صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
احوال قوم وملت

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے

✍️ Mufti Md Raza Rifai Markazi

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
8446974711
محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی اسلامی سال کا ایک نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کا یہ سفر انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے، حال کا جائزہ لے اور مستقبل کے لیے اپنی ترجیحات طے کرے۔ نئے اسلامی سال کی آمد صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک تازہ پیغام، ایک نئی دعوتِ فکر اور ایک نیا عہدِ عمل ہے۔
آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں فکری یلغار ہے، کہیں اخلاقی زوال، کہیں تعلیمی پسماندگی اور کہیں باہمی انتشار۔ دشمن کی سازشیں اپنی جگہ، مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی کمزوریوں کو خود پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے قرآن سے اپنا تعلق کمزور کیا، علم کی شمع کو مدھم ہونے دیا اور اتحاد کی نعمت کو اختلافات کی نذر کر دیا۔
نئے اسلامی سال کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ امت اپنے اصل سرچشمے یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرے۔ جن قوموں نے اپنی بنیادوں کو مضبوط رکھا، تاریخ نے انہیں سربلند کیا، اور جنہوں نے اپنی شناخت کھو دی، وہ زمانے کی گرد میں گم ہو گئیں۔ مسلمانوں کی عزت، ان کی قوت اور ان کا وقار بھی اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب وہ اپنے دین کو محض رسم و رواج نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات سمجھ کر اختیار کریں۔
دوسرا بڑا تقاضا اتحاد و اتفاق ہے۔ افسوس کہ آج معمولی اختلافات بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ زبان، علاقے، رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم نے امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن ہمیں بھائی بھائی بن کر رہنے کا درس دیتا ہے۔ دشمن ہمیشہ منتشر قوموں کو نشانہ بناتا ہے اور متحد قوموں سے خوف کھاتا ہے۔
نئے سال کا تیسرا تقاضا علم کا فروغ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان علم، تحقیق اور تعلیم کے میدان میں آگے تھے تو دنیا ان کی رہنمائی کی محتاج تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کی جائے، تاکہ امت علمی میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔
چوتھا تقاضا کردار سازی ہے۔ ایک مسلمان کی اصل پہچان اس کا اخلاق، دیانت، سچائی اور امانت ہوتی ہے۔ اگر ہماری عبادتیں ہمارے کردار میں حسن پیدا نہ کریں تو ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ اچھے کردار والے افراد سے بنتا ہے۔
محرم الحرام کا آغاز ہمیں ہجرتِ نبوی ﷺ اور کربلا کے عظیم اسباق بھی یاد دلاتا ہے۔ ہجرت ہمیں قربانی، جدوجہد اور اللہ پر بھروسے کا درس دیتی ہے، جبکہ کربلا ہمیں حق پر استقامت، باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور دین کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہ دونوں واقعات امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ عزت اور کامیابی صرف اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے اسلامی سال کو محض مبارک بادوں اور رسمی پیغامات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ وہ نمازوں کی پابندی کرے گا، قرآن سے تعلق مضبوط کرے گا، والدین کا احترام کرے گا، اپنی اولاد کی دینی تربیت کرے گا اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے گا۔
اگر امتِ مسلمہ نئے سال کے ان تقاضوں کو سمجھ لے اور ان پر عمل پیرا ہو جائے تو یقیناً اس کے زوال کی رات طویل نہیں رہے گی۔ پھر وہی امت جو کبھی دنیا کی رہنما تھی، دوبارہ عزت، وقار اور سربلندی کی منزلوں کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ وقت بدلنے کا انتظار نہ کرو، خود کو بدل لو۔ حالات کی شکایت کرنے کے بجائے اصلاحِ احوال کی کوشش کرو۔ کیونکہ جب ایک فرد بدلتا ہے تو خاندان بدلتا ہے، خاندان بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم وقت کی قدر کریں۔ جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ جو آج ہمارے پاس ہے، کل شاید نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دنوں کو نیکی، علم، خدمتِ خلق اور عبادت سے آباد کریں۔ نمازوں کی پابندی، قرآنِ کریم سے تعلق، والدین کی خدمت، رشتوں کا احترام اور اخلاقِ حسنہ وہ سرمایہ ہیں جو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔
محرم الحرام کا آغاز ہمیں کربلا کے عظیم پیغام کی یاد بھی دلاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، اصولوں کی حفاظت کے لیے مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور دین کی سربلندی کے لیے کبھی کبھی اپنی خواہشات کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ جذبۂ عمل ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑا اور حق کو ہمیشہ کے لیے سربلند کر دیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے اسلامی سال کو محض کیلنڈر کی تبدیلی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی زندگی میں ایک حقیقی تبدیلی کا آغاز بنائیں۔ اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اپنی اصلاح کا عزم کریں اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہمارا ہر نیا سال ہمیں اللہ کے قریب اور گناہوں سے دور کر دے تو یہی اس سال کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آئیے! نئے اسلامی سال کے آغاز پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم صرف خواب نہیں دیکھیں گے بلکہ عمل کریں گے، صرف خواہشیں نہیں پالیں گے بلکہ محنت کریں گے، صرف دعوے نہیں کریں گے بلکہ اپنے کردار سے اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کریں گے۔ کیونکہ قوموں کی ترقی کا راز بھی عمل میں ہے اور فرد کی کامیابی کا راز بھی عمل ہی میں پوشیدہ ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے: وقت کم ہے، سفر طویل ہے اور منزل عظیم ہے۔ اٹھو، سنبھلو اور اپنے رب کی رضا کے راستے پر چل پڑو، یہی نئے اسلامی سال کا حقیقی پیغامِ عمل ہے۔
razamarkazi@gmail.com

