صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے
ادبیات

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے
قلم اٹھاتا ہوں تو انگلیاں لرزتی ہیں اور دل کی دھڑکنیں بتاتی ہیں کہ زخم ابھی ہرے ہیں۔ جامعہ کی تعطیلِ کلاں کا سحر مجھے کھینچ کر اپنے گھر لے آیا تھا۔ وہی گھر، وہی اپنوں کی آغوش اور وہ پرسکون فضا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ بربطِ حیات کا ساز بن جائے، مگر تقدیر کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔
گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جو سکون روح میں اترنا تھا، اس کی جگہ ایک انوکھی گھٹن اور بھاری پن نے لے لی۔ دس روز گزر چکے ہیں۔ یہ کیسے گزرے؟ اس کا شمار گھڑی کی سوئیوں سے نہیں، دل کی دھڑکنوں سے کیا جا سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کے کسی بے رحم تودے نے میرے وجود کو گھیر رکھا ہو، جہاں سانس لینا بھی ایک اذیت بن جائے۔ تنہائی کے ان لمحوں میں خیالات کا ایک ایسا طوفان تھا جس نے اندر کی تمام رونقیں تہس نہس کر دیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خوابوں اور حقیقت کے درمیان جو کشمکش ان دنوں جاری رہی، اس نے مجھ پر وہ راز آشکار کیے جو عام دنوں میں نقاب کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔ اپنوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو اس کائنات میں کتنا تنہا محسوس کیا جا سکتا ہے، اس تلخ حقیقت کا ادراک مجھے انھی دنوں ہوا۔ روح پر پڑنے والے ان بوجھل سکوتوں نے مجھے اندر سے نچوڑ کر رکھ دیا۔
مگر کہتے ہیں نا کہ ہر شام کے بعد ایک نئی صبح کا وعدہ ہوتا ہے۔ شاید یہ بھاری پن بھی اسی اندرونی تپش کا حصہ تھا جو مجھے نکھارنے، مجھے مجھ سے ملانے اور میرے ظرف کو مزید وسیع کرنے کے لیے مقدر تھا۔ قلم رک رہا ہے، سینے کا بوجھ اب بھی ہلکا نہیں ہوا، مگر اتنا ضرور ہے کہ اس اندھیرے نے مجھے اپنے اندر کے دیے کو خود جلانے کا ہنر سکھا دیا ہے۔ ہاں مجھے تسلیم ہے کہ یہ دن بھاری ضرور رہے، مگر بے معنیٰ ہرگز نہیں!
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲ مارچ ۲۰۲۴ء)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
6
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 77
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں

نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے

قلم اٹھاتا ہوں تو انگلیاں لرزتی ہیں اور دل کی دھڑکنیں بتاتی ہیں کہ زخم ابھی ہرے ہیں۔ جامعہ کی تعطیلِ کلاں کا سحر مجھے کھینچ کر اپنے گھر لے آیا تھا۔ وہی گھر، وہی اپنوں کی آغوش اور وہ پرسکون فضا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ بربطِ حیات کا ساز بن جائے، مگر تقدیر کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔

گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جو سکون روح میں اترنا تھا، اس کی جگہ ایک انوکھی گھٹن اور بھاری پن نے لے لی۔ دس روز گزر چکے ہیں۔ یہ کیسے گزرے؟ اس کا شمار گھڑی کی سوئیوں سے نہیں، دل کی دھڑکنوں سے کیا جا سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کے کسی بے رحم تودے نے میرے وجود کو گھیر رکھا ہو، جہاں سانس لینا بھی ایک اذیت بن جائے۔ تنہائی کے ان لمحوں میں خیالات کا ایک ایسا طوفان تھا جس نے اندر کی تمام رونقیں تہس نہس کر دیں۔

خوابوں اور حقیقت کے درمیان جو کشمکش ان دنوں جاری رہی، اس نے مجھ پر وہ راز آشکار کیے جو عام دنوں میں نقاب کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔ اپنوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو اس کائنات میں کتنا تنہا محسوس کیا جا سکتا ہے، اس تلخ حقیقت کا ادراک مجھے انھی دنوں ہوا۔ روح پر پڑنے والے ان بوجھل سکوتوں نے مجھے اندر سے نچوڑ کر رکھ دیا۔

مگر کہتے ہیں نا کہ ہر شام کے بعد ایک نئی صبح کا وعدہ ہوتا ہے۔ شاید یہ بھاری پن بھی اسی اندرونی تپش کا حصہ تھا جو مجھے نکھارنے، مجھے مجھ سے ملانے اور میرے ظرف کو مزید وسیع کرنے کے لیے مقدر تھا۔ قلم رک رہا ہے، سینے کا بوجھ اب بھی ہلکا نہیں ہوا، مگر اتنا ضرور ہے کہ اس اندھیرے نے مجھے اپنے اندر کے دیے کو خود جلانے کا ہنر سکھا دیا ہے۔ ہاں مجھے تسلیم ہے کہ یہ دن بھاری ضرور رہے، مگر بے معنیٰ ہرگز نہیں!
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲ مارچ ۲۰۲۴ء)

Scan this QR code to read online:

QR Code