اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تعارف -صدائے مرکز ششماہی رسالہ
متفرقات

تعارف -صدائے مرکز ششماہی رسالہ

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

تعارف-صدائے مرکز ششماہی رسالہ
علم محض سینوں میں محفوظ رہنے والی دولت نہیں؛ اس کی ایک منزل لفظ بھی ہے، جہاں فکر عبارت کا جامہ پہنتی ہے، تجربہ تحریر میں ڈھلتا ہے اور ایک ذہن کی روشنی دوسرے ذہن تک منتقل ہوتی ہے۔ قلم اسی انتقالِ علم کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جب اہلِ علم و فضل کے منتشر چراغ ایک ہی علمی آسمان کے نیچے جمع ہوتے ہیں تو انفرادی کاوشیں محض شخصی سرمایہ نہیں رہتیں، بلکہ ایک ایسی اجتماعی متاع بن جاتی ہیں جس سے آنے والے اذہان بھی روشنی حاصل کرتے ہیں۔
ہمارے مادرِ علمی مرکز الدراسات الإسلامیہ جامعۃ الرضا، بریلی شریف سے متعدد ایسے جید، باصلاحیت اور صاحبِ قلم فضلا فارغ ہوئے اور ہو رہے ہیں جنہیں مختلف علوم و فنون میں مہارت، بصیرت اور قابلِ قدر علمی دسترس حاصل ہے۔ کسی کے قلم میں تحقیق کی گہرائی ہے، کسی کی فکر میں وسعت، کسی کے اسلوب میں شگفتگی اور کسی کے مطالعے میں غیر معمولی تنوع۔ ان منتشر صلاحیتوں میں ایک مشترک رشتہ البتہ ہمیشہ نمایاں رہا ہے: علم سے وابستگی اور قلم کے ذریعے اس کی خدمت کا جذبہ۔
اسی احساس نے ایک ایسے علمی پلیٹ فارم کی ضرورت کو جنم دیا جہاں جامعۃ الرضا کے فرزندانِ علم کی علمی، تحقیقی، فکری اور قلمی کاوشیں یکجا ہو سکیں؛ جہاں انفرادی آوازیں ایک اجتماعی نغمگی اختیار کریں اور جہاں اہلِ علم و ذوق کے ساتھ عام قارئین بھی اس علمی سرمایہ سے استفادہ کر سکیں۔ صدائے مرکز اسی ضرورت کا جواب اور اسی احساس کی عملی تعبیر ہے۔
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کے زیرِ اہتمام، گیارھویں شریف کے بابرکت موقع پر، ششماہی رسالہ صدائے مرکز اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ پہلا شمارہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ یہ محض چند مضامین کو یکجا کرنے کا نام نہیں؛ یہ جامعۃ الرضا سے وابستہ اہلِ قلم کے لیے ایک ایسا مشترک گوشۂ اظہار ہے جہاں علم کو تحریر، فکر کو زبان اور تحقیق کو اشاعت کی صورت ملتی ہے۔ اس کے صفحات میں ادارے کی نسبت کے ساتھ ایک علمی مزاج بھی جلوہ گر ہے اور ایک ایسی نسل کی آواز بھی جو اپنے عہد کو سمجھنے اور اپنے علمی ورثے کی روشنی میں اس سے مکالمہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
صدائے مرکز کسی ایک علم، فن یا اسلوب تک محدود نہیں۔ عقائد و معمولات، اسلامیات، احوالِ قوم و ملت، احوالِ وطن، اسلاف و اخلاف، ترغیبات، تحقیق و تعاقب، سائنس، ادب و ثقافت، عصری مسائل اور دیگر متنوع موضوعات اس کے دائرۂ کار میں شامل ہیں۔ کہیں عقیدے کی بنیادوں پر گفتگو ہے، کہیں تاریخ کے اوراق سے کوئی فراموش شدہ باب سامنے آتا ہے، کہیں قوم و ملت کے حالات پر سنجیدہ فکر کا اظہار ہے، کہیں ادب کے آئینے میں انسانی احساسات اپنا عکس لیے کھڑے ہیں اور کہیں جدید علم و سائنس کے سوالات کو اسلامی فکر کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مقصد محض موضوعات کی کثرت نہیں، بلکہ تحریروں کی معنویت ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر مضمون اپنے ساتھ کوئی سوال، کوئی فکر، کوئی علمی فائدہ یا کوئی اصلاحی پیغام لے کر قاری تک پہنچے؛ ایسا نہ ہو کہ صفحات بڑھتے جائیں اور فکر اپنی جگہ ٹھہری رہے۔ ایک تحریر اگر قاری کو چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دے، کسی نئے زاویۂ نظر سے آشنا کر دے یا اس کے اندر علم کی طلب کو بیدار کر دے تو وہ اپنے مقصد سے بے بہرہ نہیں گئی۔