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے

مضمون نگار: Mufti Md Raza Rifai Markazi

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
8446974711
محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی اسلامی سال کا ایک نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کا یہ سفر انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے، حال کا جائزہ لے اور مستقبل کے لیے اپنی ترجیحات طے کرے۔ نئے اسلامی سال کی آمد صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک تازہ پیغام، ایک نئی دعوتِ فکر اور ایک نیا عہدِ عمل ہے۔
آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں فکری یلغار ہے، کہیں اخلاقی زوال، کہیں تعلیمی پسماندگی اور کہیں باہمی انتشار۔ دشمن کی سازشیں اپنی جگہ، مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی کمزوریوں کو خود پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے قرآن سے اپنا تعلق کمزور کیا، علم کی شمع کو مدھم ہونے دیا اور اتحاد کی نعمت کو اختلافات کی نذر کر دیا۔
نئے اسلامی سال کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ امت اپنے اصل سرچشمے یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرے۔ جن قوموں نے اپنی بنیادوں کو مضبوط رکھا، تاریخ نے انہیں سربلند کیا، اور جنہوں نے اپنی شناخت کھو دی، وہ زمانے کی گرد میں گم ہو گئیں۔ مسلمانوں کی عزت، ان کی قوت اور ان کا وقار بھی اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب وہ اپنے دین کو محض رسم و رواج نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات سمجھ کر اختیار کریں۔
دوسرا بڑا تقاضا اتحاد و اتفاق ہے۔ افسوس کہ آج معمولی اختلافات بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ زبان، علاقے، رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم نے امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن ہمیں بھائی بھائی بن کر رہنے کا درس دیتا ہے۔ دشمن ہمیشہ منتشر قوموں کو نشانہ بناتا ہے اور متحد قوموں سے خوف کھاتا ہے۔
نئے سال کا تیسرا تقاضا علم کا فروغ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان علم، تحقیق اور تعلیم کے میدان میں آگے تھے تو دنیا ان کی رہنمائی کی محتاج تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کی جائے، تاکہ امت علمی میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔
چوتھا تقاضا کردار سازی ہے۔ ایک مسلمان کی اصل پہچان اس کا اخلاق، دیانت، سچائی اور امانت ہوتی ہے۔ اگر ہماری عبادتیں ہمارے کردار میں حسن پیدا نہ کریں تو ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ اچھے کردار والے افراد سے بنتا ہے۔
محرم الحرام کا آغاز ہمیں ہجرتِ نبوی ﷺ اور کربلا کے عظیم اسباق بھی یاد دلاتا ہے۔ ہجرت ہمیں قربانی، جدوجہد اور اللہ پر بھروسے کا درس دیتی ہے، جبکہ کربلا ہمیں حق پر استقامت، باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور دین کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہ دونوں واقعات امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ عزت اور کامیابی صرف اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے اسلامی سال کو محض مبارک بادوں اور رسمی پیغامات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ وہ نمازوں کی پابندی کرے گا، قرآن سے تعلق مضبوط کرے گا، والدین کا احترام کرے گا، اپنی اولاد کی دینی تربیت کرے گا اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے گا۔
