انبیاء کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا۔
4. لا ادریت (Agnosticism): یہ فلسفہ کہتا ہے کہ انسانی عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے نہ نفی؛ اس لیے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانا جا سکتا۔
5. تشکک (Skepticism): وہ لوگ جو خدا کے وجود کے دلائل کو ناکافی سمجھتے ہیں اور شک کی بنیاد پر فیصلہ معلق رکھتے ہیں۔
الحاد کا تاریخی ارتقاء
الحاد کی تاریخ کو انسانی تہذیب کے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: عہدِ قدیم: قدیم تاریخ میں خالص الحاد (خالق کا انکار) بہت کم ملتا ہے۔ فرعون اور نمرود جیسے لوگوں نے خالق کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ یونانِ قدیم میں دیاغوراس (Diagoras) وہ پہلا شخص مانا جاتا ہے جس نے سرِعام دیوتاؤں کا انکار کیا۔ اس کے علاوہ کرسٹیاس، ڈیوجن اور تھیوڈورس جیسے نام بھی تاریخ میں ملتے ہیں جنہوں نے خالق کے وجود کی نفی کی۔
عہدِ وسطیٰ: یہ دور مذہب اور الہیات کے غلبے کا دور تھا، جہاں فلسفہ کلی طور پر مذہب کے تابع رہا۔ تاہم، اسی دور میں اسکالسٹس ازم(Scholasticism) یا مدرسی فلسفہ ابھرا، جس کا مقصد مذہبی عقائد کو افلاطون (Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے کے ذریعے عقلی بنیادیں فراہم کرنا تھا۔
عہدِ جدید (تحریکِ تنویر): سترہویں اور اٹھارہویں صدی میںتحریکِ تنویر (Enlightenment) کے بعد انسانی عقل کو وحی پر حاکم قرار دے دیا گیا۔ والٹیئر، رووسو اور ڈڈیرو جیسے مفکرین نے مذہب کی روایتی ہیئت پر سوالات اٹھائے۔ اس دور میں ڈی ازم (Deism) ایک مقبول فکری مذہب بن کر ابھرا، جس نے خدا کو ایک گھڑی ساز (Clockmaker) قرار دیا کہ خدا نے کائنات بنا کر اسے اپنے قوانین کے حوالے کر دیا اور خود الگ تھلگ ہو گیا۔

الحاد کی مختلف شکلیں

الحاد محض ایک سادہ انکار نہیں بلکہ اس کے کئی فکری رنگ ہیں
1. Philosophical Atheism (فلسفیانہ الحاد): جو فلسفیانہ موشگافیوں اور لایعنی بحثوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اور فلسفیانہ دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے ۔
2. Scientific Atheism (سائنسی الحاد): جدید سائنس، خصوصاً نظریہ ارتقاء کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے اور سائنس کو خدا کا متبادل سمجھتا ہے ۔
3. Strong Atheism / Positive Atheism (قوی الحاد): یقین کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار اور اس کے حق میں دلائل دیتا ہے۔
4. Weak Atheism / Negative Atheism (ضعیف الحاد): یہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا، مگر اس کی بھرپور تبلیغ یا دفاع بھی نہیں کرتا ہے۔
5. Absolute Atheism (مطلق الحاد): خدا، وحی، نبوت اور تمام مذاہب کا مکمل انکار کرتا ہے
6. Partial Atheism (جزوی الحاد): خدا کو خالق مانتا ہے، لیکن اس کی تدبیر، مداخلت یا ہدایت کا انکار کرتا ہے ۔
7.Agnosticism & Nihilism (لاأدریت و عدمیت): خدا یا آخرت کے بارے میں یقین کو ناممکن سمجھتا ہے اور زندگی کو بے مقصد تصور کرتا ہے ۔
8. Existential Atheism (وجودی الحاد): یعنی زندگی کے معنی اور مقصد کا تعین صرف انسان خود کرتا ہے، الٰہی رہنمائی اسکے لئے ضروری نہیں ہے۔
9. Seeking Atheism (یقین کی تلاش والا الحاد): شکوک و شبہات کی بنا پر تحقیق کرتے ہوئے عارضی طور پر الحاد کی طرف مائل ہوجانا۔
10. Reactionary / Revenge Atheism (انتقامی الحاد): مذہب یا مذہبی شخصیات کے تلخ تجربات کی وجہ سے مذہب سے نفرت پیدا ہو جانا اور پھر مذہب کا انکار کر بیٹھنا
11. Rebellious Atheism (تمردی الحاد): ہر قسم کی مذہبی یا سماجی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں الحاد اختیار کرنا۔
12.Communist Atheism (اشتراکی/کمیونسٹ الحاد): کمیونسٹ نظریے کی بنیاد پر مذہب کو معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
13.Escapist Atheism (مذہب سے فرار والا الحاد): مذہبی پابندیوں یا ذاتی مفادات کی وجہ سے دین کو چھوڑ دینا۔
14.Skepticism (شکاکیت): ہر چیز میں شک کرنا اورکسی عقیدے پر قطعی یقین کو نہ پہونچنا ۔
15. Gnostic Atheism ( علمیاتی الحاد) : اس میں ملحد پورے وثوق اور دعویٰ کے ساتھ خدا کی نفی کرتا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ کوئی دلیل ، منطق یا علم کی بنیاد پر انکار خدا کر رہا ہے۔

