صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)
احوال وطن

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)

✍️ Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)
صفحاتِ ہند کی لمحہ بہ لمحہ کھلتی ہوئی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں ایک طویل العہد، چشم کشا اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی داستان ثبت ہے۔ ایک ایسی داستان جو نہ صرف ماضی کے نقوش کو زندگی بخشتی ہے بلکہ یہ اعلان بلند کرتی ہے کہ آج کا یہ آزاد، خود مختار اور سربلند ہندوستان؛ جس کی فضاؤں میں امن، سکون، مساوات، یکجہتی اور اخوت کی مہک آج بھی موجزن ہے، دراصل اُن بے مثال، لازوال اور تاریخ ساز قربانیوں کا ثمرہ ہے جو ہمارے اسلاف، مجاہدینِ حریت اور جانبازانِ وطن نے اپنے خون سے رقم کیں۔
ان مردانِ کار نے تحریکِ آزادی کے لیے محض زبان و بیان، تقریر و تحریر یا سیاسی نعرے بازی کو کافی نہ سمجھا، بلکہ انہوں نے اپنے تن و جان کی حرارت، اپنے خوابوں کی چمک، اپنی زندگانی کی بہار اور اپنی رگِ جاں میں دوڑتے آخری قطرۂ لہو تک کو مادرِ وطن کے نام وقف کر دیا۔ ان کی جاں گسل قربانیوں، ان کی دردمندانہ جدوجہد، ان کی غیر متزلزل استقامت اور ان کی فولادی عزم و ہمت نے غلامی کے طویل، تاریک اور سیاہ و ستم شعار پردوں کو چیر کر اس دھرتی پر آزادی کی وہ روشن، درخشندہ اور روح پرور صبح طلوع کی جس کے نور سے آج بھی ہمارا آسمان منور ہے۔
مگر افسوس! صد افسوس کہ تاریخ کے قلم نے ہمیشہ انصاف کا دامن نہیں تھاما۔ مورخین نے اپنی بے رحمی، بے اعتنائی اور جانبدارانہ رویے سے ان بے لوث مجاہدوں کے نام اور کارناموں کو یا تو حاشیے میں دھکیل دیا یا انہیں محض ایک غیر اہم فقرے میں سمیٹ کر گزر گئے۔ انہوں نے چمک دار مسندوں، سیاسی اقتدار اور بلند بانگ خطابات کے حامل چند قائدین کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، مگر علمائے اہلِ سنت، برگزیدہ مشائخ، مدارس کے فاضلین اور دین و ملت کے ان گمنام سپاہیوں کی حیرت ناک، شجاعت آفریں اور ناقابلِ فراموش قربانیوں کو دانستہ آنکھوں اوجھل کر دیا ۔
یہاں تک کہ ہمارے اپنے لوگ جن کے گھروں میں انہی علما کی برکتوں کی خوشبو بسی ہے—جب ان عاشقانِ وطن کے اسمائے گرامی سنتے ہیں تو حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اپنی لاعلمی، بے خبری اور تاریخی غفلت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ــــــــــــــــ
جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک روشن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کی آزادی اور اس کی فکری تعمیر میں علماے کرام کا کردار محض ایک باب نہیں بلکہ پوری تاریخ کی روح ہے۔ آئیے! اسی تعلق سے ان عظیم شخصیات کا تذکرہ کریں جن کی کاوشوں نے اسلام کی علمی فضا کو بھی معطر کیا اور وطنِ عزیز کی بنیادوں کو بھی مضبوط کیا ۔
علماے کرام کی شرکت:
مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں مجددی دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہم اللہ اور دیگر مشائخِ عظام کی فکری غذا کو حاصل کو حاصل کرنے کے ساتھ ان کے نقوشِ ہدایت کی پاکیزہ شاہ راہ پر چل کر جن علماے کرام و مجاہدین نے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیے، ان کے چند اسمائے گرامی ممتاز علمائے انقلاب ۱۸۵۷ء میں یوں مرقوم ہیں:
انقلابِ ۱۸۵۷ء کی قیادت اس دور کے مشاہیرِ علما و ائمہ کرام نے صرف فتاویٰ جہاد جاری کرنے تک محدود نہیں رکھی، بلکہ اپنی عاجلانہ منصوبہ بندی اور عملی کوششوں کے ذریعے بھی اسے کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی کی تھی۔ بہادر شاہ ظفر، جنرل بخت خاں روہیلہ، شہزادہ فیروز شاہ اور نواب مجد الدین المعروف محمود خاں مراد آبادی وغیرہ نے جو عسکری اقدامات کیے، ان کے پس منظر میں جن علماے کرام کا ہاتھ کارفرما تھا، ان میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی، علامہ فضلِ حق خیرآبادی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی، مفتی مظہر کریم دریابادی، مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی، مولانا باج الدین مراد آبادی، امام بخش صہبائی دہلوی، منشی رسول بخش کاکوروی، غلام امام شہید، امیر مینائی، منیر شکوہ آبادی وغیرہم۔" (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ6)
ذیل کی سطروں میں اختصار کے ساتھ چند علمائے کرام کے مختصر حالات زندگی کے پاکیزہ نقوش ملاحظہ فرمائیں:

