صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ
ادبیات

خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ
ہر روز دن کے اختتام پر ایک سفید پرندہ اسی جھیل کے کنارے آ بیٹھتا۔ جھیل اس کی آمد سے لہریں سنوار لیتی، کناروں کی گھاس لہلہا اٹھتی اور پانی میں آسمان کا عکس کچھ اور ہی روشن معلوم ہوتا۔ پرندہ بھی دیر تک پانی میں اپنی چونچ ڈبوئے رہتا، جیسے اس نے اس جھیل کو اپنا گھر مان لیا ہو۔
وقت گزرتا رہا۔ موسم بدلتے رہے، مگر جھیل کو یقین تھا کہ کچھ رشتے موسموں سے نہیں، فطرت سے بندھے ہوتے ہیں۔
پھر ایک دن نہ جانے کیا ہوا۔
پرندہ آیا تو ضرور، مگر کنارے پر نہ اترا۔ وہ دور ایک سوکھی شاخ پر بیٹھا رہا۔ جھیل نے اپنی لہروں کو آگے بڑھایا، شاید پانی کی کوئی صدا اسے قریب لے آئے، مگر وہ اڑ کر اور دور جا بیٹھا۔
اس دن جھیل نے پہلی بار اپنی ہی لہروں کو اپنے خلاف پلٹتے دیکھا۔
اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا۔ جب بھی پرندہ آسمان سے گزرتا، جھیل اپنے پانی میں نیلے آسمان کا سب سے خوبصورت عکس سجا لیتی، نرم نرم لہریں بچھا دیتی، کناروں پر کِھلے کنولوں کو اور زیادہ دیر کُھلا رہنے دیتی، مگر پرندہ ہر بار کسی اور سمت پرواز کر جاتا۔
جھیل نے کبھی اس کا راستہ نہ روکا۔ اس نے صرف انتظار کیا۔
انتظار۔۔۔۔۔۔۔۔! جو گھڑیوں سے نہیں، دھڑکنوں سے ناپا جاتا ہے۔
کبھی کئی کئی دن گزرتے، پرندہ نظر نہ آتا۔ پھر اچانک بہت اونچائی سے اس کے پروں کی ہلکی سی جھلک دکھائی دیتی۔ جھیل خوشی سے لرز اٹھتی، مگر وہ صرف آسمان کا مسافر ثابت ہوتا، کنارے کا مقیم نہیں۔
اب جھیل نے شکایت کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ بعض اوقات فاصلے زمین پر نہیں، دلوں کے موسموں میں اُگتے ہیں۔ اور دلوں کے موسم کسی نقشے سے نہیں بدلے جا سکتے۔
لوگ کہتے ہیں کہ جھیل تو اب بھی پہلے جیسی ہے؛ اس کا پانی ویسا ہی شفاف، اس کی گہرائی ویسی ہی خاموش، اس کے کنارے ویسے ہی سرسبز۔ مگر کسی نے یہ نہ دیکھا کہ اس کی تہہ میں ایک ایسی خاموشی اُتر چکی ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے کسی ہجرت کرتے پرندے کا انتظار کیا ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عجیب بات ہے!
کچھ پرندے جھیل کو چھوڑ کر بھی پیاسے نہیں ہوتے، لیکن کچھ جھیلیں ایک پرندے کے چلے جانے کے بعد کبھی سیراب نہیں ہوتیں۔
جھیل آج بھی ہر شام سورج کے ڈوبنے سے پہلے اپنے پانی کو سنوارتی ہے۔ شاید اسے اب بھی یقین ہے کہ کبھی تو وہ سفید پرندہ تھک کر اسی کنارے پر اترے گا، پانی میں اپنی چونچ رکھے گا، اور یوں محسوس ہوگا جیسے درمیان کے سارے موسم محض ایک طویل خواب تھے۔
مگر اگر وہ کبھی نہ لوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تب بھی جھیل اپنا پانی خشک نہیں کرے گی۔ وہ انتظار کو اپنی قسمت، خاموشی کو اپنی زبان، اور امید کو اپنی آخری موج بنا کر زندہ رہے گی۔
کیونکہ بعض جھیلیں پانی سے نہیں، انتظار سے آباد ہوتی ہیں۔
خیالِ خاطر
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
66
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 75
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

