صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)
ادبیات

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)
یہ دنیا ہے، ایک کتاب ہے۔
ایک ایسی کتاب جس کا نہ کوئی معلوم عنوان ہے، نہ اس کے ابواب کی کوئی ترتیب سمجھ میں آتی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا کہاں سے ہوئی اور اختتام کہاں ہوگا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، اس کتاب کو پڑھتا جا رہا ہوں، پڑھتا جا رہا ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ ایک عبارت بھی پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔ ایک صفحہ پلٹتا ہوں تو دوسرا سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ایک گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو دس نئی گتھیاں ذہن کو گھیر لیتی ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید ابھی کم پڑھا ہے، شاید وقت کے ساتھ سمجھ آ جائے گی، شاید عمر کی پختگی کچھ پردے اٹھا دے گی، شاید تجربات کے بعد ان سطروں کا مفہوم کھل جائے گا۔ مگر مدت دراز گزر گئی، موسم بدلتے رہے، لوگ آتے جاتے رہے، اور میں اسی کتاب کے ایک ہی باب میں بیٹھا سوچتا رہا کہ آخر یہاں لکھا کیا ہے؟
شاید ہم سے پہلے کے لوگوں نے اسے سمجھا ہو۔
شاید ان کے پاس زندگی کے ان سوالوں کے جواب ہوں جن کے سامنے آج ہم خاموش کھڑے ہیں۔ شاید انہوں نے بھی ہماری طرح کبھی کسی رات جاگ کر سوچا ہو کہ انسان آخر انسان کیوں نہیں رہتا؟ محبت میں اتنی تلخی کیوں آ جاتی ہے؟ اپنائیت کے دعوے اتنی جلدی بیگانگی میں کیوں بدل جاتے ہیں؟ چہرے مسکراہٹ لیے کیوں آتے ہیں اور دل میں کیا لیے جاتے ہیں، یہ کیوں معلوم نہیں ہوتا؟ شاید انہوں نے بھی یہ سوال اٹھایا ہو کہ دنیا میں اتنی بھیڑ کے باوجود انسان اتنا تنہا کیوں ہے؟
اور شاید ہمارے زمانے کے لوگ بھی اسے سمجھتے ہوں۔
وہ جو ہر بات پر رائے رکھتے ہیں، ہر معاملے پر تبصرہ کرتے ہیں، ہر شخص کی زندگی کا تجزیہ کرنے کو تیار رہتے ہیں، شاید انہیں معلوم ہو کہ زندگی کی اس کتاب کا اصل مفہوم کیا ہے۔ شاید وہ جانتے ہوں کہ کس موڑ پر کیا کرنا چاہیے، کس شخص پر اعتبار کرنا چاہیے، کس کے سامنے دل کھولنا چاہیے اور کس کے سامنے خاموش رہنا چاہیے۔ شاید انہیں معلوم ہو کہ خوشی کہاں ملتی ہے اور سکون کس صفحے پر لکھا ہے۔
اور شاید ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی اسے سمجھ جائیں۔
شاید وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہوں گے، شاید وہ ان سوالوں کے جواب تلاش کر لیں گے جنہیں ہم اپنی پوری زندگی لیے پھرتے رہے۔ شاید آنے والی نسلیں ہماری الجھنوں کو دیکھ کر مسکرائیں گی اور کہیں گی کہ یہ لوگ بھی عجیب تھے، اتنی سادہ دنیا کو سمجھ نہ سکے۔
لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ دنیا مجھے کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔
یہ عجیب و غریب موسم!
کبھی دھوپ اتنی تیز کہ آدمی اپنے ہی سائے کی پناہ مانگے، کبھی بادل اتنے گھنے کہ راستہ دکھائی نہ دے۔ کبھی بہار کا سا سماں، کبھی خزاں کی سی ویرانی۔ کبھی کوئی شخص زندگی میں ایسے داخل ہوتا ہے جیسے برسوں سے اسی کا انتظار تھا، اور پھر ایک دن یوں نکل جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔ کبھی ایک اجنبی اپنوں سے بڑھ کر اپنا معلوم ہوتا ہے اور کبھی اپنا ہی کوئی شخص اجنبیوں سے بھی زیادہ اجنبی نکلتا ہے۔
یہ رنگ بدلتے چہرے بھی تو میری سمجھ سے باہر ہیں۔
