صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

✍️ Amir Fuzail Markazi

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
میں اکثر کہتا ہوں دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذابمثلاً اس ابو زہیر دیوبندی کوہی دیکھ لے کہ کہہ رہا ہے کہ اعلی حضرت نے کوا اور چمگاڈر کھانے کو جائز لکھا ہے اور حوالہ فتاویٰ رضویہ کا دے رہا ہے ،حالانکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
رشید احمد گنگوہی کے کوا کی حلت کے فتویٰ کے باوجود جب لوگوں نے اس کی جانب کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، بلکہ ہر طرف اس کی رسوائی ہونے لگی اور اس کے اس فتویٰ کی تردید جس کا اقرار تذکیرۃ الرشید میں ان لفظوں میں ہے:
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
لیکن انہیں لوگوں کی نفرت سے کیا مطلب انہیں تو کوا بریانی چاہیے تھی، اس لیے پھر کوا کھانے پر ثواب کا حکم لکھ مارا چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 532پر ہے :
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
اور تذکیرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
مجھے کیا خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں اس قدر اجر رکھا ہے
اب سوال ہے کہ کوا کھانے میں ثواب کا ہونا کس قرآنی آیات یاحدیث پاک سے ثابت ،یا یہ فتویٰ اپنے پسندیدہ کوا بریانی کے تحفہ کے حصول کے لیے دیا گیا ہے ۔!
پڑی ہے اندھے کو عادت کے شوربے ہی سے کھاۓ
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
قارئین کرام!دیوبندی مولوی رشید گنگوہی کوا کو حلال بلکہ کھانے کو کارثواب کہہ رہا ہے، حالانکہ حدیث شریف میں اس کو فواسق میں شمار کیا گیا ہے ہے : عن أم المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا ۔"
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فواسق (بہت بری) ہیں جن کا قتل کیا جاتا ہے حل اور حرم میں : سانپ ، سیاہ کوا ، چوہا ، کاٹنے والا کتا ، اور چیل ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 1198)
خیر یہ دیوبندیوں کا ہی نصیبہ ہے کہ وہ حرام کو حلال اور کفر کو ایمان ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں ،اب ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے وہابیہ مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اعلی حضرت نے کوا کھانے کو جائز لکھا ہے پھر ہم رشید گنگوہی کی عبارت سے موازنہ کرینگے کہ فقہا کے اقوال کے موافق کس کا قول ہے؟
اعلی حضرت کی عبارت مندرجہ ذیل ہیں :
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خور کو اجسے غراب الابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق نا جائز ہے
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا ہے اور موسم گرما میں آتا ہے، اور خلط کر نیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیبہ میں کلام نہیں ،(فتاویٰ رضویہ جلد بیس صفحہ 319/320)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں کوا کی تین قسمیں کی ہیں:ایک (غراب زرع)کو بالاتفاق جائز لکھا دوسرے ابقع کو بالاتفاق حرام قرار دیا اور تیسرے عقعق کو مختلف فیہ قرار دیا ہے اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ تفصیل رد المحتار صفحہ 443پر یوں ہے:
وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة : نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره في الكتاب. وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف والأخير هو العقعق
ترجمہ :رہا غراب ابقع اور سیاہ کوا تو وہ تین طرح کے ہیں :
ایک وہ جو دانہ کھاۓ اور مردار نہ کھائے وہ مکروہ نہیں(حلال ہے) ،دوسری وہ جو صرف مردار کھائیں یہ وہی ہے جس کو مصنف نے ابقع کہا ہے اور یہ یقیناً مکروہ تحریمی ہے،تیسری وہ جو کبھی دانہ کھائیں اور کبھی مردار، مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے وہ غیر مکروہ (حلال )ہےامام اعظم کے نزدیک ،اور مکروہ ہے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ۔آخری قسم وہ عقعق ہے۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع كذا في البدائع
( فتاوی عالمگیری، كتاب الكراهية، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان ومالا يؤكل، ج ۵، ص : ۲۸۹)

