صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مرشدِ کونین ﷺ
ادبیات

مرشدِ کونین ﷺ

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

مرشدِ کونین ﷺ
ربیع الاول کی آمد محض ایک نئے مہینے کا آغاز نہیں، یہ اس عظیم واقعے کی یاد تازہ ہونے کا اعلان ہے جس نے تاریخِ انسانی کے رخ کو ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی فضاؤں میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر، رحمتِ عالم، شفیعِ اعظم، محبوبِ رب العالمین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جن میں زمین نے آسمان سے وہ تحفہ پایا جس کی نظیر نہ اس سے پہلے تھی، نہ اس کے بعد کبھی ہوگی۔ ایک ایسی ہستی جلوہ گر ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے صرف ایک قوم کی رہنمائی کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔
آپ ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا کا حال یہ تھا کہ انسان انسانیت کی پہچان بھول چکا تھا۔ کہیں بتوں کے سامنے جبینیں جھک رہی تھیں، کہیں انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کو غلام بنا رہا تھا، کہیں طاقتور کمزور کا حق نگل رہا تھا، کہیں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ ننگ سمجھا جا رہا تھا، کہیں خون کا ایک قطرہ نسلوں تک انتقام کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔ اخلاق کی جگہ خواہشات نے لے لی تھی، عدل کی جگہ طاقت نے، محبت کی جگہ عصبیت نے اور ہدایت کی جگہ گمراہی نے اپنے خیمے گاڑ رکھے تھے۔
ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے انسانی بستی پر رات اتر آئی ہو۔ مگر یہ رات عام رات نہ تھی، یہ ایک طویل شیطانی شبِ دیجور تھی، جس کے اختتام کی کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ دلوں کے چراغ بجھ چکے تھے، فکر کے راستے دھندلا گئے تھے اور انسان اپنے خالق سے دور ہو کر اپنے وجود کا مقصد تلاش کرنے میں سرگرداں تھا۔ پھر قدرتِ الٰہی نے اپنے محبوب ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا شرف بخشا۔ اور یوں صرف ایک انسان پیدا نہیں ہوا، ایک عہد طلوع ہوا۔ صرف ایک گھر روشن نہیں ہوا، دنیا کے دلوں میں روشنی اتری۔ صرف مکہ کی وادی میں ایک بچہ جلوہ گر نہیں ہوا، انسانیت کے لیے ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا۔
آپ ﷺ کی تشریف آوری گویا تاریخ کے ماتھے پر ایک ایسی صبح تھی جس کے بعد تاریکی کے معنی بدل گئے۔ آپ ﷺ آئے تو معلوم ہوا کہ بندگی صرف بتوں کے سامنے جھکنے کا نام نہیں، بلکہ اس ذاتِ واحد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے جس نے زمین و آسمان پیدا کیے۔ آپ ﷺ آئے تو انسان کو اس کی اصل عزت یاد آئی۔ اسے بتایا گیا کہ رنگ، نسل، نسب، زبان اور مال انسان کی عظمت کا معیار نہیں۔ اصل شرف تقویٰ اور کردار میں ہے۔
آپ ﷺ نے اس دنیا کو صرف ایک نیا مذہبی نظام نہیں دیا، بلکہ زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ عطا فرمایا۔ عبادت کو اخلاق سے جوڑا، ایمان کو عمل سے، علم کو خشیت سے، طاقت کو عدل سے، دولت کو سخاوت سے، اقتدار کو امانت سے اور محبت کو وفا سے وابستہ کر دیا۔
