صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

✍️ Amir Fuzail Markazi

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
میں اکثر کہتا ہوں دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذابمثلاً اس ابو زہیر دیوبندی کوہی دیکھ لے کہ کہہ رہا ہے کہ اعلی حضرت نے کوا اور چمگاڈر کھانے کو جائز لکھا ہے اور حوالہ فتاویٰ رضویہ کا دے رہا ہے ،حالانکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
رشید احمد گنگوہی کے کوا کی حلت کے فتویٰ کے باوجود جب لوگوں نے اس کی جانب کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، بلکہ ہر طرف اس کی رسوائی ہونے لگی اور اس کے اس فتویٰ کی تردید جس کا اقرار تذکیرۃ الرشید میں ان لفظوں میں ہے:
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
لیکن انہیں لوگوں کی نفرت سے کیا مطلب انہیں تو کوا بریانی چاہیے تھی، اس لیے پھر کوا کھانے پر ثواب کا حکم لکھ مارا چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 532پر ہے :
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
اور تذکیرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
مجھے کیا خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں اس قدر اجر رکھا ہے
اب سوال ہے کہ کوا کھانے میں ثواب کا ہونا کس قرآنی آیات یاحدیث پاک سے ثابت ،یا یہ فتویٰ اپنے پسندیدہ کوا بریانی کے تحفہ کے حصول کے لیے دیا گیا ہے ۔!
پڑی ہے اندھے کو عادت کے شوربے ہی سے کھاۓ
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
قارئین کرام!دیوبندی مولوی رشید گنگوہی کوا کو حلال بلکہ کھانے کو کارثواب کہہ رہا ہے، حالانکہ حدیث شریف میں اس کو فواسق میں شمار کیا گیا ہے ہے : عن أم المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا ۔"
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فواسق (بہت بری) ہیں جن کا قتل کیا جاتا ہے حل اور حرم میں : سانپ ، سیاہ کوا ، چوہا ، کاٹنے والا کتا ، اور چیل ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 1198)
خیر یہ دیوبندیوں کا ہی نصیبہ ہے کہ وہ حرام کو حلال اور کفر کو ایمان ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں ،اب ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے وہابیہ مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اعلی حضرت نے کوا کھانے کو جائز لکھا ہے پھر ہم رشید گنگوہی کی عبارت سے موازنہ کرینگے کہ فقہا کے اقوال کے موافق کس کا قول ہے؟
اعلی حضرت کی عبارت مندرجہ ذیل ہیں :
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خور کو اجسے غراب الابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق نا جائز ہے
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا ہے اور موسم گرما میں آتا ہے، اور خلط کر نیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیبہ میں کلام نہیں ،(فتاویٰ رضویہ جلد بیس صفحہ 319/320)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں کوا کی تین قسمیں کی ہیں:ایک (غراب زرع)کو بالاتفاق جائز لکھا دوسرے ابقع کو بالاتفاق حرام قرار دیا اور تیسرے عقعق کو مختلف فیہ قرار دیا ہے اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ تفصیل رد المحتار صفحہ 443پر یوں ہے:
وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة : نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره في الكتاب. وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف والأخير هو العقعق
ترجمہ :رہا غراب ابقع اور سیاہ کوا تو وہ تین طرح کے ہیں :
ایک وہ جو دانہ کھاۓ اور مردار نہ کھائے وہ مکروہ نہیں(حلال ہے) ،دوسری وہ جو صرف مردار کھائیں یہ وہی ہے جس کو مصنف نے ابقع کہا ہے اور یہ یقیناً مکروہ تحریمی ہے،تیسری وہ جو کبھی دانہ کھائیں اور کبھی مردار، مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے وہ غیر مکروہ (حلال )ہےامام اعظم کے نزدیک ،اور مکروہ ہے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ۔آخری قسم وہ عقعق ہے۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع كذا في البدائع
( فتاوی عالمگیری، كتاب الكراهية، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان ومالا يؤكل، ج ۵، ص : ۲۸۹)

