اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)
تاثرات

واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

واقعات رضویہ ــــ رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین۔
تہذیبوں کی عمریں عمارتوں سے نہیں، روایتوں سے ناپی جاتی ہیں؛ اور روایتیں بھی وہی جو صداقت کے قالب میں ڈھلی ہوں، جن کے ریشے تحقیق کے ہاتھوں بُنے گئے ہوں، اور جن کے ہر لفظ پر امانت کا پہرہ ہو۔ اقوام کی تاریخ اگر ان کی اجتماعی یادداشت ہے تو اہلِ ایمان کی تاریخ اس سے کہیں بڑھ کر ان کے ایمان، ان کے مزاج اور ان کے فکری تشخص کی آئینہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے کسی واقعے کو محض اس لیے قبول نہیں کیا کہ وہ زبان زدِ عام تھا، بلکہ اس کی نسبت، اس کی سند اور اس کے مأخذ کو اس باریک بینی سے جانچا کہ علمِ روایت خود ایک مستقل فن بن گیا، اور تحقیق محض ایک وصف نہیں بلکہ دیانتِ علمی کا دوسرا نام قرار پائی۔
افسوس کہ ہر عہد اپنے ساتھ کچھ آزمائشیں بھی لاتا ہے۔ موجودہ دور کی سب سے بڑی علمی آزمائش شاید یہی ہے کہ معلومات کی فراوانی نے تحقیق کی ضرورت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ زبانیں بہت ہیں مگر چھاننے والی نگاہیں کم، قلم بے شمار ہیں مگر ذمہ داری کا احساس نایاب۔ ایک واقعہ اگر کسی مجلس میں داد و تحسین سمیٹ لے تو اگلے ہی دن وہ ہزاروں زبانوں پر ہوتا ہے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نسبت ایسی مقدس ہستیوں کی طرف کر دی جاتی ہے جن کی ساری زندگی حق و صدق، دیانت و تقویٰ اور شریعت کی پاسبانی میں بسر ہوئی۔ یوں ایک بے اصل حکایت رفتہ رفتہ تاریخ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور ایک غیر ثابت قصہ عقیدت کا عنوان بن جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ایک علمی لغزش نہیں بلکہ امانتِ دین کے باب میں ایک نہایت نازک معاملہ ہے۔ اس لیے کہ جب روایت کا دامن تحقیق سے خالی ہو جائے تو اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہونے لگتی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں شکوک جنم لیتے ہیں، سنجیدہ مزاج اہلِ علم خاموش ہو جاتے ہیں، اور مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ شاید مذہبی سرمایہ محض جذبات کی آبیاری سے قائم ہے، دلیل و برہان سے نہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہلِ سنت کا علمی سرمایہ صدیوں کی عرق ریزی، ضبطِ روایت اور نقد و تحقیق کا وہ بحرِ بے کراں ہے جس کے سامنے افسانہ طرازی کی کوئی حیثیت نہیں۔
اگر اس عہدِ پراگندگی میں کسی ایک شخصیت کو علمی احتیاط، وسعتِ مطالعہ، دقتِ نظر اور امانتِ روایت کا استعارہ کہا جائے تو وہ بلا تردد امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپ کا امتیاز صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے عہد کے عظیم فقیہ تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے علم کے ہر گوشے میں اس معیارِ تحقیق کو زندہ کیا جس کی بنیاد پر صدیوں تک اہلِ علم کے فیصلے قائم رہتے ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ مطالعے کی گہرائی، مراجع کی وسعت اور دیانتِ علمی کی ایسی روشن دلیل ہوتا ہے کہ قاری بے اختیار محسوس کرتا ہے کہ یہاں جذبات نہیں، بلکہ دلائل بول رہے ہیں؛ یہاں تقلیدِ کورکورانہ نہیں، بلکہ تحقیق اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
