صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حسد اور اس کا ثمر
ادبیات

حسد اور اس کا ثمر

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

حسد اور اس کا ثمر
جب دل کے آئینے پر حسد کی گرد جم جائے، تو انسان کی بصیرت دھندلا جاتی ہے، اور وہ حسن و خیر کے روشن چہرے کو بھی بدصورتی کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔ حسد ایک ایسا زہریلا سانپ ہے جو دوسروں کو ڈسنے سے پہلے خود اپنے مالک کو نگل لیتا ہے۔ یہ دل کی وہ آگ ہے جو انسان کو اندر ہی اندر جلا کر راکھ کر دیتی ہے، اور پھر یہ راکھ بھی سکون نہیں دیتی، بلکہ ہر خوشی میں جلن، ہر کامیابی میں تکلیف اور ہر نعمت میں تلخی کا ذائقہ بھر دیتی ہے۔
حسد کا مزاج کتنا عجیب ہے! یہ دوسروں کے اچھے حال پر جلتا ہے، لیکن خود اپنے برے حال کی پروا نہیں کرتا۔ جیسے کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈال کر دوسرے کے گھر کو جلتا ہوا دیکھنے کی آرزو رکھے۔ یہ ایسا خنجر ہے جو دوسروں کے سینے پر نہیں، اپنے ہی دل میں پیوست ہوتا ہے۔ مگر اس کی فطرت ایسی ہے کہ حاسد سمجھتا ہے وہ کسی اور کو نقصان پہنچا رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنے دل کی زمین پر کانٹے بو رہا ہوتا ہے، جن کی چبھن اسے لمحہ بہ لمحہ اذیت دیتی ہے۔
عزیزو! یہ دل کا ناسور، روح کا زخم، عقل کا دشمن اور ایمان کا قاتل ہے۔ یہ عبادت کو کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ایّاکم والحسد، فإنّ الحسد یأکل الحسنات کما تأکل النار الحطب
تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
جو دل نعمتوں پر شکر کرتا ہے، وہ وسعت پاتا ہے، اور جو دوسروں کی نعمتوں پر جلتا ہے، وہ تنگی و کدورت میں گھِر جاتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جو دوسروں کے چہروں کو بدنما کر دکھاتا ہے، لیکن اصل بدصورتی آئینے میں نہیں، نگاہ میں ہوتی ہے۔
ساتھیو! اس کا انجام سوائے پچھتاوے، شرمندگی اور خذلان کے کچھ نہیں۔ یہ انسان کو صبر سے دور، شکر سے محروم، رضا سے خالی اور اللہ کی تقسیم پر معترض بنا دیتا ہے۔ انسان کو اپنے رب سے شکوہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے، گویا وہ کہہ رہا ہو: اے رب! تو نے فلاں کو کیوں نوازا، اور مجھے کیوں محروم رکھا؟ یہ باطن کی وہ گندگی ہے جو ایمان کے شفاف چشمے کو آلودہ کر دیتی ہے۔
اگر انسان اپنے دل کو اس مرض سے پاک کر لے، تو اسے اندرونی سکون، بیرونی خوشحالی اور روحانی بلندی نصیب ہوتی ہے۔ جس دل میں حسد نہ ہو، وہ دوسروں کی خوشی میں خوش، ان کی ترقی پر شاد، اور ان کی نعمتوں پر دعاگو ہوتا ہے۔ ایسے دل میں محبت کے پھول کھلتے ہیں، اخوت کی خوشبو پھیلتی ہے، اور نورانیت کا اجالا چھا جاتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پس اے مرے دوستو! اپنے دل کو حسد کی آگ سے بچاؤ، ورنہ یہ آگ تمھیں اندر سے جلا کر خاکستر کر دے گی۔ جان لو کہ دنیا کی ہر نعمت تقسیم شدہ ہے، اور جو تمھارے نصیب میں ہے، وہ تمھیں ضرور ملے گی، چاہے زمانے کی ہوائیں کتنی ہی مخالف ہوں۔ اور جو تمھارے لیے نہیں، وہ حسد کرنے سے بھی کبھی تمھاری نہیں ہو سکتی۔
مرے بھائیو! یہ ایک خاموش قاتل ہے۔ نہ صرف دوسروں سے تعلقات کو زہر آلود کرتا ہے بلکہ انسان کو خود اپنے نفس کا دشمن بنا دیتا ہے۔ اس کا علاج محبت، قناعت، شکر، اور اللہ کی تقسیم پر رضا میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا اپنے دل کو حسد کی کالک سے پاک کرو، تاکہ وہ نورِ ایمان سے جگمگا اُٹھے، اور تمھاری زندگی سکون، محبت اور اُخوت کی ایک روشن مثال بن جائے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۹ جولائی ۲۰۲۵ء)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
5
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 77
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں

حسد اور اس کا ثمر - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

حسد اور اس کا ثمر

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

حسد اور اس کا ثمر

جب دل کے آئینے پر حسد کی گرد جم جائے، تو انسان کی بصیرت دھندلا جاتی ہے، اور وہ حسن و خیر کے روشن چہرے کو بھی بدصورتی کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔ حسد ایک ایسا زہریلا سانپ ہے جو دوسروں کو ڈسنے سے پہلے خود اپنے مالک کو نگل لیتا ہے۔ یہ دل کی وہ آگ ہے جو انسان کو اندر ہی اندر جلا کر راکھ کر دیتی ہے، اور پھر یہ راکھ بھی سکون نہیں دیتی، بلکہ ہر خوشی میں جلن، ہر کامیابی میں تکلیف اور ہر نعمت میں تلخی کا ذائقہ بھر دیتی ہے۔

حسد کا مزاج کتنا عجیب ہے! یہ دوسروں کے اچھے حال پر جلتا ہے، لیکن خود اپنے برے حال کی پروا نہیں کرتا۔ جیسے کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈال کر دوسرے کے گھر کو جلتا ہوا دیکھنے کی آرزو رکھے۔ یہ ایسا خنجر ہے جو دوسروں کے سینے پر نہیں، اپنے ہی دل میں پیوست ہوتا ہے۔ مگر اس کی فطرت ایسی ہے کہ حاسد سمجھتا ہے وہ کسی اور کو نقصان پہنچا رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنے دل کی زمین پر کانٹے بو رہا ہوتا ہے، جن کی چبھن اسے لمحہ بہ لمحہ اذیت دیتی ہے۔

عزیزو! یہ دل کا ناسور، روح کا زخم، عقل کا دشمن اور ایمان کا قاتل ہے۔ یہ عبادت کو کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“ایّاکم والحسد، فإنّ الحسد یأکل الحسنات کما تأکل النار الحطب”
تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
جو دل نعمتوں پر شکر کرتا ہے، وہ وسعت پاتا ہے، اور جو دوسروں کی نعمتوں پر جلتا ہے، وہ تنگی و کدورت میں گھِر جاتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جو دوسروں کے چہروں کو بدنما کر دکھاتا ہے، لیکن اصل بدصورتی آئینے میں نہیں، نگاہ میں ہوتی ہے۔

ساتھیو! اس کا انجام سوائے پچھتاوے، شرمندگی اور خذلان کے کچھ نہیں۔ یہ انسان کو صبر سے دور، شکر سے محروم، رضا سے خالی اور اللہ کی تقسیم پر معترض بنا دیتا ہے۔ انسان کو اپنے رب سے شکوہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے، گویا وہ کہہ رہا ہو: *اے رب! تو نے فلاں کو کیوں نوازا، اور مجھے کیوں محروم رکھا؟* یہ باطن کی وہ گندگی ہے جو ایمان کے شفاف چشمے کو آلودہ کر دیتی ہے۔
اگر انسان اپنے دل کو اس مرض سے پاک کر لے، تو اسے اندرونی سکون، بیرونی خوشحالی اور روحانی بلندی نصیب ہوتی ہے۔ جس دل میں حسد نہ ہو، وہ دوسروں کی خوشی میں خوش، ان کی ترقی پر شاد، اور ان کی نعمتوں پر دعاگو ہوتا ہے۔ ایسے دل میں محبت کے پھول کھلتے ہیں، اخوت کی خوشبو پھیلتی ہے، اور نورانیت کا اجالا چھا جاتا ہے۔

پس اے مرے دوستو! اپنے دل کو حسد کی آگ سے بچاؤ، ورنہ یہ آگ تمھیں اندر سے جلا کر خاکستر کر دے گی۔ جان لو کہ دنیا کی ہر نعمت تقسیم شدہ ہے، اور جو تمھارے نصیب میں ہے، وہ تمھیں ضرور ملے گی، چاہے زمانے کی ہوائیں کتنی ہی مخالف ہوں۔ اور جو تمھارے لیے نہیں، وہ حسد کرنے سے بھی کبھی تمھاری نہیں ہو سکتی۔

مرے بھائیو! یہ ایک خاموش قاتل ہے۔ نہ صرف دوسروں سے تعلقات کو زہر آلود کرتا ہے بلکہ انسان کو خود اپنے نفس کا دشمن بنا دیتا ہے۔ اس کا علاج محبت، قناعت، شکر، اور اللہ کی تقسیم پر رضا میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا اپنے دل کو حسد کی کالک سے پاک کرو، تاکہ وہ نورِ ایمان سے جگمگا اُٹھے، اور تمھاری زندگی سکون، محبت اور اُخوت کی ایک روشن مثال بن جائے۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۹ جولائی ۲۰۲۵ء)

Scan this QR code to read online:

QR Code