ترجمہ :وہ کوا جو دانہ اور کھیتی کھاتا ہے بالاجماع حلال ہے جیسا کہ بدایع میں ہے ۔
اور در مختار میں ہے :
والغراب الا بقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث
ترجمہ :اور حلال نہیں غراب ابقع جو مردار کھاتا ہے۔کیونکہ وہ خباثت سے ملحق ہے ۔
اور غایۃ الاوطار اردو ترجمہ در مختار میں ہے :
والغراب الابقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث قاله المصنف ثم قال والخبيث مایستخبته الطبباع السلیمہ
اور حلال نہیں ابقع کوا جو مردار کھاتا ہے اس واسطے کہ وہ حیوانات خبیثہ کے ساتھ ملحق ہے یہ کہا ہے مصنف نے اپنی شرح میں پھر مصنف نے کہا کہ خبیث وہ وہ چیز ہے جس سے طبائع سلیمہ گھنائیں اور اس کو مکروہ اور خبیث جانیں، هم غراب الابقع وہ ہے جس میں سیاہی اور سفیدی ہو کذا فی الطحطاوی( غایۃ الاوطار جلد چہارم صفحہ 192)
فقہا کی ان تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کوا کے سلسلے میں جو تفصیلات اعلی حضرت نے فرمائی وہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے ،لیکن رشید احمد گنگوہی کا قول فقہا کے اقوال کے خلاف ہے کیونکہ اس نے دیسی کوا اور زاغ معروفہ کو حلال لکھا ہے جیساکہ تذکرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
دیسی کوا اور زاغ معروفہ وہی ہے جس کو فقہا نے ابقع کہا ہے جس کی حرمت کی تصریح فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ،اس کا قائل صرف علمائے اہل سنت نہیں بلکہ علمائے دیوبند بھی ہے کہ ابقع ہی دیسی کوا ہے جیسا کہ احسن نانوتوی دیوبندی لکھتا ہے :
عربی میں میں ابلق کوے کی جگہ ابقع ہے اور ا بقع ابلق کو کہتے ہیں جس میں سیاہی اور سپیدی دونوں ہوں بعض علماء نے اس ابلق سے یہی دییسی کوا مراد لیا ہے جو اکثر آبادی میں رہتا ہے اور جس کی گردن کا رنگ بنسبت پروں کے سپیدی مائل ہوتا ہے۔اس پر ابقع کا اطلاق کرکے حرام قرار دیا ہے "(احسن المسائل صفحہ 358)
اورمولوی غلام مصطفی قاسمی سندھی دیوبندی نے دیسی کوے کو حرام قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
اعلم أن الغراب الذي يقال له كوافى الهندية وكان في السندية ، فنص على حرمته رأس المحققين المخدوم محمد هاشم السندى التنوى في رسالته : فاكهة البستان -
(شرح مختصر القدوری، کتاب الصيد والذبائح، صفحہ ۴۷۳، )

ترجمہ: جان لو کہ غراب “، جسے ہندی میں کوا، اور سندھی میں کان کہتے ہیں، اس کے حرام ہونے کی تصريح رئيس المحققين، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نے اپنے رسالہ فاكهة البستان میں کی ہے
ان تمام تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ رشید گنگوہی نے اسی دیسی کوا کھانے کو ثواب لکھا ہے جس کو فقہا نے حرام قرار دیا ہے ,حقیقتا یہ دیوبندیوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے ،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو میلاد شریف ،گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کی شیرینی کو حرام قرار دیتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس پر سزا مقرر فرمایا کہ اس کو کوا خور بنا دیا !
مٹھائی محفل میلاد کی یہ کس طرح کھائیں
کہ اس کمبخت کو چسکا تو کوے کی غذا کا ہے
اور اس خبیث ابو زہیر کا اعلی حضرت پر چمگادڑ کی حلت کا الزام لگانا تو یہ اس کی کور باطن ہے کیونکہ اعلی حضرت نے خود فتاوی رضویہ میں اس کی وضاحت پیش کردی ہے مکمل فتویٰ ہدیۂ قارئین ہے:
* مولنا صاحب مجمع فضائل و منبع فواضل فرید العصر، وحید الزمان، مخدوم مکرمی دام افضالكم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدہ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوی ارسال فرمایا، اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ، یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
لا باس بما ليس بذي مخلب كالبوم الخ
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
تو کیا چمگادڑ اور با گل بھی حلال ہے ؟ جواب با تشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز ، بینوا توجروا
#الجواب :
چمگادڑ چھوٹا ہو و یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطالقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا در مختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی، ہندیہ میں ظہیر یہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذكر في بعض المواضع انه يوكل فی بعض المواضع انه لا يوكل لان له نابا له ورایتنی كتبت على بأمشه ما نصه فيه انه لا يصيد بنابه لا يصول وليس كل ماله ناب حراماً
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے ، اور بعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایا جائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کیلے سے شکار نہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت).
بر جندی میں ہے:
ذكر في المحيط ان في الخفاش اختلاف العلماءا۔ھ محیط میں مذکور ہے کہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
در مختار میں ہے:
وقيل الخفاش لانه ذو ناب -
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے:
قال الاتقانى وفيه نظر لان كل ذي ناب ليس بمنھی عنه اذا كان لا يصطاد بنايه ا۔ھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہر کیلے والاحرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتا ہو۔اھ (ت)
بر جندی میں ہے:
المراد الناب الذي هو سلاح وذو الناب الحيوان الذی ينهب بالناب ا،ھ۔
(کیلے) سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنے، اور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ آور ہو ۔واللہ سبحانہ و تعالی ا علم و علمه جل مجدہ اتم واحكم
(ت)
( فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 318/319)*
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بدمذہبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین حق مسلک اہل سنت المعروف مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم رکھے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
رابطہ نمب:ر 7492077390