علامہ فضل حق خیر آبادی

آپ کی ولادت دہلی میں ۱۲۱۲ھ میں ہوئی۔ آپ نے تمام علومِ مروّجہ ۱۲ سال کی عمر میں حاصل کرلیے۔ جب انگریزوں نے ظلم و ستم کی فضا قائم کی تو اسے روکنے اور ہندوستان میں جہاد کی روشنی پھیلانے کے لیے جامع مسجد دہلی میں جمعہ کے دن آپ نے ایک تاریخی تقریر فرمائی اور جہاد کے فتوے کو بھی مرتب کیا، جس پر آپ کے علاوہ متعدد علمائے اسلام و قائدین نے دستخط کیے۔
سلسلہ دراز ہوتا گیا یہاں تک کہ ۳۰ جنوری ۱۸۵۹ء کو آپ کو گرفتار کرلیا گیا اور آپ کے خلاف مقدمہ بھی چلایا گیا۔ محض مقدمہ تک بات نہیں رہی، بلکہ جہاد کا فتویٰ دینے اور مجاہدین میں جذبۂ حریت پیدا کرنے کے جرم میں آپ کی جاگیر ضبط کرلی گئی اور تا حینِ حیات جزیرہ انڈمان کی سزا سنائی گئی۔
آخر کار علم و فضل کا یہ نیرِ تاباں اپنی روشنیاں بکھیر کر ۱۲ صفر ۱۲۷۸ھ مطابق ۱۸۶۱ء کو جہانِ غربت میں غروب ہوگیا ــــــــــــــــ

مفتی صدرالدین آزردہ

آپ کی پیدائش ۱۲۰۴ھ مطابق ۱۷۸۹ء کو دہلی میں ہوئی۔ آپ علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ آپ نے مشائخ کرام کے چشمۂ علم و فن سے یوں سیرابی حاصل کی کہ کم عمری میں ہی آسمانِ علم و فضل کا درخشندہ ستارہ بن کر چمکنے لگے۔
آپ کو علمِ قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر کے علاوہ منطق و ریاضی میں بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ کی علمی جلالت اپنوں کے علاوہ غیروں پر بھی ظاہر و باہر تھی۔
آپ کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عہدِ حکومت میں آپ تقریباً تین سال تک مناصبِ جلیلہ پر فائز رہے اور مفتی سے لے کر صدر الصدور تک کے منصب پر سرفراز ہوئے۔ یقینا برطانوی راج میں اتنے طویل عرصے تک ایسے عظیم منصب پر قائم رہنا ہر کس و ناکس کی بات نہ تھی۔
جنگِ آزادی میں آپ نے بھرپور حصہ لیا اور علامہ فضل حق خیر آبادی کے مرتب کردہ جہاد کے فتوے کی تصدیق بھی فرمائی۔ اس وجہ سے ملازمت کے دوران حاصل شدہ املاک و جائیداد ضبط کرلیا گیا، اتنا ہی نہیں بلکہ فتوائے جہاد کی وجہ سے کئی مہینے تک قید میں بھی رہے، بعد میں رہائی ہوئی۔
آخر کار آپ کی روح ۲۴ ربیع الاول ۱۲۸۵ھ مطابق ۱۸۶۸ء کو دہلی میں قفس عنصری سے پرواز کرگئی ــــــــــــــــ

