صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں ؟(3)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں ؟(3)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں (قسط 3)
قرآن اور سکون
گاؤں کی صبح عرفان کے لیے ایک نئی شروعات لے کر آئی۔ ہوا میں چھائی خنکی اور دور سے آتی مرغوں کی آوازوں نے اسے شہر کی افراتفری سے دور ایک عجیب سادگی سے روشناس کرایا۔ وہ مولوی غلام رسول کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا، جہاں نانا ایک چھوٹی سی چٹائی پر تشریف رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں وہی پرانا مصحف تھا، اور ان کی آواز میں ایک عجیب سکون تھا جب وہ تلاوت کر رہے تھے۔ عرفان نے پہلی بار غور کیا کہ نانا کی تلاوت سنتے ہی اس کے دل میں ایک ہلکی سی ٹھنڈک سی اتر رہی تھی۔
نانا! عرفان نے پوچھا، آپ اتنا سکون کہاں سے لاتے ہیں؟ کیا یہ صرف قرآن پڑھنے سے ملتا ہے؟
مولوی غلام رسول نے مسکرا کر مصحف بند کیا اور کہا، بیٹا، قرآن صرف کتاب نہیں، یہ دل کا علاج ہے۔ جب تو اسے پڑھتا ہے، سمجھتا ہے، اور اس پر عمل کرتا ہے، تو اللہ تیرے دل میں سکون اتارتا ہے۔ آج ہم قرآن سے سیکھیں گے کہ سکون کیسے ملتا ہے۔ تیار ہے؟
عرفان نے سر ہلایا، اور اس کے دل میں ایک عجیب سی بے تابی پیدا ہوئی۔

پہلا سبق: اللہ کا ذکر اور دل کا سکون

مولوی غلام رسول نے کہا، سب سے پہلے یہ سمجھ کہ سکون کا اصل سرچشمہ اللہ کا ذکر ہے۔ قرآن کہتا ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
(سورۃ الرعد: 28)
ترجمہ: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
دیکھ، بیٹا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں سخت حالات سے گزرے، جب قریش نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے، تب بھی وہ اللہ کے ذکر میں مصروف رہتے تھے۔ ایک بار جب طائف کے لوگوں نے ان پر پتھر برسائے، ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا، تب بھی انہوں نے اللہ سے دعا مانگی اور کہا، اے اللہ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں، تو مجھے اس درد کی پروا نہیں۔ (سیرت ابن ہشام)۔ اس دعا کے بعد اللہ نے ان کے دل کو سکون دیا۔
عرفان نے سوچا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مشکل میں سکون پا سکتے ہیں، تو میری نوکری اور گھر کی پریشانیاں تو کچھ بھی نہیں۔ اس نے نانا سے پوچھا، لیکن نانا، ذکر کیسے کیا جائے؟
مولوی غلام رسول نے کہا، سادہ الفاظ میں، بیٹا۔ 'سبحان اللہ' کہہ، 'الحمدللہ' کہہ، 'لا إله إلا اللہ' کہہ۔ جب تو زبان سے یہ کہے گا، تیرا دل بھی ساتھ دے گا۔ آج رات سویرے اٹھ، دو نفل پڑھ، اور اللہ سے اپنی پریشانیاں بتا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے اس رات وہی کیا۔ فجر سے پہلے اٹھا، وضو کیا، اور دو نفل ادا کیے۔ جب وہ سجدے میں گیا، اس نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا، اے اللہ! میرا دل بے چین ہے۔ مجھے سکون دے، مجھے بارِ غم سے رہائی عطا فرما۔ عجیب بات تھی کہ جب وہ اٹھا، تو اسے لگا جیسے کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ (جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
103
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 75
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

دیوبندی یعنی چیٹ جی پی ٹی کی غلام

علماءِ اہلِ سنت اور عوام کے نام ایک درد بھرا پیغام

سکون کیسے حاصل کریں ؟(3) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں ؟(3)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں (قسط 3)

*قرآن اور سکون*
گاؤں کی صبح عرفان کے لیے ایک نئی شروعات لے کر آئی۔ ہوا میں چھائی خنکی اور دور سے آتی مرغوں کی آوازوں نے اسے شہر کی افراتفری سے دور ایک عجیب سادگی سے روشناس کرایا۔ وہ مولوی غلام رسول کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا، جہاں نانا ایک چھوٹی سی چٹائی پر تشریف رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں وہی پرانا مصحف تھا، اور ان کی آواز میں ایک عجیب سکون تھا جب وہ تلاوت کر رہے تھے۔ عرفان نے پہلی بار غور کیا کہ نانا کی تلاوت سنتے ہی اس کے دل میں ایک ہلکی سی ٹھنڈک سی اتر رہی تھی۔

*نانا!* عرفان نے پوچھا، *آپ اتنا سکون کہاں سے لاتے ہیں؟ کیا یہ صرف قرآن پڑھنے سے ملتا ہے؟*
مولوی غلام رسول نے مسکرا کر مصحف بند کیا اور کہا، *بیٹا، قرآن صرف کتاب نہیں، یہ دل کا علاج ہے۔ جب تو اسے پڑھتا ہے، سمجھتا ہے، اور اس پر عمل کرتا ہے، تو اللہ تیرے دل میں سکون اتارتا ہے۔ آج ہم قرآن سے سیکھیں گے کہ سکون کیسے ملتا ہے۔ تیار ہے؟*
عرفان نے سر ہلایا، اور اس کے دل میں ایک عجیب سی بے تابی پیدا ہوئی۔

#پہلا سبق: اللہ کا ذکر اور دل کا سکون

مولوی غلام رسول نے کہا، *سب سے پہلے یہ سمجھ کہ سکون کا اصل سرچشمہ اللہ کا ذکر ہے۔* قرآن کہتا ہے:
“الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(سورۃ الرعد: 28)
ترجمہ: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔

دیکھ، بیٹا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں سخت حالات سے گزرے، جب قریش نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے، تب بھی وہ اللہ کے ذکر میں مصروف رہتے تھے۔ ایک بار جب طائف کے لوگوں نے ان پر پتھر برسائے، ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا، تب بھی انہوں نے اللہ سے دعا مانگی اور کہا، *اے اللہ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں، تو مجھے اس درد کی پروا نہیں۔* (سیرت ابن ہشام)۔ اس دعا کے بعد اللہ نے ان کے دل کو سکون دیا۔

★عرفان نے سوچا، *اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مشکل میں سکون پا سکتے ہیں، تو میری نوکری اور گھر کی پریشانیاں تو کچھ بھی نہیں۔* اس نے نانا سے پوچھا، *لیکن نانا، ذکر کیسے کیا جائے؟*
مولوی غلام رسول نے کہا، *سادہ الفاظ میں، بیٹا۔ ‘سبحان اللہ’ کہہ، ‘الحمدللہ’ کہہ، ‘لا إله إلا اللہ’ کہہ۔ جب تو زبان سے یہ کہے گا، تیرا دل بھی ساتھ دے گا۔ آج رات سویرے اٹھ، دو نفل پڑھ، اور اللہ سے اپنی پریشانیاں بتا۔*

عرفان نے اس رات وہی کیا۔ فجر سے پہلے اٹھا، وضو کیا، اور دو نفل ادا کیے۔ جب وہ سجدے میں گیا، اس نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا، *اے اللہ! میرا دل بے چین ہے۔ مجھے سکون دے، مجھے بارِ غم سے رہائی عطا فرما۔* عجیب بات تھی کہ جب وہ اٹھا، تو اسے لگا جیسے کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ (جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code