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
میں اکثر کہتا ہوں دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذابمثلاً اس ابو زہیر دیوبندی کوہی دیکھ لے کہ کہہ رہا ہے کہ اعلی حضرت نے کوا اور چمگاڈر کھانے کو جائز لکھا ہے اور حوالہ فتاویٰ رضویہ کا دے رہا ہے ،حالانکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
یہ کوے کے ہمارے دیار میں پاۓ جاتے ہیں سب حرام ہے الو حرام ہے(فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 320)
لیکن اس قدر صریح حرمت والی تحریر کے باوجود اس دیوبندی کا اعلی حضرت کی جانب جھوٹ منسوب کرنا اپنی اصلیت کا پتہ دینا ہے خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ اعلی حضرت نے کوا کو حرام لکھا ہے چلیے دیکھتے ہیں کس نے کوا کو جائز لکھا ہے ،اور کوا کھانے کی لت کسے پڑی ہے ،چنانچہ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سوانح کی کتاب تذکرۃ الرشید صفحہ 177پرہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
اور ایک سطر بعد یوں ہے :
(رشید احمد گنگوہی کی )مجلس شریف میں کوئی شخص کہنے لگے کہ کوا غلہ کو بہت نقصان پہونچاتے ہیں میں نے کہا فقہ کی کتابوں میں تو اس کوا کو حلال لکھا ہے حضرت امام ربانی میری اس تقریر کوسن رہے تھے مسکرائے اور فرمایا ہاں کھانا شروع کردو کسی طرح تو کم ہوں
(تذکیرۃ الرشید صفحہ 177/178)
رشید احمد گنگوہی کے کوا کی حلت کے فتویٰ کے باوجود جب لوگوں نے اس کی جانب کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، بلکہ ہر طرف اس کی رسوائی ہونے لگی اور اس کے اس فتویٰ کی تردید جس کا اقرار تذکیرۃ الرشید میں ان لفظوں میں ہے:
جب حضرت نے یہی مضمون حلت ظاہر فرمایا تو بات پھیلی اور پھر جو کچھ عوام میں شور و غوغا ہوا وہ سب نے دیکھا ۔
لیکن انہیں لوگوں کی نفرت سے کیا مطلب انہیں تو کوا بریانی چاہیے تھی، اس لیے پھر کوا کھانے پر ثواب کا حکم لکھ مارا چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 532پر ہے :
جس زاغ معروفہ (مشہور کوا/دیسی کوا)کو اکثر لوگ حرام جانتے ہیں اس کو کھانے میں ثواب ہوگا "
اور تذکیرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
مجھے کیا خبر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں اس قدر اجر رکھا ہے
اب سوال ہے کہ کوا کھانے میں ثواب کا ہونا کس قرآنی آیات یاحدیث پاک سے ثابت ،یا یہ فتویٰ اپنے پسندیدہ کوا بریانی کے تحفہ کے حصول کے لیے دیا گیا ہے ۔!
پڑی ہے اندھے کو عادت کے شوربے ہی سے کھاۓ
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
قارئین کرام!دیوبندی مولوی رشید گنگوہی کوا کو حلال بلکہ کھانے کو کارثواب کہہ رہا ہے، حالانکہ حدیث شریف میں اس کو فواسق میں شمار کیا گیا ہے ہے : عن أم المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال خمسٌ فواسقٌ يُقتلْنَ في الحلِّ والحرمِ : الحيةُ ، والغرابُ الأبقعُ ، والفارةُ ، والكلبُ العقورُ ، والحُدَيَّا ۔"
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فواسق (بہت بری) ہیں جن کا قتل کیا جاتا ہے حل اور حرم میں : سانپ ، سیاہ کوا ، چوہا ، کاٹنے والا کتا ، اور چیل ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 1198)
خیر یہ دیوبندیوں کا ہی نصیبہ ہے کہ وہ حرام کو حلال اور کفر کو ایمان ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں ،اب ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے وہابیہ مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اعلی حضرت نے کوا کھانے کو جائز لکھا ہے پھر ہم رشید گنگوہی کی عبارت سے موازنہ کرینگے کہ فقہا کے اقوال کے موافق کس کا قول ہے؟
اعلی حضرت کی عبارت مندرجہ ذیل ہیں :
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھاتا اور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتا ہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خور کو اجسے غراب الابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق نا جائز ہے
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اور یک رنگ سیاہ ہوتا ہے اور موسم گرما میں آتا ہے، اور خلط کر نیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیبہ میں کلام نہیں ،(فتاویٰ رضویہ جلد بیس صفحہ 319/320)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں کوا کی تین قسمیں کی ہیں:ایک (غراب زرع)کو بالاتفاق جائز لکھا دوسرے ابقع کو بالاتفاق حرام قرار دیا اور تیسرے عقعق کو مختلف فیہ قرار دیا ہے اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ تفصیل رد المحتار صفحہ 443پر یوں ہے:
وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة : نوع يلتقط الحب ولا يأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى ولم يذكره في الكتاب. وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف والأخير هو العقعق
ترجمہ :رہا غراب ابقع اور سیاہ کوا تو وہ تین طرح کے ہیں :
ایک وہ جو دانہ کھاۓ اور مردار نہ کھائے وہ مکروہ نہیں(حلال ہے) ،دوسری وہ جو صرف مردار کھائیں یہ وہی ہے جس کو مصنف نے ابقع کہا ہے اور یہ یقیناً مکروہ تحریمی ہے،تیسری وہ جو کبھی دانہ کھائیں اور کبھی مردار، مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے وہ غیر مکروہ (حلال )ہےامام اعظم کے نزدیک ،اور مکروہ ہے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک ۔آخری قسم وہ عقعق ہے۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
والغراب الذي يأكل الحب والزرع ونحوها حلال بالاجماع كذا في البدائع
( فتاوی عالمگیری، كتاب الكراهية، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان ومالا يؤكل، ج ۵، ص : ۲۸۹)