مفتی کفایت علی کافی مراد آبادی

آپ ایک باعمل عالمِ دین اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ آپ ضلع بجنور کے ایک معزز سید گھرانے کے فرد تھے۔ آپ گفتار و کردار کے پیکر تھے۔ یقینا آپ بے پناہ فضل و کمال کے مالک تھے، مگر آپ کو امر بنانے والی چیز آپ کا جذبۂ آزادی تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ آپ جنگِ آزادی کے ایک فعال رکن تھے۔ آپ کے جذبۂ حریت نے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے دل میں آپ کے لیے بڑی عقیدت تھی۔ بہادر شاہ ظفر نے جہادِ حریت کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے آپ کو دہلی بلایا۔
آپ بھی جنرل بخت خان اور مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کے ساتھ انگریزوں سے معرکہ آرائی میں پیش پیش رہے۔ پھر ۱۲ اپریل ۱۸۵۸ء کو مرادآباد پر انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد ٣٠ اپریل ۱۸۵۸ء کو آپ گرفتار کیے گئے اور مقدمہ قائم ہوا۔
مرادآباد جیل سے متصل ۶ مئی ۱۸۵۸ء کو آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ انگریزوں نے آپ کو قید خانے میں بڑی درد ناک اور رنج افزا اذیتیں جو لائق بیان نہیں۔ آپ کی زبان پھانسی دیے جانے کے وقت بھی یوں عشق رسالت کا ثبوت پیش کر رہی تھی:
کوئی گل باقی رہے گا، نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کی کفن رہ جائے گا
ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اُڑ جائیں گی، سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہوجائیں گے کافیؔ، ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا، زباں پر یہ سخن رہ جائے گا

مفتی عنایت احمد کاکوروی

آپ ۱۲۲۸ھ مطابق ۱۸۱۳ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ آپ نسلاً قریشی اور مذہباً حنفی تھے۔علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کے بعد آپ نے علی گڑھ میں اپنے استاد مولانا بزرگ علی مارہروی کے انتقال کے بعد ان کی جگہ تدریسی خدمات سنبھالیں اور بعد میں منصبِ افتا بھی آپ کے سپرد ہوا۔
ادب اور ریاضی میں آپ درجۂ کمال رکھتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ سرکاری ملازم ہوگئے اور علی گڑھ میں منصف کے عہدے پر فائز ہوئے، پھر صدر امین بن کر بریلی شریف تشریف لے گئے۔ بریلی کے قیام میں آپ انقلاب ۱۸۵۷ء کے حریت پسندوں کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ تحریک کے دب جانے کے بعد بھی بریلی و مرادآباد وغیرہ کئی مقامات پر انگریزوں کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ اسی جرم میں آپ گرفتار کیے گئے اور کالاپانی کی سزا دی گئی۔
وہاں آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ۱۲۷۷ھ میں رہائی ملی، مگر حج کے سفر کے دوران جدہ کے قریب جہاز کے حادثے میں ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۸۶۳ء کو جامِ شہادت نوش فرمایا ــــــــــــــــ

مولانا فیض احمد بدایونی

آپ کی ولادت مولوی محلہ بدایوں میں ۱۲۲۳ھ مطابق ۱۸۰۸ء میں ہوئی۔ آپ نے ۱۴ برس کی عمر میں علومِ اسلامیہ کی تکمیل کرلی۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے مشہور عالمِ دین تھے۔ آپ عربی زبان کے بلند پایہ ادیب و شاعر تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ ردِّ عیسائیت میں غیر معمولی ملکہ رکھتے تھے۔ جب انگریز عیسائیت پھیلا رہے تھے، آپ پادریوں سے مناظرے کرتے اور عیسائیت کا بلیغ ردّ فرماتے۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آخری معرکہ مگر ککرالہ (بدایوں) میں ہوا، جہاں انگریزوں کا مشہور جرنیل پینی مارا گیا ۔ (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ7)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رب تعالیٰ ہمارے ان علماء جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اپنی خاص رحمتوں سے نوازے اور ان کی فیوض و برکات سے ہم تمام کو مستفیض و مالا مال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
رشحات قلم: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی
بچباری آبادپور کٹیہار (بہار) استاذ ومفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)

