صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 8)

احادیث کی روشنی میں سکون

گاؤں میں عرفان کی چھٹی صبح طلوع ہوئی۔ وہ اب تک مولوی غلام رسول کے ساتھ قرآن سے سکون کے اصول سیکھ چکا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک سوال اب بھی باقی تھا: یہ سب کچھ عملی زندگی میں کیسے لایا جائے؟ وہ نانا کے گھر کے صحن میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا۔ آج ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے کوئی بڑا سبق اس کا منتظر ہو۔ مولوی غلام رسول آئے، ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس پر منتخب احادیث لکھا تھا۔ انہوں نے مسکرا کر عرفان کو دیکھا اور کہا: بیٹا، قرآن نے تجھے سکون کا راستہ دکھایا، اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور باتیں اسے تیرے عمل میں ڈھالیں گی۔ تیار ہے؟
عرفان نے سر ہلایا، اس کے دل میں ایک عجیب سا جوش تھا۔

پہلا سبق: سادگی اور قناعت

مولوی غلام رسول نے کتاب کھولی اور کہا، بیٹا، سکون کی پہلی کنجی سادگی اور قناعت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَ رُزِقَ كَفَافًا وَ قَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ
(صحیح مسلم)
وہ شخص کامیاب ہوا جو مسلمان ہوا، اسے کافی رزق ملا، اور اللہ نے اسے جو دیا اس پر راضی رہا۔
ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ گھر میں کھانے کے لیے صرف کھجوریں تھیں، اور بستر صرف کھجور کے پتوں سے بنا تھا جو آپ ﷺ کے جسم پر نشان چھوڑ دیتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے چہرے پر کبھی بے چینی نہ آئی۔ (صحیح بخاری)۔
عرفان نے سوچا: میں تو ہر وقت زیادہ کی خواہش کرتا ہوں۔ بڑا گھر، بہتر نوکری۔ کیا یہی میری بے چینی کی وجہ ہے؟
مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، جو تیرے پاس ہے اس پر شکر کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صبح اٹھا اور اسے اپنے دین، جان، اور مال کی سلامتی ملی، اس کے پاس دنیا کی ساری نعمتیں ہیں۔ (ترمذی)۔
آج سے جو ہے اسے قبول کر، اور جو نہیں اس کی فکر چھوڑ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے اس دن گاؤں کے سادہ کھانے، روٹی اور دال کو غور سے دیکھا۔ اس نے سوچا کہ شاید اسی سادگی میں سکون چھپا ہے۔ اس نے کھاتے ہوئے الحمدللہ کہا اور شوق سے کھانا کھایا۔
(جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
88
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 77
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)

سکون کیسے حاصل کریں؟ (7)

سکون کیسے حاصل کریں ؟(8) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 8)

#احادیث کی روشنی میں سکون

گاؤں میں عرفان کی چھٹی صبح طلوع ہوئی۔ وہ اب تک مولوی غلام رسول کے ساتھ قرآن سے سکون کے اصول سیکھ چکا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک سوال اب بھی باقی تھا: یہ سب کچھ عملی زندگی میں کیسے لایا جائے؟ وہ نانا کے گھر کے صحن میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا۔ آج ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے کوئی بڑا سبق اس کا منتظر ہو۔ مولوی غلام رسول آئے، ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس پر *منتخب احادیث* لکھا تھا۔ انہوں نے مسکرا کر عرفان کو دیکھا اور کہا: بیٹا، قرآن نے تجھے سکون کا راستہ دکھایا، اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور باتیں اسے تیرے عمل میں ڈھالیں گی۔ تیار ہے؟
عرفان نے سر ہلایا، اس کے دل میں ایک عجیب سا جوش تھا۔

#پہلا سبق: سادگی اور قناعت

مولوی غلام رسول نے کتاب کھولی اور کہا، بیٹا، سکون کی پہلی کنجی سادگی اور قناعت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَ رُزِقَ كَفَافًا وَ قَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ”
(صحیح مسلم)
وہ شخص کامیاب ہوا جو مسلمان ہوا، اسے کافی رزق ملا، اور اللہ نے اسے جو دیا اس پر راضی رہا۔

ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ گھر میں کھانے کے لیے صرف کھجوریں تھیں، اور بستر صرف کھجور کے پتوں سے بنا تھا جو آپ ﷺ کے جسم پر نشان چھوڑ دیتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے چہرے پر کبھی بے چینی نہ آئی۔ (صحیح بخاری)۔

عرفان نے سوچا: میں تو ہر وقت زیادہ کی خواہش کرتا ہوں۔ بڑا گھر، بہتر نوکری۔ کیا یہی میری بے چینی کی وجہ ہے؟
مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، جو تیرے پاس ہے اس پر شکر کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *جو صبح اٹھا اور اسے اپنے دین، جان، اور مال کی سلامتی ملی، اس کے پاس دنیا کی ساری نعمتیں ہیں۔* (ترمذی)۔
آج سے جو ہے اسے قبول کر، اور جو نہیں اس کی فکر چھوڑ۔

عرفان نے اس دن گاؤں کے سادہ کھانے، روٹی اور دال کو غور سے دیکھا۔ اس نے سوچا کہ شاید اسی سادگی میں سکون چھپا ہے۔ اس نے کھاتے ہوئے “الحمدللہ” کہا اور شوق سے کھانا کھایا۔
(جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code