ترجمہ :وہ کوا جو دانہ اور کھیتی کھاتا ہے بالاجماع حلال ہے جیسا کہ بدایع میں ہے ۔
اور در مختار میں ہے :
والغراب الا بقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث
ترجمہ :اور حلال نہیں غراب ابقع جو مردار کھاتا ہے۔کیونکہ وہ خباثت سے ملحق ہے ۔
اور غایۃ الاوطار اردو ترجمہ در مختار میں ہے :
والغراب الابقع الذي يا كل الجيف لانه بملحق بالخبائث قاله المصنف ثم قال والخبيث مایستخبته الطبباع السلیمہ
اور حلال نہیں ابقع کوا جو مردار کھاتا ہے اس واسطے کہ وہ حیوانات خبیثہ کے ساتھ ملحق ہے یہ کہا ہے مصنف نے اپنی شرح میں پھر مصنف نے کہا کہ خبیث وہ وہ چیز ہے جس سے طبائع سلیمہ گھنائیں اور اس کو مکروہ اور خبیث جانیں، هم غراب الابقع وہ ہے جس میں سیاہی اور سفیدی ہو کذا فی الطحطاوی( غایۃ الاوطار جلد چہارم صفحہ 192)
فقہا کی ان تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کوا کے سلسلے میں جو تفصیلات اعلی حضرت نے فرمائی وہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے ،لیکن رشید احمد گنگوہی کا قول فقہا کے اقوال کے خلاف ہے کیونکہ اس نے دیسی کوا اور زاغ معروفہ کو حلال لکھا ہے جیساکہ تذکرۃ الرشید صفحہ 177پر ہے:
دیسی کوا جس کو عام آدمی حرام سمجھے ہوئے ہیں ۔۔۔حلال ہے۔
دیسی کوا اور زاغ معروفہ وہی ہے جس کو فقہا نے ابقع کہا ہے جس کی حرمت کی تصریح فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے ،اس کا قائل صرف علمائے اہل سنت نہیں بلکہ علمائے دیوبند بھی ہے کہ ابقع ہی دیسی کوا ہے جیسا کہ احسن نانوتوی دیوبندی لکھتا ہے :
عربی میں میں ابلق کوے کی جگہ ابقع ہے اور ا بقع ابلق کو کہتے ہیں جس میں سیاہی اور سپیدی دونوں ہوں بعض علماء نے اس ابلق سے یہی دییسی کوا مراد لیا ہے جو اکثر آبادی میں رہتا ہے اور جس کی گردن کا رنگ بنسبت پروں کے سپیدی مائل ہوتا ہے۔اس پر ابقع کا اطلاق کرکے حرام قرار دیا ہے "(احسن المسائل صفحہ 358)
اورمولوی غلام مصطفی قاسمی سندھی دیوبندی نے دیسی کوے کو حرام قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
اعلم أن الغراب الذي يقال له كوافى الهندية وكان في السندية ، فنص على حرمته رأس المحققين المخدوم محمد هاشم السندى التنوى في رسالته : فاكهة البستان -
(شرح مختصر القدوری، کتاب الصيد والذبائح، صفحہ ۴۷۳، )