اعلیٰ حضرت کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والا بخوبی جانتا ہے کہ آپ کسی روایت کو محض شہرت کی بنیاد پر قبول نہیں فرماتے، بلکہ اس کے اصل مآخذ تک پہنچتے ہیں، متعدد کتب کا تقابل کرتے ہیں، ائمہ و محدثین کے اقوال کا استحضار کرتے ہیں، اور پھر ایک ایسا فیصلہ رقم فرماتے ہیں جس کے پیچھے علم کی صدیوں پر محیط روایت کھڑی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں وقتی ذوق کا سرمایہ نہیں، بلکہ علمی دنیا کے لیے مستقل حوالہ بن چکی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اعلیٰ حضرت کا علمی ذخیرہ ایک وسیع سمندر کی مانند ہے۔ اس سمندر میں فقہ بھی ہے، حدیث بھی، تفسیر بھی، عقائد بھی، تاریخ بھی، سیرت بھی، مناظرات بھی، اور ان ہی کے درمیان بے شمار ایسے ایمان افروز، بصیرت افروز اور سبق آموز واقعات بھی بکھرے ہوئے ہیں جو مختلف کتابوں، رسائل اور فتاویٰ کے صفحات میں منتشر ہیں۔ ان جواہرِ پارینہ تک ہر شخص کی رسائی آسان نہیں۔ ہر طالبِ علم کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہزاروں صفحات پر مشتمل رضوی لٹریچر کا بالاستیعاب مطالعہ کرے، ہر خطیب کے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر واقعے کی اصل تلاش میں متعدد جلدیں کھنگالتا پھرے، اور ہر قاری اس علمی ریاضت کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا تقاضا اصل مصادر سے استفادہ کرتا ہے۔
یہیں سے ایک ایسی علمی خدمت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو صرف ترتیب نہ ہو، بلکہ انتخاب بھی ہو؛ صرف جمع آوری نہ ہو، بلکہ تحقیق بھی ہو؛ صرف نقل نہ ہو، بلکہ امانت کی پاسداری بھی ہو۔ ایسی خدمت جس میں منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے، مگر ان کی اصل آب و تاب برقرار رہے؛ جس میں واقعات کو اس طرح یکجا کر دیا جائے کہ قاری کو سہولت بھی میسر آئے اور اعتماد بھی۔خوش آئند امر یہ ہے کہ اس ضرورت کو محض محسوس ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اسے عملی صورت بھی عطا کی گئی۔ حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ و مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ ادام اللہ اقبالہ نے اسی احساسِ ذمہ داری کو اپنا علمی فریضہ سمجھا۔ انہوں نے محض ایک مرتب کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک امینِ علم کی حیثیت سے اعلیٰ حضرت کی تصانیف میں منتشر واقعات کو تلاش کیا، ان کے مراجع کا لحاظ رکھا، ان کی اصل تعبیر کو محفوظ رکھا، اور انہیں ایسی ترتیب کے ساتھ یکجا کیا کہ یہ مجموعہ محض واقعات کا دفتر نہیں رہا بلکہ رضوی تحقیقات کی ایک روشن کھڑکی بن گیا، جہاں سے قاری براہِ راست امامِ اہلِ سنت کے علمی ذوق کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ واقعاتِ رضویہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ رضوی لٹریچر تک رسائی کا ایک منظم دروازہ ہے۔ یہ ان اہلِ ذوق کے لیے مشعلِ راہ ہے جو واقعات کو محض سنانے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی صحت، ان کے مآخذ اور ان کے علمی وزن کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے صفحات پر نگاہ دوڑاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے منتشر علمی خزانے کو نہایت سلیقے سے ایک ہی صندوق میں محفوظ کر دیا گیا ہو، تاکہ ہر طالبِ علم ضرورت کے وقت بلا تکلف اس سے استفادہ کر سکے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ تالیف سے کہیں زیادہ دشوار مرحلہ انتخاب کا ہوتا ہے۔ کتاب لکھ دینا نسبتاً آسان ہے، مگر ہزاروں صفحات کے درمیان سے ان موتیوں کو چننا جو اصل موضوع سے مناسبت بھی رکھتے ہوں، سند کے اعتبار سے قابلِ اعتماد بھی ہوں، عبارت کے سیاق سے ہم آہنگ بھی ہوں اور نقل کے بعد بھی اپنے اصل مفہوم پر قائم رہیں۔ یہ وہ خدمت ہے جس کے لیے صرف وقت کافی نہیں ہوتا، بلکہ غیر معمولی علمی بصیرت، مسلسل صبر اور امانتِ قلم درکار ہوتی ہے۔