صدائے مرکز کی ایک نمایاں جہت طلبہ اور نوجوان اہلِ قلم کی علمی و تحقیقی تربیت بھی ہے۔ جامعہ سے وابستہ طالبِ علم صرف کتاب کا قاری نہ رہے، بلکہ کتاب سے سوال کرنا، ماخذ تک پہنچنا، مواد کو پرکھنا، فکر کو مرتب کرنا اور اسے دلیل کے ساتھ عبارت میں منتقل کرنا بھی سیکھے۔ اسی مقصد سے مقالہ نگاری اور تحقیقی تحریر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ رسالہ نئی نسل کے لیے صرف اظہار کا میدان نہیں، بلکہ قلم کی ایک تربیت گاہ بھی ہے؛ جہاں ابتدائی کوششیں تجربہ کار اہلِ قلم کی تحریروں کے ساتھ چلتے ہوئے پختگی کی طرف بڑھتی ہیں۔
اس کے ساتھ جامعۃ الرضا سے وابستہ تجربہ کار اور صاحبِ مطالعہ اہلِ قلم کی شرکت بھی اس علمی سفر کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کے علمی تجربات، وسیع مطالعے اور پختہ قلم سے نئی نسل کو استفادے کے مواقع میسر آتے ہیں اور یوں علم صرف کتابوں کے صفحات میں محصور نہیں رہتا، بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک زندہ روایت بن جاتا ہے۔
صدائے مرکز کی علمی شناخت روایت اور جدت کے ایک متوازن امتزاج سے عبارت ہے۔ اس کی جڑیں معتبر اسلامی روایت اور اکابرِ اہلِ سنت کے علمی ورثے میں پیوست ہیں، مگر اس کی نگاہ عصرِ حاضر کے سوالات سے بھی غافل نہیں۔ ہمارا علمی مزاج نہ ماضی کو محض ماضی سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے اور نہ ہر نئی بات کو صرف نیا ہونے کی بنا پر قابلِ قبول قرار دیتا ہے۔ روایت سے روشنی لے کر زمانے کو سمجھنا اور زمانے کے سوالات کو علمی روایت کے سامنے رکھ کر ان پر غور کرنا، یہی وہ توازن ہے جس میں علمی زندگی کی حقیقی توانائی پوشیدہ ہے۔
اسی فکری وسعت کی ایک صورت خصوصی شمارہ بھی ہے۔ سال میں ایک مرتبہ کسی ایک اہم علمی، فکری یا تحقیقی موضوع کو مرکز بنا کر اس کے مختلف گوشوں پر اہلِ قلم کی وقیع تحریروں کو یکجا کیا جائے گا، تاکہ ایک ہی موضوع سے متعلق منتشر مباحث ایک مربوط علمی مجموعے کی صورت اختیار کریں۔ مقصد محض ایک ضخیم شمارے کی تیاری نہیں، بلکہ ایسا علمی مواد فراہم کرنا ہے جو وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی افادیت برقرار رکھے اور آئندہ نسلوں کے لیے قابلِ رجوع دستاویز اور ایک معتبر علمی مرجع کی حیثیت اختیار کر سکے۔
علمی وسعت کے ساتھ اعتقادی ذمہ داری بھی صدائے مرکز کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے صفحات پر شائع ہونے والی ہر تحریر کے لیے یہ امر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ وہ عقائد و معمولاتِ اہلِ سنت اور موقفِ اعلیٰ حضرت و تاج الشریعہ کے منافی نہ ہو۔ اسی مقصد کے تحت مضامین کو اشاعت سے قبل اساتذۂ کرام کی نظر سے گزارا گیا ہے، تاکہ اعتقادی، شرعی اور علمی اعتبار سے ممکنہ خامیوں کی اصلاح کی جا سکے۔ ہمارے نزدیک علم کی وسعت اسی وقت باعثِ خیر بنتی ہے جب اس کے قدم اعتقاد کی مضبوط زمین پر قائم ہوں۔
