صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 9)

دوسرا سبق: اللہ کی رضا میں سکون

دوسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، سکون اس وقت ملتا ہے جب تو اللہ کے فیصلوں سے راضی ہو جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عَجَباً لأمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأِحَدٍ إِلاَّ للْمُؤْمِن: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْراً لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خيْراً لَهُ
(صحیح مسلم)
مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کا ہر حال اس کے لیے بہتر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے: اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے، حضرت ابراہیم، کی وفات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، لیکن آپ نے فرمایا: اے ابراہیم! ہم تیرے لیے غمگین ہیں، لیکن ہم اللہ سے وہی کہیں گے جو اسے پسند ہے۔ (صحیح بخاری)۔
عرفان نے کہا: نانا، میری ماں بیمار ہیں۔ میں بہت پریشان ہوں۔
مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، ان کی خیریت کے لیے دعا کر، لیکن جو اللہ چاہے اسے قبول کر۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ اللہ کی رضا میں سکون ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے اس رات اپنی ماں کے لیے دعا مانگی اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کیا: جو تیری مرضی، مجھے اس پر راضی رکھ۔
(جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
101
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 77
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)

سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)

سکون کیسے حاصل کریں؟ (9) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 9)

#دوسرا سبق: اللہ کی رضا میں سکون

دوسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، سکون اس وقت ملتا ہے جب تو اللہ کے فیصلوں سے راضی ہو جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“عَجَباً لأمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأِحَدٍ إِلاَّ للْمُؤْمِن: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْراً لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خيْراً لَهُ”
(صحیح مسلم)
مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کا ہر حال اس کے لیے بہتر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے: اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے، حضرت ابراہیم، کی وفات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، لیکن آپ نے فرمایا: اے ابراہیم! ہم تیرے لیے غمگین ہیں، لیکن ہم اللہ سے وہی کہیں گے جو اسے پسند ہے۔ (صحیح بخاری)۔

عرفان نے کہا: نانا، میری ماں بیمار ہیں۔ میں بہت پریشان ہوں۔
مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، ان کی خیریت کے لیے دعا کر، لیکن جو اللہ چاہے اسے قبول کر۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ اللہ کی رضا میں سکون ہے۔

عرفان نے اس رات اپنی ماں کے لیے دعا مانگی اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کیا: جو تیری مرضی، مجھے اس پر راضی رکھ۔
(جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code