اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں (قسط 4)

دوسرا سبق: توکل اور سکون

اگلی صبح، مولوی غلام رسول نے عرفان کو صحن میں بٹھایا اور کہا، بیٹا، اب توکل سیکھ۔ قرآن کہتا ہے: وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (سورۃ الطلاق: 3)
جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
جب ہم اپنے مسائل اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو وہ ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ ایک بار فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تعاقب کیا، آپ اپنی قوم کے ساتھ فرعون کے لشکر سے آگے نکلے۔ سامنے سمندر تھا، پیچھے دشمن۔ لوگ چیخنے لگے، ہم کو انھوں نے آ لیا لیکن حضرت موسیٰ نے کہا، یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے (سورۃ الشعراء: 62)۔ اور پھر اللہ نے سمندر کو چیر دیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے کہا، نانا، میری نوکری چھوٹ گئی تھی۔ میں بہت پریشان ہوں کہ اب کیا ہوگا۔
مولوی غلام رسول نے مسکرا کر کہا، بیٹا، اللہ پر بھروسہ کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جیسے پرندے کرتے ہیں، صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں، تو اللہ تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا۔ (ترمذی)۔ اپنا کام کر، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔
عرفان نے سوچا کہ وہ کوشش تو کر رہا ہے، لیکن فکر چھوڑنا مشکل ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نوکری کے لیے درخواست دیتا رہے گا، لیکن اب راتوں کو جاگ کر پریشان نہیں ہوگا۔ (جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
95
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)

دیوبندی یعنی چیٹ جی پی ٹی کی غلام

سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں (قسط 4)

#دوسرا سبق: توکل اور سکون

اگلی صبح، مولوی غلام رسول نے عرفان کو صحن میں بٹھایا اور کہا، *بیٹا، اب توکل سیکھ۔* قرآن کہتا ہے: “وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (سورۃ الطلاق: 3)”
جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
جب ہم اپنے مسائل اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو وہ ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ ایک بار فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تعاقب کیا، آپ اپنی قوم کے ساتھ فرعون کے لشکر سے آگے نکلے۔ سامنے سمندر تھا، پیچھے دشمن۔ لوگ چیخنے لگے، *ہم کو انھوں نے آ لیا* لیکن حضرت موسیٰ نے کہا، *یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے* (سورۃ الشعراء: 62)۔ اور پھر اللہ نے سمندر کو چیر دیا۔

عرفان نے کہا، *نانا، میری نوکری چھوٹ گئی تھی۔ میں بہت پریشان ہوں کہ اب کیا ہوگا۔*
مولوی غلام رسول نے مسکرا کر کہا، *بیٹا، اللہ پر بھروسہ کر۔* نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، *اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جیسے پرندے کرتے ہیں، صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں، تو اللہ تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا۔* (ترمذی)۔ اپنا کام کر، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔
عرفان نے سوچا کہ وہ کوشش تو کر رہا ہے، لیکن فکر چھوڑنا مشکل ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نوکری کے لیے درخواست دیتا رہے گا، لیکن اب راتوں کو جاگ کر پریشان نہیں ہوگا۔ (جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code