صدائے مرکز کے پسِ پشت ایک مخلص، باصلاحیت اور متحرک ٹیم اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جس کے پیشِ نظر رسالے کا معیار محض موجودہ شمارے تک محدود نہیں۔ حسنِ ترتیب، انتخابِ مضامین، علمی جانچ، ادارت اور پیش کش کے ہر مرحلے میں یہ احساس کارفرما ہے کہ ایک رسالے کی اصل پہچان اس کے پہلے شمارے سے نہیں، بلکہ اس کے تسلسل، معیار اور قارئین کے اعتماد سے قائم ہوتی ہے۔
اور پھر اس پورے سفر کے مرکز میں ہمارا قاری ہے۔ وہ قاری جس کے ہاتھ میں رسالہ پہنچنے کے بعد ہمارے الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے؛ وہ سوال بن سکتے ہیں، فکر بن سکتے ہیں، احساس بن سکتے ہیں اور کبھی کسی نئے مطالعے کا دروازہ بھی کھول سکتے ہیں۔ صدائے مرکز اپنے قاری سے محض مطالعے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ ایک فکری رفاقت قائم کرنا چاہتا ہے۔ تنقید کی گنجائش ہو، غور کی فرصت ہو، سوال کی آزادی ہو اور علم کی طلب زندہ رہے۔ اسی فضا میں ایک رسالہ اپنے حقیقی معنی پاتا ہے۔
صدائے مرکز کے مستقبل کا خواب بھی اسی بنیادی تصور سے وابستہ ہے: علمی معیار میں مسلسل بہتری، تحقیق کے نئے میدانوں کی تلاش، نادر اور کم زیرِ بحث موضوعات کی بازیافت، خصوصی شماروں کے ذریعے اہم علمی مباحث کی تدوین، نئے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور جامعۃ الرضا سے وابستہ علمی سرمایہ کو وسیع تر حلقۂ قارئین تک پہنچانا۔ سفر طویل ہے، مگر سمت واضح ہے؛ اور کسی علمی سفر کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے کہ قدموں میں عزم ہو اور نگاہوں میں منزل۔
صدائے مرکز کی رسمِ اجرا گیارھویں شریف کے بابرکت موقع پر ہونا بھی اس کے لیے ایک خوش آئند نسبت ہے۔ علم و ادب کے اس سفر کا آغاز ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جو محبت، خیر اور روحانی نسبتوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ہم اسے محض ایک تقویمی اتفاق نہیں سمجھتے، بلکہ اس علمی کاوش کے لیے ایک مبارک ابتدا کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ صدائے مرکز کسی ایک فرد کے قلم کی صدا نہیں، بلکہ ایک علمی ماحول کی اجتماعی بازگشت ہے۔ اس میں ان اساتذہ کی تربیت کی جھلک ہے جنہوں نے علم کی بنیادیں مضبوط کیں، ان فضلا کی محنت کی خوشبو ہے جنہوں نے مطالعہ اور تحقیق کو اپنا سرمایہ بنایا، ان نوجوان قلم کاروں کی امنگ ہے جو ابھی اپنے علمی سفر کی ابتدا میں ہیں، اور ان قارئین کی امید بھی ہے جو لفظوں میں محض عبارت نہیں، معنی تلاش کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ہم نے اس صدا کو ایک مرکز سے اٹھایا ہے؛ اب اس کی منزل وہ اذہان ہیں جہاں کوئی نیا خیال جنم لے، وہ قلوب ہیں جہاں علم کا چراغ روشن ہو اور وہ ہاتھ ہیں جو اس علم کو آگے منتقل کریں۔
صدائے مرکز یہ کسی ایک فرد کی آواز نہیں؛ یہ ابنائے جامعۃ الرضا کے علم، فکر، تحقیق اور قلم کی اجتماعی صدا ہے۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
137
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (3)

