اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں (قسط 2)

مولوی غلام رسول کی پہلی نصیحت: اللہ کا ذکر

مولوی غلام رسول نے کہا: سب سے پہلے، بیٹا، اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے بھر۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار حرا میں تنہا بیٹھے تھے، جب وحی کا آغاز ہوا، تب بھی ان کا دل اللہ کے ذکر سے مطمئن تھا۔ جنگ بدر کے دن، جب دشمن کی فوج تین گنا بڑی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر اللہ سے دعا مانگتے رہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ان کے دل کو سکون دیا۔
انہوں نے سورۃ الانفال کی آیت 10 کا حوالہ دیا:
فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔
'دیکھ'، مولوی غلام رسول نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ پر بھروسہ کیا، تو اللہ نے انہیں سکون دیا۔ تو بھی اپنی زندگی کے غموں کو اللہ کے سامنے رکھ۔ اسے بتا کہ تو بے چین ہے۔ وہ سنتا ہے۔'
عرفان نے سوچا کہ یہ کتنا سادہ لگتا ہے، لیکن کیا واقعی یہ کام کرے گا؟ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ رات کو اللہ کا ذکر کرے گا۔ اس نے اپنی جیب سے تسبیح نکالی، جو اس کی ماں نے اسے دی تھی، اور سبحان اللہ کہنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد، اسے لگا کہ اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔
مولوی غلام رسول نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار ثور میں تھے، دشمن بالکل قریب آ گیا تھا۔ حضرت ابوبکر پریشان ہوئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا، لا تحزن إن اللہ معنا غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورۃ التوبہ: 40)
اس لمحے، اللہ نے دونوں پر سکون نازل کیا۔ حضرت ابوبکر کا دل قرار پا گیا۔ بیٹا، جب تو اللہ پر بھروسہ کرے گا، وہ تیرے دل کو بھی سکون دے گا۔
عرفان یہ سن کر حیران ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر غار میں دشمن کے ہوتے ہوئے بھی سکون مل سکتا ہے، تو کیا میری چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں نہیں مل سکتا؟

جدید دور کی بے چینی

مولوی غلام رسول نے کہا: آج کے دور میں لوگ اس لیے بے چین ہیں کہ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ وہ پیسے، شہرت، اور سوشل میڈیا کی دوڑ میں لگے ہیں۔ لیکن یہ چیزیں سکون نہیں دیتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص دنیا کو اپنا سب کچھ بنا لے، اللہ اس کے دل سے سکون چھین لیتا ہے۔ (مسند احمد)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان کو اپنی زندگی یاد آئی۔ راتوں کو سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزارنا، دوسروں کی زندگیوں سے حسد کرنا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہی اس کی بے چینی کی وجہ ہے۔(جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
110
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پاکیزہ زندگی امت کے لیے نمونہ

سکون کیسے حاصل کریں ؟(2) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

#سکون کیسے حاصل کریں (قسط 2)

#مولوی غلام رسول کی پہلی نصیحت: اللہ کا ذکر

مولوی غلام رسول نے کہا: سب سے پہلے، بیٹا، اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے بھر۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار حرا میں تنہا بیٹھے تھے، جب وحی کا آغاز ہوا، تب بھی ان کا دل اللہ کے ذکر سے مطمئن تھا۔ جنگ بدر کے دن، جب دشمن کی فوج تین گنا بڑی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر اللہ سے دعا مانگتے رہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ان کے دل کو سکون دیا۔
انہوں نے سورۃ الانفال کی آیت 10 کا حوالہ دیا:
“فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا”
تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔

‘دیکھ’، مولوی غلام رسول نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ پر بھروسہ کیا، تو اللہ نے انہیں سکون دیا۔ تو بھی اپنی زندگی کے غموں کو اللہ کے سامنے رکھ۔ اسے بتا کہ تو بے چین ہے۔ وہ سنتا ہے۔’

عرفان نے سوچا کہ یہ کتنا سادہ لگتا ہے، لیکن کیا واقعی یہ کام کرے گا؟ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ رات کو اللہ کا ذکر کرے گا۔ اس نے اپنی جیب سے تسبیح نکالی، جو اس کی ماں نے اسے دی تھی، اور “سبحان اللہ” کہنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد، اسے لگا کہ اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔

مولوی غلام رسول نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار ثور میں تھے، دشمن بالکل قریب آ گیا تھا۔ حضرت ابوبکر پریشان ہوئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا، “لا تحزن إن اللہ معنا” غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورۃ التوبہ: 40)
*اس لمحے، اللہ نے دونوں پر سکون نازل کیا۔ حضرت ابوبکر کا دل قرار پا گیا۔ بیٹا، جب تو اللہ پر بھروسہ کرے گا، وہ تیرے دل کو بھی سکون دے گا۔*

عرفان یہ سن کر حیران ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر غار میں دشمن کے ہوتے ہوئے بھی سکون مل سکتا ہے، تو کیا میری چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں نہیں مل سکتا؟

#جدید دور کی بے چینی

مولوی غلام رسول نے کہا: آج کے دور میں لوگ اس لیے بے چین ہیں کہ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ وہ پیسے، شہرت، اور سوشل میڈیا کی دوڑ میں لگے ہیں۔ لیکن یہ چیزیں سکون نہیں دیتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، *جو شخص دنیا کو اپنا سب کچھ بنا لے، اللہ اس کے دل سے سکون چھین لیتا ہے۔* (مسند احمد)

عرفان کو اپنی زندگی یاد آئی۔ راتوں کو سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزارنا، دوسروں کی زندگیوں سے حسد کرنا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہی اس کی بے چینی کی وجہ ہے۔(جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code