ترجمہ: جان لو کہ غراب “، جسے ہندی میں کوا، اور سندھی میں کان کہتے ہیں، اس کے حرام ہونے کی تصريح رئيس المحققين، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی نے اپنے رسالہ فاكهة البستان میں کی ہے
ان تمام تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ رشید گنگوہی نے اسی دیسی کوا کھانے کو ثواب لکھا ہے جس کو فقہا نے حرام قرار دیا ہے ,حقیقتا یہ دیوبندیوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے ،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو میلاد شریف ،گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کی شیرینی کو حرام قرار دیتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس پر سزا مقرر فرمایا کہ اس کو کوا خور بنا دیا !
مٹھائی محفل میلاد کی یہ کس طرح کھائیں
کہ اس کمبخت کو چسکا تو کوے کی غذا کا ہے
اور اس خبیث ابو زہیر کا اعلی حضرت پر چمگادڑ کی حلت کا الزام لگانا تو یہ اس کی کور باطن ہے کیونکہ اعلی حضرت نے خود فتاوی رضویہ میں اس کی وضاحت پیش کردی ہے مکمل فتویٰ ہدیۂ قارئین ہے:
* مولنا صاحب مجمع فضائل و منبع فواضل فرید العصر، وحید الزمان، مخدوم مکرمی دام افضالكم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدہ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوی ارسال فرمایا، اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ، یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
لا باس بما ليس بذي مخلب كالبوم الخ
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
تو کیا چمگادڑ اور با گل بھی حلال ہے ؟ جواب با تشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز ، بینوا توجروا
#الجواب :
چمگادڑ چھوٹا ہو و یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطالقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا در مختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی، ہندیہ میں ظہیر یہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذكر في بعض المواضع انه يوكل فی بعض المواضع انه لا يوكل لان له نابا له ورایتنی كتبت على بأمشه ما نصه فيه انه لا يصيد بنابه لا يصول وليس كل ماله ناب حراماً
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے ، اور بعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایا جائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کیلے سے شکار نہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتا ہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت).
بر جندی میں ہے:
ذكر في المحيط ان في الخفاش اختلاف العلماءا۔ھ محیط میں مذکور ہے کہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
در مختار میں ہے:
وقيل الخفاش لانه ذو ناب -
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے:
قال الاتقانى وفيه نظر لان كل ذي ناب ليس بمنھی عنه اذا كان لا يصطاد بنايه ا۔ھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہر کیلے والاحرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتا ہو۔اھ (ت)
بر جندی میں ہے:
المراد الناب الذي هو سلاح وذو الناب الحيوان الذی ينهب بالناب ا،ھ۔
(کیلے) سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنے، اور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ آور ہو ۔واللہ سبحانہ و تعالی ا علم و علمه جل مجدہ اتم واحكم
(ت)
( فتاویٰ رضویہ جلد 20صفحہ 318/319)*
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بدمذہبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین حق مسلک اہل سنت المعروف مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم رکھے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
رابطہ نمب:ر 7492077390
Author Icon

Amir Fuzail Markazi

اس کاتب کی تفصیل موجود نہیں ہے۔

فقہ حنفی کی جامعیت

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا - سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔ اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0