آج جب منبر و محراب، درس گاہ اور قلم، سب کے سب مستند مراجع کے محتاج ہیں، اس نوعیت کی تصنیفات نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ایک خطیب اگر اس کتاب کو اپنا رفیقِ مطالعہ بنا لے تو اس کے بیان میں اعتماد پیدا ہوگا؛ ایک طالبِ علم اسے پڑھے تو اس کے ذوقِ تحقیق کو جلا ملے گی؛ اور ایک مصنف اس سے رجوع کرے تو اس کی تحریر بے اصل حکایات کے غبار سے محفوظ رہے گی۔
یہ کتاب دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امامِ اہلِ سنت کا علمی گلستان آج بھی زندہ ہے، مگر اس کے پھول وہی چن سکتا ہے جو صبر کے ساتھ اس میں اترنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ حضور استاذ گرامی دامت فیوضھم العالیہ نے اسی مشقت کو اپنی سعادت سمجھا اور اس گلستان کی خوشبو کو عام کرنے کی ایک مبارک سعی فرمائی۔ یہ خدمت کسی فرد کی نہیں، ایک علمی روایت کی خدمت ہے؛ کسی کتاب کی نہیں، بلکہ امانتِ علم کی حفاظت کا ایک روشن باب ہے۔
ایسے دور میں جبکہ تحقیق کی آواز اکثر شورِ خطابت میں دب جاتی ہے، کتاب واقعاتِ رضویہ خاموشی کے ساتھ یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی اصل عزت شہرت میں نہیں، بلکہ صحت میں ہے؛ بیان کی اصل قوت جذبات میں نہیں، بلکہ صداقت میں ہے؛ اور قلم کی حقیقی آبرو اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ امانت کے بوجھ کو دیانت کے ساتھ اٹھائے۔دل آویز امر یہ بھی ہے کہ یہ گراں قدر کاوش ابھی اپنے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ واقعاتِ رضویہ کی یہ پہلی جلد، رضوی تصانیف کے ایک محدود حصے کے عمیق مطالعے کا ثمرۂ شیریں ہے۔ جب چند کتب کے دامن سے چنے ہوئے یہ علمی جواہر اتنی دلکشی، جامعیت اور افادیت کے ساتھ یکجا ہو سکتے ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رضوی لٹریچر کے وسیع سمندر سے آئندہ جلدوں میں کس قدر نادر موتی اہلِ علم کی جھولی میں آئیں گے۔ امید ہی نہیں بلکہ حسنِ ظن ہے کہ یہ مبارک سلسلہ اسی ذوقِ تحقیق اور اسی شانِ امانت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا، اور اربابِ علم یکے بعد دیگرے ان علمی خزانوں سے مستفیض ہوتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس علمی خدمت کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ اس کتاب مستطاب کو محض اہلِ ثروت تک محدود نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ علماء، ائمہ، مدرسین اور خصوصاً طلبۂ علومِ دینیہ کی سہولت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس عظیم علمی ذخیرے کی قیمت نہایت معمولی، صرف ۲۵۰ روپے مقرر فرمائی گئی ہے۔
لہٰذا اربابِ علم، ائمۂ مساجد، خطباء، مدرسین، طلبۂ مدارس، اہلِ قلم اور رضوی لٹریچر سے شغف رکھنے والے تمام حضرات کی خدمت میں نہایت اخلاص کے ساتھ گزارش ہے کہ اس کتاب کو اپنی ذاتی لائبریری کی زینت ضرور بنائیں۔ یہ صرف خریدی جانے والی ایک کتاب نہیں، بلکہ علمی ذوق کی آبیاری، تحقیقی مزاج کی تربیت اور منبر و قلم کی امانت کی حفاظت کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ امید ہے کہ جو شخص اس سے رشتہ جوڑے گا، وہ روایت کو تحقیق کے آئینے میں دیکھنے کا سلیقہ بھی سیکھے گا اور بیان کی ذمہ داری کو بھی پہلے سے زیادہ محسوس کرے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بارگاہِ ربِّ کریم میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گراں قدر خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی کے علم و عمل میں روز افزوں برکتیں نازل فرمائے، اس کتاب کو خواص و عوام دونوں کے لیے سرچشمۂ خیر بنائے، اور اسے ان اعمالِ صالحہ میں شمار فرمائے جن کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توكلت و الیہ انیب۔
حضور استاذ گرامی دامت برکاتہم کی بارگاہ کا ایک ادنی خادم
محمد شعیب خان نجمی ؔرضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
89
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم

کیا وہ سفید پرندہ پھر کبھی لوٹے گا؟

واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

*واقعات رضویہ ــــ رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر*

@”الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین۔”

تہذیبوں کی عمریں عمارتوں سے نہیں، روایتوں سے ناپی جاتی ہیں؛ اور روایتیں بھی وہی جو صداقت کے قالب میں ڈھلی ہوں، جن کے ریشے تحقیق کے ہاتھوں بُنے گئے ہوں، اور جن کے ہر لفظ پر امانت کا پہرہ ہو۔ اقوام کی تاریخ اگر ان کی اجتماعی یادداشت ہے تو اہلِ ایمان کی تاریخ اس سے کہیں بڑھ کر ان کے ایمان، ان کے مزاج اور ان کے فکری تشخص کی آئینہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے کسی واقعے کو محض اس لیے قبول نہیں کیا کہ وہ زبان زدِ عام تھا، بلکہ اس کی نسبت، اس کی سند اور اس کے مأخذ کو اس باریک بینی سے جانچا کہ علمِ روایت خود ایک مستقل فن بن گیا، اور تحقیق محض ایک وصف نہیں بلکہ دیانتِ علمی کا دوسرا نام قرار پائی۔

افسوس کہ ہر عہد اپنے ساتھ کچھ آزمائشیں بھی لاتا ہے۔ موجودہ دور کی سب سے بڑی علمی آزمائش شاید یہی ہے کہ معلومات کی فراوانی نے تحقیق کی ضرورت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ زبانیں بہت ہیں مگر چھاننے والی نگاہیں کم، قلم بے شمار ہیں مگر ذمہ داری کا احساس نایاب۔ ایک واقعہ اگر کسی مجلس میں داد و تحسین سمیٹ لے تو اگلے ہی دن وہ ہزاروں زبانوں پر ہوتا ہے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نسبت ایسی مقدس ہستیوں کی طرف کر دی جاتی ہے جن کی ساری زندگی حق و صدق، دیانت و تقویٰ اور شریعت کی پاسبانی میں بسر ہوئی۔ یوں ایک بے اصل حکایت رفتہ رفتہ تاریخ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور ایک غیر ثابت قصہ عقیدت کا عنوان بن جاتا ہے۔

یہ صورتِ حال صرف ایک علمی لغزش نہیں بلکہ امانتِ دین کے باب میں ایک نہایت نازک معاملہ ہے۔ اس لیے کہ جب روایت کا دامن تحقیق سے خالی ہو جائے تو اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہونے لگتی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں شکوک جنم لیتے ہیں، سنجیدہ مزاج اہلِ علم خاموش ہو جاتے ہیں، اور مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ شاید مذہبی سرمایہ محض جذبات کی آبیاری سے قائم ہے، دلیل و برہان سے نہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہلِ سنت کا علمی سرمایہ صدیوں کی عرق ریزی، ضبطِ روایت اور نقد و تحقیق کا وہ بحرِ بے کراں ہے جس کے سامنے افسانہ طرازی کی کوئی حیثیت نہیں۔

اگر اس عہدِ پراگندگی میں کسی ایک شخصیت کو علمی احتیاط، وسعتِ مطالعہ، دقتِ نظر اور امانتِ روایت کا استعارہ کہا جائے تو وہ بلا تردد امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپ کا امتیاز صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے عہد کے عظیم فقیہ تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے علم کے ہر گوشے میں اس معیارِ تحقیق کو زندہ کیا جس کی بنیاد پر صدیوں تک اہلِ علم کے فیصلے قائم رہتے ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ مطالعے کی گہرائی، مراجع کی وسعت اور دیانتِ علمی کی ایسی روشن دلیل ہوتا ہے کہ قاری بے اختیار محسوس کرتا ہے کہ یہاں جذبات نہیں، بلکہ دلائل بول رہے ہیں؛ یہاں تقلیدِ کورکورانہ نہیں، بلکہ تحقیق اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