کل جو آنکھیں محبت سے بھری ہوئی تھیں، آج انہی میں اجنبیت کیوں ہے؟ جو شخص کل تک ہماری بات سنے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، آج ہماری آہ و بکا سے بھی بے نیاز کیوں ہے؟ جو ہاتھ کبھی تھامنے کا وعدہ کرتے تھے، وہی ہاتھ مشکل کی گھڑی میں جیبوں میں کیوں چھپ جاتے ہیں؟ جو لوگ ہماری مسکراہٹ کے سبب مسکراتے تھے، وہی ہماری آنکھوں میں نمی دیکھ کر نظریں کیوں چرا لیتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں، شاید چہرے بدلتے نہیں، ہماری پہچان بدل جاتی ہے۔ شاید انسان وہی رہتا ہے، بس وقت اس کے چہرے سے پردہ ہٹا دیتا ہے۔ شاید تعلقات ختم نہیں ہوتے، ان کے دعوے ختم ہوتے ہیں۔
اور شاید محبت کم نہیں ہوتی، صرف ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
یہ ظاہر و باطن کا تقابل بھی عجیب ہے۔ زبان پر الفاظ کچھ اور، دل میں معنی کچھ اور۔ لبوں پر خیر خواہی، اندر کہیں حسد۔ چہرے پر مسکراہٹ، دل میں شکایت۔ سامنے تعریف، پیچھے تنقید۔ پاس بیٹھ کر اپنائیت، دور جا کر بے اعتنائی۔ انسان آخر اتنا پیچیدہ کیوں ہے؟ اگر دل میں محبت نہیں تو محبت کا دعویٰ کیوں؟ اگر ساتھ نہیں دینا تو ساتھ چلنے کا وعدہ کیوں؟ اگر ہاتھ پکڑنا نہیں تو ہاتھ بڑھانے کی اداکاری کیوں؟ شاید یہی دنیا ہے۔
یہاں ہر شخص اپنے چہرے کے ساتھ ایک اور چہرہ لیے پھرتا ہے۔ ایک وہ جو دنیا کو دکھاتا ہے، اور ایک وہ جسے دنیا سے چھپاتا ہے۔ کبھی کبھی تو انسان خود بھی فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔
اور پھر اپنوں کا بیگانہ پن!
یہ شاید دنیا کی سب سے مشکل عبارت ہے۔
اجنبی سے شکوہ کیا کیجیے؟ اس نے تو کبھی اپنا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ مگر وہ شخص جسے اپنا سمجھا، جس کے سامنے دل کی گرہیں کھولیں، جس کے سامنے اپنے دکھ رکھے، جس کے ساتھ خاموشی بھی گفتگو معلوم ہوتی تھی، جب وہی شخص بدل جائے تو انسان شکایت کس سے کرے؟
درد کا سب سے بھاری حصہ شاید درد نہیں ہوتا، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے کہ جسے درد سنانا تھا، وہ سننے کے لیے موجود نہیں۔
آدمی زخمی ہو تو زخم دکھا سکتا ہے، آنسو ہوں تو آنکھیں انہیں چھپا نہیں سکتیں، مگر دل کا زخم کہاں دکھایا جائے؟ دل کے نہاں خانے میں جو کچھ ٹوٹتا ہے، اس کی آواز باہر کہاں آتی ہے؟ آدمی ہنستا رہتا ہے، باتیں کرتا ہے، لوگوں میں بیٹھتا ہے، اپنے معمولات پورے کرتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں مسلسل شور برپا رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہی شور انسان کو اپنے اندر سے نکال کر دنیا کے ایک ایسے بھنور میں لے جاتا ہے جہاں نہ کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے، نہ کوئی سمت۔ شاید میں بھی اسی بھنور میں کہیں کھو گیا ہوں۔
ایک بہت گہری ندی ہے، جس کا پانی اوپر سے خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اندر نہ جانے کتنے تیز دھارے ہیں۔ میں اس میں ڈوبا جا رہا ہوں۔ ہاتھ پاؤں مارتا ہوں، کسی کنارے کی تلاش کرتا ہوں، مگر پانی ہر بار مجھے اپنے ساتھ اور اندر لے جاتا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ کنارے پر لوگ کھڑے ہیں۔ بہت سے لوگ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ میں ڈوب رہا ہوں۔ کچھ حیرت سے دیکھ رہے ہیں، کچھ دلچسپی سے، کچھ افسوس سے، کچھ شاید اس انتظار میں کہ کب میں مکمل طور پر پانی کے حوالے ہو جاؤں۔ کوئی کہتا ہے: اسے تیرنا نہیں آتا۔ کوئی کہتا ہے: خود ہی گیا ہوگا۔ کوئی مشورہ دیتا ہے کہ ہمت کرنی چاہیے تھی۔ کوئی میری غلطیاں گنواتا ہے، کوئی میری کمزوریاں بیان کرتا ہے، کوئی میرے ڈوبنے کے اسباب پر ایک مکمل تقریر کر دیتا ہے۔
مگر کوئی ہاتھ نہیں بڑھاتا۔
کتنی عجیب دنیا ہے!
لوگ ڈوبتے ہوئے انسان کو دیکھ کر اس کی تیراکی پر بحث کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پہلے اسے باہر نکال لیں، پھر بیٹھ کر اسے سمجھائیں گے کہ تیرنا کیسے سیکھنا چاہیے تھا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت کسی بڑے فلسفے کی نہیں، صرف ایک ہاتھ کی ہے۔