الحادِ نو (New Atheism) اور چار شہسوار ملحدین

اکیسویں صدی کے آغاز میں الحاد کی ایک نئی اور جارحانہ لہر اٹھی جسے الحادِ نو کہا جاتا ہے۔ اس کے چار اہم ستون ہیں جنہیں چار شہسوار (The Four Horsemen) کہا جاتا ہے:
1. ریچرڈ ڈوکنز (Richard Dawkins): اپنی کتابThe God Delusion کے ذریعے الحاد کو حیاتیاتی بنیادوں پر عام کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مذہبی عقیدہ ایک وہم(Delusion) ہے۔
2. سیم ہیرس (Sam Harris)'The End of Faithکا مصنف، جو مذہب کو معاشرے کے لیے زہر سمجھتا ہے۔
3. کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens): اسکا دعویٰ تھا کہ مذہب ہر چیز کو زہریلا بنا دیتا ہے۔
4. ڈینیئل ڈینٹ (Daniel Dennett): اس نے مذہب کی نفسیاتی و ارتقائی تشریح پیش کی۔

الحاد کے اسباب و محرکات

تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ الحاد کے پیچھے ہمیشہ سائنسی دلائل نہیں ہوتے، بلکہ کئی نفسیاتی و سماجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں:
خواہشات کی پیروی:بہت سے لوگ اخلاقی حدود سے فرار کے لیے الحاد کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
نفسیاتی گرہیں: بچپن کی تلخ یادیں، مذہبی پیشواؤں کا غلط رویہ یا کسی عزیز کی موت پر خدا سے ناراضگی الحاد کا باعث بنتی ہے۔
سائنسی مغالطے: یہ سمجھ لینا کہ سائنس نے کائنات کے تمام اسرار حل کر دیے ہیں، حالانکہ خود نیوٹن جیسے سائنسدان خدا کے وجود کے قائل تھے۔
کِبر اور خود پسندی: اپنی عقل کو حرفِ آخر سمجھنا اور کسی اعلٰی ہستی کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا۔

خلاصہ کلام

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الحاد درحقیقت علم کی کمی، نفسیاتی الجھنوں یا نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہے۔ جدید ملحدین جن سائنسی نظریات کا سہارا لیتے ہیں، وہ خود تضادات کا شکار ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسانیت کبھی بھی خدا کے تصور کے بغیر زندہ نہیں رہی، اور الحاد ہمیشہ سے ایک محدود اور منفی رجحان رہا ہے جو انسانی زندگی کو مقصدیت سے محروم کر دیتا ہے۔
محمد بلال مرکزی ماتریدی
خادم التدریس : جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ لکھنؤ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Belal Markazi Maturidi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
1
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Mufti Belal Markazi Maturidi
زمرہ جات

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