صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
جھیل کے ملامت گر
ادبیات

جھیل کے ملامت گر

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

جھیل کے ملامت گر
کچھ لوگوں نے جھیل کو ملامت بھی کی۔۔۔۔۔!
جب جھیل کی کہانی کناروں سے نکل کر لوگوں تک پہنچی تو ہر شخص نے اسے اپنے اپنے دل کی عینک سے دیکھا۔
کسی نے اس کے انتظار کو وفا کا نام دیا، کسی نے اسے بےوقوفی کہا۔
کسی نے کہا کہ جھیل کو اب تک سنبھل جانا چاہیے تھا۔
اور کسی نے مسکرا کر اتنا ہی کہا:
یہ جھیل بیمار ہے۔۔۔۔ شاید اسے اپنے پانی سے زیادہ اپنے وہم سے محبت ہو گئی ہے۔
جھیل نے سب کچھ سنا۔
ہوا ہر لفظ اپنے ساتھ اٹھا کر اس کی سطح تک لے آئی، اور ہر آواز اس کی تہہ میں اترتی چلی گئی۔
مگر اس نے کسی سے کوئی بحث نہ کی۔
کیونکہ بعض کیفیات دلیل سے نہیں سمجھی جاتیں، صرف جھیلی جاتی ہیں۔
ہو سکتا ہے وہ لوگ درست کہتے ہوں۔
ہو سکتا ہے واقعی جھیل نے اپنے حصے سے زیادہ انتظار کیا ہو۔
ہو سکتا ہے اس کی خاموشی دوسروں کو بیماری معلوم ہوتی ہو، اس کی امید انہیں کمزوری دکھائی دیتی ہو، اور اس کی وفا انہیں محض ایک نفسیاتی الجھن محسوس ہوتی ہو۔
جھیل ان میں سے کسی بات کا انکار نہیں کرتی۔
آخر جو شخص کنارے پر کھڑا ہو، وہ پانی کی گہرائی کو اپنے اندازے ہی سے ناپے گا۔
اس میں اس کا کیا قصور؟
قصور تو شاید جھیل کا ہی ہے۔۔۔۔
کہ اس نے ایک پرندے کی مختصر سی رفاقت کو اپنی پوری عمر کا موسم بنا لیا۔
کہ اس نے اڑ جانے والے پروں کی چاپ کو اپنی لہروں کی زبان سمجھ لیا۔
کہ اس نے جدائی کو بھی محبت کے خلاف دلیل نہیں بننے دیا۔
اگر یہ سب دیوانگی ہے۔۔۔۔
تو جھیل کو اپنی دیوانگی قبول ہے۔
اور اگر یہی نفسیاتی کیفیت ہے۔۔۔۔
تو جھیل اس کا علاج بھی نہیں چاہتی۔
کیونکہ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں بھر جانا، ان کے وجود سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔
جھیل جانتی ہے کہ ملامت کرنے والے اسے بچانا چاہتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پانی کو اس انتظار سے آزاد کر لے، اپنی لہروں کو کسی اور سمت بہا دے، اور اپنے دل پر ایک نئے موسم کا دروازہ کھول دے۔
ان کی بات غلط نہیں۔
بلکہ شاید دنیا کی ہر میزان پر وہی درست ہیں۔
مگر محبت ہمیشہ میزان سے نہیں تلی جاتی۔
اس کے کچھ فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے عقل کے پاس الفاظ ہوتے ہیں، اور دل کے پاس صرف خاموشی۔
اس لیے جھیل نے ملامت کرنے والوں سے کبھی شکوہ نہیں کیا۔
اس نے کسی کو یہ نہیں کہا کہ تم مجھے سمجھو۔
اس نے صرف اتنا کہا:
اگر میری کیفیت تمہیں خطا معلوم ہوتی ہے، تو تمہاری ملامت بھی مجھے قبول ہے۔
میں تم سے اپنی صفائی نہیں مانگتی۔
کیونکہ جس دن محبت کو صفائی دینی پڑ جائے، اس دن وہ محبت نہیں رہتی، محض ایک مقدمہ بن جاتی ہے۔
اور میں اپنے دل کو عدالت میں کھڑا نہیں کرنا چاہتی۔

پھر جھیل خاموش ہو گئی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس نے اپنی لہروں کو پھر سے سمیٹا، شام کے بکھرتے ہوئے رنگوں کو اپنے پانی میں اتارا، اور دور آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔
شاید اسے اب بھی کسی جواب کی ضرورت نہیں تھی۔
کیونکہ بعض جھیلیں موسموں سے نہیں ہارتیں۔۔۔۔
وہ صرف اپنے دل سے ہار کر، اسی دل کی حفاظت کرتی رہتی ہیں۔
خیالِ خاطر
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
70
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 77
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