ایک ایسا ہاتھ، جس کے ساتھ یہ آواز ہو: آؤ، پہلے باہر نکل آؤ۔ باقی باتیں بعد میں کریں گے۔ مگر شاید ہمارے پاس وقت نہیں۔
ہم دوسروں کی زندگی کے فیصلے سنانے میں بہت مصروف ہیں۔ کسی کے آنسو دیکھ کر اس کے صبر کا امتحان لینے لگتے ہیں، کسی کی خاموشی کو تکبر کہہ دیتے ہیں، کسی کی بے بسی کو کمزوری، کسی کی غلطی کو کردار، کسی کے گرنے کو انجام اور کسی کی شکست کو اس کی نااہلی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کا ہاتھ پکڑنے سے زیادہ اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ گرا کیوں۔ ہم یہ جاننے سے پہلے کہ کوئی ڈوبا کیوں، یہ ثابت کرنے لگتے ہیں کہ اسے تیرنا چاہیے تھا۔ ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھنے سے پہلے اس کے زخم کی وجہ تلاش کرتے ہیں، اور پھر شاید یہ فیصلہ بھی سناتے ہیں کہ زخم کا مستحق کون تھا۔ انسانی دنیا میں انسانیت شاید اسی مقام پر سب سے زیادہ محتاج ہے۔
کاش!
کوئی ایسا بھی ہو جو طعنہ دینے سے پہلے ہاتھ بڑھا دے۔ کوئی ایسا ہو جو یہ نہ پوچھے کہ تم یہاں تک کیسے پہنچے، بلکہ یہ کہے کہ آؤ، میں تمہیں یہاں سے نکالتا ہوں۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری داستان سننے سے پہلے تمہاری خاموشی سمجھنے کی کوشش کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہارے بکھرے ہوئے وجود کو دیکھ کر تمہیں مزید ٹکڑوں میں تقسیم نہ کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری کمزوری کو تمہارے خلاف دلیل نہ بنائے۔ اور اگر محبت نہ ہو تو کم از کم انسانیت ہی ہو۔ دھوکا ہی دینا ہو تو دھوکے ہی کے لیے ہاتھ بڑھا دے! کم از کم دل کے نہاں خانے میں یہ افسوس تو نہ رہ جائے کہ جب میں ڈوب رہا تھا تو کوئی ہاتھ بڑھانے والا بھی نہ ملا۔
کبھی کبھی انسان کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ سامنے والا ہاتھ سچ مچ اسے بچانے کے لیے بڑھا ہے یا محض اسے چند لمحوں کے لیے تھامنے کے لیے۔ لیکن اس لمحے میں آدمی کو حقیقت سے زیادہ امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ہاتھ شاید اسے ہمیشہ نہ بچا سکے، مگر اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ ڈوبتے ہوئے انسان کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ بالکل اکیلا ہے۔ اور شاید تنہائی کا اصل عذاب یہی ہے۔ لوگوں کے درمیان رہ کر یہ محسوس ہونا کہ تمہارے لیے کوئی نہیں۔ آوازیں بہت ہوں مگر تمہاری آواز سننے والا کوئی نہ ہو۔ آنکھیں بہت ہوں مگر تمہارا چہرہ پڑھنے والی کوئی نہ ہو۔ ہاتھ بہت ہوں مگر تمہاری طرف بڑھنے والا کوئی نہ ہو۔ رشتے بہت ہوں مگر تمہارا درد سمجھنے والا کوئی نہ ہو۔
یہ دنیا شاید اسی کا نام ہے۔ ایک کتاب، جسے ہر شخص اپنے اپنے تجربے سے پڑھتا ہے۔ کسی کے لیے ایک ہی صفحہ بہار ہے، کسی کے لیے وہی صفحہ خزاں۔ کسی کے لیے تنہائی عبادت ہے، کسی کے لیے عذاب۔ کسی کے لیے جدائی ایک نیا آغاز ہے، کسی کے لیے پوری زندگی کا اختتام۔ ایک شخص جس چیز کو نعمت سمجھتا ہے، دوسرا اسی کو آزمائش سمجھ کر جیتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کا کوئی ایک مفہوم نہیں۔ ہر شخص اپنے حصے کی سطروں سے اس کا مطلب نکالتا ہے۔ اور میں؟ میں اب بھی پڑھ رہا ہوں۔ ورق پلٹتا ہوں تو نئی عبارت سامنے آتی ہے۔
کبھی کوئی شخص ملتا ہے، ایک پورا باب بن جاتا ہے، پھر اچانک کتاب سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی حادثہ چند سطروں میں پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتا ہے۔ کبھی ایک ملاقات برسوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، اور کبھی ایک جملہ برسوں کی قربت کو اجنبیت میں بدل دیتا ہے۔ کبھی خوشی کا صفحہ آتا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ بھی چند سطروں بعد ختم نہ ہو جائے۔ کبھی غم کا باب شروع ہوتا ہے تو دل کہتا ہے شاید یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن ہر باب ختم ہوتا ہے۔ یہ بھی شاید اس کتاب کا ایک راز ہے۔