آپ ﷺ نے بتایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل قوت اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔ آپ ﷺ نے یتیم کو معاشرے کا بوجھ نہیں، ذمہ داری قرار دیا۔ مسکین کو حقیر نہیں، قابلِ احترام بنایا۔ غلام کو انسانیت کے دائرے سے باہر نہیں، عزت و آزادی کا مستحق بتایا۔ عورت کو سامانِ زندگی نہیں، عزت و حقوق رکھنے والی انسان قرار دیا۔
یہی تو آپ ﷺ کی مرشدانہ شان تھی کہ آپ نے انسان کو صرف مسجد تک جانے کا راستہ نہیں بتایا، بلکہ انسان بننے کا راستہ دکھایا۔
آپ ﷺ نے دنیا کو بتایا کہ دین صرف چند رسوم کا نام نہیں، دین دل کی پاکیزگی، زبان کی صداقت، ہاتھ کی امانت، نگاہ کی عفت، معاملات کی شفافیت، پڑوسی کے حقوق، والدین کی خدمت، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور مخلوقِ خدا کے ساتھ صلہ رحمی کا نام بھی ہے۔
آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ایک ایسا آئینہ تھی جس میں انسان کو ایمان کا حسن بھی دکھائی دیتا تھا اور اخلاق کی تکمیل بھی۔ آپ ﷺ عبادت میں سب سے آگے تھے، اور بندوں کے ساتھ رحمت میں بھی سب سے آگے۔ آپ ﷺ حق کے معاملے میں سب سے مضبوط تھے، اور ذاتی معاملات میں سب سے زیادہ درگزر فرمانے والے۔ آپ ﷺ فاتح بھی تھے اور کریم بھی۔ حاکم بھی تھے اور خادم بھی۔ معلم بھی تھے اور مربی بھی۔ قاضی بھی تھے اور شفیق رہنما بھی۔
اسی لیے آپ ﷺ صرف عرب کے رہبر نہیں، صرف ایک قوم کے پیشوا نہیں، صرف ایک عہد کے قائد نہیں، آپ مرشدِ کونین ہیں۔
آپ ﷺ نے انسان کو زمینِ جہالت سے اٹھا کر آسمانِ معرفت کی طرف دیکھنا سکھایا۔ آپ ﷺ نے دلوں کو بتایا کہ دنیا منزل نہیں، سفر ہے۔ مال مقصد نہیں، وسیلہ ہے۔ اقتدار اعزاز نہیں، امانت ہے۔ زندگی کھیل نہیں، ذمہ داری ہے۔ اور انسان بے مقصد وجود نہیں، بلکہ اپنے رب کی معرفت اور بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے جہالت کے سینے میں علم کا چراغ روشن کیا۔ وہ لوگ جو پڑھنا لکھنا بھی نہ جانتے تھے، آپ ﷺ کی تربیت سے دنیا کے معلم بن گئے۔ جن کے درمیان صدیوں سے خون کے رشتوں سے زیادہ انتقام کے رشتے مضبوط تھے، انہی کے دلوں میں اخوتِ ایمانی پیدا ہوئی۔ جو قبائل ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، وہ ایک دوسرے کے غم خوار بن گئے۔ جو لوگ معمولی باتوں پر تلواریں نکال لیتے تھے، وہ اللہ کے نام پر اپنے بھائی کے لیے اپنا مال، گھر اور جان تک قربان کرنے لگے۔
یہ انقلاب کسی سلطنت کے خزانے سے نہیں آیا تھا۔ یہ انقلاب محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق، تعلیم، تربیت اور نورِ نبوت سے آیا تھا۔
آپ ﷺ نے تلوار سے پہلے دل فتح کیے اور حکومت سے پہلے انسان بنائے۔ آپ ﷺ نے ایسی امت تیار کی جس کا تعلق زمین سے بھی تھا اور آسمان سے بھی۔ جو تجارت بھی کرتی تھی اور تہجد بھی پڑھتی تھی۔ جو میدانِ جہاد میں ثابت قدم بھی رہتی تھی اور یتیم کے سر پر دستِ شفقت بھی رکھتی تھی۔ جو دنیا کے معاملات میں باوقار تھی اور اللہ کے سامنے انتہائی عاجز۔
آپ ﷺ کی سیرت کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جس چیز کی تعلیم دی، پہلے خود اس کا کامل نمونہ بن کر دکھایا۔ قرآن نے صبر کا حکم دیا تو آپ ﷺ کی پوری زندگی صبر کا آئینہ بن گئی۔ رحمت کا درس دیا تو آپ ﷺ رحمت بن کر جلوہ گر ہوئے۔ عدل کا حکم آیا تو آپ ﷺ کے فیصلوں میں دوست و دشمن سب کے لیے یکساں انصاف نظر آیا۔ عفو کا حکم دیا تو فتحِ مکہ کے موقع پر وہ لوگ بھی آپ ﷺ کے سامنے معافی پا گئے جنہوں نے برسوں آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت صرف پڑھنے کی چیز نہیں، اپنانے کی چیز ہے۔
