صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔!
ادبیات

ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔!

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔!
ہمارے اندر بھی ایک دنیا آباد ہوتی ہے؛ خیالوں، خواہشوں، اندیشوں اور یادوں کی دنیا۔ بظاہر ہم خاموش بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ہمارے اندر نہ جانے کتنے مکالمے جاری ہوتے ہیں۔ کبھی ماضی کی کوئی تلخ یاد اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، کبھی مستقبل کا کوئی انجانا خوف سکون چھین لیتا ہے، اور کبھی حال کی الجھنیں اس قدر گھیر لیتی ہیں کہ ہم اپنے ہی وجود سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ ہم دوسروں کے سوالوں کے جواب دیتے دیتے اپنے سوالوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ہم لوگوں کے سامنے مسکراتے ہیں، روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں، زندگی کی رفتار کے ساتھ چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، مگر ذہن میں خیالات کا ایک ہجوم ہوتا ہے جہاں کسی ایک خیال کو ٹھہر کر سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ہمیں آرام کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ذہن آرام نہیں کرنے دیتا۔ سکون چاہیے ہوتا ہے، مگر ہم سکون کی تلاش میں مزید الجھتے چلے جاتے ہیں۔
ذہنی تھکن کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر سوال کا جواب فورا، ہر مسئلے کا حل ایک ساتھ اور ہر اندیشے سے نجات ایک ہی لمحے میں چاہتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی کے بعض معاملات وقت مانگتے ہیں، کچھ سوالوں کے جواب تجربہ دیتا ہے اور بعض راستے پیش قدمی کے بعد ہی دکھائی دیتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن کے ہر خیال کو حقیقت اور ہر اندیشے کو آنے والے کل کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ کچھ باتوں کو وقت پر چھوڑ دینا، کچھ توقعات کا بوجھ ہلکا کر لینا اور کچھ دیر اپنے حال میں جینا بھی زندگی سیکھنے کا حصہ ہے۔ ہر الجھن کو اسی وقت سلجھانا ضروری نہیں، جس وقت وہ پیدا ہو۔ کبھی ذہن کو مہلت دینا بھی مسئلے کے حل کا رہنما ہو جاتا ہے۔
کیونکہ زندگی صرف سوچتے رہنے کا نام نہیں، اسے جینے کے لیے بھی ذہن میں کچھ خاموشی، دل میں کچھ گنجائش اور خود پر کچھ اعتماد باقی رکھنا ضروری ہے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۸ مئی ۲۰۲۴ء)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
13
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 75
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کے منعقد ہونے کا ثبوت

ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔! - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔!

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔!

ہمارے اندر بھی ایک دنیا آباد ہوتی ہے؛ خیالوں، خواہشوں، اندیشوں اور یادوں کی دنیا۔ بظاہر ہم خاموش بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ہمارے اندر نہ جانے کتنے مکالمے جاری ہوتے ہیں۔ کبھی ماضی کی کوئی تلخ یاد اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، کبھی مستقبل کا کوئی انجانا خوف سکون چھین لیتا ہے، اور کبھی حال کی الجھنیں اس قدر گھیر لیتی ہیں کہ ہم اپنے ہی وجود سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔

عجیب بات ہے کہ ہم دوسروں کے سوالوں کے جواب دیتے دیتے اپنے سوالوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ہم لوگوں کے سامنے مسکراتے ہیں، روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں، زندگی کی رفتار کے ساتھ چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، مگر ذہن میں خیالات کا ایک ہجوم ہوتا ہے جہاں کسی ایک خیال کو ٹھہر کر سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ہمیں آرام کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ذہن آرام نہیں کرنے دیتا۔ سکون چاہیے ہوتا ہے، مگر ہم سکون کی تلاش میں مزید الجھتے چلے جاتے ہیں۔

ذہنی تھکن کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر سوال کا جواب فورا، ہر مسئلے کا حل ایک ساتھ اور ہر اندیشے سے نجات ایک ہی لمحے میں چاہتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی کے بعض معاملات وقت مانگتے ہیں، کچھ سوالوں کے جواب تجربہ دیتا ہے اور بعض راستے پیش قدمی کے بعد ہی دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن کے ہر خیال کو حقیقت اور ہر اندیشے کو آنے والے کل کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ کچھ باتوں کو وقت پر چھوڑ دینا، کچھ توقعات کا بوجھ ہلکا کر لینا اور کچھ دیر اپنے حال میں جینا بھی زندگی سیکھنے کا حصہ ہے۔ ہر الجھن کو اسی وقت سلجھانا ضروری نہیں، جس وقت وہ پیدا ہو۔ کبھی ذہن کو مہلت دینا بھی مسئلے کے حل کا رہنما ہو جاتا ہے۔

*کیونکہ زندگی صرف سوچتے رہنے کا نام نہیں، اسے جینے کے لیے بھی ذہن میں کچھ خاموشی، دل میں کچھ گنجائش اور خود پر کچھ اعتماد باقی رکھنا ضروری ہے۔*
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۸ مئی ۲۰۲۴ء)

Scan this QR code to read online:

QR Code