کچھ لوگ ہمیں سبق دینے آتے ہیں، کچھ آزمائش بن کر، کچھ محبت بن کر، کچھ جدائی بن کر۔ کچھ ہمارے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چند قدم چلتے ہیں اور پھر کسی موڑ پر مڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہتے مگر ہمیں اپنے بعد بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے اندر ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جسے ہم ساری عمر پڑھتے رہتے ہیں۔ شاید زندگی کو سمجھنے کا مطلب ہر عبارت کا مفہوم جان لینا نہیں۔ شاید زندگی کا کمال یہی ہے کہ کچھ سوال بے جواب رہیں۔
کچھ لوگ کیوں آئے؟ کچھ کیوں چلے گئے؟ کچھ نے محبت کیوں کی؟ کچھ نے محبت کے نام پر زخم کیوں دیے؟ کچھ نے وعدہ کیوں کیا؟ کچھ نے وعدہ کیوں توڑا؟ کچھ نے ہمارا ہاتھ کیوں چھوڑ دیا؟ اور کچھ نے ہاتھ بڑھایا ہی کیوں نہیں؟
شاید ان سب سوالوں کے جواب ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہم اس کتاب کے صرف قاری ہیں، مصنف نہیں۔ ہمیں ہر سطر کا راز جاننے کا اختیار نہیں۔ ہمیں ہر واقعے کا سبب معلوم ہونا ضروری نہیں۔ ہمیں بس پڑھتے رہنا ہے۔ ورق پلٹتے رہنا ہے۔
کبھی آنکھوں میں آنسو لیے، کبھی لبوں پر مسکراہٹ لیے، کبھی سوالوں کے بوجھ کے ساتھ، کبھی امید کی ایک ننھی سی روشنی تھامے۔ اور شاید ایک دن، کتاب کا آخری ورق پلٹتے ہوئے ہمیں معلوم ہو کہ جن عبارتوں کو ہم ساری عمر ناقابلِ فہم سمجھتے رہے، وہ دراصل ہمیں ہی پڑھ رہی تھیں۔ ہم دنیا کو نہیں پڑھ رہے تھے، دنیا ہمیں پڑھ رہی تھی۔ ہم لوگوں کے چہرے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، اور وقت ہمارے چہرے پر زندگی کی عبارت لکھ رہا تھا۔ ہم دوسروں کے بدلنے پر حیران تھے، اور خود ہر روز بدل رہے تھے۔ ہم اپنوں کے بیگانہ ہونے کا شکوہ کر رہے تھے، اور شاید کہیں نہ کہیں کسی دوسرے کے لیے ہم بھی اجنبی ہو رہے تھے۔ ہم ہاتھ نہ ملنے کا گلہ کر رہے تھے، شاید کسی ڈوبتے ہوئے انسان کی طرف ہمارا اپنا ہاتھ بھی کبھی نہیں بڑھا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کی یہ پیچیدہ کتاب ذرا سی آسان ہونے لگتی ہے۔ جب انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو سمجھنے لگے۔ جب شکایت سے پہلے اپنا احتساب کرے۔ جب کسی کے گرنے پر انگلی اٹھانے کے بجائے ہاتھ بڑھائے۔ جب کسی کے آنسو دیکھ کر یہ نہ پوچھے کہ کیوں رو رہے ہو؟ بلکہ خاموشی سے اتنا کہہ دے: رو لو، میں یہیں ہوں۔ شاید دنیا پھر بھی پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ مگر شاید دل پر بوجھ کچھ کم ہو جائے۔ شاید بھنور وہیں رہے، مگر کنارے کی امید پیدا ہو جائے۔ شاید ندی کی گہرائی وہی رہے، مگر کسی ہاتھ کی حرارت محسوس ہونے لگے۔ شاید کھائی اپنی جگہ موجود رہے، مگر گرنے والے کو یہ یقین ہو کہ اوپر کوئی اسے دیکھنے والا ہی نہیں، اٹھانے والا بھی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور شاید زندگی کی اس بے شمار صفحات والی کتاب میں یہی ایک عبارت سب سے زیادہ ضروری ہے:
انسان، انسان کے کام آئے۔
باقی سب عبارتیں شاید ہم عمر بھر پڑھتے رہیں گے۔
شاید سمجھیں گے بھی نہیں۔
اور شاید یہی نہ سمجھ پانا بھی زندگی کی کتاب کا ایک ایسا راز ہے، جسے سمجھنے کے لیے پوری زندگی بھی کم ہے۔
نگارشِ فکر
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
60
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 75
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

