اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 5)

تیسرا سبق: صبر اور سکون

تیسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا، بیٹا، صبر سکون کی کنجی ہے۔ قرآن کہتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(سورۃ الشرح: 6-7)
تو بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے، بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔
ایک بار حضرت ایوب علیہ السلام پر بیماری اور مصیبت کا طویل دور آیا۔ انہوں نے اپنا مال، اولاد، اور صحت سب کھو دیا، لیکن وہ صبر کرتے رہے۔ آخر میں اللہ نے انہیں دوگنی نعمتیں عطا کیں۔ (سورۃ الانبیاء: 83-84)
عرفان نے کہا: لیکن نانا، صبر کیسے کروں جب سب کچھ غلط ہو رہا ہو؟
مولوی غلام رسول نے کہا: صبر کا مطلب یہ نہیں کہ تو خاموش ہو جائے۔ صبر یہ ہے کہ تو کوشش کرتا رہے اور اللہ سے شکوہ نہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں۔ (مسلم)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا۔ اس کی نوکری چھوٹنا، ماں کی بیماری، گھر کا کرایہ، یہ سب اس کے لیے امتحان تھے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب شکایت نہیں کرے گا۔ (جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
82
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

سکون کیسے حاصل کریں ؟(6)

صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا

سکون کیسے حاصل کریں؟ (5) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 5)

#تیسرا سبق: صبر اور سکون

تیسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا، بیٹا، صبر سکون کی کنجی ہے۔ قرآن کہتا ہے:
“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ”
(سورۃ الشرح: 6-7)
*تو بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے، بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔*

ایک بار حضرت ایوب علیہ السلام پر بیماری اور مصیبت کا طویل دور آیا۔ انہوں نے اپنا مال، اولاد، اور صحت سب کھو دیا، لیکن وہ صبر کرتے رہے۔ آخر میں اللہ نے انہیں دوگنی نعمتیں عطا کیں۔ (سورۃ الانبیاء: 83-84)

عرفان نے کہا: لیکن نانا، صبر کیسے کروں جب سب کچھ غلط ہو رہا ہو؟
مولوی غلام رسول نے کہا: صبر کا مطلب یہ نہیں کہ تو خاموش ہو جائے۔ صبر یہ ہے کہ تو کوشش کرتا رہے اور اللہ سے شکوہ نہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، *مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں۔ (مسلم)*

عرفان نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا۔ اس کی نوکری چھوٹنا، ماں کی بیماری، گھر کا کرایہ، یہ سب اس کے لیے امتحان تھے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب شکایت نہیں کرے گا۔ (جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code