اگر امتِ مسلمہ نئے سال کے ان تقاضوں کو سمجھ لے اور ان پر عمل پیرا ہو جائے تو یقیناً اس کے زوال کی رات طویل نہیں رہے گی۔ پھر وہی امت جو کبھی دنیا کی رہنما تھی، دوبارہ عزت، وقار اور سربلندی کی منزلوں کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ وقت بدلنے کا انتظار نہ کرو، خود کو بدل لو۔ حالات کی شکایت کرنے کے بجائے اصلاحِ احوال کی کوشش کرو۔ کیونکہ جب ایک فرد بدلتا ہے تو خاندان بدلتا ہے، خاندان بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم وقت کی قدر کریں۔ جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ جو آج ہمارے پاس ہے، کل شاید نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دنوں کو نیکی، علم، خدمتِ خلق اور عبادت سے آباد کریں۔ نمازوں کی پابندی، قرآنِ کریم سے تعلق، والدین کی خدمت، رشتوں کا احترام اور اخلاقِ حسنہ وہ سرمایہ ہیں جو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔
محرم الحرام کا آغاز ہمیں کربلا کے عظیم پیغام کی یاد بھی دلاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، اصولوں کی حفاظت کے لیے مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور دین کی سربلندی کے لیے کبھی کبھی اپنی خواہشات کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ جذبۂ عمل ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑا اور حق کو ہمیشہ کے لیے سربلند کر دیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے اسلامی سال کو محض کیلنڈر کی تبدیلی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی زندگی میں ایک حقیقی تبدیلی کا آغاز بنائیں۔ اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اپنی اصلاح کا عزم کریں اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہمارا ہر نیا سال ہمیں اللہ کے قریب اور گناہوں سے دور کر دے تو یہی اس سال کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آئیے! نئے اسلامی سال کے آغاز پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم صرف خواب نہیں دیکھیں گے بلکہ عمل کریں گے، صرف خواہشیں نہیں پالیں گے بلکہ محنت کریں گے، صرف دعوے نہیں کریں گے بلکہ اپنے کردار سے اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کریں گے۔ کیونکہ قوموں کی ترقی کا راز بھی عمل میں ہے اور فرد کی کامیابی کا راز بھی عمل ہی میں پوشیدہ ہے۔
نیا اسلامی سال ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے: وقت کم ہے، سفر طویل ہے اور منزل عظیم ہے۔ اٹھو، سنبھلو اور اپنے رب کی رضا کے راستے پر چل پڑو، یہی نئے اسلامی سال کا حقیقی پیغامِ عمل ہے۔
razamarkazi@gmail.com
Author Icon

Mufti Md Raza Rifai Markazi

یہ مضمون Mufti Md Raza Rifai Markazi کی طرف سے گیسٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

محمدیﷺ فکر کی ضرورت

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا - سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔ اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0