بچپن کا سفر [قسطِ ہفتم]

اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

یہ دنیا ہے، ایک کتاب ہے۔
ایک ایسی کتاب جس کا نہ کوئی معلوم عنوان ہے، نہ اس کے ابواب کی کوئی ترتیب سمجھ میں آتی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا کہاں سے ہوئی اور اختتام کہاں ہوگا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، اس کتاب کو پڑھتا جا رہا ہوں، پڑھتا جا رہا ہوں، مگر عجیب بات ہے کہ ایک عبارت بھی پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔ ایک صفحہ پلٹتا ہوں تو دوسرا سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ایک گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو دس نئی گتھیاں ذہن کو گھیر لیتی ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید ابھی کم پڑھا ہے، شاید وقت کے ساتھ سمجھ آ جائے گی، شاید عمر کی پختگی کچھ پردے اٹھا دے گی، شاید تجربات کے بعد ان سطروں کا مفہوم کھل جائے گا۔ مگر مدت دراز گزر گئی، موسم بدلتے رہے، لوگ آتے جاتے رہے، اور میں اسی کتاب کے ایک ہی باب میں بیٹھا سوچتا رہا کہ آخر یہاں لکھا کیا ہے؟

شاید ہم سے پہلے کے لوگوں نے اسے سمجھا ہو۔
شاید ان کے پاس زندگی کے ان سوالوں کے جواب ہوں جن کے سامنے آج ہم خاموش کھڑے ہیں۔ شاید انہوں نے بھی ہماری طرح کبھی کسی رات جاگ کر سوچا ہو کہ انسان آخر انسان کیوں نہیں رہتا؟ محبت میں اتنی تلخی کیوں آ جاتی ہے؟ اپنائیت کے دعوے اتنی جلدی بیگانگی میں کیوں بدل جاتے ہیں؟ چہرے مسکراہٹ لیے کیوں آتے ہیں اور دل میں کیا لیے جاتے ہیں، یہ کیوں معلوم نہیں ہوتا؟ شاید انہوں نے بھی یہ سوال اٹھایا ہو کہ دنیا میں اتنی بھیڑ کے باوجود انسان اتنا تنہا کیوں ہے؟

اور شاید ہمارے زمانے کے لوگ بھی اسے سمجھتے ہوں۔
وہ جو ہر بات پر رائے رکھتے ہیں، ہر معاملے پر تبصرہ کرتے ہیں، ہر شخص کی زندگی کا تجزیہ کرنے کو تیار رہتے ہیں، شاید انہیں معلوم ہو کہ زندگی کی اس کتاب کا اصل مفہوم کیا ہے۔ شاید وہ جانتے ہوں کہ کس موڑ پر کیا کرنا چاہیے، کس شخص پر اعتبار کرنا چاہیے، کس کے سامنے دل کھولنا چاہیے اور کس کے سامنے خاموش رہنا چاہیے۔ شاید انہیں معلوم ہو کہ خوشی کہاں ملتی ہے اور سکون کس صفحے پر لکھا ہے۔

اور شاید ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی اسے سمجھ جائیں۔
شاید وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہوں گے، شاید وہ ان سوالوں کے جواب تلاش کر لیں گے جنہیں ہم اپنی پوری زندگی لیے پھرتے رہے۔ شاید آنے والی نسلیں ہماری الجھنوں کو دیکھ کر مسکرائیں گی اور کہیں گی کہ یہ لوگ بھی عجیب تھے، اتنی سادہ دنیا کو سمجھ نہ سکے۔
لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ دنیا مجھے کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔

یہ عجیب و غریب موسم!
کبھی دھوپ اتنی تیز کہ آدمی اپنے ہی سائے کی پناہ مانگے، کبھی بادل اتنے گھنے کہ راستہ دکھائی نہ دے۔ کبھی بہار کا سا سماں، کبھی خزاں کی سی ویرانی۔ کبھی کوئی شخص زندگی میں ایسے داخل ہوتا ہے جیسے برسوں سے اسی کا انتظار تھا، اور پھر ایک دن یوں نکل جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔ کبھی ایک اجنبی اپنوں سے بڑھ کر اپنا معلوم ہوتا ہے اور کبھی اپنا ہی کوئی شخص اجنبیوں سے بھی زیادہ اجنبی نکلتا ہے۔
یہ رنگ بدلتے چہرے بھی تو میری سمجھ سے باہر ہیں۔

کل جو آنکھیں محبت سے بھری ہوئی تھیں، آج انہی میں اجنبیت کیوں ہے؟ جو شخص کل تک ہماری بات سنے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، آج ہماری آہ و بکا سے بھی بے نیاز کیوں ہے؟ جو ہاتھ کبھی تھامنے کا وعدہ کرتے تھے، وہی ہاتھ مشکل کی گھڑی میں جیبوں میں کیوں چھپ جاتے ہیں؟ جو لوگ ہماری مسکراہٹ کے سبب مسکراتے تھے، وہی ہماری آنکھوں میں نمی دیکھ کر نظریں کیوں چرا لیتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں، شاید چہرے بدلتے نہیں، ہماری پہچان بدل جاتی ہے۔ شاید انسان وہی رہتا ہے، بس وقت اس کے چہرے سے پردہ ہٹا دیتا ہے۔ شاید تعلقات ختم نہیں ہوتے، ان کے دعوے ختم ہوتے ہیں۔
اور شاید محبت کم نہیں ہوتی، صرف ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