ربیع الاول ہمیں صرف چراغاں، نعت خوانی اور محافل کی طرف متوجہ نہیں کرتا، بلکہ یہ مہینہ ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس نبی ﷺ کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں، کیا ہماری زندگی میں ان کی تعلیمات بھی جلوہ گر ہیں؟ ہماری زبان میں ان کی صداقت کتنی ہے؟ ہمارے معاملات میں ان کی امانت کتنی ہے؟ ہمارے گھروں میں ان کی رحمت کتنی ہے؟ ہمارے دلوں میں ان کی محبت کتنی ہے؟ ہمارے اخلاق میں ان کی سنت کتنی ہے؟
محبتِ رسول ﷺ کا سب سے روشن ثبوت یہی ہے کہ انسان اپنے محبوب ﷺ کے نقشِ قدم کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لے۔
ربیع الاول کی اصل خوشی یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو پھر سے اس نورِ نبوت کی طرف متوجہ کریں۔ اپنی زندگی کے اندھیروں میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ روشن کریں۔ اپنے معاملات میں سنت کو جگہ دیں، اپنے اخلاق کو نبوی اخلاق سے آراستہ کریں، اپنے گھروں کو رحمت کا گہوارہ بنائیں، اپنی زبانوں کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ کریں، اپنے دلوں کو کینہ و حسد سے پاک کریں اور اپنے کردار سے دنیا کو بتائیں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی کیسے ہوتے ہیں۔
آج بھی دنیا کو اسی مرشدِ کونین ﷺ کی ضرورت ہے۔
آج بھی انسان مادّی ترقی کے باوجود روحانی سکون کا محتاج ہے۔ آج بھی علم بہت ہے مگر حکمت کم، دولت بہت ہے مگر قناعت کم، رابطے بہت ہیں مگر تعلقات کم، شور بہت ہے مگر سکون کم، آزادی کے دعوے بہت ہیں مگر نفس کی غلامی عام ہے۔
ایسے میں اگر انسانیت کسی ایک دروازے پر سکون، عدل، رحمت، اخلاق اور حقیقی رہنمائی تلاش کر سکتی ہے تو وہ دروازہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت آج بھی زندہ ہے، آپ ﷺ کی تعلیم آج بھی روشنی ہے، آپ ﷺ کا اسوہ آج بھی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ وقت بدل سکتا ہے، تہذیبیں بدل سکتی ہیں، دنیا کے نقشے بدل سکتے ہیں، مگر جس دل کو محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کا چراغ مل جائے، اس کے لیے ہدایت کی صبح کبھی غروب نہیں ہوتی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ مرشدِ کونین ﷺ ہیں۔
آپ کی تعلیمات کا نور قیامت تک انسانیت کے سفر کو روشن کرتا رہے گا، اور آپ کی سیرت کا چراغ اس وقت تک جلتا رہے گا جب تک اس دنیا میں ایک بھی دل ایسا موجود ہے جو حق کی تلاش میں دھڑکتا ہے۔
سلام ہو اس مرشدِ اعظم ﷺ پر،
جس کی آمد سے انسان کو انسانیت ملی،
جس کی تعلیم سے زندگی کو مقصد ملا،
جس کی سیرت سے اخلاق کو کمال ملا،
اور جس کی محبت سے دل کو ایمان کا ذائقہ نصیب ہوا۔
اللّٰہم صل وسلم وبارک علیٰ سیدنا ومولانا محمد، وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین۔
جملہ برادرانِ اہلِ سنت کو ماہِ بہاراں، ماہِ پرنور، ماہِ ربیع النور مبارک ہو۔
از قلم
غبارِ رہِ مدینہ
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
78
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 75
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