ترجمہ :وہ کوا جو دانہ اور کھیتی کھاتا ہے بالاجماع حلال ہے جیسا کہ بدایع میں ہے ۔
اور در مختار میں ہے :
والغراب الا بقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث
ترجمہ :اور حلال نہیں غراب ابقع جو مردار کھاتا ہے۔کیونکہ وہ خباثت سے ملحق ہے ۔
اور غایۃ الاوطار اردو ترجمہ در مختار میں ہے :
والغراب الابقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث قاله المصنف ثم قال والخبيث مایستخبته الطبباع السلیمہ
اور حلال نہیں ابقع کوا جو مردار کھاتا ہے اس واسطے کہ وہ حیوانات خبیثہ کے ساتھ ملحق ہے یہ کہا ہے مصنف نے اپنی شرح میں پھر مصنف نے کہا کہ خبیث وہ وہ چیز ہے جس سے طبائع سلیمہ گھنائیں اور اس کو مکروہ اور خبیث جانیں، هم غراب الابقع وہ ہے جس میں سیاہی اور سفیدی ہو کذا فی الطحطاوی( غایۃ الاوطار جلد چہارم صفحہ 192)
فقہا کی ان تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کوا کے سلسلے میں جو تفصیلات اعلی حضرت نے فرمائی وہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے ،لیکن رشید احمد گنگوہی کا قول فقہا کے اقوال کے خلاف ہے کیونکہ اس نے دیسی کوا اور زاغ معروفہ کو حلال لکھا ہے جیساکہ تذکرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
دیسی کوا اور زاغ معروفہ وہی ہے جس کو فقہا نے ابقع کہا ہے جس کی حرمت کی تصریح فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ،اس کا قائل صرف علمائے اہل سنت نہیں بلکہ علمائے دیوبند بھی ہے کہ ابقع ہی دیسی کوا ہے جیسا کہ احسن نانوتوی دیوبندی لکھتا ہے :
عربی میں میں ابلق کوے کی جگہ ابقع ہے اور ا بقع ابلق کو کہتے ہیں جس میں سیاہی اور سپیدی دونوں ہوں بعض علماء نے اس ابلق سے یہی دییسی کوا مراد لیا ہے جو اکثر آبادی میں رہتا ہے اور جس کی گردن کا رنگ بنسبت پروں کے سپیدی مائل ہوتا ہے۔اس پر ابقع کا اطلاق کرکے حرام قرار دیا ہے "(احسن المسائل صفحہ 358)
اورمولوی غلام مصطفی قاسمی سندھی دیوبندی نے دیسی کوے کو حرام قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
اعلم أن الغراب الذي يقال له كوافى الهندية وكان في السندية ، فنص على حرمته رأس المحققين المخدوم محمد هاشم السندى التنوى في رسالته : فاكهة البستان -
(شرح مختصر القدوری، کتاب الصيد والذبائح، صفحہ ۴۷۳، )