تعارف -جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل

تعارف -صدائے مرکز ششماہی رسالہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

تعارف -صدائے مرکز ششماہی رسالہ

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

تعارف-صدائے مرکز ششماہی رسالہ

علم محض سینوں میں محفوظ رہنے والی دولت نہیں؛ اس کی ایک منزل لفظ بھی ہے، جہاں فکر عبارت کا جامہ پہنتی ہے، تجربہ تحریر میں ڈھلتا ہے اور ایک ذہن کی روشنی دوسرے ذہن تک منتقل ہوتی ہے۔ قلم اسی انتقالِ علم کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جب اہلِ علم و فضل کے منتشر چراغ ایک ہی علمی آسمان کے نیچے جمع ہوتے ہیں تو انفرادی کاوشیں محض شخصی سرمایہ نہیں رہتیں، بلکہ ایک ایسی اجتماعی متاع بن جاتی ہیں جس سے آنے والے اذہان بھی روشنی حاصل کرتے ہیں۔

ہمارے مادرِ علمی مرکز الدراسات الإسلامیہ جامعۃ الرضا، بریلی شریف سے متعدد ایسے جید، باصلاحیت اور صاحبِ قلم فضلا فارغ ہوئے اور ہو رہے ہیں جنہیں مختلف علوم و فنون میں مہارت، بصیرت اور قابلِ قدر علمی دسترس حاصل ہے۔ کسی کے قلم میں تحقیق کی گہرائی ہے، کسی کی فکر میں وسعت، کسی کے اسلوب میں شگفتگی اور کسی کے مطالعے میں غیر معمولی تنوع۔ ان منتشر صلاحیتوں میں ایک مشترک رشتہ البتہ ہمیشہ نمایاں رہا ہے: علم سے وابستگی اور قلم کے ذریعے اس کی خدمت کا جذبہ۔

اسی احساس نے ایک ایسے علمی پلیٹ فارم کی ضرورت کو جنم دیا جہاں جامعۃ الرضا کے فرزندانِ علم کی علمی، تحقیقی، فکری اور قلمی کاوشیں یکجا ہو سکیں؛ جہاں انفرادی آوازیں ایک اجتماعی نغمگی اختیار کریں اور جہاں اہلِ علم و ذوق کے ساتھ عام قارئین بھی اس علمی سرمایہ سے استفادہ کر سکیں۔ “صدائے مرکز” اسی ضرورت کا جواب اور اسی احساس کی عملی تعبیر ہے۔

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کے زیرِ اہتمام، گیارھویں شریف کے بابرکت موقع پر، ششماہی رسالہ “صدائے مرکز” اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ پہلا شمارہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ یہ محض چند مضامین کو یکجا کرنے کا نام نہیں؛ یہ جامعۃ الرضا سے وابستہ اہلِ قلم کے لیے ایک ایسا مشترک گوشۂ اظہار ہے جہاں علم کو تحریر، فکر کو زبان اور تحقیق کو اشاعت کی صورت ملتی ہے۔ اس کے صفحات میں ادارے کی نسبت کے ساتھ ایک علمی مزاج بھی جلوہ گر ہے اور ایک ایسی نسل کی آواز بھی جو اپنے عہد کو سمجھنے اور اپنے علمی ورثے کی روشنی میں اس سے مکالمہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

“صدائے مرکز” کسی ایک علم، فن یا اسلوب تک محدود نہیں۔ عقائد و معمولات، اسلامیات، احوالِ قوم و ملت، احوالِ وطن، اسلاف و اخلاف، ترغیبات، تحقیق و تعاقب، سائنس، ادب و ثقافت، عصری مسائل اور دیگر متنوع موضوعات اس کے دائرۂ کار میں شامل ہیں۔ کہیں عقیدے کی بنیادوں پر گفتگو ہے، کہیں تاریخ کے اوراق سے کوئی فراموش شدہ باب سامنے آتا ہے، کہیں قوم و ملت کے حالات پر سنجیدہ فکر کا اظہار ہے، کہیں ادب کے آئینے میں انسانی احساسات اپنا عکس لیے کھڑے ہیں اور کہیں جدید علم و سائنس کے سوالات کو اسلامی فکر کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مقصد محض موضوعات کی کثرت نہیں، بلکہ تحریروں کی معنویت ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر مضمون اپنے ساتھ کوئی سوال، کوئی فکر، کوئی علمی فائدہ یا کوئی اصلاحی پیغام لے کر قاری تک پہنچے؛ ایسا نہ ہو کہ صفحات بڑھتے جائیں اور فکر اپنی جگہ ٹھہری رہے۔ ایک تحریر اگر قاری کو چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دے، کسی نئے زاویۂ نظر سے آشنا کر دے یا اس کے اندر علم کی طلب کو بیدار کر دے تو وہ اپنے مقصد سے بے بہرہ نہیں گئی۔