تاج الشريعة: حياته وخدماته

جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے استحباب کا ثبوت

مرشدِ کونین ﷺ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مرشدِ کونین ﷺ

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

مرشدِ کونین ﷺ

ربیع الاول کی آمد محض ایک نئے مہینے کا آغاز نہیں، یہ اس عظیم واقعے کی یاد تازہ ہونے کا اعلان ہے جس نے تاریخِ انسانی کے رخ کو ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی فضاؤں میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر، رحمتِ عالم، شفیعِ اعظم، محبوبِ رب العالمین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جن میں زمین نے آسمان سے وہ تحفہ پایا جس کی نظیر نہ اس سے پہلے تھی، نہ اس کے بعد کبھی ہوگی۔ ایک ایسی ہستی جلوہ گر ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے صرف ایک قوم کی رہنمائی کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔

آپ ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا کا حال یہ تھا کہ انسان انسانیت کی پہچان بھول چکا تھا۔ کہیں بتوں کے سامنے جبینیں جھک رہی تھیں، کہیں انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کو غلام بنا رہا تھا، کہیں طاقتور کمزور کا حق نگل رہا تھا، کہیں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ ننگ سمجھا جا رہا تھا، کہیں خون کا ایک قطرہ نسلوں تک انتقام کی آگ بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔ اخلاق کی جگہ خواہشات نے لے لی تھی، عدل کی جگہ طاقت نے، محبت کی جگہ عصبیت نے اور ہدایت کی جگہ گمراہی نے اپنے خیمے گاڑ رکھے تھے۔

ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے انسانی بستی پر رات اتر آئی ہو۔ مگر یہ رات عام رات نہ تھی، یہ ایک طویل شیطانی شبِ دیجور تھی، جس کے اختتام کی کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ دلوں کے چراغ بجھ چکے تھے، فکر کے راستے دھندلا گئے تھے اور انسان اپنے خالق سے دور ہو کر اپنے وجود کا مقصد تلاش کرنے میں سرگرداں تھا۔ پھر قدرتِ الٰہی نے اپنے محبوب ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا شرف بخشا۔ اور یوں صرف ایک انسان پیدا نہیں ہوا، ایک عہد طلوع ہوا۔ صرف ایک گھر روشن نہیں ہوا، دنیا کے دلوں میں روشنی اتری۔ صرف مکہ کی وادی میں ایک بچہ جلوہ گر نہیں ہوا، انسانیت کے لیے ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا۔

آپ ﷺ کی تشریف آوری گویا تاریخ کے ماتھے پر ایک ایسی صبح تھی جس کے بعد تاریکی کے معنی بدل گئے۔ آپ ﷺ آئے تو معلوم ہوا کہ بندگی صرف بتوں کے سامنے جھکنے کا نام نہیں، بلکہ اس ذاتِ واحد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے جس نے زمین و آسمان پیدا کیے۔ آپ ﷺ آئے تو انسان کو اس کی اصل عزت یاد آئی۔ اسے بتایا گیا کہ رنگ، نسل، نسب، زبان اور مال انسان کی عظمت کا معیار نہیں۔ اصل شرف تقویٰ اور کردار میں ہے۔

آپ ﷺ نے اس دنیا کو صرف ایک نیا مذہبی نظام نہیں دیا، بلکہ زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ عطا فرمایا۔ عبادت کو اخلاق سے جوڑا، ایمان کو عمل سے، علم کو خشیت سے، طاقت کو عدل سے، دولت کو سخاوت سے، اقتدار کو امانت سے اور محبت کو وفا سے وابستہ کر دیا۔
آپ ﷺ نے بتایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل قوت اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔ آپ ﷺ نے یتیم کو معاشرے کا بوجھ نہیں، ذمہ داری قرار دیا۔ مسکین کو حقیر نہیں، قابلِ احترام بنایا۔ غلام کو انسانیت کے دائرے سے باہر نہیں، عزت و آزادی کا مستحق بتایا۔ عورت کو سامانِ زندگی نہیں، عزت و حقوق رکھنے والی انسان قرار دیا۔