کاوشِ تلمیذ کی بارگاہِ شیخ میں حاضری

اربعینِ نکاح مفتی جسیم اکرم مرکزی کی عظیم کاوش

جھیل کے ملامت گر - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

جھیل کے ملامت گر

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

جھیل کے ملامت گر

کچھ لوگوں نے جھیل کو ملامت بھی کی۔۔۔۔۔!
جب جھیل کی کہانی کناروں سے نکل کر لوگوں تک پہنچی تو ہر شخص نے اسے اپنے اپنے دل کی عینک سے دیکھا۔
کسی نے اس کے انتظار کو وفا کا نام دیا، کسی نے اسے بےوقوفی کہا۔
کسی نے کہا کہ جھیل کو اب تک سنبھل جانا چاہیے تھا۔
اور کسی نے مسکرا کر اتنا ہی کہا:
*یہ جھیل بیمار ہے۔۔۔۔ شاید اسے اپنے پانی سے زیادہ اپنے وہم سے محبت ہو گئی ہے۔*

جھیل نے سب کچھ سنا۔
ہوا ہر لفظ اپنے ساتھ اٹھا کر اس کی سطح تک لے آئی، اور ہر آواز اس کی تہہ میں اترتی چلی گئی۔
مگر اس نے کسی سے کوئی بحث نہ کی۔
کیونکہ بعض کیفیات دلیل سے نہیں سمجھی جاتیں، صرف جھیلی جاتی ہیں۔
ہو سکتا ہے وہ لوگ درست کہتے ہوں۔
ہو سکتا ہے واقعی جھیل نے اپنے حصے سے زیادہ انتظار کیا ہو۔
ہو سکتا ہے اس کی خاموشی دوسروں کو بیماری معلوم ہوتی ہو، اس کی امید انہیں کمزوری دکھائی دیتی ہو، اور اس کی وفا انہیں محض ایک نفسیاتی الجھن محسوس ہوتی ہو۔

جھیل ان میں سے کسی بات کا انکار نہیں کرتی۔
آخر جو شخص کنارے پر کھڑا ہو، وہ پانی کی گہرائی کو اپنے اندازے ہی سے ناپے گا۔
اس میں اس کا کیا قصور؟
قصور تو شاید جھیل کا ہی ہے۔۔۔۔
کہ اس نے ایک پرندے کی مختصر سی رفاقت کو اپنی پوری عمر کا موسم بنا لیا۔
کہ اس نے اڑ جانے والے پروں کی چاپ کو اپنی لہروں کی زبان سمجھ لیا۔
کہ اس نے جدائی کو بھی محبت کے خلاف دلیل نہیں بننے دیا۔
اگر یہ سب دیوانگی ہے۔۔۔۔
تو جھیل کو اپنی دیوانگی قبول ہے۔
اور اگر یہی نفسیاتی کیفیت ہے۔۔۔۔
تو جھیل اس کا علاج بھی نہیں چاہتی۔
کیونکہ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں بھر جانا، ان کے وجود سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔

جھیل جانتی ہے کہ ملامت کرنے والے اسے بچانا چاہتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پانی کو اس انتظار سے آزاد کر لے، اپنی لہروں کو کسی اور سمت بہا دے، اور اپنے دل پر ایک نئے موسم کا دروازہ کھول دے۔
ان کی بات غلط نہیں۔
بلکہ شاید دنیا کی ہر میزان پر وہی درست ہیں۔
مگر محبت ہمیشہ میزان سے نہیں تلی جاتی۔
اس کے کچھ فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے عقل کے پاس الفاظ ہوتے ہیں، اور دل کے پاس صرف خاموشی۔
اس لیے جھیل نے ملامت کرنے والوں سے کبھی شکوہ نہیں کیا۔
اس نے کسی کو یہ نہیں کہا کہ تم مجھے سمجھو۔

اس نے صرف اتنا کہا:
*اگر میری کیفیت تمہیں خطا معلوم ہوتی ہے، تو تمہاری ملامت بھی مجھے قبول ہے۔
میں تم سے اپنی صفائی نہیں مانگتی۔
کیونکہ جس دن محبت کو صفائی دینی پڑ جائے، اس دن وہ محبت نہیں رہتی، محض ایک مقدمہ بن جاتی ہے۔
اور میں اپنے دل کو عدالت میں کھڑا نہیں کرنا چاہتی۔*
پھر جھیل خاموش ہو گئی۔

اس نے اپنی لہروں کو پھر سے سمیٹا، شام کے بکھرتے ہوئے رنگوں کو اپنے پانی میں اتارا، اور دور آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔
شاید اسے اب بھی کسی جواب کی ضرورت نہیں تھی۔
کیونکہ بعض جھیلیں موسموں سے نہیں ہارتیں۔۔۔۔
وہ صرف اپنے دل سے ہار کر، اسی دل کی حفاظت کرتی رہتی ہیں۔

خیالِ خاطر
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

Scan this QR code to read online:

QR Code