یہ ظاہر و باطن کا تقابل بھی عجیب ہے۔ زبان پر الفاظ کچھ اور، دل میں معنی کچھ اور۔ لبوں پر خیر خواہی، اندر کہیں حسد۔ چہرے پر مسکراہٹ، دل میں شکایت۔ سامنے تعریف، پیچھے تنقید۔ پاس بیٹھ کر اپنائیت، دور جا کر بے اعتنائی۔ انسان آخر اتنا پیچیدہ کیوں ہے؟ اگر دل میں محبت نہیں تو محبت کا دعویٰ کیوں؟ اگر ساتھ نہیں دینا تو ساتھ چلنے کا وعدہ کیوں؟ اگر ہاتھ پکڑنا نہیں تو ہاتھ بڑھانے کی اداکاری کیوں؟ شاید یہی دنیا ہے۔
یہاں ہر شخص اپنے چہرے کے ساتھ ایک اور چہرہ لیے پھرتا ہے۔ ایک وہ جو دنیا کو دکھاتا ہے، اور ایک وہ جسے دنیا سے چھپاتا ہے۔ کبھی کبھی تو انسان خود بھی فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔

اور پھر اپنوں کا بیگانہ پن!
یہ شاید دنیا کی سب سے مشکل عبارت ہے۔
اجنبی سے شکوہ کیا کیجیے؟ اس نے تو کبھی اپنا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ مگر وہ شخص جسے اپنا سمجھا، جس کے سامنے دل کی گرہیں کھولیں، جس کے سامنے اپنے دکھ رکھے، جس کے ساتھ خاموشی بھی گفتگو معلوم ہوتی تھی، جب وہی شخص بدل جائے تو انسان شکایت کس سے کرے؟
درد کا سب سے بھاری حصہ شاید درد نہیں ہوتا، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے کہ جسے درد سنانا تھا، وہ سننے کے لیے موجود نہیں۔

آدمی زخمی ہو تو زخم دکھا سکتا ہے، آنسو ہوں تو آنکھیں انہیں چھپا نہیں سکتیں، مگر دل کا زخم کہاں دکھایا جائے؟ دل کے نہاں خانے میں جو کچھ ٹوٹتا ہے، اس کی آواز باہر کہاں آتی ہے؟ آدمی ہنستا رہتا ہے، باتیں کرتا ہے، لوگوں میں بیٹھتا ہے، اپنے معمولات پورے کرتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں مسلسل شور برپا رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہی شور انسان کو اپنے اندر سے نکال کر دنیا کے ایک ایسے بھنور میں لے جاتا ہے جہاں نہ کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے، نہ کوئی سمت۔ شاید میں بھی اسی بھنور میں کہیں کھو گیا ہوں۔

ایک بہت گہری ندی ہے، جس کا پانی اوپر سے خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اندر نہ جانے کتنے تیز دھارے ہیں۔ میں اس میں ڈوبا جا رہا ہوں۔ ہاتھ پاؤں مارتا ہوں، کسی کنارے کی تلاش کرتا ہوں، مگر پانی ہر بار مجھے اپنے ساتھ اور اندر لے جاتا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ کنارے پر لوگ کھڑے ہیں۔ بہت سے لوگ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ میں ڈوب رہا ہوں۔ کچھ حیرت سے دیکھ رہے ہیں، کچھ دلچسپی سے، کچھ افسوس سے، کچھ شاید اس انتظار میں کہ کب میں مکمل طور پر پانی کے حوالے ہو جاؤں۔ کوئی کہتا ہے: اسے تیرنا نہیں آتا۔ کوئی کہتا ہے: خود ہی گیا ہوگا۔ کوئی مشورہ دیتا ہے کہ ہمت کرنی چاہیے تھی۔ کوئی میری غلطیاں گنواتا ہے، کوئی میری کمزوریاں بیان کرتا ہے، کوئی میرے ڈوبنے کے اسباب پر ایک مکمل تقریر کر دیتا ہے۔
مگر کوئی ہاتھ نہیں بڑھاتا۔

کتنی عجیب دنیا ہے!
لوگ ڈوبتے ہوئے انسان کو دیکھ کر اس کی تیراکی پر بحث کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پہلے اسے باہر نکال لیں، پھر بیٹھ کر اسے سمجھائیں گے کہ تیرنا کیسے سیکھنا چاہیے تھا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت کسی بڑے فلسفے کی نہیں، صرف ایک ہاتھ کی ہے۔
ایک ایسا ہاتھ، جس کے ساتھ یہ آواز ہو: آؤ، پہلے باہر نکل آؤ۔ باقی باتیں بعد میں کریں گے۔ مگر شاید ہمارے پاس وقت نہیں۔