“صدائے مرکز” کی ایک نمایاں جہت طلبہ اور نوجوان اہلِ قلم کی علمی و تحقیقی تربیت بھی ہے۔ جامعہ سے وابستہ طالبِ علم صرف کتاب کا قاری نہ رہے، بلکہ کتاب سے سوال کرنا، ماخذ تک پہنچنا، مواد کو پرکھنا، فکر کو مرتب کرنا اور اسے دلیل کے ساتھ عبارت میں منتقل کرنا بھی سیکھے۔ اسی مقصد سے مقالہ نگاری اور تحقیقی تحریر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ رسالہ نئی نسل کے لیے صرف اظہار کا میدان نہیں، بلکہ قلم کی ایک تربیت گاہ بھی ہے؛ جہاں ابتدائی کوششیں تجربہ کار اہلِ قلم کی تحریروں کے ساتھ چلتے ہوئے پختگی کی طرف بڑھتی ہیں۔

اس کے ساتھ جامعۃ الرضا سے وابستہ تجربہ کار اور صاحبِ مطالعہ اہلِ قلم کی شرکت بھی اس علمی سفر کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کے علمی تجربات، وسیع مطالعے اور پختہ قلم سے نئی نسل کو استفادے کے مواقع میسر آتے ہیں اور یوں علم صرف کتابوں کے صفحات میں محصور نہیں رہتا، بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک زندہ روایت بن جاتا ہے۔

“صدائے مرکز” کی علمی شناخت روایت اور جدت کے ایک متوازن امتزاج سے عبارت ہے۔ اس کی جڑیں معتبر اسلامی روایت اور اکابرِ اہلِ سنت کے علمی ورثے میں پیوست ہیں، مگر اس کی نگاہ عصرِ حاضر کے سوالات سے بھی غافل نہیں۔ ہمارا علمی مزاج نہ ماضی کو محض ماضی سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے اور نہ ہر نئی بات کو صرف نیا ہونے کی بنا پر قابلِ قبول قرار دیتا ہے۔ روایت سے روشنی لے کر زمانے کو سمجھنا اور زمانے کے سوالات کو علمی روایت کے سامنے رکھ کر ان پر غور کرنا، یہی وہ توازن ہے جس میں علمی زندگی کی حقیقی توانائی پوشیدہ ہے۔

اسی فکری وسعت کی ایک صورت خصوصی شمارہ بھی ہے۔ سال میں ایک مرتبہ کسی ایک اہم علمی، فکری یا تحقیقی موضوع کو مرکز بنا کر اس کے مختلف گوشوں پر اہلِ قلم کی وقیع تحریروں کو یکجا کیا جائے گا، تاکہ ایک ہی موضوع سے متعلق منتشر مباحث ایک مربوط علمی مجموعے کی صورت اختیار کریں۔ مقصد محض ایک ضخیم شمارے کی تیاری نہیں، بلکہ ایسا علمی مواد فراہم کرنا ہے جو وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی افادیت برقرار رکھے اور آئندہ نسلوں کے لیے قابلِ رجوع دستاویز اور ایک معتبر علمی مرجع کی حیثیت اختیار کر سکے۔

علمی وسعت کے ساتھ اعتقادی ذمہ داری بھی “صدائے مرکز” کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے صفحات پر شائع ہونے والی ہر تحریر کے لیے یہ امر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ وہ عقائد و معمولاتِ اہلِ سنت اور موقفِ اعلیٰ حضرت و تاج الشریعہ کے منافی نہ ہو۔ اسی مقصد کے تحت مضامین کو اشاعت سے قبل اساتذۂ کرام کی نظر سے گزارا گیا ہے، تاکہ اعتقادی، شرعی اور علمی اعتبار سے ممکنہ خامیوں کی اصلاح کی جا سکے۔ ہمارے نزدیک علم کی وسعت اسی وقت باعثِ خیر بنتی ہے جب اس کے قدم اعتقاد کی مضبوط زمین پر قائم ہوں۔

