صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)
ناویل

سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 10)

تیسرا سبق: استغفار اور سکون

تیسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، گناہ دل کا بوجھ بڑھاتے ہیں۔ استغفار سے سکون ملتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
منْ لَزِم الاسْتِغْفَار، جَعَلَ اللَّه لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مخْرجًا، ومنْ كُلِّ هَمٍّ فَرجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ
(ابو داؤد)
جو استغفار کو لازم پکڑے، اللہ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے راستہ دے گا، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔
ایک بار حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں قید ہو گئے۔ وہاں اندھیرا تھا، تنہائی تھی، لیکن انہوں نے استغفار کیا: لَآ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (سورۃ الانبیاء: 87)۔ اللہ نے انہیں نجات دی۔
عرفان نے سوچا کہ اس نے کتنی بار غصے میں ماں سے بدتمیزی کی، کتنی بار نماز چھوڑی۔ اس نے کہا: نانا، میں نے بہت غلطیاں کیں۔
مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، اب استغفار کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن میں ستر بار استغفار کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ معصوم تھے۔ (صحیح بخاری)۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے اس دن لَآ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ کہنا شروع کیا۔ ہر بار جب وہ یہ کہتا، اسے لگتا کہ اس کا دل ہلکا ہو رہا ہے۔
(جاری)
📝 شعیب خان نجمیؔ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
98
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 77
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

ملحد کے ارتقائی مراحل

سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)

سکون کیسے حاصل کریں؟ (10) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 10)

#تیسرا سبق: استغفار اور سکون

تیسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، گناہ دل کا بوجھ بڑھاتے ہیں۔ استغفار سے سکون ملتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“منْ لَزِم الاسْتِغْفَار، جَعَلَ اللَّه لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مخْرجًا، ومنْ كُلِّ هَمٍّ فَرجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ”
(ابو داؤد)
جو استغفار کو لازم پکڑے، اللہ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے راستہ دے گا، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔

ایک بار حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں قید ہو گئے۔ وہاں اندھیرا تھا، تنہائی تھی، لیکن انہوں نے استغفار کیا: “لَآ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ” (سورۃ الانبیاء: 87)۔ اللہ نے انہیں نجات دی۔

عرفان نے سوچا کہ اس نے کتنی بار غصے میں ماں سے بدتمیزی کی، کتنی بار نماز چھوڑی۔ اس نے کہا: نانا، میں نے بہت غلطیاں کیں۔
مولوی غلام رسول نے کہا: بیٹا، اب استغفار کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن میں ستر بار استغفار کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ معصوم تھے۔ (صحیح بخاری)۔

عرفان نے اس دن “لَآ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ” کہنا شروع کیا۔ ہر بار جب وہ یہ کہتا، اسے لگتا کہ اس کا دل ہلکا ہو رہا ہے۔
(جاری)

📝 شعیب خان نجمیؔ

Scan this QR code to read online:

QR Code