ہم دوسروں کی زندگی کے فیصلے سنانے میں بہت مصروف ہیں۔ کسی کے آنسو دیکھ کر اس کے صبر کا امتحان لینے لگتے ہیں، کسی کی خاموشی کو تکبر کہہ دیتے ہیں، کسی کی بے بسی کو کمزوری، کسی کی غلطی کو کردار، کسی کے گرنے کو انجام اور کسی کی شکست کو اس کی نااہلی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کا ہاتھ پکڑنے سے زیادہ اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ گرا کیوں۔ ہم یہ جاننے سے پہلے کہ کوئی ڈوبا کیوں، یہ ثابت کرنے لگتے ہیں کہ اسے تیرنا چاہیے تھا۔ ہم کسی کے زخم پر مرہم رکھنے سے پہلے اس کے زخم کی وجہ تلاش کرتے ہیں، اور پھر شاید یہ فیصلہ بھی سناتے ہیں کہ زخم کا مستحق کون تھا۔ انسانی دنیا میں انسانیت شاید اسی مقام پر سب سے زیادہ محتاج ہے۔

کاش!
کوئی ایسا بھی ہو جو طعنہ دینے سے پہلے ہاتھ بڑھا دے۔ کوئی ایسا ہو جو یہ نہ پوچھے کہ تم یہاں تک کیسے پہنچے، بلکہ یہ کہے کہ آؤ، میں تمہیں یہاں سے نکالتا ہوں۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری داستان سننے سے پہلے تمہاری خاموشی سمجھنے کی کوشش کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہارے بکھرے ہوئے وجود کو دیکھ کر تمہیں مزید ٹکڑوں میں تقسیم نہ کرے۔ کوئی ایسا ہو جو تمہاری کمزوری کو تمہارے خلاف دلیل نہ بنائے۔ اور اگر محبت نہ ہو تو کم از کم انسانیت ہی ہو۔ دھوکا ہی دینا ہو تو دھوکے ہی کے لیے ہاتھ بڑھا دے! کم از کم دل کے نہاں خانے میں یہ افسوس تو نہ رہ جائے کہ جب میں ڈوب رہا تھا تو کوئی ہاتھ بڑھانے والا بھی نہ ملا۔

کبھی کبھی انسان کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ سامنے والا ہاتھ سچ مچ اسے بچانے کے لیے بڑھا ہے یا محض اسے چند لمحوں کے لیے تھامنے کے لیے۔ لیکن اس لمحے میں آدمی کو حقیقت سے زیادہ امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ہاتھ شاید اسے ہمیشہ نہ بچا سکے، مگر اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ ڈوبتے ہوئے انسان کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ بالکل اکیلا ہے۔ اور شاید تنہائی کا اصل عذاب یہی ہے۔ لوگوں کے درمیان رہ کر یہ محسوس ہونا کہ تمہارے لیے کوئی نہیں۔ آوازیں بہت ہوں مگر تمہاری آواز سننے والا کوئی نہ ہو۔ آنکھیں بہت ہوں مگر تمہارا چہرہ پڑھنے والی کوئی نہ ہو۔ ہاتھ بہت ہوں مگر تمہاری طرف بڑھنے والا کوئی نہ ہو۔ رشتے بہت ہوں مگر تمہارا درد سمجھنے والا کوئی نہ ہو۔

یہ دنیا شاید اسی کا نام ہے۔ ایک کتاب، جسے ہر شخص اپنے اپنے تجربے سے پڑھتا ہے۔ کسی کے لیے ایک ہی صفحہ بہار ہے، کسی کے لیے وہی صفحہ خزاں۔ کسی کے لیے تنہائی عبادت ہے، کسی کے لیے عذاب۔ کسی کے لیے جدائی ایک نیا آغاز ہے، کسی کے لیے پوری زندگی کا اختتام۔ ایک شخص جس چیز کو نعمت سمجھتا ہے، دوسرا اسی کو آزمائش سمجھ کر جیتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کا کوئی ایک مفہوم نہیں۔ ہر شخص اپنے حصے کی سطروں سے اس کا مطلب نکالتا ہے۔ اور میں؟ میں اب بھی پڑھ رہا ہوں۔ ورق پلٹتا ہوں تو نئی عبارت سامنے آتی ہے۔

کبھی کوئی شخص ملتا ہے، ایک پورا باب بن جاتا ہے، پھر اچانک کتاب سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی حادثہ چند سطروں میں پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتا ہے۔ کبھی ایک ملاقات برسوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے، اور کبھی ایک جملہ برسوں کی قربت کو اجنبیت میں بدل دیتا ہے۔ کبھی خوشی کا صفحہ آتا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ بھی چند سطروں بعد ختم نہ ہو جائے۔ کبھی غم کا باب شروع ہوتا ہے تو دل کہتا ہے شاید یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن ہر باب ختم ہوتا ہے۔ یہ بھی شاید اس کتاب کا ایک راز ہے۔