ترجمہ: جان لو کہ غراب “، جسے ہندی میں کوا، اور سندھی میں کان کہتے ہیں، اس کے حرام ہونے کی تصريح رئيس المحققين، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نے اپنے رسالہ فاكهة البستان میں کی ہے
ان تمام تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ رشید گنگوہی نے اسی دیسی کوا کھانے کو ثواب لکھا ہے جس کو فقہا نے حرام قرار دیا ہے ,حقیقتا یہ دیوبندیوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے ،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو میلاد شریف ،گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کی شیرینی کو حرام قرار دیتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس پر سزا مقرر فرمایا کہ اس کو کوا خور بنا دیا !
مٹھائی محفل میلاد کی یہ کس طرح کھائیں
کہ اس کمبخت کو چسکا تو کوے کی غذا کا ہے
اور اس خبیث ابو زہیر کا اعلی حضرت پر چمگادڑ کی حلت کا الزام لگانا تو یہ اس کی کور باطن ہے کیونکہ اعلی حضرت نے خود فتاوی رضویہ میں اس کی وضاحت پیش کردی ہے مکمل فتویٰ ہدیۂ قارئین ہے:
* مولنا صاحب مجمع فضائل و منبع فواضل فرید العصر، وحید الزمان، مخدوم مکرمی دام افضالكم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدہ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوی ارسال فرمایا، اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ، یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
لا باس بما ليس بذي مخلب كالبوم الخ
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
تو کیا چمگادڑ اور با گل بھی حلال ہے ؟ جواب با تشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز ، بینوا توجروا
#الجواب :
چمگادڑ چھوٹا ہو و یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطالقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا در مختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی، ہندیہ میں ظہیر یہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذكر في بعض المواضع انه يوكل فی بعض المواضع انه لا يوكل لان له نابا له ورایتنی كتبت على بأمشه ما نصه فيه انه لا يصيد بنابه لا يصول وليس كل ماله ناب حراماً
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے ، اور بعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایا جائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کیلے سے شکار نہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت).
بر جندی میں ہے:
ذكر في المحيط ان في الخفاش اختلاف العلماءا۔ھ محیط میں مذکور ہے کہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
در مختار میں ہے:
وقيل الخفاش لانه ذو ناب -
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے:
قال الاتقانى وفيه نظر لان كل ذي ناب ليس بمنھی عنه اذا كان لا يصطاد بنايه ا۔ھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہر کیلے والاحرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتا ہو۔اھ (ت)
بر جندی میں ہے:
المراد الناب الذي هو سلاح وذو الناب الحيوان الذی ينهب بالناب ا،ھ۔
(کیلے) سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنے، اور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ آور ہو ۔واللہ سبحانہ و تعالی ا علم و علمه جل مجدہ اتم واحكم
(ت)
( فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 318/319)*
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بدمذہبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین حق مسلک اہل سنت المعروف مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم رکھے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
رابطہ نمب:ر 7492077390

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
میں اکثر کہتا ہوں دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذابمثلاً اس ابو زہیر دیوبندی کوہی دیکھ لے کہ کہہ رہا ہے کہ اعلی حضرت نے کوا اور چمگاڈر کھانے کو جائز لکھا ہے اور حوالہ فتاویٰ رضویہ کا دے رہا ہے ،حالانکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
رشید احمد گنگوہی کے کوا کی حلت کے فتویٰ کے باوجود جب لوگوں نے اس کی جانب کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، بلکہ ہر طرف اس کی رسوائی ہونے لگی اور اس کے اس فتویٰ کی تردید جس کا اقرار تذکیرۃ الرشید میں ان لفظوں میں ہے:
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
لیکن انہیں لوگوں کی نفرت سے کیا مطلب انہیں تو کوا بریانی چاہیے تھی، اس لیے پھر کوا کھانے پر ثواب کا حکم لکھ مارا چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 532پر ہے :
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
اور تذکیرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
مجھے کیا خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں اس قدر اجر رکھا ہے
اب سوال ہے کہ کوا کھانے میں ثواب کا ہونا کس قرآنی آیات یاحدیث پاک سے ثابت ،یا یہ فتویٰ اپنے پسندیدہ کوا بریانی کے تحفہ کے حصول کے لیے دیا گیا ہے ۔!
پڑی ہے اندھے کو عادت کے شوربے ہی سے کھاۓ
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
قارئین کرام!دیوبندی مولوی رشید گنگوہی کوا کو حلال بلکہ کھانے کو کارثواب کہہ رہا ہے، حالانکہ حدیث شریف میں اس کو فواسق میں شمار کیا گیا ہے ہے : عن أم المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا ۔"
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فواسق (بہت بری) ہیں جن کا قتل کیا جاتا ہے حل اور حرم میں : سانپ ، سیاہ کوا ، چوہا ، کاٹنے والا کتا ، اور چیل ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 1198)
خیر یہ دیوبندیوں کا ہی نصیبہ ہے کہ وہ حرام کو حلال اور کفر کو ایمان ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں ،اب ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے وہابیہ مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اعلی حضرت نے کوا کھانے کو جائز لکھا ہے پھر ہم رشید گنگوہی کی عبارت سے موازنہ کرینگے کہ فقہا کے اقوال کے موافق کس کا قول ہے؟
اعلی حضرت کی عبارت مندرجہ ذیل ہیں :
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خور کو اجسے غراب الابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق نا جائز ہے
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا ہے اور موسم گرما میں آتا ہے، اور خلط کر نیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیبہ میں کلام نہیں ،(فتاویٰ رضویہ جلد بیس صفحہ 319/320)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں کوا کی تین قسمیں کی ہیں:ایک (غراب زرع)کو بالاتفاق جائز لکھا دوسرے ابقع کو بالاتفاق حرام قرار دیا اور تیسرے عقعق کو مختلف فیہ قرار دیا ہے اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ تفصیل رد المحتار صفحہ 443پر یوں ہے:
وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة : نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره في الكتاب. وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف والأخير هو العقعق
ترجمہ :رہا غراب ابقع اور سیاہ کوا تو وہ تین طرح کے ہیں :
ایک وہ جو دانہ کھاۓ اور مردار نہ کھائے وہ مکروہ نہیں(حلال ہے) ،دوسری وہ جو صرف مردار کھائیں یہ وہی ہے جس کو مصنف نے ابقع کہا ہے اور یہ یقیناً مکروہ تحریمی ہے،تیسری وہ جو کبھی دانہ کھائیں اور کبھی مردار، مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے وہ غیر مکروہ (حلال )ہےامام اعظم کے نزدیک ،اور مکروہ ہے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ۔آخری قسم وہ عقعق ہے۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع كذا في البدائع
( فتاوی عالمگیری، كتاب الكراهية، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان ومالا يؤكل، ج ۵، ص : ۲۸۹)

