اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سیرت نبوی ﷺ اور عدل و انصاف (۱)

قسط اول

انسانی تہذیب کی بنیاد عدل و انصاف پر قائم ہے۔ جب عدل مٹتا ہے تو معاشرے میں ظلم، استحصال اور انتشار جنم لیتا ہے، اور انسانیت اپنی وقعت کھو بیٹھتی ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ قوموں کی بقا و فنا کا سب سے بڑا راز اسی ایک اصول میں پوشیدہ ہے کہ وہ عدل کو کس درجہ اختیار کرتی ہیں۔ عدل صرف عدالت کے کمرے یا قانون کے صفحات تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی انفرادی زندگی، معاشرتی رویّوں، معیشت، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیلا ہوا ایک ہمہ گیر اصول ہے۔
اسی عالمگیر ضرورت کے پیشِ نظر جملہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام اس دنیا میں تشریف لائے اور سب سے آخر میں خالقِ کائنات نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا جنھوں نے انسانیت کی ایسے ضابطۂ حیات کی طرف رہنمائی کی جو مکمل عدل و انصاف پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے واضح اعلان کیا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ﴾ (النحل: ۹۰) یعنی بےشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی کا۔ یہ حکم محض نظری نہیں بلکہ عملی نظام کے طور پر آپ ﷺ کی سیرت میں جلوہ گر ہوا۔
نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں عدل و انصاف کی وہ جامع اور ہمہ گیر تصویر ملتی ہے جس نے نہ صرف عرب کے صحراؤں کو بدل دیا بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کے لیے دائمی منشور فراہم کیا۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں رنگ، نسل، قبیلہ اور علاقہ کے امتیازات ختم ہوئے اور ہر فرد کو قانون کی نگاہ میں برابر قرار دیا گیا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے سیرتِ نبوی ﷺ کو تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لیے قابلِ تقلید بنایا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس مضمون کا مقصد سیرتِ نبوی ﷺ میں عدل و انصاف کے مختلف پہلوؤں کو تاریخی، فقہی اور اخلاقی زاویوں سے اجاگر کرنا ہے۔ اس میں ہم دیکھیں گے کہ جاہلی معاشرت کے پس منظر میں رسولِ اکرم ﷺ نے کس طرح عدل کے قرآنی اصول نافذ کیے، ریاستِ مدینہ میں قانون اور قضاء کا نظام قائم کیا، اور کس طرح کمزور، یتیم، غلام، عورت اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو یقینی بنایا۔ ساتھ ہی ہم عصرِ حاضر کی ناانصافیوں کے تناظر میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ نبی اکرم ﷺ کے یہ اصول آج بھی کس طرح عالمی امن و انصاف کے لیے رہنما بن سکتے ہیں۔ (جاری)
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
103
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

کوہِ طور کا یادگار سفر

سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سیرت نبوی ﷺ اور عدل و انصاف (۱)

#قسط اول

انسانی تہذیب کی بنیاد عدل و انصاف پر قائم ہے۔ جب عدل مٹتا ہے تو معاشرے میں ظلم، استحصال اور انتشار جنم لیتا ہے، اور انسانیت اپنی وقعت کھو بیٹھتی ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ قوموں کی بقا و فنا کا سب سے بڑا راز اسی ایک اصول میں پوشیدہ ہے کہ وہ عدل کو کس درجہ اختیار کرتی ہیں۔ عدل صرف عدالت کے کمرے یا قانون کے صفحات تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی انفرادی زندگی، معاشرتی رویّوں، معیشت، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیلا ہوا ایک ہمہ گیر اصول ہے۔

اسی عالمگیر ضرورت کے پیشِ نظر جملہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام اس دنیا میں تشریف لائے اور سب سے آخر میں خالقِ کائنات نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا جنھوں نے انسانیت کی ایسے ضابطۂ حیات کی طرف رہنمائی کی جو مکمل عدل و انصاف پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے واضح اعلان کیا: “﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ﴾ (النحل: ۹۰)” یعنی *بےشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی کا۔* یہ حکم محض نظری نہیں بلکہ عملی نظام کے طور پر آپ ﷺ کی سیرت میں جلوہ گر ہوا۔

نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں عدل و انصاف کی وہ جامع اور ہمہ گیر تصویر ملتی ہے جس نے نہ صرف عرب کے صحراؤں کو بدل دیا بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کے لیے دائمی منشور فراہم کیا۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں رنگ، نسل، قبیلہ اور علاقہ کے امتیازات ختم ہوئے اور ہر فرد کو قانون کی نگاہ میں برابر قرار دیا گیا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے سیرتِ نبوی ﷺ کو تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لیے قابلِ تقلید بنایا۔

اس مضمون کا مقصد سیرتِ نبوی ﷺ میں عدل و انصاف کے مختلف پہلوؤں کو تاریخی، فقہی اور اخلاقی زاویوں سے اجاگر کرنا ہے۔ اس میں ہم دیکھیں گے کہ جاہلی معاشرت کے پس منظر میں رسولِ اکرم ﷺ نے کس طرح عدل کے قرآنی اصول نافذ کیے، ریاستِ مدینہ میں قانون اور قضاء کا نظام قائم کیا، اور کس طرح کمزور، یتیم، غلام، عورت اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو یقینی بنایا۔ ساتھ ہی ہم عصرِ حاضر کی ناانصافیوں کے تناظر میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ نبی اکرم ﷺ کے یہ اصول آج بھی کس طرح عالمی امن و انصاف کے لیے رہنما بن سکتے ہیں۔ (جاری)

از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

Scan this QR code to read online:

QR Code