اعلیٰ حضرت کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والا بخوبی جانتا ہے کہ آپ کسی روایت کو محض شہرت کی بنیاد پر قبول نہیں فرماتے، بلکہ اس کے اصل مآخذ تک پہنچتے ہیں، متعدد کتب کا تقابل کرتے ہیں، ائمہ و محدثین کے اقوال کا استحضار کرتے ہیں، اور پھر ایک ایسا فیصلہ رقم فرماتے ہیں جس کے پیچھے علم کی صدیوں پر محیط روایت کھڑی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں وقتی ذوق کا سرمایہ نہیں، بلکہ علمی دنیا کے لیے مستقل حوالہ بن چکی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اعلیٰ حضرت کا علمی ذخیرہ ایک وسیع سمندر کی مانند ہے۔ اس سمندر میں فقہ بھی ہے، حدیث بھی، تفسیر بھی، عقائد بھی، تاریخ بھی، سیرت بھی، مناظرات بھی، اور ان ہی کے درمیان بے شمار ایسے ایمان افروز، بصیرت افروز اور سبق آموز واقعات بھی بکھرے ہوئے ہیں جو مختلف کتابوں، رسائل اور فتاویٰ کے صفحات میں منتشر ہیں۔ ان جواہرِ پارینہ تک ہر شخص کی رسائی آسان نہیں۔ ہر طالبِ علم کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہزاروں صفحات پر مشتمل رضوی لٹریچر کا بالاستیعاب مطالعہ کرے، ہر خطیب کے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر واقعے کی اصل تلاش میں متعدد جلدیں کھنگالتا پھرے، اور ہر قاری اس علمی ریاضت کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا تقاضا اصل مصادر سے استفادہ کرتا ہے۔

یہیں سے ایک ایسی علمی خدمت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو صرف ترتیب نہ ہو، بلکہ انتخاب بھی ہو؛ صرف جمع آوری نہ ہو، بلکہ تحقیق بھی ہو؛ صرف نقل نہ ہو، بلکہ امانت کی پاسداری بھی ہو۔ ایسی خدمت جس میں منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے، مگر ان کی اصل آب و تاب برقرار رہے؛ جس میں واقعات کو اس طرح یکجا کر دیا جائے کہ قاری کو سہولت بھی میسر آئے اور اعتماد بھی۔

_خوش آئند امر یہ ہے کہ اس ضرورت کو محض محسوس ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اسے عملی صورت بھی عطا کی گئی۔ *حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ و مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ ادام اللہ اقبالہ* نے اسی احساسِ ذمہ داری کو اپنا علمی فریضہ سمجھا۔ انہوں نے محض ایک مرتب کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک امینِ علم کی حیثیت سے اعلیٰ حضرت کی تصانیف میں منتشر واقعات کو تلاش کیا، ان کے مراجع کا لحاظ رکھا، ان کی اصل تعبیر کو محفوظ رکھا، اور انہیں ایسی ترتیب کے ساتھ یکجا کیا کہ یہ مجموعہ محض واقعات کا دفتر نہیں رہا بلکہ رضوی تحقیقات کی ایک روشن کھڑکی بن گیا، جہاں سے قاری براہِ راست امامِ اہلِ سنت کے علمی ذوق کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔

یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ *واقعاتِ رضویہ* محض ایک کتاب نہیں، بلکہ رضوی لٹریچر تک رسائی کا ایک منظم دروازہ ہے۔ یہ ان اہلِ ذوق کے لیے مشعلِ راہ ہے جو واقعات کو محض سنانے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی صحت، ان کے مآخذ اور ان کے علمی وزن کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے صفحات پر نگاہ دوڑاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے منتشر علمی خزانے کو نہایت سلیقے سے ایک ہی صندوق میں محفوظ کر دیا گیا ہو، تاکہ ہر طالبِ علم ضرورت کے وقت بلا تکلف اس سے استفادہ کر سکے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ تالیف سے کہیں زیادہ دشوار مرحلہ انتخاب کا ہوتا ہے۔ کتاب لکھ دینا نسبتاً آسان ہے، مگر ہزاروں صفحات کے درمیان سے ان موتیوں کو چننا جو اصل موضوع سے مناسبت بھی رکھتے ہوں، سند کے اعتبار سے قابلِ اعتماد بھی ہوں، عبارت کے سیاق سے ہم آہنگ بھی ہوں اور نقل کے بعد بھی اپنے اصل مفہوم پر قائم رہیں۔ یہ وہ خدمت ہے جس کے لیے صرف وقت کافی نہیں ہوتا، بلکہ غیر معمولی علمی بصیرت، مسلسل صبر اور امانتِ قلم درکار ہوتی ہے۔