کچھ لوگ ہمیں سبق دینے آتے ہیں، کچھ آزمائش بن کر، کچھ محبت بن کر، کچھ جدائی بن کر۔ کچھ ہمارے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چند قدم چلتے ہیں اور پھر کسی موڑ پر مڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہتے مگر ہمیں اپنے بعد بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے اندر ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جسے ہم ساری عمر پڑھتے رہتے ہیں۔ شاید زندگی کو سمجھنے کا مطلب ہر عبارت کا مفہوم جان لینا نہیں۔ شاید زندگی کا کمال یہی ہے کہ کچھ سوال بے جواب رہیں۔

کچھ لوگ کیوں آئے؟ کچھ کیوں چلے گئے؟ کچھ نے محبت کیوں کی؟ کچھ نے محبت کے نام پر زخم کیوں دیے؟ کچھ نے وعدہ کیوں کیا؟ کچھ نے وعدہ کیوں توڑا؟ کچھ نے ہمارا ہاتھ کیوں چھوڑ دیا؟ اور کچھ نے ہاتھ بڑھایا ہی کیوں نہیں؟
شاید ان سب سوالوں کے جواب ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہم اس کتاب کے صرف قاری ہیں، مصنف نہیں۔ ہمیں ہر سطر کا راز جاننے کا اختیار نہیں۔ ہمیں ہر واقعے کا سبب معلوم ہونا ضروری نہیں۔ ہمیں بس پڑھتے رہنا ہے۔ ورق پلٹتے رہنا ہے۔

کبھی آنکھوں میں آنسو لیے، کبھی لبوں پر مسکراہٹ لیے، کبھی سوالوں کے بوجھ کے ساتھ، کبھی امید کی ایک ننھی سی روشنی تھامے۔ اور شاید ایک دن، کتاب کا آخری ورق پلٹتے ہوئے ہمیں معلوم ہو کہ جن عبارتوں کو ہم ساری عمر ناقابلِ فہم سمجھتے رہے، وہ دراصل ہمیں ہی پڑھ رہی تھیں۔ ہم دنیا کو نہیں پڑھ رہے تھے، دنیا ہمیں پڑھ رہی تھی۔ ہم لوگوں کے چہرے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، اور وقت ہمارے چہرے پر زندگی کی عبارت لکھ رہا تھا۔ ہم دوسروں کے بدلنے پر حیران تھے، اور خود ہر روز بدل رہے تھے۔ ہم اپنوں کے بیگانہ ہونے کا شکوہ کر رہے تھے، اور شاید کہیں نہ کہیں کسی دوسرے کے لیے ہم بھی اجنبی ہو رہے تھے۔ ہم ہاتھ نہ ملنے کا گلہ کر رہے تھے، شاید کسی ڈوبتے ہوئے انسان کی طرف ہمارا اپنا ہاتھ بھی کبھی نہیں بڑھا۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کی یہ پیچیدہ کتاب ذرا سی آسان ہونے لگتی ہے۔ جب انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو سمجھنے لگے۔ جب شکایت سے پہلے اپنا احتساب کرے۔ جب کسی کے گرنے پر انگلی اٹھانے کے بجائے ہاتھ بڑھائے۔ جب کسی کے آنسو دیکھ کر یہ نہ پوچھے کہ کیوں رو رہے ہو؟ بلکہ خاموشی سے اتنا کہہ دے: رو لو، میں یہیں ہوں۔ شاید دنیا پھر بھی پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ مگر شاید دل پر بوجھ کچھ کم ہو جائے۔ شاید بھنور وہیں رہے، مگر کنارے کی امید پیدا ہو جائے۔ شاید ندی کی گہرائی وہی رہے، مگر کسی ہاتھ کی حرارت محسوس ہونے لگے۔ شاید کھائی اپنی جگہ موجود رہے، مگر گرنے والے کو یہ یقین ہو کہ اوپر کوئی اسے دیکھنے والا ہی نہیں، اٹھانے والا بھی ہے۔

اور شاید زندگی کی اس بے شمار صفحات والی کتاب میں یہی ایک عبارت سب سے زیادہ ضروری ہے:
انسان، انسان کے کام آئے۔
باقی سب عبارتیں شاید ہم عمر بھر پڑھتے رہیں گے۔
شاید سمجھیں گے بھی نہیں۔
اور شاید یہی نہ سمجھ پانا بھی زندگی کی کتاب کا ایک ایسا راز ہے، جسے سمجھنے کے لیے پوری زندگی بھی کم ہے۔

نگارشِ فکر
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

Scan this QR code to read online:

QR Code