مضمون نگار: Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)
صفحاتِ ہند کی لمحہ بہ لمحہ کھلتی ہوئی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں ایک طویل العہد، چشم کشا اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی داستان ثبت ہے۔ ایک ایسی داستان جو نہ صرف ماضی کے نقوش کو زندگی بخشتی ہے بلکہ یہ اعلان بلند کرتی ہے کہ آج کا یہ آزاد، خود مختار اور سربلند ہندوستان؛ جس کی فضاؤں میں امن، سکون، مساوات، یکجہتی اور اخوت کی مہک آج بھی موجزن ہے، دراصل اُن بے مثال، لازوال اور تاریخ ساز قربانیوں کا ثمرہ ہے جو ہمارے اسلاف، مجاہدینِ حریت اور جانبازانِ وطن نے اپنے خون سے رقم کیں۔
ان مردانِ کار نے تحریکِ آزادی کے لیے محض زبان و بیان، تقریر و تحریر یا سیاسی نعرے بازی کو کافی نہ سمجھا، بلکہ انہوں نے اپنے تن و جان کی حرارت، اپنے خوابوں کی چمک، اپنی زندگانی کی بہار اور اپنی رگِ جاں میں دوڑتے آخری قطرۂ لہو تک کو مادرِ وطن کے نام وقف کر دیا۔ ان کی جاں گسل قربانیوں، ان کی دردمندانہ جدوجہد، ان کی غیر متزلزل استقامت اور ان کی فولادی عزم و ہمت نے غلامی کے طویل، تاریک اور سیاہ و ستم شعار پردوں کو چیر کر اس دھرتی پر آزادی کی وہ روشن، درخشندہ اور روح پرور صبح طلوع کی جس کے نور سے آج بھی ہمارا آسمان منور ہے۔
مگر افسوس! صد افسوس کہ تاریخ کے قلم نے ہمیشہ انصاف کا دامن نہیں تھاما۔ مورخین نے اپنی بے رحمی، بے اعتنائی اور جانبدارانہ رویے سے ان بے لوث مجاہدوں کے نام اور کارناموں کو یا تو حاشیے میں دھکیل دیا یا انہیں محض ایک غیر اہم فقرے میں سمیٹ کر گزر گئے۔ انہوں نے چمک دار مسندوں، سیاسی اقتدار اور بلند بانگ خطابات کے حامل چند قائدین کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، مگر علمائے اہلِ سنت، برگزیدہ مشائخ، مدارس کے فاضلین اور دین و ملت کے ان گمنام سپاہیوں کی حیرت ناک، شجاعت آفریں اور ناقابلِ فراموش قربانیوں کو دانستہ آنکھوں اوجھل کر دیا ۔
یہاں تک کہ ہمارے اپنے لوگ جن کے گھروں میں انہی علما کی برکتوں کی خوشبو بسی ہے—جب ان عاشقانِ وطن کے اسمائے گرامی سنتے ہیں تو حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اپنی لاعلمی، بے خبری اور تاریخی غفلت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ــــــــــــــــ
جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک روشن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کی آزادی اور اس کی فکری تعمیر میں علماے کرام کا کردار محض ایک باب نہیں بلکہ پوری تاریخ کی روح ہے۔ آئیے! اسی تعلق سے ان عظیم شخصیات کا تذکرہ کریں جن کی کاوشوں نے اسلام کی علمی فضا کو بھی معطر کیا اور وطنِ عزیز کی بنیادوں کو بھی مضبوط کیا ۔
علماے کرام کی شرکت:
مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں مجددی دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہم اللہ اور دیگر مشائخِ عظام کی فکری غذا کو حاصل کو حاصل کرنے کے ساتھ ان کے نقوشِ ہدایت کی پاکیزہ شاہ راہ پر چل کر جن علماے کرام و مجاہدین نے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیے، ان کے چند اسمائے گرامی ممتاز علمائے انقلاب ۱۸۵۷ء میں یوں مرقوم ہیں:
انقلابِ ۱۸۵۷ء کی قیادت اس دور کے مشاہیرِ علما و ائمہ کرام نے صرف فتاویٰ جہاد جاری کرنے تک محدود نہیں رکھی، بلکہ اپنی عاجلانہ منصوبہ بندی اور عملی کوششوں کے ذریعے بھی اسے کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی کی تھی۔ بہادر شاہ ظفر، جنرل بخت خاں روہیلہ، شہزادہ فیروز شاہ اور نواب مجد الدین المعروف محمود خاں مراد آبادی وغیرہ نے جو عسکری اقدامات کیے، ان کے پس منظر میں جن علماے کرام کا ہاتھ کارفرما تھا، ان میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی، علامہ فضلِ حق خیرآبادی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی، مفتی مظہر کریم دریابادی، مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی، مولانا باج الدین مراد آبادی، امام بخش صہبائی دہلوی، منشی رسول بخش کاکوروی، غلام امام شہید، امیر مینائی، منیر شکوہ آبادی وغیرہم۔" (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ6)
ذیل کی سطروں میں اختصار کے ساتھ چند علمائے کرام کے مختصر حالات زندگی کے پاکیزہ نقوش ملاحظہ فرمائیں:

علامہ فضل حق خیر آبادی

آپ کی ولادت دہلی میں ۱۲۱۲ھ میں ہوئی۔ آپ نے تمام علومِ مروّجہ ۱۲ سال کی عمر میں حاصل کرلیے۔ جب انگریزوں نے ظلم و ستم کی فضا قائم کی تو اسے روکنے اور ہندوستان میں جہاد کی روشنی پھیلانے کے لیے جامع مسجد دہلی میں جمعہ کے دن آپ نے ایک تاریخی تقریر فرمائی اور جہاد کے فتوے کو بھی مرتب کیا، جس پر آپ کے علاوہ متعدد علمائے اسلام و قائدین نے دستخط کیے۔
سلسلہ دراز ہوتا گیا یہاں تک کہ ۳۰ جنوری ۱۸۵۹ء کو آپ کو گرفتار کرلیا گیا اور آپ کے خلاف مقدمہ بھی چلایا گیا۔ محض مقدمہ تک بات نہیں رہی، بلکہ جہاد کا فتویٰ دینے اور مجاہدین میں جذبۂ حریت پیدا کرنے کے جرم میں آپ کی جاگیر ضبط کرلی گئی اور تا حینِ حیات جزیرہ انڈمان کی سزا سنائی گئی۔
آخر کار علم و فضل کا یہ نیرِ تاباں اپنی روشنیاں بکھیر کر ۱۲ صفر ۱۲۷۸ھ مطابق ۱۸۶۱ء کو جہانِ غربت میں غروب ہوگیا ــــــــــــــــ

مفتی صدرالدین آزردہ

آپ کی پیدائش ۱۲۰۴ھ مطابق ۱۷۸۹ء کو دہلی میں ہوئی۔ آپ علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ آپ نے مشائخ کرام کے چشمۂ علم و فن سے یوں سیرابی حاصل کی کہ کم عمری میں ہی آسمانِ علم و فضل کا درخشندہ ستارہ بن کر چمکنے لگے۔
آپ کو علمِ قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر کے علاوہ منطق و ریاضی میں بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ کی علمی جلالت اپنوں کے علاوہ غیروں پر بھی ظاہر و باہر تھی۔
آپ کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عہدِ حکومت میں آپ تقریباً تین سال تک مناصبِ جلیلہ پر فائز رہے اور مفتی سے لے کر صدر الصدور تک کے منصب پر سرفراز ہوئے۔ یقینا برطانوی راج میں اتنے طویل عرصے تک ایسے عظیم منصب پر قائم رہنا ہر کس و ناکس کی بات نہ تھی۔
جنگِ آزادی میں آپ نے بھرپور حصہ لیا اور علامہ فضل حق خیر آبادی کے مرتب کردہ جہاد کے فتوے کی تصدیق بھی فرمائی۔ اس وجہ سے ملازمت کے دوران حاصل شدہ املاک و جائیداد ضبط کرلیا گیا، اتنا ہی نہیں بلکہ فتوائے جہاد کی وجہ سے کئی مہینے تک قید میں بھی رہے، بعد میں رہائی ہوئی۔
آخر کار آپ کی روح ۲۴ ربیع الاول ۱۲۸۵ھ مطابق ۱۸۶۸ء کو دہلی میں قفس عنصری سے پرواز کرگئی ــــــــــــــــ