لا ادري میں نہیں جانتا

توقعات کا دھوکہ اور تعلقات کی حد

خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ

ہر روز دن کے اختتام پر ایک سفید پرندہ اسی جھیل کے کنارے آ بیٹھتا۔ جھیل اس کی آمد سے لہریں سنوار لیتی، کناروں کی گھاس لہلہا اٹھتی اور پانی میں آسمان کا عکس کچھ اور ہی روشن معلوم ہوتا۔ پرندہ بھی دیر تک پانی میں اپنی چونچ ڈبوئے رہتا، جیسے اس نے اس جھیل کو اپنا گھر مان لیا ہو۔
وقت گزرتا رہا۔ موسم بدلتے رہے، مگر جھیل کو یقین تھا کہ کچھ رشتے موسموں سے نہیں، فطرت سے بندھے ہوتے ہیں۔

پھر ایک دن نہ جانے کیا ہوا۔
پرندہ آیا تو ضرور، مگر کنارے پر نہ اترا۔ وہ دور ایک سوکھی شاخ پر بیٹھا رہا۔ جھیل نے اپنی لہروں کو آگے بڑھایا، شاید پانی کی کوئی صدا اسے قریب لے آئے، مگر وہ اڑ کر اور دور جا بیٹھا۔
اس دن جھیل نے پہلی بار اپنی ہی لہروں کو اپنے خلاف پلٹتے دیکھا۔
اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا۔ جب بھی پرندہ آسمان سے گزرتا، جھیل اپنے پانی میں نیلے آسمان کا سب سے خوبصورت عکس سجا لیتی، نرم نرم لہریں بچھا دیتی، کناروں پر کِھلے کنولوں کو اور زیادہ دیر کُھلا رہنے دیتی، مگر پرندہ ہر بار کسی اور سمت پرواز کر جاتا۔

جھیل نے کبھی اس کا راستہ نہ روکا۔ اس نے صرف انتظار کیا۔
انتظار۔۔۔۔۔۔۔۔! جو گھڑیوں سے نہیں، دھڑکنوں سے ناپا جاتا ہے۔
کبھی کئی کئی دن گزرتے، پرندہ نظر نہ آتا۔ پھر اچانک بہت اونچائی سے اس کے پروں کی ہلکی سی جھلک دکھائی دیتی۔ جھیل خوشی سے لرز اٹھتی، مگر وہ صرف آسمان کا مسافر ثابت ہوتا، کنارے کا مقیم نہیں۔
اب جھیل نے شکایت کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ بعض اوقات فاصلے زمین پر نہیں، دلوں کے موسموں میں اُگتے ہیں۔ اور دلوں کے موسم کسی نقشے سے نہیں بدلے جا سکتے۔
لوگ کہتے ہیں کہ جھیل تو اب بھی پہلے جیسی ہے؛ اس کا پانی ویسا ہی شفاف، اس کی گہرائی ویسی ہی خاموش، اس کے کنارے ویسے ہی سرسبز۔ مگر کسی نے یہ نہ دیکھا کہ اس کی تہہ میں ایک ایسی خاموشی اُتر چکی ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے کسی ہجرت کرتے پرندے کا انتظار کیا ہو۔

عجیب بات ہے!
کچھ پرندے جھیل کو چھوڑ کر بھی پیاسے نہیں ہوتے، لیکن کچھ جھیلیں ایک پرندے کے چلے جانے کے بعد کبھی سیراب نہیں ہوتیں۔
جھیل آج بھی ہر شام سورج کے ڈوبنے سے پہلے اپنے پانی کو سنوارتی ہے۔ شاید اسے اب بھی یقین ہے کہ کبھی تو وہ سفید پرندہ تھک کر اسی کنارے پر اترے گا، پانی میں اپنی چونچ رکھے گا، اور یوں محسوس ہوگا جیسے درمیان کے سارے موسم محض ایک طویل خواب تھے۔
مگر اگر وہ کبھی نہ لوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تب بھی جھیل اپنا پانی خشک نہیں کرے گی۔ وہ انتظار کو اپنی قسمت، خاموشی کو اپنی زبان، اور امید کو اپنی آخری موج بنا کر زندہ رہے گی۔
کیونکہ بعض جھیلیں پانی سے نہیں، انتظار سے آباد ہوتی ہیں۔

خیالِ خاطر
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

Scan this QR code to read online:

QR Code