ترجمہ :وہ کوا جو دانہ اور کھیتی کھاتا ہے بالاجماع حلال ہے جیسا کہ بدایع میں ہے ۔
اور در مختار میں ہے :
والغراب الا بقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث
ترجمہ :اور حلال نہیں غراب ابقع جو مردار کھاتا ہے۔کیونکہ وہ خباثت سے ملحق ہے ۔
اور غایۃ الاوطار اردو ترجمہ در مختار میں ہے :
والغراب الابقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث قاله المصنف ثم قال والخبيث مایستخبته الطبباع السلیمہ
اور حلال نہیں ابقع کوا جو مردار کھاتا ہے اس واسطے کہ وہ حیوانات خبیثہ کے ساتھ ملحق ہے یہ کہا ہے مصنف نے اپنی شرح میں پھر مصنف نے کہا کہ خبیث وہ وہ چیز ہے جس سے طبائع سلیمہ گھنائیں اور اس کو مکروہ اور خبیث جانیں، هم غراب الابقع وہ ہے جس میں سیاہی اور سفیدی ہو کذا فی الطحطاوی( غایۃ الاوطار جلد چہارم صفحہ 192)
فقہا کی ان تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کوا کے سلسلے میں جو تفصیلات اعلی حضرت نے فرمائی وہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے ،لیکن رشید احمد گنگوہی کا قول فقہا کے اقوال کے خلاف ہے کیونکہ اس نے دیسی کوا اور زاغ معروفہ کو حلال لکھا ہے جیساکہ تذکرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
دیسی کوا اور زاغ معروفہ وہی ہے جس کو فقہا نے ابقع کہا ہے جس کی حرمت کی تصریح فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ،اس کا قائل صرف علمائے اہل سنت نہیں بلکہ علمائے دیوبند بھی ہے کہ ابقع ہی دیسی کوا ہے جیسا کہ احسن نانوتوی دیوبندی لکھتا ہے :
عربی میں میں ابلق کوے کی جگہ ابقع ہے اور ا بقع ابلق کو کہتے ہیں جس میں سیاہی اور سپیدی دونوں ہوں بعض علماء نے اس ابلق سے یہی دییسی کوا مراد لیا ہے جو اکثر آبادی میں رہتا ہے اور جس کی گردن کا رنگ بنسبت پروں کے سپیدی مائل ہوتا ہے۔اس پر ابقع کا اطلاق کرکے حرام قرار دیا ہے "(احسن المسائل صفحہ 358)
اورمولوی غلام مصطفی قاسمی سندھی دیوبندی نے دیسی کوے کو حرام قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
اعلم أن الغراب الذي يقال له كوافى الهندية وكان في السندية ، فنص على حرمته رأس المحققين المخدوم محمد هاشم السندى التنوى في رسالته : فاكهة البستان -
(شرح مختصر القدوری، کتاب الصيد والذبائح، صفحہ ۴۷۳، )