یہی تو آپ ﷺ کی مرشدانہ شان تھی کہ آپ نے انسان کو صرف مسجد تک جانے کا راستہ نہیں بتایا، بلکہ انسان بننے کا راستہ دکھایا۔
آپ ﷺ نے دنیا کو بتایا کہ دین صرف چند رسوم کا نام نہیں، دین دل کی پاکیزگی، زبان کی صداقت، ہاتھ کی امانت، نگاہ کی عفت، معاملات کی شفافیت، پڑوسی کے حقوق، والدین کی خدمت، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور مخلوقِ خدا کے ساتھ صلہ رحمی کا نام بھی ہے۔

آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ایک ایسا آئینہ تھی جس میں انسان کو ایمان کا حسن بھی دکھائی دیتا تھا اور اخلاق کی تکمیل بھی۔ آپ ﷺ عبادت میں سب سے آگے تھے، اور بندوں کے ساتھ رحمت میں بھی سب سے آگے۔ آپ ﷺ حق کے معاملے میں سب سے مضبوط تھے، اور ذاتی معاملات میں سب سے زیادہ درگزر فرمانے والے۔ آپ ﷺ فاتح بھی تھے اور کریم بھی۔ حاکم بھی تھے اور خادم بھی۔ معلم بھی تھے اور مربی بھی۔ قاضی بھی تھے اور شفیق رہنما بھی۔

اسی لیے آپ ﷺ صرف عرب کے رہبر نہیں، صرف ایک قوم کے پیشوا نہیں، صرف ایک عہد کے قائد نہیں، آپ مرشدِ کونین ہیں۔
آپ ﷺ نے انسان کو زمینِ جہالت سے اٹھا کر آسمانِ معرفت کی طرف دیکھنا سکھایا۔ آپ ﷺ نے دلوں کو بتایا کہ دنیا منزل نہیں، سفر ہے۔ مال مقصد نہیں، وسیلہ ہے۔ اقتدار اعزاز نہیں، امانت ہے۔ زندگی کھیل نہیں، ذمہ داری ہے۔ اور انسان بے مقصد وجود نہیں، بلکہ اپنے رب کی معرفت اور بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

آپ ﷺ نے جہالت کے سینے میں علم کا چراغ روشن کیا۔ وہ لوگ جو پڑھنا لکھنا بھی نہ جانتے تھے، آپ ﷺ کی تربیت سے دنیا کے معلم بن گئے۔ جن کے درمیان صدیوں سے خون کے رشتوں سے زیادہ انتقام کے رشتے مضبوط تھے، انہی کے دلوں میں اخوتِ ایمانی پیدا ہوئی۔ جو قبائل ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، وہ ایک دوسرے کے غم خوار بن گئے۔ جو لوگ معمولی باتوں پر تلواریں نکال لیتے تھے، وہ اللہ کے نام پر اپنے بھائی کے لیے اپنا مال، گھر اور جان تک قربان کرنے لگے۔
یہ انقلاب کسی سلطنت کے خزانے سے نہیں آیا تھا۔ یہ انقلاب محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق، تعلیم، تربیت اور نورِ نبوت سے آیا تھا۔

آپ ﷺ نے تلوار سے پہلے دل فتح کیے اور حکومت سے پہلے انسان بنائے۔ آپ ﷺ نے ایسی امت تیار کی جس کا تعلق زمین سے بھی تھا اور آسمان سے بھی۔ جو تجارت بھی کرتی تھی اور تہجد بھی پڑھتی تھی۔ جو میدانِ جہاد میں ثابت قدم بھی رہتی تھی اور یتیم کے سر پر دستِ شفقت بھی رکھتی تھی۔ جو دنیا کے معاملات میں باوقار تھی اور اللہ کے سامنے انتہائی عاجز۔

آپ ﷺ کی سیرت کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جس چیز کی تعلیم دی، پہلے خود اس کا کامل نمونہ بن کر دکھایا۔ قرآن نے صبر کا حکم دیا تو آپ ﷺ کی پوری زندگی صبر کا آئینہ بن گئی۔ رحمت کا درس دیا تو آپ ﷺ رحمت بن کر جلوہ گر ہوئے۔ عدل کا حکم آیا تو آپ ﷺ کے فیصلوں میں دوست و دشمن سب کے لیے یکساں انصاف نظر آیا۔ عفو کا حکم دیا تو فتحِ مکہ کے موقع پر وہ لوگ بھی آپ ﷺ کے سامنے معافی پا گئے جنہوں نے برسوں آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت صرف پڑھنے کی چیز نہیں، اپنانے کی چیز ہے۔