آج جب منبر و محراب، درس گاہ اور قلم، سب کے سب مستند مراجع کے محتاج ہیں، اس نوعیت کی تصنیفات نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ایک خطیب اگر اس کتاب کو اپنا رفیقِ مطالعہ بنا لے تو اس کے بیان میں اعتماد پیدا ہوگا؛ ایک طالبِ علم اسے پڑھے تو اس کے ذوقِ تحقیق کو جلا ملے گی؛ اور ایک مصنف اس سے رجوع کرے تو اس کی تحریر بے اصل حکایات کے غبار سے محفوظ رہے گی۔
یہ کتاب دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امامِ اہلِ سنت کا علمی گلستان آج بھی زندہ ہے، مگر اس کے پھول وہی چن سکتا ہے جو صبر کے ساتھ اس میں اترنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ *حضور استاذ گرامی دامت فیوضھم العالیہ* نے اسی مشقت کو اپنی سعادت سمجھا اور اس گلستان کی خوشبو کو عام کرنے کی ایک مبارک سعی فرمائی۔ یہ خدمت کسی فرد کی نہیں، ایک علمی روایت کی خدمت ہے؛ کسی کتاب کی نہیں، بلکہ امانتِ علم کی حفاظت کا ایک روشن باب ہے۔

ایسے دور میں جبکہ تحقیق کی آواز اکثر شورِ خطابت میں دب جاتی ہے، کتاب *واقعاتِ رضویہ* خاموشی کے ساتھ یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی اصل عزت شہرت میں نہیں، بلکہ صحت میں ہے؛ بیان کی اصل قوت جذبات میں نہیں، بلکہ صداقت میں ہے؛ اور قلم کی حقیقی آبرو اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ امانت کے بوجھ کو دیانت کے ساتھ اٹھائے۔

_دل آویز امر یہ بھی ہے کہ یہ گراں قدر کاوش ابھی اپنے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ *واقعاتِ رضویہ* کی یہ پہلی جلد، رضوی تصانیف کے ایک محدود حصے کے عمیق مطالعے کا ثمرۂ شیریں ہے۔ جب چند کتب کے دامن سے چنے ہوئے یہ علمی جواہر اتنی دلکشی، جامعیت اور افادیت کے ساتھ یکجا ہو سکتے ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رضوی لٹریچر کے وسیع سمندر سے آئندہ جلدوں میں کس قدر نادر موتی اہلِ علم کی جھولی میں آئیں گے۔ امید ہی نہیں بلکہ حسنِ ظن ہے کہ یہ مبارک سلسلہ اسی ذوقِ تحقیق اور اسی شانِ امانت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا، اور اربابِ علم یکے بعد دیگرے ان علمی خزانوں سے مستفیض ہوتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اس علمی خدمت کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ اس کتاب مستطاب کو محض اہلِ ثروت تک محدود نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ علماء، ائمہ، مدرسین اور خصوصاً طلبۂ علومِ دینیہ کی سہولت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس عظیم علمی ذخیرے کی قیمت نہایت معمولی، صرف ۲۵۰ روپے مقرر فرمائی گئی ہے۔
لہٰذا اربابِ علم، ائمۂ مساجد، خطباء، مدرسین، طلبۂ مدارس، اہلِ قلم اور رضوی لٹریچر سے شغف رکھنے والے تمام حضرات کی خدمت میں نہایت اخلاص کے ساتھ گزارش ہے کہ اس کتاب کو اپنی ذاتی لائبریری کی زینت ضرور بنائیں۔ یہ صرف خریدی جانے والی ایک کتاب نہیں، بلکہ علمی ذوق کی آبیاری، تحقیقی مزاج کی تربیت اور منبر و قلم کی امانت کی حفاظت کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ امید ہے کہ جو شخص اس سے رشتہ جوڑے گا، وہ روایت کو تحقیق کے آئینے میں دیکھنے کا سلیقہ بھی سیکھے گا اور بیان کی ذمہ داری کو بھی پہلے سے زیادہ محسوس کرے گا۔

بارگاہِ ربِّ کریم میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گراں قدر خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی کے علم و عمل میں روز افزوں برکتیں نازل فرمائے، اس کتاب کو خواص و عوام دونوں کے لیے سرچشمۂ خیر بنائے، اور اسے ان اعمالِ صالحہ میں شمار فرمائے جن کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ “وما توفیقی الا باللہ علیہ توكلت و الیہ انیب۔”

حضور استاذ گرامی دامت برکاتہم کی بارگاہ کا ایک ادنی خادم
محمد شعیب خان نجمی ؔرضوی لکھیم پوری
*متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف* 06307364323

Scan this QR code to read online:

QR Code