ترجمہ: جان لو کہ غراب “، جسے ہندی میں کوا، اور سندھی میں کان کہتے ہیں، اس کے حرام ہونے کی تصريح رئيس المحققين، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نے اپنے رسالہ فاكهة البستان میں کی ہے
ان تمام تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ رشید گنگوہی نے اسی دیسی کوا کھانے کو ثواب لکھا ہے جس کو فقہا نے حرام قرار دیا ہے ,حقیقتا یہ دیوبندیوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے ،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو میلاد شریف ،گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کی شیرینی کو حرام قرار دیتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس پر سزا مقرر فرمایا کہ اس کو کوا خور بنا دیا !
مٹھائی محفل میلاد کی یہ کس طرح کھائیں
کہ اس کمبخت کو چسکا تو کوے کی غذا کا ہے
اور اس خبیث ابو زہیر کا اعلی حضرت پر چمگادڑ کی حلت کا الزام لگانا تو یہ اس کی کور باطن ہے کیونکہ اعلی حضرت نے خود فتاوی رضویہ میں اس کی وضاحت پیش کردی ہے مکمل فتویٰ ہدیۂ قارئین ہے:
* مولنا صاحب مجمع فضائل و منبع فواضل فرید العصر، وحید الزمان، مخدوم مکرمی دام افضالكم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدہ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوی ارسال فرمایا، اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ، یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
لا باس بما ليس بذي مخلب كالبوم الخ
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
تو کیا چمگادڑ اور با گل بھی حلال ہے ؟ جواب با تشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز ، بینوا توجروا
#الجواب :
چمگادڑ چھوٹا ہو و یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطالقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا در مختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی، ہندیہ میں ظہیر یہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذكر في بعض المواضع انه يوكل فی بعض المواضع انه لا يوكل لان له نابا له ورایتنی كتبت على بأمشه ما نصه فيه انه لا يصيد بنابه لا يصول وليس كل ماله ناب حراماً
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے ، اور بعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایا جائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کیلے سے شکار نہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت).
بر جندی میں ہے:
ذكر في المحيط ان في الخفاش اختلاف العلماءا۔ھ محیط میں مذکور ہے کہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
در مختار میں ہے:
وقيل الخفاش لانه ذو ناب -
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے:
قال الاتقانى وفيه نظر لان كل ذي ناب ليس بمنھی عنه اذا كان لا يصطاد بنايه ا۔ھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہر کیلے والاحرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتا ہو۔اھ (ت)
بر جندی میں ہے:
المراد الناب الذي هو سلاح وذو الناب الحيوان الذی ينهب بالناب ا،ھ۔
(کیلے) سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنے، اور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ آور ہو ۔واللہ سبحانہ و تعالی ا علم و علمه جل مجدہ اتم واحكم
(ت)
( فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 318/319)*
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بدمذہبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین حق مسلک اہل سنت المعروف مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم رکھے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
رابطہ نمب:ر 7492077390
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
124
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 27
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

فقہ حنفی کی جامعیت

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