مفتی کفایت علی کافی مراد آبادی

آپ ایک باعمل عالمِ دین اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ آپ ضلع بجنور کے ایک معزز سید گھرانے کے فرد تھے۔ آپ گفتار و کردار کے پیکر تھے۔ یقینا آپ بے پناہ فضل و کمال کے مالک تھے، مگر آپ کو امر بنانے والی چیز آپ کا جذبۂ آزادی تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ آپ جنگِ آزادی کے ایک فعال رکن تھے۔ آپ کے جذبۂ حریت نے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے دل میں آپ کے لیے بڑی عقیدت تھی۔ بہادر شاہ ظفر نے جہادِ حریت کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے آپ کو دہلی بلایا۔
آپ بھی جنرل بخت خان اور مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کے ساتھ انگریزوں سے معرکہ آرائی میں پیش پیش رہے۔ پھر ۱۲ اپریل ۱۸۵۸ء کو مرادآباد پر انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد ٣٠ اپریل ۱۸۵۸ء کو آپ گرفتار کیے گئے اور مقدمہ قائم ہوا۔
مرادآباد جیل سے متصل ۶ مئی ۱۸۵۸ء کو آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ انگریزوں نے آپ کو قید خانے میں بڑی درد ناک اور رنج افزا اذیتیں جو لائق بیان نہیں۔ آپ کی زبان پھانسی دیے جانے کے وقت بھی یوں عشق رسالت کا ثبوت پیش کر رہی تھی:
کوئی گل باقی رہے گا، نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کی کفن رہ جائے گا
ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اُڑ جائیں گی، سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہوجائیں گے کافیؔ، ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا، زباں پر یہ سخن رہ جائے گا

مفتی عنایت احمد کاکوروی

آپ ۱۲۲۸ھ مطابق ۱۸۱۳ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ آپ نسلاً قریشی اور مذہباً حنفی تھے۔علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کے بعد آپ نے علی گڑھ میں اپنے استاد مولانا بزرگ علی مارہروی کے انتقال کے بعد ان کی جگہ تدریسی خدمات سنبھالیں اور بعد میں منصبِ افتا بھی آپ کے سپرد ہوا۔
ادب اور ریاضی میں آپ درجۂ کمال رکھتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ سرکاری ملازم ہوگئے اور علی گڑھ میں منصف کے عہدے پر فائز ہوئے، پھر صدر امین بن کر بریلی شریف تشریف لے گئے۔ بریلی کے قیام میں آپ انقلاب ۱۸۵۷ء کے حریت پسندوں کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ تحریک کے دب جانے کے بعد بھی بریلی و مرادآباد وغیرہ کئی مقامات پر انگریزوں کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ اسی جرم میں آپ گرفتار کیے گئے اور کالاپانی کی سزا دی گئی۔
وہاں آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ۱۲۷۷ھ میں رہائی ملی، مگر حج کے سفر کے دوران جدہ کے قریب جہاز کے حادثے میں ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۸۶۳ء کو جامِ شہادت نوش فرمایا ــــــــــــــــ

مولانا فیض احمد بدایونی

آپ کی ولادت مولوی محلہ بدایوں میں ۱۲۲۳ھ مطابق ۱۸۰۸ء میں ہوئی۔ آپ نے ۱۴ برس کی عمر میں علومِ اسلامیہ کی تکمیل کرلی۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے مشہور عالمِ دین تھے۔ آپ عربی زبان کے بلند پایہ ادیب و شاعر تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ ردِّ عیسائیت میں غیر معمولی ملکہ رکھتے تھے۔ جب انگریز عیسائیت پھیلا رہے تھے، آپ پادریوں سے مناظرے کرتے اور عیسائیت کا بلیغ ردّ فرماتے۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آخری معرکہ مگر ککرالہ (بدایوں) میں ہوا، جہاں انگریزوں کا مشہور جرنیل پینی مارا گیا ۔ (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ7)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رب تعالیٰ ہمارے ان علماء جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اپنی خاص رحمتوں سے نوازے اور ان کی فیوض و برکات سے ہم تمام کو مستفیض و مالا مال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
رشحات قلم: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی
بچباری آبادپور کٹیہار (بہار) استاذ ومفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
47
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 7
Kalam 0
Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi
زمرہ جات

Test

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 40

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 35 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
40
زمرجات
ادبیات 75
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 30
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
تاثرات 21
فقہ وفتاویٰ 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 7
رد بدمذہباں 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