ربیع الاول ہمیں صرف چراغاں، نعت خوانی اور محافل کی طرف متوجہ نہیں کرتا، بلکہ یہ مہینہ ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس نبی ﷺ کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں، کیا ہماری زندگی میں ان کی تعلیمات بھی جلوہ گر ہیں؟ ہماری زبان میں ان کی صداقت کتنی ہے؟ ہمارے معاملات میں ان کی امانت کتنی ہے؟ ہمارے گھروں میں ان کی رحمت کتنی ہے؟ ہمارے دلوں میں ان کی محبت کتنی ہے؟ ہمارے اخلاق میں ان کی سنت کتنی ہے؟

محبتِ رسول ﷺ کا سب سے روشن ثبوت یہی ہے کہ انسان اپنے محبوب ﷺ کے نقشِ قدم کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لے۔
ربیع الاول کی اصل خوشی یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو پھر سے اس نورِ نبوت کی طرف متوجہ کریں۔ اپنی زندگی کے اندھیروں میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ روشن کریں۔ اپنے معاملات میں سنت کو جگہ دیں، اپنے اخلاق کو نبوی اخلاق سے آراستہ کریں، اپنے گھروں کو رحمت کا گہوارہ بنائیں، اپنی زبانوں کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ کریں، اپنے دلوں کو کینہ و حسد سے پاک کریں اور اپنے کردار سے دنیا کو بتائیں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی کیسے ہوتے ہیں۔

آج بھی دنیا کو اسی مرشدِ کونین ﷺ کی ضرورت ہے۔
آج بھی انسان مادّی ترقی کے باوجود روحانی سکون کا محتاج ہے۔ آج بھی علم بہت ہے مگر حکمت کم، دولت بہت ہے مگر قناعت کم، رابطے بہت ہیں مگر تعلقات کم، شور بہت ہے مگر سکون کم، آزادی کے دعوے بہت ہیں مگر نفس کی غلامی عام ہے۔
ایسے میں اگر انسانیت کسی ایک دروازے پر سکون، عدل، رحمت، اخلاق اور حقیقی رہنمائی تلاش کر سکتی ہے تو وہ دروازہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔

آپ ﷺ کی سیرت آج بھی زندہ ہے، آپ ﷺ کی تعلیم آج بھی روشنی ہے، آپ ﷺ کا اسوہ آج بھی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ وقت بدل سکتا ہے، تہذیبیں بدل سکتی ہیں، دنیا کے نقشے بدل سکتے ہیں، مگر جس دل کو محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کا چراغ مل جائے، اس کے لیے ہدایت کی صبح کبھی غروب نہیں ہوتی۔

آپ مرشدِ کونین ﷺ ہیں۔
آپ کی تعلیمات کا نور قیامت تک انسانیت کے سفر کو روشن کرتا رہے گا، اور آپ کی سیرت کا چراغ اس وقت تک جلتا رہے گا جب تک اس دنیا میں ایک بھی دل ایسا موجود ہے جو حق کی تلاش میں دھڑکتا ہے۔
سلام ہو اس مرشدِ اعظم ﷺ پر،
جس کی آمد سے انسان کو انسانیت ملی،
جس کی تعلیم سے زندگی کو مقصد ملا،
جس کی سیرت سے اخلاق کو کمال ملا،
اور جس کی محبت سے دل کو ایمان کا ذائقہ نصیب ہوا۔
اللّٰہم صل وسلم وبارک علیٰ سیدنا ومولانا محمد، وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین۔
جملہ برادرانِ اہلِ سنت کو ماہِ بہاراں، ماہِ پرنور، ماہِ ربیع النور مبارک ہو۔

از قلم
غبارِ رہِ مدینہ
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

Scan this QR code to read online:

QR Code