اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
موبائل فون اور ہماری عزتِ نفس
متفرقات

موبائل فون اور ہماری عزتِ نفس

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

مسکرائیے! آپ نجمیؔ کو پڑھ رہے ہیں۔

موبائل فون اور ہماری عزتِ نفس

زمانہ قدیم میں آدمی کے پاس صرف عزت ہوا کرتی تھی، مگر اب اس کے پاس موبائل فون بھی ہے۔ عزت آج بھی جاتی ہے، مگر موبائل کا جانا زیادہ تکلیف دہ لگتا ہے۔
موبائل کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ بیٹری ختم ہونے کے وقت زیادہ محبت جتاتا ہے۔ مثلاً آپ نے کسی کو طویل تقریر میں اپنی ذہانت کے جوہر دکھانے کے لیے فون کیا، ابھی آپ نے کہا: دیکھو بھائی! اصل مسئلہ یہ ہے کہ۔۔۔ اور وہیں فون بیپ مار کے بند۔ اب سننے والا سمجھ رہا ہے کہ آپ نے دانائی کا موتی پھینکا اور موبائل بھی اس شدت کو برداشت نہ کر سکا۔
پھر ان واٹس ایپ گروپس کی برکتیں ہیں۔ ایک طرف کزنز کا گروپ ہے جس میں سب کی دلچسپی صرف السلام علیکم اور گڈ مارننگ بھیجنے میں ہے، دوسری طرف دوستوں کا گروپ ہے جہاں دن رات صرف میمز، جگتیں اور پرانی تصویریں چلتی رہتی ہیں۔ آپ اگر کوئی سنجیدہ بات کریں تو اگلے ہی لمحے اس پر 😂🤣 والے ایموجی کی بارش ہو جاتی ہے۔ یعنی گروپ دراصل وہ جگہ ہے جہاں لوگ یا تو فری ہوتے ہیں، یا دوسروں کو فری سمجھتے ہیں۔
اور بھائی! آٹو کَرِکْٹ یعنی (Auto Correct) کا عذاب مت پوچھو۔ آپ نے کسی کو میسج کیا:
میں آرہا ہوں → اور آٹو کریکٹ نے اسے بنا دیا:
میں آوارہ ہوں
اب سامنے والا جواب دے: "یہ تو ہمیں پہلے ہی پتا تھا!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آج کل موبائل فون نے رشتے داری کے پیمانے بھی بدل دیے ہیں۔ پہلے لوگ پوچھتے تھے: رشتہ دار قریب ہیں یا دور؟
اب پوچھتے ہیں: وائی فائی پاس ورڈ دیتے ہیں یا نہیں؟
مختصر یہ کہ موبائل فون ہماری زندگی میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو دماغ کی کھوپڑی میں: یعنی اگر ہو تو زندگی رواں دواں، اور اگر نہ ہو تو انسان بس اسٹیچو۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
88
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

دعائیہ کلمات برائے جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل و صدائے مرکز ششماہی رسالہ

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (2)

موبائل فون اور ہماری عزتِ نفس - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

موبائل فون اور ہماری عزتِ نفس

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

مسکرائیے! آپ نجمیؔ کو پڑھ رہے ہیں۔

#موبائل فون اور ہماری عزتِ نفس

زمانہ قدیم میں آدمی کے پاس صرف *عزت* ہوا کرتی تھی، مگر اب اس کے پاس *موبائل فون* بھی ہے۔ عزت آج بھی جاتی ہے، مگر موبائل کا جانا زیادہ تکلیف دہ لگتا ہے۔

موبائل کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ بیٹری ختم ہونے کے وقت زیادہ محبت جتاتا ہے۔ مثلاً آپ نے کسی کو طویل تقریر میں اپنی ذہانت کے جوہر دکھانے کے لیے فون کیا، ابھی آپ نے کہا: *دیکھو بھائی! اصل مسئلہ یہ ہے کہ۔۔۔* اور وہیں فون *بیپ* مار کے بند۔ اب سننے والا سمجھ رہا ہے کہ آپ نے دانائی کا موتی پھینکا اور موبائل بھی اس شدت کو برداشت نہ کر سکا۔

پھر ان *واٹس ایپ گروپس* کی برکتیں ہیں۔ ایک طرف کزنز کا گروپ ہے جس میں سب کی دلچسپی صرف *السلام علیکم* اور *گڈ مارننگ* بھیجنے میں ہے، دوسری طرف دوستوں کا گروپ ہے جہاں دن رات صرف میمز، جگتیں اور پرانی تصویریں چلتی رہتی ہیں۔ آپ اگر کوئی سنجیدہ بات کریں تو اگلے ہی لمحے اس پر 😂🤣 والے ایموجی کی بارش ہو جاتی ہے۔ یعنی گروپ دراصل وہ جگہ ہے جہاں لوگ یا تو فری ہوتے ہیں، یا دوسروں کو فری سمجھتے ہیں۔

اور بھائی! *آٹو کَرِکْٹ* یعنی (Auto Correct) کا عذاب مت پوچھو۔ آپ نے کسی کو میسج کیا:
*میں آرہا ہوں* → اور آٹو کریکٹ نے اسے بنا دیا:
*میں آوارہ ہوں*
اب سامنے والا جواب دے: “*یہ تو ہمیں پہلے ہی پتا تھا!*

آج کل موبائل فون نے رشتے داری کے پیمانے بھی بدل دیے ہیں۔ پہلے لوگ پوچھتے تھے: *رشتہ دار قریب ہیں یا دور؟*
اب پوچھتے ہیں: *وائی فائی پاس ورڈ دیتے ہیں یا نہیں؟*

مختصر یہ کہ موبائل فون ہماری زندگی میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو دماغ کی کھوپڑی میں: یعنی اگر ہو تو زندگی رواں دواں، اور اگر نہ ہو تو انسان بس *اسٹیچو۔*

Scan this QR code to read online:

QR Code