اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔!
ادبیات

خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔!

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔!
عجیب زندگی ہے! صبح سے شام تک لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، نت نئے چہرے نگاہوں سے گزرتے ہیں، کتنی ہی باتیں ہوتی ہیں، کتنے ہی قصے سنے اور سنائے جاتے ہیں۔ مگر جس شخص سے ملاقات سب سے زیادہ ضروری ہے، اسی کے لیے فرصت نہیں ملتی۔ وہ شخص جو ہر دکھ میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے، ہر ناکامی کا بوجھ اٹھاتا ہے، مسکراہٹوں کے پیچھے اپنے آنسو چھپاتا ہے اور تنہائی میں خاموشی سے ہماری بے بسی کا تماشائی بنا رہتا ہے، ہم اسے فراموش کیے رہتے ہیں۔ وہ کوئی اور نہیں، خود ہم ہی تو ہیں!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ہم نے دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنی خوشیوں کو نظرانداز کیا، ان کی توقعات پوری کرنے میں اپنی خواہشوں کو بھلا دیا اور تعلقات نبھاتے نبھاتے اپنے آپ سے تعلق کمزور کر لیا۔ اب حال یہ ہے کہ دل میں کئی سوال ہیں، ذہن میں بے شمار الجھنیں ہیں، مگر خود سے بیٹھ کر بات کرنے کی مہلت نہیں۔ ہمیں خوف ہے کہ اگر اپنے اندر جھانکا تو کچھ ایسے احوال سامنے آ جائیں گے جنہیں ہم مدت سے نظرانداز کرتے آئے ہیں۔
مگر آخر کب تک؟ کب تک دوسروں کی نظروں میں اپنی قدر تلاش کرتے رہیں گے؟ کب تک اپنے سکون کو دوسروں کے رویّوں سے مشروط رکھیں گے؟ کبھی تو اپنے اندر اترنا ہوگا، اپنی خاموشیوں کو سننا ہوگا اور ان خواہشوں سے دوبارہ ملنا ہوگا جنہیں حالات کے ملبے تلے دفن کر دیا تھا۔
خود سے ملاقات کے لیے کسی خاص دن، کسی مخصوص جگہ یا حالات کے سازگار ہونے کا انتظار ضروری نہیں۔ بس ایک لمحہ چاہیے، جب ہم دنیا کی آوازوں سے توجہ ہٹا کر اپنے دل کی سن سکیں۔
سوچتا ہوں، دوسروں سے ملتے ملتے آخر خود سے ملاقات کب ہوگی؟ شاید آج، شاید کل۔ مگر اب یہ ملاقات مزید مؤخر نہیں ہونی چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ زندگی تمام ہو جائے اور عمر بھر خود سے ملنے کا وقت ہی نہ مل سکے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۷ مئی ۲۰۲۴ء)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
8
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

اپنی ذات کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔!

خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔! - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔!

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔!

عجیب زندگی ہے! صبح سے شام تک لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، نت نئے چہرے نگاہوں سے گزرتے ہیں، کتنی ہی باتیں ہوتی ہیں، کتنے ہی قصے سنے اور سنائے جاتے ہیں۔ مگر جس شخص سے ملاقات سب سے زیادہ ضروری ہے، اسی کے لیے فرصت نہیں ملتی۔ وہ شخص جو ہر دکھ میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے، ہر ناکامی کا بوجھ اٹھاتا ہے، مسکراہٹوں کے پیچھے اپنے آنسو چھپاتا ہے اور تنہائی میں خاموشی سے ہماری بے بسی کا تماشائی بنا رہتا ہے، ہم اسے فراموش کیے رہتے ہیں۔ وہ کوئی اور نہیں، خود ہم ہی تو ہیں!

ہم نے دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنی خوشیوں کو نظرانداز کیا، ان کی توقعات پوری کرنے میں اپنی خواہشوں کو بھلا دیا اور تعلقات نبھاتے نبھاتے اپنے آپ سے تعلق کمزور کر لیا۔ اب حال یہ ہے کہ دل میں کئی سوال ہیں، ذہن میں بے شمار الجھنیں ہیں، مگر خود سے بیٹھ کر بات کرنے کی مہلت نہیں۔ ہمیں خوف ہے کہ اگر اپنے اندر جھانکا تو کچھ ایسے احوال سامنے آ جائیں گے جنہیں ہم مدت سے نظرانداز کرتے آئے ہیں۔

مگر آخر کب تک؟ کب تک دوسروں کی نظروں میں اپنی قدر تلاش کرتے رہیں گے؟ کب تک اپنے سکون کو دوسروں کے رویّوں سے مشروط رکھیں گے؟ کبھی تو اپنے اندر اترنا ہوگا، اپنی خاموشیوں کو سننا ہوگا اور ان خواہشوں سے دوبارہ ملنا ہوگا جنہیں حالات کے ملبے تلے دفن کر دیا تھا۔
*خود سے ملاقات کے لیے کسی خاص دن، کسی مخصوص جگہ یا حالات کے سازگار ہونے کا انتظار ضروری نہیں۔ بس ایک لمحہ چاہیے، جب ہم دنیا کی آوازوں سے توجہ ہٹا کر اپنے دل کی سن سکیں۔*
سوچتا ہوں، دوسروں سے ملتے ملتے آخر خود سے ملاقات کب ہوگی؟ شاید آج، شاید کل۔ مگر اب یہ ملاقات مزید مؤخر نہیں ہونی چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ زندگی تمام ہو جائے اور عمر بھر خود سے ملنے کا وقت ہی نہ مل سکے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۷ مئی ۲۰۲۴ء)

Scan this QR code to read online:

QR Code