“صدائے مرکز” کے پسِ پشت ایک مخلص، باصلاحیت اور متحرک ٹیم اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جس کے پیشِ نظر رسالے کا معیار محض موجودہ شمارے تک محدود نہیں۔ حسنِ ترتیب، انتخابِ مضامین، علمی جانچ، ادارت اور پیش کش کے ہر مرحلے میں یہ احساس کارفرما ہے کہ ایک رسالے کی اصل پہچان اس کے پہلے شمارے سے نہیں، بلکہ اس کے تسلسل، معیار اور قارئین کے اعتماد سے قائم ہوتی ہے۔

اور پھر اس پورے سفر کے مرکز میں ہمارا قاری ہے۔ وہ قاری جس کے ہاتھ میں رسالہ پہنچنے کے بعد ہمارے الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے؛ وہ سوال بن سکتے ہیں، فکر بن سکتے ہیں، احساس بن سکتے ہیں اور کبھی کسی نئے مطالعے کا دروازہ بھی کھول سکتے ہیں۔ “صدائے مرکز” اپنے قاری سے محض مطالعے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ ایک فکری رفاقت قائم کرنا چاہتا ہے۔ تنقید کی گنجائش ہو، غور کی فرصت ہو، سوال کی آزادی ہو اور علم کی طلب زندہ رہے۔ اسی فضا میں ایک رسالہ اپنے حقیقی معنی پاتا ہے۔

“صدائے مرکز” کے مستقبل کا خواب بھی اسی بنیادی تصور سے وابستہ ہے: علمی معیار میں مسلسل بہتری، تحقیق کے نئے میدانوں کی تلاش، نادر اور کم زیرِ بحث موضوعات کی بازیافت، خصوصی شماروں کے ذریعے اہم علمی مباحث کی تدوین، نئے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور جامعۃ الرضا سے وابستہ علمی سرمایہ کو وسیع تر حلقۂ قارئین تک پہنچانا۔ سفر طویل ہے، مگر سمت واضح ہے؛ اور کسی علمی سفر کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے کہ قدموں میں عزم ہو اور نگاہوں میں منزل۔

“صدائے مرکز” کی رسمِ اجرا گیارھویں شریف کے بابرکت موقع پر ہونا بھی اس کے لیے ایک خوش آئند نسبت ہے۔ علم و ادب کے اس سفر کا آغاز ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جو محبت، خیر اور روحانی نسبتوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ہم اسے محض ایک تقویمی اتفاق نہیں سمجھتے، بلکہ اس علمی کاوش کے لیے ایک مبارک ابتدا کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ “صدائے مرکز” کسی ایک فرد کے قلم کی صدا نہیں، بلکہ ایک علمی ماحول کی اجتماعی بازگشت ہے۔ اس میں ان اساتذہ کی تربیت کی جھلک ہے جنہوں نے علم کی بنیادیں مضبوط کیں، ان فضلا کی محنت کی خوشبو ہے جنہوں نے مطالعہ اور تحقیق کو اپنا سرمایہ بنایا، ان نوجوان قلم کاروں کی امنگ ہے جو ابھی اپنے علمی سفر کی ابتدا میں ہیں، اور ان قارئین کی امید بھی ہے جو لفظوں میں محض عبارت نہیں، معنی تلاش کرتے ہیں۔

ہم نے اس صدا کو ایک مرکز سے اٹھایا ہے؛ اب اس کی منزل وہ اذہان ہیں جہاں کوئی نیا خیال جنم لے، وہ قلوب ہیں جہاں علم کا چراغ روشن ہو اور وہ ہاتھ ہیں جو اس علم کو آگے منتقل کریں۔

★”صدائے مرکز” یہ کسی ایک فرد کی آواز نہیں؛ یہ ابنائے جامعۃ الرضا کے علم، فکر، تحقیق اور قلم کی اجتماعی صدا ہے۔

Scan this QR code to read online:

QR Code